تفصیلی تبصرہ ملک ۔ امریکا / زبان ۔ انگریزی فلم ۔ فیوری / ہدایتکار ۔ ڈیوڈ آئر ریلیز ۔ 2014
ہر دور میں دنیا کی صورت گری میں جنگوں کا کردار فیصلہ کن رہا ہے۔ ملکوں کی خارجہ پالیسی سے لے کر ترقی کی عالمی دوڑتک اور مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے میں بھی مرکز و محور جنگ ہی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے،جنگ کے موضوع پر کافی ادب تخلیق کیا گیا اور فلمیں بنائی گئی ہیں۔ جنگی سینما کے تناظر میں ’’فیوری‘‘ ایک شاندار فلم ہے۔
اسکرین پلے (کہانی)
اس فلم کی کہانی حقیقی ہے۔ دنیا میں دوسری جنگ عظیم کا دور تھا،جو 1939 سے شروع ہوکر 1945 پر اختتام پذیر ہوا۔ جرمن ڈکٹیٹر ایڈلف ہٹلر کی حکومت نے مشرقی یورپ میں ایک وسیع اور جدید سلطنت ’’لونگ اسپیس‘‘ کے قیام کا خواب دیکھا تھا۔ جرمن لیڈروں کا خیال تھا،یورپ میں جرمنی کے تسلط کے لیے جنگ بے حد ضروری ہے۔
فیوری ایک ٹینک کا نام تھا۔ اس کی کہانی دوسری جنگ عظیم کے ختم ہونے سے تین ماہ قبل کی ہے۔ فلم کی کہانی کا ابتدائی منظر بھی اسی ٹینک سے شروع ہوتا ہے،جس میں پانچ فوجی موجود ہوتے ہیں۔ ٹینک کا کمانڈر وار ڈیڈی (بریڈپٹ) ہوتا ہے۔ یہ وہ وقت ہے،جب جرمن فوج شکست کا سامنا کر رہی ہوتی ہے۔
فلم میں دکھایا گیا ہے،ایک سپاہی ابتدائی جھڑپ میں مارا جاتا ہے۔ اسی لیے انہیں اپنے قافلے کے لیے کسی نئے سپاہی کی تلاش ہوتی ہے۔ سارجنٹ کے کہنے پر نورمن نامی ایک نیا سپاہی وار ڈیڈی کے پاس آتا ہے،جس کو فوج میں بھرتی ہوئی ابھی آٹھ مہینے ہی گزرے تھے،وہ بتاتا ہے کہ وہ بھی فیوری ٹیم کا حصہ ہوگا۔ وار ڈیڈی جانتا تھا ، اُس کے باقی ساتھی اُس کا استقبال خوشی سے نہیں کریں گے۔ ٹینک کی صفائی کے دوران نارمن کو انسانی گوشت کا لوتھڑا دیکھ کر اُبکائی آجاتی ہے،ڈیڈی یہ سب دیکھ رہا ہوتا ہے۔ وہ اسے سمجھاتا ہے کہ جرمن نازی ہمارے دشمن ہیں،ہم ان کو نہیں ماریں گے تو وہ موقع ملتے ہی ہمیں جان سے مار ڈالیں گے۔

آڈیلز آر پیس فُل ۔ ہسٹری اِز وائلنٹ (فیوری)
ان حالات میں کہانی آگے بڑھتی ہے،وہ جب اپنے ٹینک فیوری میں گھوم رہے ہوتے ہیں،تو دیکھتے ہیں کہ وہاں عام مقامی شہری پیدل چل رہے ہیں،لیکن فیوری انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاتا۔ وار ڈیڈی چار ٹینکوں کے ہمراہ آگے بڑھتا ہے۔ ایک جگہ اُن کے کافی سپاہی پیدل جارہے ہوتے ہیں۔ وہ فیوری ٹینک کی آڑ میں جرمن فوجیوں کے متوازی آگے بڑھتے ہیں۔ یہاں گھمسان کی جنگ ہوتی ہے۔ فیوری ٹینک کے ایک سپاہی کا نام بائبل ہوتا ہے۔ نارمن اُس سے کہتا ہے،ہم جو یہ کر رہے ہیں،سب کچھ غلط ہے۔ بائبل اُس سے متفق ہوجاتا ہے،مگر وہ کہتا ہے،ابھی فی الحال دشمن پر نظر رکھو۔ نارمن وار ڈیڈی سے شکایت بھی کرتا ہے،میں نے فوج میں صرف ٹائپنگ کی ملازمت اختیار کی تھی،سپاہیوں کو گولیوں سے اُڑانے کی ٹریننگ مجھے فراہم نہیں کی گئی ہے۔
ماضی کا سبق
یورپ میں دوسری عالمی جنگ کا خاتمہ تب ہوا ، جب 8 مئی کو نازی جرمن فوج نے ہتھیار ڈال دیے۔ اس طرح یورپ میں یہ ہولناک جنگ اختتام پذیر ہوئی۔ دوسری عالمی جنگ کے فاتح اور سابق برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل نے کہا تھا۔ ’’حکومت کو شرم اور جنگ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا،وہ شرم کا انتخاب کریں گے تو انہیں اس جنگ کا سامنا کرنا ہوگا‘‘
فیوری کی داستان
فیوری کی کہانی دوسری جنگ عظیم کے مختلف ٹکڑوں سے لی گئی ہے۔ وار ڈیڈی کا کردار حقیقی’’لافایٹ پول‘‘ سے لیا گیا ہے،جو امریکی فوج میں ٹینک کمانڈر تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ڈی ۔ ڈے کے روز،انہوں نے رومینڈی بیچ پر اتر کر دشمن کا مقابلہ کیا اور تقریباً 250 سے زیادہ فوجی گاڑیاں تباہ کیں،جس میں متعدد ٹینک بھی شامل تھے۔ یہ بھی ایک اعزاز ہے کہ پول نے تین ٹینکوں کو کمانڈ دی تھیں اور اُن کے ساتھ صرف ایک سپاہی تھا۔ پول کو بے شمار میڈلز سے بھی نوازا گیا،جس میں اہم ترین اعزاز’’ایس آف ایسز‘‘ بھی شامل تھا۔ فیوری کے متعدد مناظر ایک کتاب سے بھی ماخوذ ہیں،جس کا نام’’ڈیتھ ٹریپس‘‘ ہے،جس کے مصنف بیلٹن کوپر تھے۔

فلم کا ایک کردار فیوری ٹینک کے قریب بیٹھا سوچ میں گم ہے۔
شاندار اداکاری
فلم میں اداکاری کے جوہر دکھانے والوں فنکاروں میں بریڈپٹ،شائیالے بف،لوگن لرمن،مائیکل پینا اور جون بیرنتھل شامل ہیں۔ فلم کا مرکزی کردار کمانڈر وار ڈیڈی بریڈ پٹ نے نبھایا ہے۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے،وار ڈیڈی فیوری گروپ کا سربراہ ہوتا ہے،جس منظم طریقے سے اس کردار نے ساتھیوں کو سنبھالا،اُن کے حوصلوں کو ٹوٹنے سے بچایا،نارمن کو ٹریننگ دی،وہ سب کچھ قابل تحسین ہے۔
ڈیڈی بظاہر سخت دل کا مالک،مگر اندر ہی اندر وہ بھی انسانی ہمدردی کا حامل انسان ہے۔ ہر بار لوگوں کو مرتا ہوا دیکھ کر اور دوسرے انسانوں کو مار کر اس کا دل بھی روتا ہے۔ وہ یہ غم کبھی اپنے چہرے پر آنے نہیں دیتا کیونکہ یہ اُس کی ڈیوٹی میں شامل ہے کہ وہ جنگ جیت سکے۔ یہاں جان بیرنتھل نے اکھڑ مزاج فوجی کا کردار عمدگی سے نبھایا،جب وہ نارمن کے نرم و نازک دل کا مذاق اڑاتا اور اس کو مارتا ہے،وہ منظر بھی خاصی دلچسپی کا حامل ہے۔
ہدایت کاری
یہ فلم ڈیوڈ آئر نے بنائی ہے۔ ڈیوڈ کی ایکشن فلمیں بنانے میں مہارت حاصل ہے۔ اُن کی نامور فلموں میں سوُسائیڈ اسکواڈ،ٹریننگ ڈے اور اینڈ آف واچ شامل ہیں۔ فلم کی سینماٹوگرافی بھی بہترین ہے۔ ایکسٹراز کا استعمال فلم کے لیے نہایت ضروری تھا،ہدایت کار کو اس بات کا خیال تھا،اس لیے فلم میں یہ ایکسٹراز جابجا دکھا ئی بھی دیے۔ ڈائریکٹر کے دادا بھی جنگ عظیم میں شرکت کرچکے تھے،جس کی وجہ سے ڈیوڈ نے زیادہ حقیقی انداز میں فلم کوعکس بند کیا اور موضوع سے انصاف کیا۔
حرف آخر
یہ فلم وار کیٹیگری میں کمال اضافہ ہے۔ عمومی طور پر ٹینک کو موضوع بناتی فلم پر ایسا تفصیلی جائزہ بہت کم فلموں میں دیکھنے کو ملتا ہے،اس لحاظ سے یہ ایک منفرد فلم ہے،جس میں وہ سب کچھ موجود ہے،جو ناظرین کو ششدر کردے گا۔