اندر کا منظر؛ ہانا کا اپارٹمنٹ ۔ شام کا وقت
مائیکل ہانا کو ’ ٹِن ۔ٹِن‘ پڑھ کر سنا رہا ہے ۔ وہ بستر میں لیٹی ہے ۔ وہ دونوں اس کومک کی تصویریں بھی دیکھ رہے ہیں ۔
مائیکل؛ ’’ آبلے ڈالنے والے سرخاب اور ایک گرج دار طوفان ۔
یہ پانی ہے ۔
لیکن یہ مائع اس دھرتی پر اصل میں ہے کیا؟‘‘
ہانا؛ ’’ وہسکی ‘‘
مائیکل؛ ’’ وہسکی ! اس طوفان میں ، وہسکی ۔وہسکی ؟ کپتان ، جانے بھی دو، تم سنجیدہ نہیں ہو ۔‘‘
ہانا؛ ’’ٹھیک ہے، بچے ، آج کے لئے اتنا ہی کافی ہے ۔‘‘
اور وہ بستر میں لیٹ جاتے ہیں ۔
مائیکل؛ ’’ میں سوچ رہا تھا کہ کیا تم اپنے کام سے چھٹی لے سکتی ہو ؟اور ہم سیر کے لئے جا سکیں ۔
ہانا؛ ’’ کس قسم کی سیر ؟‘‘
مائیکل؛ ’’ مجھے سائیکلوں پر سیر کے لئے جانا بہت اچھا لگتا ہے ۔ ہم دو دنوں کے لئے ایسا کر سکتے ہیں ۔‘‘
مائیکل ایک کتاب کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے ۔
مائیکل؛ ’’ میرے پاس ایک گائیڈ بک ہے ۔ میں نے راستہ بھی طے کر لیا ہے ۔ دیکھو، تمہارا کیا خیال ہے ؟‘‘
ہانا کی نظریں کہیں دور خلائوں میں کھوئی ہوئی ہیں اور ایسا لگتا ہے جیسے اس نے سوال سنا ہی نہیں ۔ خاموشی ۔ اور پھر؛
ہانا ؛ ’’ میرا خیال ہے کہ تمہیں منصوبہ بندی پسند ہے ، کیا ایسا نہیں ہے ؟‘‘
وہ کتاب کو پرے پھینک دیتی ہے اور وہ پیار کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر ؛ بیڈ روم ۔ برگ اپارٹمنٹ ۔ پو پھٹنے کا وقت
پہلی روشنی ۔ کھڑکی کے باہر دن نکل رہا ہے ۔ مائیکل اپنے ڈیسک پر بیٹھا کام کر رہا ہے ۔ ڈیسک کی سطح ٹکٹوں سے بھری ہے اور اس کے ذخیرے کی البم کھلی پڑی ہے ۔وہ اہرام مصر والی ایک ٹکٹ اٹھاتا ہے اور اسے دیکھتا ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ مائیکل کی آواز آ رہی ہے ۔ وہ شِلر کا ڈرامہ ’ سازش اور محبت‘ پڑھ رہا ہے ۔
مائیکل؛ ’’ میں خوفزدہ نہیں ہوں ۔ میں کسی سے نہیں ڈرتا ۔ اور میں ڈروں بھی کیوں؟ میں رکاوٹوں کو خوش آمدید کہتا ہوں ، کیونکہ یہ میرے لئے ایسے پہاڑ ہیں جن کو پھلانگ کر میں تمہاری بانہوں میں
سما جانا چاہتا ہوں ۔میں جتنی زیادہ اذیت اٹھائوں گا ،میںتم سے اتنا ہی زیادہ پیار کروں گا ۔۔۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
اندر اور باہر کا منظر؛دکان ۔ دن کا وقت
باہر سے ، ایک دکان نظر آ رہی ہے جس میں ٹکٹیں ہی ٹکٹیں ہیں ۔مائیکل اور ٹکٹوں کا ایک ڈیلر اکٹھے ہیں ۔ ڈیلر سفید بالوں اور مونچھوں والا ایک شخص ہے ۔مائیکل اسے اپنی اہرام مصر والی ٹکٹ دکھا رہا ہے ۔ اس کی حرکات سے بے چینی واضح ہے ۔ ٹکٹوں کا ڈیلر کچھ یوں سر ہلا رہا ہے جیسے وہ مائیکل کو وہ معاوضہ نہیں دے رہا جس کی توقع مائیکل کو ہے ۔پھر مائیکل مان جاتا ہے اور ڈیلر بھی ۔ وہ مائیکل کو کچھ نوٹ دیتا ہے ۔ مائیکل جوشیلے انداز میں دکان سے باہر نکل کر گلی میں بھاگنا شروع کر دیتا ہے ۔
مائیکل کی آواز؛ ’’ خطرات ہی میری محبت کو بڑھاوا دیتے ہیں ،یہ اسے تیز کرتے ہیں ، یہ اس میں مرچی بھر دیں گے ۔ میں ہی وہ فرشتہ ہوں جس کی تمہیں ضرورت ہے ۔لوئیس ، میرا بازو تھامے تم زندگی بھر رقصاں رہو گی ۔ تم زندگی سے کہیں زیادہ خوبصورت طریقے سے رخصت ہو گی ، جس طرح اس میں داخل ہوئی تھیں ۔فردوس بریں تمہیں خوشی سے واپس لے گی ، تمہیں دیکھے گی اور کہے گی؛
’ ’ صرف ایک شے ہے جو روح کی تکمیل کرتی ہے اور وہ ہے محبت ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر؛ پہاڑی ۔ دن کا وقت
ہانا اور مائیکل سائیکلوں پر تیزی سے سائیکلیں چلاتے ہوئے نیچے اتر رہے ہیں ۔ مائیکل کے پاس پٹھو ہے ۔ یہ ایک دیہاتی ، جنت سا،علاقہ ہے ۔۔ہر طرف پہاڑیاں ہیں اور نیچے ایک جھلملاتا دریا بہہ رہا ہے ۔ سورج روشن اورچمکیلا ہے ۔ ہانا نے نیلا لباس پہن رکھا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر ؛ کیفے ۔ دن کا وقت
ہانا اور مائیکل کیفے پر رکتے ہیں اور باہر بچھی کرسیوں پر بیٹھتے ہیں ۔ وہ مینو کارڈ اٹھاتے ہیں ۔ ایک
ویٹریس آتی ہے ۔
ویٹریس؛ ’’ تو آپ لوگ کیا کھانا چاہو گے ؟‘‘
مائیکل؛ تم کیا لینا چاہ رہی ہو ؟‘‘
ہانا؛ ’’ تم آڈر کرو ۔ میں بھی وہی کھا لوں گی جو تم کھائو گے ۔‘‘
مائیکل آڈر دینا شروع کرتا ہے ۔ ان کے نزدیک ہی بوائے سکائوٹس کا ایک گروپ بیٹھا ہے جو آپس میں باتیں کرتے ہوئے ہنس رہے ہیں ۔
لڑکے؛ ’’یہاں ساسجزہیں ، ساسجز اور ساسجز ہی ہیں ۔ مجھے بھی دو ، آئو اور انہیں یہاں رکھ دو ۔ مجھے ان کو دیکھنے دو ۔ تم ہمیشہ ایک ہی شے کھاتے ہو ۔‘‘
وہ سب ہنستے ہیں ۔ ہانا انہیں گھبراہٹ سے دیکھتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر ؛ کیفے ، دن کا وقت
دونوںکھانا کھا چکے ہیں ، مائیکل اکیلا ہے اور پیسے ادا کر رہا ہے ۔
ویٹریس؛ ’’ مجھے امید ہے کہ تمہاری ماں خوش تھی ۔‘‘
مائیکل؛ ’’ وہ اپنے کھانے سے خوب لطف اندوز ہوئی ہے ۔ شکریہ ۔‘‘
ویٹریس چلی جاتی ہے ۔ ہانا کیفے کے اندر سے واپس آتی ہے ۔ مائیکل اپنا بازو اس کی طرف بڑھاتا ہے ۔ ہانا اس کا بازو تھام لیتی ہے ۔ وہ اپنی سا ئیکلوں کی طرف چل دیتے ہیں ۔ مائیکل مسکراتا ہے اور اِدھر اُدھر دیکھتا ہے ۔ پھر وہ ہانا کے ہونٹوں کا بوسہ لیتا ہے ۔ ویٹریس اسے ایسا کرتے ہوئے دیکھتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر؛ گرجا گھر ۔ دن کا وقت
وہ ایک چھوٹے سے گرجا گھر کے باہر اپنی اپنی سائیکلوں سے اترتے ہیں ۔ مائیکل رکتا ہے اور ایک
نقشہ اور گائیڈ بُک نکالتا ہے ۔
مائیکل؛ ’’ یہاں دیکھو، میں تمہیں دکھاتا ہوں کہ ہم کہاں جا رہے ہیں ۔‘‘
ہانا ؛ ’’بچے ! ایسے ہی ٹھیک ہے ۔ میں جاننا نہیں چاہتی ۔‘‘
گرجا گھر کے اندر سے دعائیہ گیت کی آواز آ رہی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ گرجا گھر ۔ دن کا وقت
مائیکل اور ہانا دعائیہ گیت گانے والوں کو دیکھنے کے لئے گرجا گھر میں داخل ہوتے ہیں ۔ گیت گانے والے ’ باخ‘ کی مشق کر رہے ہیں ۔ یہ ایک روایتی جرمن منظر ہے ۔۔۔ سارے خاندان قربان گاہ کے نزدیک مل جل کر گا رہے ہیں ۔ ہانا موسیقی کی آواز سنتے ہوئے اس میںبہہ جاتی اور خود میں کھو جاتی ہے۔مائیکل اسے دیکھتا رہتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر؛ دریا کا کنارا ۔ دن کا وقت
ہانا دریا میں ہے ، پانی اس کی پنڈلیوں تک ہے ، اس کا سکرٹ اس کی رانوں کے ساتھ چپکا ہوا ہے ۔ وہ مکمل طور پر خود میں کھوئی ہوئی ہے ۔پھر اسے احساس ہوتا ہے کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے ۔ وہ نظر اٹھاتی ہے ۔ مائیکل ایک نوٹ بُک لئے بیٹھا ہے ۔
ہانا؛ ’’ تم کیا کر رہے ہو ؟‘‘
مائیکل؛ ’’ میں تمہارے بارے میں ایک نظم لکھ رہا ہوں ۔‘‘
ہانا؛ ’’ کیا میں اسے سن سکتی ہوں ؟‘‘
مائیکل؛ ’’ یہ ابھی مکمل نہیں ہوئی ۔ میں اسے کسی اور روز تمہیں سنائوں گا ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ مائیکل کا اپارٹمنٹ ۔ برلن ۔ دن کا وقت
1995 ؛ مائیکل جو اب 51 برس کا ہے اپنے ڈیسک کے پاس کھڑا ہے ۔ وہ ایک دراز کھولتا ہے ۔ وہ ایک نوٹ بُک نکالتا ہے جسے وہ پہچانتا ہے ۔وہ اس کے پیلے پڑے ورق کھولتا ہے اور نظم پر نظر ڈالتا ہے ۔وہ پھر ورق پلٹتا ہے ، جن پر ہاتھ سے لکھی ہوئی فہرست ہے ۔۔۔جن پر اوڈیسی ، شینٹزلر ، چیخوف ، زویگ، کے الفاظ اور ان کے ساتھ اعداد لکھے ہوئے ہیں ۔مائیکل نوٹ بُک کو بند کرتا ہے اور اسے واپس رکھتا ہے اور باہر جانے کے لئے مڑتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر ؛ سڑک ۔ دن کا وقت
مائیکل اس عمارت سے باہر نکلتا ہے جس میں اس کا اپارٹمنٹ ہے ۔وہ اپنی کالی مرسیڈیز میں بیٹھتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ کار ۔ دن کا وقت
مائیکل ریڈیو پر باخ کی وہی موسیقی سن رہا ہے جواس نے ہانا کے ساتھ گرجا گھر میں سنی تھی ۔وہ ابھرتے ہوئے جدید شہر کی سڑکوں پر کار چلا رہا ہے ۔ پس منظر میں بڑے کرین اورشہر کی زیر تعمیر عمارتوں کی کھدائی کئے گئے پلاٹ نظر آ رہے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر؛ سڑک ۔ دن کا وقت
مائیکل گاڑی کو گھماتا ہے اور اسے ایک جگہ پر کھڑا کرتا ہے ۔ وہ باہر نکلتا ہے ، سڑک پار کرتا ہے ۔ وہ دیکھنے میں خوشحال اور بامقصد لگتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر ؛ عدالتوں کی عمارت کا دالان ۔ دن کا وقت
مائیکل کا نائب ہاتھ میں کالا چوغہ لئے اسے ملتا ہے ۔ مائیکل اس وسیع دالان میںچوغہ پہنتے ہوئے تیزی سے آگے بڑھتا ہے ۔ گرہارڈ بیڈ ، جو خود بھی پچاس کے پیٹے میں ہے اور چوغہ پہنے ہوئے ہے ، اس کے راستے میں آتا ہے ۔
گرہارڈـ ؛ ’’ مائیکل ، ٹھیک ہو؟‘‘
مائیکل؛ ’’ میں ٹھیک ہوں ۔‘‘
گرہارڈ؛ بہتر ہو گا کہ تم جلدی پہنچو ۔ تمہیں تو پتہ ہی ہے کہ وہ کیسی ہے ۔‘‘
چوغہ پہنے ایک اور نائب دروازے کے پاس دستاویزات لئے کھڑا ہے ۔ وہ انہیں مائیکل کو دیتا ہے ۔ وہ سب اندر داخل ہو جاتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ کمرہ عدالت ۔ دن کا وقت
خاتون جج کے کمرہ عدالت میں داخل ہونے سے چند سیکنڈ پہلے ہی مائیکل اپنے مؤکل سے جا ملتا ہے ۔ جج کے آنے پر سب کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ خاموشی ۔ جج مائیکل کی طرف ناپسندیدہ نظروں سے دیکھتی ہے ، اس نے مائیکل کی دیری کو بھانپ لیا ہے ۔ سب بیٹھ جاتے ہیں ۔ مائیکل بھی بیٹھ جاتا ہے اور ماضی میں کھو جاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ سیڑھیوں والا راستہ ۔ سکول ۔ دن کا وقت
1958 ؛ سولہ سالہ لڑکیوں کا ایک جتھا ، جیسے تھانیدار کے سپاہی ہوں ، لال چہروں کے ساتھ ہنستی ہوئیں کلاس روم کی طرف بڑھ رہی ہیں ۔ان میں سے ایک دوسروں کے ساتھ گرم جوشی کے ساتھ باتیں کر رہی ہے ۔
صوفی؛ ’’ میں یہاں ایسے ظاہر کروں گی، جیسے میں یہاں سالوں سے ہوں ۔ میں کسی طور بھی کسی
مخصوص انداز میں پیش نہیں آئوں گی ۔‘‘
ایک لڑکی؛ ’’تمہیں انتظار کرنا ہو گا ۔ انتظار کرو اور دیکھو ۔‘‘
وہ سب مسکراتی ہیں اور کلاس روم کی طرف بڑھ جاتی ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ سکول ۔ دن کا وقت
لڑکے پہلے ہی اپنی اپنی جگہ پر مختلف جگہوں پرموجود ہیں ۔جیسے ہی لڑکیاں اندر آتی ہیں ، وہ سب چلاتے ہیں ’ لو وہ آ گئیں ‘ ۔ اس کے بعدایک استاد بھی اندر آ جاتا ہے ۔
استاد؛ ’’صبح بخیر، خواتین و حضرات ، مہربانی کریں اور نئے ساتھی طلباء کو خوش آمدید کہیں اور ان سے خوش اخلاقی سے پیش آئیں ۔‘‘
گلیاری کے پرلی طرف ،ایک باکرہ لڑکی بیٹھی ہے ۔ اس کے بال بھورے ہیں اور اس کی جلد دھوپیلی بھوری ہے۔
صوفی ؛ ’’ ہیلو۔ میرا نام صوفی ہے ۔‘‘
مائیکل؛ ’’ اور میں مائیکل ہوں ۔‘‘
استاد کے دوبارہ کمرے میں آنے پرسب خاموش ہو جاتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر ؛ سکول ۔ دن کا وقت
بعد ازاں ؛ استاد تن دہی سے پڑھا رہا ہے ۔ مائیکل کی آنکھیں صوفی پر ٹکی ہوئی ہیں اور وہ اس پر سے نظریں ہٹا ہی نہیں پا رہا ۔
استاد؛ ’’ سب اس بات پر یقین کرتے ہیں کہ ہومر کا موضوع ’ گھر واپسی‘ ہے ۔ دراصل ، اوڈیسی ایک سفر کی داستان ہے ۔ گھر ایسی جگہ ہے جس کا آپ خواب تو دیکھ سکتے ہیں لیکن یہ ایسی جگہ نہیں جسے آپ پا سکیں ۔‘‘
یہ کہہ کر استاد رکتا ہے ۔
استاد ؛ ’’ برگ ، میں تمہارا دھیان بٹانا نہیں چاہتا ، لیکن ہم یہاں ہومر کا مطالعہ کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں نہ کہ صوفیہ کا مطالعہ کریں ۔‘‘
ساری کلاس کھلکھلا کر ہنستی ہے ۔ مائیکل کا چہرہ سرخ ہو جاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر؛ تیراکی کی جھیل ۔ دن کا وقت
صوفی لچک اور تیزی سے پانی میں تیر رہی ہے ۔ مائیکل اسے گھورے جا رہا ہے ۔اس کے گرد نوجوان لڑکے لڑکیاں تولیے بچھائے لیٹے ہیں ۔یہ ایک لحاظ سے سماجی میل ملاپ کی جگہ ہے ۔ صوفی نزدیک آتی ہے ہولگر اور روڈلف اپنے سروں کو تولیوں سے رگڑ رہے ہیں ۔
ہولگر؛ ’’ مائیکل، پانی بہت زبردست ہے ۔‘‘
مائیکل؛ ’’ ہاں یہ واقعی بہت اچھا ہے، کیا ایسا ، نہیں ہے ؟‘‘
ہولگر؛ ’’ زبردست ۔ یہ گرمیاں بہت شاندار گزریں گی ۔‘‘
مائیکل اس طرف دیکھتا ہے جہاں امریکیوں کا ایک جتھا والی بال کا کھیل پر جوش طریقے سے کھیلتے ہوئے شور مچا رہا ہے ۔
ہولگر؛ ’’ امریکیوں نے ، اب ،ہماری اس جھیل سے ہمیں بھی لطف اندوز ہونے کی اجازت دے ہی دی ہے ۔‘‘
صوفی؛ ’’ یہ اتنا شور کیوں مچا رہے ہیں ؟‘‘
ہولگر؛ ’’ تمہیں اس کی دکانوں کو دیکھنا چاہیے ۔ ان کے پاس سب کچھ ہے ۔‘‘
مائیکل؛ ہاں یقیناً ۔ ہر وہ شے ، جس کا خواب انسان دیکھ سکتے ہیں۔‘‘
صوفی؛ ’’ کیا تمہیں امریکی پسند نہیں ؟‘‘
۔۔۔۔۔۔
مائیکل؛ ’’ میں تو ان کے بغیر ہی مزہ کرنا چاہتا ہوں ۔‘‘
وہ سیدھے صوفی کی آنکھوں میں دیکھتا ہے ۔ اچانک خاموشی ہو جاتی ہے ، مائیکل اب بھی صوفی کو دیکھ رہا ہے ۔ صوفی نظریں نیچی کر لیتی ہے ۔اس پر مائیکل اپنی جگہ سے ہلتا ہے اور اپنی اشیاء سمیٹنا شروع کر دیتا ہے ۔
صوفی؛ ’’ تم جلدی کیوں جا رہے ہو ؟‘‘
ہولگر؛ ’’ وہ ہمیشہ ہی جلدی چل دیتا ہے ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظربان ہوف سٹراسے۔ دن کا وقت
مائیکل سائیکل چلاتا شہر کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ ہانا کا اپارٹمنٹ ۔ دن کا وقت
مائیکل سیڑھیاں پھلانگتا اوپر جاتا ہے اور پھر ہانا کے اپارٹمنٹ میں داخل ہو تا ہے ۔ ہانا بیٹھی سلائی کر رہی ہے ۔ وہ اس کے گال کا بوسہ لیتا ہے اور ایک کتاب نکالتا ہے ۔
مائیکل؛ ’’ دیر سے آنے پر معذرت خواہ ہوں ۔ میں سکول میں مصروف رہا ۔‘‘
وہ اس کے سامنے یوں بیٹھ جاتا ہے جیسے کوئی رسم ادا کر رہا ہو ۔
مائیکل؛ ’’ ننھے کتے والی خاتون ، از انتن چیخوف ۔‘‘
ہانا اسے دیکھتی ہے ، ایسے جیسے اس کی نظریں اس کے اندر گھس رہی ہوں ۔
مائیکل؛ ’’ گفتگو یہ تھی کہ پیدل چلنے والوں کی پٹڑی پر ایک نیا چہرہ نظرآیا۔ یہ ایک خاتون تھی جس کے ساتھ ایک ننھا کتا تھا ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر ؛ گیراج ۔ دن کا وقت
ایک بڑا ٹرام شیڈ جس میں بہت سی خالی ٹرامیں کھڑی ہیں ۔ہانا گیراج کے اختتامی حصے میں کھڑی ، اپنے سپروائزر سے باتیں کر رہی ہے ۔ یہ سپروائزر پچاس کے پیٹے میں ہے اور لمبا تڑنگا ہے ۔
سپروائزر؛ ’’ شمیٹز ، ایک منٹ رکو۔ میرے پاس تمہارے لئے ایک اچھی خبر ہے ۔ تمہارا کام اچھا ہے ، ہم تمہیں ترقی دے رہے ہیں ۔ اب سے تم دفتر میں کام کرو گی ۔ اس کی تنخواہ بھی زیادہ ہے ۔ مبارک ہو ۔‘‘
وہ یہ کہہ کر آگے بڑھ جاتا ہے ۔ ہانا کے چہرے پر پریشانی اور گھبراہٹ ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر؛ تیراکی کی جھیل ۔ دن کا وقت
مائیکل صوفی کو تیرتے ہوئے دیکھ رہا ہے ۔ اس کی آنکھوں میں الجھن نمایاں ہے ۔ ہولگر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتا ہے ۔
ہولگر؛ چلو اٹھو ، ہم آج جلدی جا رہے ہیں ۔‘‘
مائیکل؛ ’’ کیوں؟ کس لئے ؟‘‘
ہولگر؛ ’’ ہم صوفی کے ہاں جا رہے ہیں ۔ آج تمہاری سالگرہ ہے ۔ ہم نے تمہارے لئے ایک دعوت کا اہتمام کیا ہے ۔‘‘
ہولگر اور روڈلف کپڑے پہننے کے لئے وہاں سے چلے جاتے ہیں ۔ صوفی تیراکی کے لباس میں سامنے آتی ہے ۔
صوفی؛ ’’ چلو ، ہم تمہیں حیران کرنا چاہتے ہیں ۔ ہمارا خیال تھا کہ یہ تمہیں پسند آئے گی ۔ ہم اس کی منصوبہ بندی کئی ہفتوں سے کر رہے تھے ۔‘‘
مائیکل؛ ’’ میں معذرت خواہ ہوں ۔ سچ میں مجھے افسوس ہے ۔ میں نے کچھ اور کرنے کا کسی سے وعدہ
کیا ہوا ہے ۔‘‘
دوسرے سارے غصہ میں ہیں اور اس سے ناراض ہیں۔وہ وہاں سے چلے جاتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر؛ سڑک ۔ دن کا وقت
مائیکل سائیکل چلاتا ہانا کے اپارٹمنٹ کی طرف جا رہا ہے ۔ اس کے بال جھیل میں نہانے کی وجہ سے گیلے ہیں ۔وہ ناخوش بھی نظر آ رہا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر ؛ ہانا کا اپارٹمنٹ ۔ دن کا وقت
ہانابھی منہ پھلائے بیٹھی ہے ۔ مائیکل اس کے لئے پڑھ رہا ہے ۔ دونوں خراب موڈ میں ہیں ۔
ہانا؛ ’’ او بچے۔۔۔ بچے۔۔۔ بند کرو۔ ‘‘
مائیکل؛ ’’ کیا غلط ہواہے؟‘‘
ہانا؛ ’’ کچھ غلط نہیں ہوا ۔ کچھ نہیں ہے ۔‘‘
ہانا لاپرواہی سے کندھے جھٹکتی ہے ۔وہ جاتی ہے اور میز کے پاس چائے پینے کے لئے کرسی پر بیٹھ جاتی ہے۔ مائیکل اس پر چِڑ جاتا ہے ۔
مائیکل؛ ’’ تم نے مجھ سے کبھی نہیں پوچھا ۔ تم نے کبھی یہ خیال ہی نہیں کیا کہ پوچھو کہ میں کیسا ہوں ۔‘‘
ہانا؛ ’’ تم نے پہلے کبھی نہیں کہا ۔‘‘
مائیکل؛ ’’ کچھ ایسا ہے کہ آج میری سالگرہ ہے ۔ میری سالگرہ ہے ، بس اتنی بات ہی ہے ۔حقیقت تو یہ ہے کہ تم نے کبھی پوچھا ہی نہیں کہ یہ کب ہوتی ہے ۔‘‘
ہانا؛ ’’ دیکھو بچے ،کیا تم لڑائی کرنا چاہتے ہو ۔۔۔ ‘‘
مائیکل؛ ’’ نہیں ، میں لڑنا نہیں چاہتا ۔ لیکن تمہیں ہوا کیا ہے ؟‘‘
ہانا؛ ’’ اس بات سے تمہیں مطلب ؟‘‘
وہ تیزی اور تلخی سے کاٹ دار آواز میں بولتی ہے ۔
مائیکل؛ ’’ ہمیشہ تمہاری ہی شرائط ہوتی ہیں ۔ ہر چیز میں ۔ ہم وہی کرتے ہیں جو تم چاہتی ہو ۔ میرے دوست میری دعوت کر رہے تھے ! ‘‘
ہانا؛ ’’ اچھا ، تو پھر تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟ جائو ، دعوت میں واپس جائو ۔ تم بھی تو یہی کرناچاہتے ہو نا ؟‘‘
ہانا غصے میں ہے۔ وہ چائے کا کپ نیچے رکھ دیتی ہے اور دروازہ زور سے بند کرتی بیڈ روم میں چلی جاتی ہے۔مائیکل بیٹھا ہے ،سالگرہ والے دن کا جادو غائب ہو چکا ہے ۔وہ اٹھتا ہے اور بیڈ روم کا دروازہ کھولتا ہے ۔ ہانا بستر میں ہے ۔
مائیکل؛ ’’ ہمیشہ مجھے ہی معافی مانگنا پڑتی ہے ۔‘‘
خاموشی ۔ ہانا کچھ وقت گزرنے دیتی ہے اور پھر؛
ہانا؛ ’’ تمہیں معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ کسی کو بھی معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ کوئی تمہیں مجبور نہیں کر سکتا ۔‘‘
ہانا بستر کے ساتھ پڑی کتاب پکڑتی ہے اور اسے بستر پر رکھتی ہے۔
ہانا؛ ’’ بچے!جنگ اور امن‘‘
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ ہانا کا اپارٹمنٹ ۔ دن کا وقت
ہانا نہانے والے ٹب کے پاس کھڑی ہے اور پانی بہہ رہا ہے ۔اس نے زرد نیلے پھولوںوالی کرتی پہن رکھی ہے ۔ وہ پسینے سے بھیگی ہوئی ہے اور اس کی کرتی اس کے جسم سے چپکی ہوئی ہے ۔مائیکل ایک کتاب کھولتا ہے ۔ ہانا ٹب میں لیونڈر کے تیل کے کچھ قطرے ڈالتی ہے ۔مائیکل ٹب میں کھڑا ہو جاتا ہے اور ہانا اس کے جسم کو مل مل کر دھوتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ ہانا کا اپارٹمنٹ ۔ دن کا وقت
دونوں بستر پر پیار کر رہے ہیں ۔ اس میں بہت شدت ہے ۔ایک موقع پر ہانا مائیکل کے اوپر آتی ہے ۔ وہ اس کے سر کو اپنے ہاتھوں میں اس زور سے جکڑتی ہے جیسے وہ اس میں سے زندگی کو نکال باہر کرنا چاہتی ہو ۔ پھر وہ خود کو ڈھیلا چھوڑ دیتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ ہانا کا اپارٹمنٹ ۔ دن کا وقت
دونوں پسینے میں بھیگے ہوئے ہیں ۔ تھکے ہوئے ہیں ۔ وہ ایک لمحے کے لئے دیکھتی ہے ۔
ہانا؛ ’’ اب تمہیں اپنے دوستوں کے پاس واپس جانا چاہیے ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ ہانا کا اپارٹمنٹ ۔ دن کا وقت
مائیکل جا چکا ہے ۔ ہانا دودھ کی بوتلیں دھوتی ہے، انہیںچلمچی میں خالی کرتی ہے ۔ پھر وہ اپنا سامان اٹھاتی ہے اور خالی اپارٹمنٹ سے باہر نکل جاتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر ؛ تیراکی والی جھیل ۔ دن کا وقت
مائیکل پشتے پر بیٹھا ، ہولگر ، روڈلف اور صوفی کو ایک دوسرے سے تیراکی کا مقابلہ کرتے دیکھ رہاہے ۔ وہ دوسرے پشتے تک جا کر پوری توانائی اور حوصلے سے واپس مڑتے ہیں ۔ مائیکل کچھ دیر تو انہیں دیکھتا ہے اور پھر اچانک اٹھتا ہے اور ان سب سے پرے بھاگنا شروع کر دیتا ہے ۔
صوفی؛ ’’ مائیکل ۔ کیا تم ٹھیک ہو ؟‘‘
لیکن مائیکل جواب دئیے بغیر جھیل کے کنارے بھاگتا جاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر ؛ سیڑھیوں کا چوکا اور ہانا کا اپارٹمنٹ ۔ شام کا وقت
مائیکل دروازہ کھولتا ہے ۔وہ اندر جاتا ہے ۔ اپارٹمنٹ خالی ہے ، کرائے کا فرنیچر اپنی اپنی جگہ پر موجود ہے لیکن ہانا اور اس کی اشیاء موجود نہیں ۔ وہ ہر طرف دیکھتا ہے ۔ وہ خالی ٹب کو دیکھتا ہے ، اس پر لگی ٹونٹی کو دیکھتا ہے ۔ وہ باورچی خانے کی الماری کھولتا ہے ۔۔۔ اس میں کچھ کافی اور چینی پڑی ہے جبکہ اور کچھ نہیں ۔ وہ بیڈ روم میں جاتا ہے ۔ بستر پر کوئی چادر نہیں ، وہ بستر پر لیٹ جاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر ؛ سیڑھیوں کا چوکا اور ہانا کا اپارٹمنٹ ۔ رات کا وقت
مائیکل ، اپنے ہی کپڑوں میںبستر پر لیٹا ہے۔ وہ اس طرح خود میں سمٹا ہوا ہے جیسے ماں کے پیٹ میں بچہ ۔ وہ سو رہا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر ؛ برگ اپارٹمنٹ ۔ دن کا وقت
مائیکل کے گھر والے ناشتہ کر رہے ہیں۔ مائیکل مرکزی دروازے سے یوں خاموشی سے اندر داخل ہوتا ہے کہ کوئی دیکھ نہ پائے ، وہ اپنے کمرے میں جانے کی کوشش میں ہے ۔ ایملی اسے دیکھ لیتی ہے ۔
ایملی؛ ’’وہ آ گیا ۔‘‘
شرمسار مائیکل سامنے آتا ہے ۔
کلارا؛ ’’ تم کل رات کہاں تھے ؟ کیا ہوا تھا ؟
مائیکل؛ ’’ میں اپنے ایک دوست کے پاس ٹھہر گیا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔
پیٹر؛ ’’ کلارا ‘‘
پیٹر دیکھتا ہے ۔ ایسے لگتا ہے جیسے وہ سب جانتا ہو کہ مائیکل کے ساتھ کیا چل رہا تھا ۔
پیٹر؛ ’’ لڑکے کو کھانے کے لئے کچھ دو ۔ میرا خیال ہے کہ ہم سب کو معلوم تھا کہ تم بالآخر ہمارے پاس ہی لوٹو گے ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر؛ تیراکی والی جھیل ۔ شام کاوقت
مائیکل سنسان جھیل پر اکیلا ہے ۔ وہ پشتے پر ہے ۔ وہ اپنے کپڑے اتارتا ہے اور پانی میں گھس جاتا ہے ۔اس کا منہ ہی ، سیل کی مانند باہر ہے اور مکمل طور پر ساکت ہے ۔
جاری ہے