ہالی وڈ کے معروف اداکار اور گلوکار”ول اسمتھ“ ، جنہوں 2022 میں بہترین اداکار کا آسکر ایوارڈ بھی حاصل کیا ہے۔ انہوں نے اس بائیوگرافی میں اپنی زندگی کے متعدد گوشوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے مختلف پہلوؤں پر بہت کھل کر بات کی ہے۔ دورِحاضر میں شوبز کی دنیا میں یہ سوانح عمری سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ہے، جس کا اردو زبان میں پہلی بار باقاعدہ اور مستند ترجمہ پیش کیا جارہا ہے۔
اس ترجمے کا اہتمام مہورت نے کیا ہے۔ اس بائیوگرافی کے اردو مترجم یوسف خان ہیں۔ قارئین مہورت کی ویب سائٹ پر اور میگزین میں اسے سلسلہ وار پڑھ سکتے ہیں اور یوٹیوب چینل پر اس کتاب کے ترجمے کے تناظر میں ویڈیوز بھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ یہ کتاب ایک عام آدمی سے خاص آدمی بننے تک کی کہانی کو نہایت دلکش انداز میں پیش کرتی ہے۔ امید ہے، آپ کو ہماری کوشش پسند آئے گی۔ (ادارہ)
(دیباچہ)
ایک’’دیوار جو نشانِ راہ‘‘ ثابت ہوئی
شاید میں اپنی عمر عزیز کی گیارھویں بہار کی رعنائیوں کا ٹھیک سے ادراک بھی نہ کرپایا تھا کہ ڈیڈی کے ذہن رسا نے ایک انوکھا فیصلہ کیا اور اس پر فوری عملدرآمد کا حکم بھی صادر فرما دیا۔ درحقیقت ہماری دوکان کے عین مقابل، ایک مدت سے ایستادہ ایک حفاظتی دیوار کا پلستر جگہ جگہ سے اُکھڑ رہا تھا، ٹوٹ پھوٹ کا شکار برہنہ اینٹیں منہ چڑا رہی تھیں، جن کے درمیان چھوٹے چھوٹے گڑھوں سے سیمنٹ و ریت برادے کی طرح گرنا شروع ہوگئی تھی۔ دیوار کی یہ خستہ خالی کسی بھی لمحے اس کے زمین بوس ہونے کا الارم تھی۔ اس پس منظر میں دیوار کی تعمیر نو کا فیصلہ تو بروقت اور صائب تھا، مگر انوکھا اور روح فرسا اِن معنوں میں تھا کہ 20 فٹ لمبی اور 12 فٹ اونچی دیوار کو نئے سرے سے اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کا یہ کٹھن منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچانے کی ذمہ داری کسی ٹھیکیدار یا تعمیراتی کمپنی کو سونپنے کے بجائے ہم دو بالکوں یعنی مجھ کمسن اور مجھ سے بھی کم عمر چھوٹے بھائی ہیری کے ناتواں کندھوں پر ڈال دی گئی تھی۔ ایک جہاندیدہ اور گرگ باراں دیدہ باپ کے اس سفاکانہ فیصلے کی حکمت یا مصلحت ہماری کوتاہ ذہنی میں سمانے سے قاصر تھی۔

ول اسمتھ ۔ لڑکپن اور جوانی کی عکاس تصاویر
تاہم اس تمام’’فنکارانہ کارگزاری‘‘ کی داد سمیٹنے سے قطع نظر، اگر اس دور میں’’خدمت تحفظ اطفال‘‘ نوع کے کسی ادارے کا وجود ہوتا، تو ہماری عمر کے بچوں کے سروں پر تھوپا جانے والا یہ’’کار ہائے نمایاں‘‘ بلا مبالغہ جبری مشقت یا بیگار کے زمرے میں آتا اور یقینی طور پر قابلِ دست اندازی پولیس ٹھہرتا۔ ستم در ستم تو یہ ہے کہ ایک دیوار کی تعمیر، جس پر دو ناپختہ وناتجربہ کار معصوم ہاتھوں نے غیر ضروری طوالت کا شکار ہوکر کم وبیش پورا ایک سال صرف کیا، وہ ہنرمند کاریگروں کے لیے محض دو دن کی مار تھا۔
ہاں! تو میں ذکر کر رہا تھا اُس سال کے ان 365 ایام کا۔ آہ!! وہ طویل ترین ایام، جن میں چھٹی، تفریح، آرام، کھیل کود، غرض یہ کہ لڑکپن کے تمام چونچلے سہارے لیے شجر ممنوعہ ٹھہرا دئیے گئے تھے حتیٰ کہ اس عرصہ طویل میں وقفہ حرام تھا۔ اتوار کی چھٹی، ویک اینڈ کی سرمستیاں، اسکول کی سالانہ تعطیلات کا تو شمار ہی کیا؟ موسم گرما کی جھلسا دینے والی دُھوپ میں بھی دو معصوم بچے ایک دیوار خانہ براندام کی تعمیر میں خوار وزبوں رہے، مگراُن کے سنگدل ڈیڈی کا دِل نہ پسیجا کہ انھیںکسی ایک دن کے لیے پروانہ رخصت عنایت کر دیتا، پھر بھی یقین کیجیے کہ ڈیڈی کے اس نامہربان رویے کو ہم نے کبھی عتاب نہ جانا۔
میرے لیے تو پریشان کن مرحلہ دیوار کی تکمیل کا تھا، جو ایک عفریت کی طرح منہ کھولے میرے حوصلوں کو بدتریج پست اور کمزور کیے جا رہا تھا، جونہی میری نگاہ غلط انداز بنیادی گڑھوں پر پڑتی، دِل بیٹھ بیٹھ جاتا اور ہر بار ایک دیوار گویا میرے اندر گرجاتی، مایوسی کی دھند میں لپٹا ذہن پکار پکار اٹھتا ’’نہیں کبھی نہیں، شیطان کی آنت کی طرح پھیلتا یہ کام ہم سے کبھی ختم نہ ہوپائے گا‘‘۔
یوں محسوس ہوتا تھا، جیسے دو ناتواں وجود’’گریٹ وال آف ویسٹ فلی‘‘ کی تعمیر کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں، ان کے چاروں طرف کروڑوں، اربوں کی تعداد میں لال اینٹیں بکھری پڑی ہیں، جنھیں پر ت در پرت ٹھکانے لگانے میں لگے ہوئے ہیں۔ میں تو اس حدتک پہنچ چکا تھا کہ اس کنکریٹ ملانے اور بالٹیاں بھر بھر کر اُٹھانے کے منحوس چکر میں ہمارے سروں پر سفیدی اُبھر آئے گی اور یہ گڑھا بھرتے بھرتے، ایک دن ہم خود زمین کی آغوش میں سو جائیں گے۔ جی ہاں! میرا یہ یقین پختہ ہوچلا تھا ۔
طوفانِ د وباراں ہو یا آگ برساتا سورج، دماغ مائوف ہو رہا ہو یا ذہن و دل پر افسردگی چھائی ہو، بخار میں بدن تپ رہا ہو یا اگلی صبح پرچہ دینا ہو۔ ہمارا تو ہر دن مشینی انداز میں ایک روبوٹ کی طرح سیمنٹ، ریت اور چوناملا ملا کر کنکریٹ بنانے، بالٹیاں بھرنے، انڈیلنے اور اینٹیں پیوست کرنے میں ہی گزرتا۔ زیر لب شکایت واشگاف احتجاج، عذر، بہانہ، حقیقت، افسانہ ـ’’ظل الہٰی‘‘ کے قدموں کی دُھول بن کر اُڑجاتے۔’’زمین جنبد، نہ جُنبدگل محمد‘‘ والد کی کرختگی کو کوئی جذبہ، کوئی احساس اپنی جگہ سے نہ ہلا پایا، بلا تعطل کام، کام اور صرف کام ہی اُن کا مقصود و مطلوب تھا۔ ہم اپنے ہی باپ کے قہرزدہ جال کے اسیر تھے اور دیوار استداد بن کر ایک آہنی دیوار نے ہمارے اعصاب اپنے شکنجے میں کس رکھتے تھے۔‘‘
موسم پہ موسم بدلتے چلے گئے، دوست احباب ایک ایک کرکے چلتے بنے، اساتذہ کرام تک مُدت ملازمت عبور کرکے پینشن یافتہ ہوگئے، یوں مجھ پر زندگی کا یہ بیش بہا راز منکشف ہوا کہ’’دیوار ہمیشہ موجود رہتی ہے‘‘
اس غیر متوقع صورتحال سے ہم سنبھلے نہ پائے تھے کہ کسی فوجی انسٹرکٹر کی طرح ایک بھاری بھرکم آواز ہمارے کانوں میں گونجی۔’’اُس مُوزی دیوار کی تعمیر کا تصور اپنے ذہن کی دیواروں سے کھرچ ڈالو، تم نے کوئی دیوار ویوار نہیں بنانی، تمھارا مسئلہ تو صرف یہ ایک اینٹ ہے، جو تمھارے سامنے دھری ہے، بس یہ ایک اینٹ اُٹھاکر اسے مناسب طریقے سے اس کی موزوں جگہ پر نصب کردو، پھر دوسری ایک اینٹ اٹھائو اور یہی عمل دہرائو، پھر تیسری ایک اینٹ، پھر چوتھی، کہاں کی دیوار؟ کیسی دیوار؟ جس شے کا وجود ہی نہیں، اُسے اپنے لیے کیوں ہوا بنارکھا ہے؟ اپنی تمام تر توجہ بس ایک اینٹ کی درست تنصیب پر مرکوز رکھو اور میری دانست میں یہ کوئی ایسا مشکل یا ناممکن کام تو نہیں‘‘۔
ڈیڈی تو تحمکانہ انداز میں ہمیں یہ نرالی منطق سمجھا کر خراماں خراماں اپنی شاپ میں جا گھسے اور ہم بھائی کی ہونقوں کی طرح دیدے پھاڑے ایک دوسرے کو تکتے رہ گئے کیونکہ ان کا یہ فیثاغورثی ہدایت نامہ ہمارے سروں سے گزر گیا، ہم نے کچھ نہ سمجھ پانے کے اظہاریے کے طور پر اپنے کندھے اُچکائے اور ’’قہردرویش پر جاں درویش‘‘ کوہی غنیمت جانتے ہوئے، وہی اینٹ گارے کی دُھن میں مگن ہوگئے۔
٭٭٭٭
اگرچہ میرے باپ نے اپنے مشاہدات، تجربات اور حوادث سے ماخوذ زندگی کوسمجھنے اور احسن طریقے سے برتنے کے کئی زریں اصول، نصیحت اور وصیت کی صورت وقتاََ فوقتاََ ہمارے گوش گزار کیے، جنہیں زندگی کی کٹھنائیوں میں چراغِ راہ بنانا لازم آتا تھا، مگر نہ جانے کس خوابیدہ جذبے کے تحت میں نے ہر موڑ پر انہیں فرسودہ، ناقابل عمل اور مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے نہ صرف یہ کہ انہیں سختی سے رَد کیا بلکہ ہمیشہ اُن کے اُلٹ چلا، حالانکہ عملی زندگی میں ان کے فلسفہ حیات کی کاملیت، حقانیت اور وقعت کا پلڑا اپنی ضد کے مقابل ہمیشہ بھاری پایا، جس سے رُوگردانی عظیم خسارے کا باعث بنی۔ ان کے ازبر کرائے گئے انہی اسباق میں سے’’اینٹ اور دیوار‘‘ کا سبق تو آج تک میں نے حرزِجاں بنا رکھا ہے۔ یہ سبق بھلائے بھی یوں نہیں بُھولتا کہ’’دیوار‘‘ جو ہمیشہ اور ہر جگہ موجود ہوتی ہے اور سدراہ کی علامت کے طور پر جانی جاتی ہے، لیکن ڈیڈی کی ہدایت کے بموجب وہ ایک ایک اینٹ سے تعمیر کی گئی دیوار میرے لیے ایسا ’’نشانِ راہ‘‘ ثابت ہوئی، جس نے روشنی کا مینار بن کر منزل تک پہنچانے والے تمام راستوں کو روشن کرکے رکھ دیا۔
آہ!دیوار کی تعمیر نو کا وہ بھیانک وقت! جس کی وحشت دور کرنے اور مشقت کی کلفت کو کم کرنے کے لیے ڈیڈی نے’’صرف ایک اینٹ کی تنصیب پر توجہ مرکوز رکھنے‘‘ کا جو انوکھا طریقہ سمجھایا تھا، اُس وقت فوری طور پر اس تجویز سے بیزار کُن چڑسی ہو چلی تھی ۔ اپنی دانست میں ایک معقول اور دانا و بینا شخص سے ایسی بے تُکی تجویز کی توقع نہیں کرسکتا تھا، مگر حیرت انگیز طور پر جب دیوار کی تعمیر کا تصور لے کر کام شروع کرتا، تو طوالت، تھکاوٹ اور ناکامی کا خوف رگ و پے میں سرایت کر جاتا، لیکن جب ڈیڈی کے فرمان پر عمل کرتے ہوئے’’صرف ایک اینٹ کی تنصیب کا فریضہ‘‘ پر دھیان دیتا، تو وہی کام خوشگوار اور سہل محسوس ہوتا اور خبیث و منحوس میں اینٹوں کا ڈھیر ایک ایک اینٹ بن کر مبارک اور سعد بن کر دیوار کی صورت گری میں ممدو معاون بن جاتا۔ گویا سوچ کی تبدیلی امکانات پر یقینی طور پر اثرا نداز ہوتی ہے۔

اداکار بچپن میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ
اب تواسی’’ایک اینٹ پر توجہ مرکوز‘‘ رکھنے کے فارمولے کے عین مطابق ہماری بیگار خوشگوار ٹاسک میں تبدیل ہوگئی اور پھر کئی ہفتے تو جیسے’’منٹوں‘‘میں گزرگئے، غیر محسوس طور پر دیوار بلند ہوتی چلی گئی اور شگاف معدوم، ساتھ ہی ساتھ ذہن کے دریچے سے فہم و ادارک کے تروتازہ جھونکے نے یہ مژدہ جانفرا بنایا کہ ’’ممکن‘‘ اور’’ناممکن‘‘ کے درمیان عزم و ادارے سے زیادہ’’زاویہ نگاہ‘‘ کا فرق ہوتا ہے ۔ ذہن پر اگر کل یعنی ـ’دیوار ‘سوار ہے، تو کار دشوار ہے اور اگر توجہ’’جزو‘‘ یعنی ایک اینٹ پر مرکوز ہے، تو کار سہل ہے، خوشگوار ہے۔
گویا، رُخ بدل کے جو دیکھا، بدل گئی کائنات
اب یہ امنگ اور ترنگ تو آپ کے اندر سے اُبھرتی ہے کہ آپ اپنا کتھا رسس پیغام یا دنیا میں بدلائو لانے کی ترکیب کا ابلاغ اولین عالمی ہپ ہاپ کرداروں کی طرح فنکارانہ چابکدستی سے ہی پیش کرنے پر اکتفا کرتے ہیں یا پھر عظیم فلمی صنعت ہالی وڈ کی تاریخ میں اپنے نام کے عنوان سے ایک سنہری باب رحم کرنے کی تڑپ رکھتے ہیں۔ آپ جو بھی بننا یا کردکھانا چاہتے ہیں، یہ سبق فراموش نہ کیجئے گا کہ کسی بھی ارفع نصب العین کے حصول کی راہ میں کہیں نہ کہیں ایک ایسا دشوار ترین مرحلہ ضرور آتا ہے، جب یک و تنہا ایک طویل و بلند بالا دیوار کی تعمیر امرلازم ہوتی ہے، یہی وہ مقام ہوتا ہے، جہاں آپ کے عزم و حوصلے اور لگن سے بڑھ کر آپ کے’’زاویہ نگاہ‘‘ کی پرکھ ہوتی ہے۔ ہماری طرح اگرآپ نے بھی دیوہیکل دیوار کو اعصاب پر سوارکرلیا، تو ٹاسک لامتناہی، دقت طلب، مشکل بلکہ محال محسوس ہوگا اور اگر’’ایک اینٹ کی درست تنصیب‘‘ کو مرکز نگاہ بنایا، تو دیکھتے ہی دیکھتے آپ کے خوابوں کا تاج محل حقیقت کا رُوپ دھار کرآپ کی شاندارکامیابی کی نوید سنا رہا ہوگا۔
جہاں تک میرے کیرئیر کا سوال ہے، سچی بات تو یہ ہے، پورے کیرئیر میں میں نے نہ تو کسی کی پیروری قبول کی اور نہ ہی کسی کی سرپرستی میں کام کرنا گوارا کیا، میں تو تمام عمر ایک ہی اصول اورایک ہی ضابطے کا پابند رہا، جس پر شاید آپ لوگ بمشکل ہی یقین کر پائیں گے۔ میں جب بھی کسی ٹاسک کے حصول کا ارادہ ٹھان لیتا ہوں، تو پھر خود کو دنیا و مافیہا سے قطعی طور پر لاتعلق کر لیتا ہوں، خود کو ہمہ وقت اپنے کام میں متفرق کرلیتا ہوں، میرا کام جس قدر بیزار کُن حد تک تھکا دینے والی محنت کا حامِل ہوتا ہے۔
اس کا خوشگوار نتیجہ اسی قدر میری خواہشات کے عین مطابق ہوتا ہے اور اگر آپ کو میری کامیابی کا راز جاننے کا اشتیاق ہے، تو چلیں آج میں اس راز کو بھی افشا کئے دیتا ہوں۔’’میں کبھی اپنی پے درپے ناکامیوںسے مایوس ہوکر بیٹھ نہیں جاتا اور آپ کو بھی یہ انمول اصول بتائے دیتا ہوں کہ اپنی ناکامی سے قطعاً دل گرفتہ ہونے کے بجائے ایک ولولہ تازہ لے کر اٹھ کھڑے ہوں، ایک اور اینٹ اٹھائیں اور اسے درست جگہ لگانے کی سعی کریں، جھنجھلائیں مت، ایک اور اینٹ اٹھالیں، کیا ہوا؟ ویک اینڈ کی شروعات ہی گڑبڑ ہوگئیں؟ کوئی بات نہیں، ایک اور اینٹ آپ کی منتظر ہے، ارے یہ کیا؟ البم کی فروخت میں بتدریج کمی واقع ہوگئی؟ ایک اور اینٹ تھام لیجیے، ازدواجی زندگی ڈاواں ڈول ہے؟ آپ کی بلا سے۔ ایک اور اینٹ اپنے درست مقام تک پہنچنے کے لیے بیتاب ہے۔
تو ہے ہرجائی تو اپنا بھی یہی طور سہی
تو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی۔۔
اگر آپ کو میری کامیابی کا راز جاننے کا اشتیاق ہے، تو چلیں آج اس راز کو بھی افشا کیے دیتا ہوں
گزشتہ تین دہائیوں پر محیط ایک طویل عرصہ دیگر بہت سے لوگوں کی طرح میرے نوشتہ تقدیر نے بھی مجھے کئی ناکامیوں کے نامے بھیجے، بہت سی محرومیاں میرا بھی مقدر بنیں، ذلت و خواری کاٹی، طلاق تک نوبت پہنچی، کئی عزیزوں کے تابوت اٹھائے، جان سے جانے کی دھمکیاں سہیں، جمع پونجی چھین لی گئی، خاندان کا شیرازہ بکھرتے دیکھا، ذاتیات پر رکیک حملے برداشت کیے، مگر ٹوٹے ہوئے تاروں کی ماتم گساری میں وقت ضائع کرنے کی بجائے ہر نئی صبح ایک آفتاب تازہ کی طرح تعمیر نو کا جذبہ لے کر بیدا رہوتا، کنکریٹ ملاتا، ایک اور اینٹ تھام کر موزوں طریقے سے اُسے، اُس کے درست مقام پر لگانے کی کوشش میں مگن ہو جاتا۔ حالات کی ستم ظریفی پر اس اُدھیڑ بن میں خود کو نہ الجھائو کہ تم پر کیا بیت رہی ہے، ذرا نگاہ اُٹھا کر تو دیکھو! تمھارے سامنے دھری ایک اور اینٹ اپنی موزوں جگہ تک پہنچنے کے لیے تمھارے ہاتھوں کی پکڑ کی منتظر ہے۔ سوال آپ کی نیت اور ارادے کا ہے کہ آپ ایسا چاہتے بھی ہیں یا نہیں، اگر چاہتے ہیں تو پھر، جہاں چاہ، وہاں راہ۔
اکثر لوگوں کو گمان غالب ہے کہ اسما کے مقامی و مفاہیم بچے کی شخصیت کی تعمیر و تشکیل پر بہت ہی گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اب یہ محض اتفاق ہے یا میری خوش بختی کہ ڈیڈی نے شعوری یا غیر شعوری طور پر مجھے اپنے نام’’وِل‘‘ یعنی’’قوت ارادی‘‘ سے موسوم کیا، شاید یہ نام ہی اس قدر سعد ہے کہ بدترین اور ناموافق حالات میں بھی مجھ پر پیش بہا نوازشات کی بارش ہوتی رہی یا پھر واقعی میں اسم بامعنی ہوں۔
خیر یہ تو کچھ جملہ ہائے معترضات تھے، جو موضوع کی وضاحت کے لیے دخل در معقولات کے طور پر در آئے، چلئے اب پھر لوٹتے ہیں اپنی اصل کتھا کے انت کی طرف۔
مسلسل اور لگاتار محنت و مشقت کا وہ ایک سال تو خیر جیسے تیسے بیت ہی گیا، لیکن اس سال کا وہ پہلا ابرآلود دن بھلا کے بھلایا نہیںجاسکتا ہے، جب دو کمسن بچوں نے اپنے والد کے حکم پر طوغا و کرہا اینٹوں کی دیوار کی تعمیر نو کا آغاز کیا تھا اور پھر بتدریج اس ہدف کی عدم تکمیل کے خوف کی پھیلتی خوں آشام شاخیں ان کے پورے وجود کی جکڑتی چلی گئیں۔ ہم دیوار کی بنیا د کا ایک گڑھا بمشکل بھرنے کے اور ابھی ٹھیک سے سانس بھی نہ لے پاتے کہ دوسرا گڑھا ایک عفریت کی طرح منہ کھولے سامنے آکھڑا ہوتا اور ہم خود کو لق و دق صحرا میں پیاس سے نڈھال اس مسافر کی مانند در مانندہ محسوس کرتے، جو سراب کے پیچھے بھاگ بھاگ کر کچھ ایسی بے بسی کی مثال بن چکا ہو۔۔۔
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو۔۔۔۔
میں ایک دریاکے پار اُترا تو میں نے دیکھا
تاہم ہرسیاہ بادل کے کنارے ایک نقرئی لکیر امید کی کرن بن کر ضرور جگمگا رہی ہوتی ہے، اسی طرح ستمبر کی ایک یخ بستہ صبح کا دمکتا سورج ہمارے لیے بھی سحر کی نوید بن کر طلوع ہوا، جب ہم آخری بالٹی سے آخری گڑھا بھر کے آخری اینٹ بچھاتے ہوئے خوشی کے مارے پھولے نہیں سما رہے تھے۔
ہمارے پیچھے کچھ ہی فاصلے پر انگلیوں میں سگریٹ دبائے بڑے ہی پُرسکون انداز میں تحسین آمیز نگاہوں سے ہمارے اختتامی مرحلے کو چُپ چاپ تکے جا رہے تھے۔
ہرسیاہ بادل کے کنارے ایک نقرئی لکیر امید کی کرن بن کر ضرور جگمگا رہی ہوتی ہے۔
اور پھر وہ لمحہ جانفرا ابھی آہی گیا، جب آخری اینٹ بھی درست طریقے سے اپنے مقام پر نصب ہوگئی، ہیری تو گویا خوشی سے پاگل سا ہوگیا، اُس نے عجیب سے انداز میں کندھے اُچکائے اور دیوار سے پکار اٹھا۔’’اب اور کیا کریں؟ کیا بچا ہے؟ ماسوائے اس کے کہ ناچیں، کودیں اور جشن منائیں۔!!‘‘
اس بے پایاںپُرمسرت کیفیت میں پلٹتے ہوئے جب ڈیڈی پر نگاہ پڑی، تو ہم اتنی بڑی کامیابی پر بھی سہم سے گئے اور انتہائی مودب انداز میں ان کے دائیں بائیں کھڑے ہوگئے۔
ڈیڈی حسب معمول ہماری کیفیت سے بے نیاز دیوار پر مسلسل نگاہیں گاڑے، آخری کش کھینچتے ہوئے سگریٹ فرش پر پھینکتے ہیں اور بوٹ کی ایڑھی گھماکر اُسے مسل ڈالتے ہیں، پھر دھوئیں کا مرغولہ آسمان کی طرف چھوڑتے ہوئے سرد مہر لہجے میں ہم سے مخاطب ہوتے ہیں۔’’وہ آئندہ کبھی میں یہ نہ سُنوں کہ تم فلاں کام نہیں کرسکتے۔‘‘ بس اتنا کہہ کر وہ گھومے، دوکان میں داخل ہوئے، اوزار اٹھائے اور اپنے کام میں منہمک ہوگئے۔
(جاری ہے)