اندر کا منظر ؛ عدالتوں والی عمارت ۔ رات کا وقت
1995 ؛ مائیکل اکیلا بیٹھا ہے ۔ وہ کچھ سوچ رہا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر؛ تیراکی والی جھیل ۔ شام کا وقت
1958 ؛ سورج ترچھا ہوتا ہے اور کچھ لمحوں کے لئے پانی میں اس کی کرنیں چمکتی ہیں ۔مائیکل اپنا سر پانی کے اندر کر لیتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر ؛ عدالتوں والی عمارت ۔ رات کا وقت
1995 ؛ مائیکل ابھی بھی ، اکیلا،خالی عدالت میں سوچ میں ڈوبا بیٹھا ہے۔ وہ نظر اٹھاتا ہے ۔ اس کا ایک نائب منظر میں داخل ہوتا ہے ۔
نائب؛ ’’ مسٹر برگ ۔ آٹھ بج رہے ہیں ۔ آپ کی بیٹی۔‘‘
مائیکل؛ ’’ یاد دہانی کا شکریہ ‘‘
وہ اٹھ جاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ براسیری ، برلن ۔ رات کا وقت
جولیا پہلے سے ہی ایک جدید چھوٹے ’چکن ریستوان ‘میں میز کے پاس بیٹھی ہے ۔ وہ لگ بھگ 23 سال کی ایک معصوم شکل والی جوان عورت ہے ۔ مائیکل اس کی طرف بڑھتا ہے۔ جب وہ اسے دیکھتی ہے تو کھڑی ہو جاتی ہے ۔
جولیا ؛ ’’میں جلدی آ گئی تھی ۔‘‘
مائیکل جھکتا ہے اور اس کی گال کا بوسہ لیتا ہے ۔
مائیکل؛ ’’ جولیا ‘‘
وہ بے چین نظر آتے ہیں ۔ وہ ایک لمحے کے لئے اسے دیکھتی ہے اور پھر دونوں بیٹھ جاتے ہیں ۔
مائیکل ؛ ’’ واپسی مبارک ہو ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ ریستواں۔ رات کا وقت
بعد ازاں ؛ وہ کھانا کھا چکے ہیں ۔ ان کے ہاتھوں میں لال وائن کے بڑے بڑے گلاس ہیں ۔ اب وہ زیادہ سکون سے بیٹھے ہیں ۔
مائیکل؛ ’’ اچھا تو پھر تم نے کیا فیصلہ کیا ہے ؟‘‘
جولیا؛ ’’ ابھی مجھے معلوم نہیں ہے ۔ لیکن میرا خیال ہے کہ میں برلن واپس آ کر خوش ہوں ۔‘‘
مائیکل؛ ’’ کیا تم اپنی ماں سے ملی ہو؟‘‘
جولیا ہاں میں سر ہلا دیتی ہے ۔
جولیا ؛ ’’ میں یہاں سے دور جانا چاہتی تھی ۔ اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ تھا ۔ یہ پیر س تھا ، لیکن یہ کوئی بھی جگہ ہو سکتی تھی ۔‘‘
مائیکل؛ ’’ اپنے ماں باپ سے دور ؟‘‘
جولیا اس کا کوئی جواب نہیں دیتی ۔
مائیکل؛ ’’ مجھے معلوم ہے کہ یہ مشکل تھا ۔ میں تمہارے ساتھ کبھی بھی کھل نہیں سکا ۔ میں کسی کے ساتھ بھی نہیں کھلتا ۔‘‘
جولیا ؛ ’’مجھے معلوم تھا کہ آپ فاصلہ رکھتے ہیں ۔ اور میں ہمیشہ یہ سمجھتی رہی کہ اس میں میرا قصور تھا ۔‘‘
مائیکل؛’’ جولیا۔ تم اتنی غلط کیسے ہو سکتی ہو ؟‘‘
جولیا کے چہرے کا رنگ بدلتا ہے ۔ اس کے آنسو نکلنے کو ہیں ۔وہ منہ پھیر لیتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر اور باہر کامنظر؛ کار ۔ رات کا منظر
وہ کار میں بیٹھے روشن گلیوں میںسے گزرتے ہیں ۔ بارش ہو رہی ہے ۔ برلن جِھل مِل جِھل مِل کر رہا ہے ۔ان کی آوازیں ؛
مائیکل؛ ’’ میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں نروس تھا ۔‘‘
جولیا؛ ’’ میں بھی نروس تھی ۔ بیوقوفانہ بات ہے ، کیا ایسا نہیں ہے ؟‘‘
مائیکل؛ ’’ ہاں یہ احمقانہ ہے ۔‘‘
جولیا؛ ’’ ڈنر کے لئے شکریہ ۔‘‘
مائیکل؛ ’’ میں جلد ہی تمہیں ملوں گا ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر؛ کار ۔ رات کا وقت
مائیکل جولیا کو باہر نکلنے دیتا ہے اور اس وقت تک اسے دیکھتا رہتا ہے جب تک وہ کار سے اپنے دروازے تک نہیں پہنچ جاتی ۔
جولیا؛ ’’ شب بخیر۔ڈیڈی ۔‘‘
مائیکل اچانک گاڑی سے باہر نکلتا ہے ۔
مائیکل؛ ’’ جولیا، ذرا ٹھہرو ۔ کیا میں تم سے ایک امید کی توقع کر سکتا ہوں ۔‘‘
جولیا؛ ’’ کیسی امید ؟‘‘
مائیکل؛ ’’ میں تمہیں ایک جگہ لے کر جانا چاہتا ہوں ۔ میں تمہیں کچھ دکھاناچاہتا ہوں ۔‘‘
جولیا؛ ’’ کب؟‘‘
مائیکل؛ ’’ شاید کل ۔ کیا میں تمہیںاپنی کار میں لے جا سکتا ہوں ؟‘‘
جولیا کچھ کہنے کی ضرورت نہیں سمجھتی ۔
مائیکل؛ ’’ دس بجے ، کیا خیال ہے ؟‘‘
جولیا مسکراتی ہے ۔
مائیکل؛ ’’ تو ٹھیک ہے ۔‘‘
مائیکل اسے گلے لگاتا ہے ، اس کا دل محبت کے درد سے بھرا ہے ۔جولیا عمارت کے اندر چلی جاتی ہے ۔مائیکل عمارت کے باہر ساکت کھڑا ہے اور حرکت نہیں کر رہا ۔اس کے دماغ میں تیس سال پرانی آوازوں کی گونج ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ لیکچر روم ۔ ہائیڈلبرگ لاء سکول ۔ دن کا وقت
1966 ؛ کلاس میں لگ بھگ 75 طالب علم ہیں اور وہاں ایک خاتون لیکچرار موجود ہے ۔ سب کے کپڑے اور بالوں کے سٹائل ایسے ہیں جو 1960کی دہائی کا خاصا ہیں ۔
لیکچرار؛ ’’ تم میں سے جو ’ تیسری ریخ ‘ کے قانونی سسٹم کے حوالے سے خصوصی سیمینار میں حصہ لینا چاہتے ہیں وہ اسی کمرے میں ٹھہریں ۔ پروفیسر روہل ابھی یہاں آنے والے ہیں ۔ ‘‘
تقریباً سارے طلباء آپس میں باتیں کرتے ہوئے کمرے سے نکل جاتے ہیں ۔ صرف آٹھ باقی رہ جاتے ہیں جو کمرے میں مختلف جگہوں پر بیٹھے ہیں ۔ مائیکل بھی انہیں میں سے ایک ہے ۔ وہ اب 22 سال کا ہے ۔اس نے کارڈرائے کی جیکٹ اور ٹائی پہن رکھی ہے ۔کمرے میں سکون ہے ۔ مائیکل نظر گھما کر اس انوکھے گروپ کو دیکھتا ہے ۔جب وہ سامنے دیکھتا ہے توپروفیسر روہل کھڑا ہوتا ہے ۔ وہ ادھیڑعمر کا معزز نظر آنے والا ایک استاد ہے ۔
روہل؛ ’’ اچھا ، تو ہم ایک چھوٹا گروپ ہیں ۔ یقیناً ایک چھوٹا اور چنیدہ گروپ ۔یہ بات البتہ واضح ہے کہ یہ سیمینارمنفرد ثابت ہو گا ۔ میں آپ سب کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے اس سیمینار میں شامل ہونے کو چُنا ۔یہ آپ کے لئے اچھا ثابت ہو گا ۔تو حضرات ، مطالعے کے لئے فہرست نوٹ کریں ۔ کارل جیسپر، جرمن شرمساری کا سوال ۔۔۔
لمبے بالوں والی ایک پرسکون طالبہ مائیکل کی طرف دیکھ کر مسکراتی ہے ۔ وہ دیکھنے میں فرانکوئس ہارڈی جیسی لگتی ہے ۔ وہ بُڑبُڑاتی ہے ۔
مارتھی؛ ’’ اور خواتین۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ مائیکل اپنے ڈیسک پر بیٹھا کام کر رہا ہے ۔ ایک بتی جل رہی ہے ۔ اس کے انتہائی سادہ طالبعلموں والے چھوٹے سے کمرے کا دروازہ کھلا ہے ۔مارتھی خاموشی سے دروازے میں آ کر کھڑی ہو جاتی ہے ۔ وہ نظر اٹھا کر دیکھتا ہے ۔
مارتھی؛ ’’ تو تم یہاں ہوتے ہو ۔‘‘
مائیکل؛ ’’ ہاں ۔ اندر آ جائو۔‘‘
لیکن دونوں میں سے کوئی حرکت نہیں کرتا ۔مارتھی دروازے میں کھڑی مسکراتی رہتی ہے ۔
مارتھی؛ ’’ تم کام کو بہت سنجیدہ لیتے ہو ۔‘‘
مائیکل؛ اوہ ، پتہ نہیں ۔‘‘
مارتھی؛ ’’ تم خاصے سنجیدہ لڑکے لگتے ہو ۔
مارتھی ہولے سے کندھے اچکاتی ہے ۔
مائیکل؛ ’’ میں نے اسی طرح پرورش پائی ہے ۔ اپنے بارے میں بتائو؟ کیا تم بھی سنجیدہ ہو ؟‘‘
مارتھی؛ ’’ کیا تم آج رات واقعی کام کرنا چاہتے ہو؟‘‘
مائیکل؛ ’’ ہاں ، میں کام کرنا چاہتا ہوں ، لیکن میں ہر رات کام نہیں کرتا ۔‘‘
مارتھی؛ ’’ کل ملاقات ہو گی ۔‘‘
وہ دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہیں ۔پھر مارتھی چلی جاتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ ریل گاڑی ۔ دن کا وقت
لمبے بالوں اور ہِپی سٹائل کا سیمینار گروپ ریل گاڑی میں بیٹھا ہے ۔ پروفیسرروہل کے ساتھ مارتھی ، ڈائٹر اور کچھ اور لوگ بھی ہیں ۔ مائیکل کی نظریں مارتھی سے ملتی ہیں ۔ وہ دونوں مسکراتے ہیں ۔ پھر مائیکل خوشدلی سے کھڑکی کھولتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر؛ ٹائون ہال ۔ من ہائم ۔ دن کا وقت
طالب علم ایک بڑی سی عمارت کے سامنے کھڑے سگریٹ پی رہے ہیں ۔کالے رنگ کی دو گاڑیاں جن کی کھڑکیوں پر سلاخیں لگی ہیں ، قیدیوں کو لئے وہاں پہنچتی ہیں ۔ پہلی والی گاڑی پٹڑی پر کھڑے مائیکل کے پاس آ کرمڑتی ہے اور پھر اندر صحن میں چلی جاتی ہے ۔ روہل مائیکل کو دیکھ کر مسکراتا ہے ۔
مائیکل؛ ’’ اتنی پولیس کیوں ہے ؟‘‘
روہل؛ ’’وہ مظاہروں کی وجہ سے پریشان ہیں۔‘‘
مائیکل؛ ’’ حق میں یا مخالفت میں ؟‘‘
روہل؛ ’’ دونوں ‘‘
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ ٹائون ہال ۔ دن کا وقت
ٹائون ہال کے اندرہی ایک عدالتی کمرہ بنایا گیا ہے ۔ اس میں بائیں ہاتھ کی طرف بڑی بڑی کھڑکیاں ہیں جن میں دوھیا شیشے لگے ہوئے ہیں ۔جب روہل اور اس کے طلباء کمرے میں داخل ہوتے ہیں تو وہاں فوٹوگرافروں ، وکیلوں اور عوام کا جمگھٹا ہے ۔تین جج پہلے سے کرسیوں پر بیٹھے ہیں اور ان کے ساتھ چھ چنیدہ شہری بھی بیٹھے ہیں ۔ مائیکل اور اس کے دوسرے ساتھی گیلری میں بیٹھ جاتے ہیں ۔
کلرک؛ ’’تمام فوٹوگرافر اب کمرہ عدالت سے باہر نکل جائیں ۔‘‘
فوٹوگرافر باہر چلے جاتے ہیں ۔
جج؛ ’’ مدعاعلیہان ، پلیز‘‘
کمرہ عدالت جس میں پہلے شور اور افراتفری تھی ، اب خاموشی چھا جاتی ہے ۔
جج؛ ’’ سب سے پہلے میںتمام مدعاعلیہان کے وکیلوںکی تحاریک سننا چاہوں گا۔وہ اس بات پر دلائل پیش کریں گے کہ جب تک اس مقدمے کا نتیجہ نہیں نکلتا ، اس وقت تک مدعاعلیہان کو جیل میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے ۔
ڈائٹر توقع بھری نظروں سے مائیکل کو دیکھ کر ہنستا ہے ۔
جج؛ ’’ میں یہ مقدمات ایک ایک کرکے سنوں گا ۔
مائیکل نیچے جھکا اپنے بریف کیس سے چیزیں نکال رہا ہے ۔ مارتھی اپنے پین کو جھٹک رہی ہے جو لکھ نہیں رہا ۔
مائیکل؛ ’’ کیا تمہیںقلم چاہیے ؟‘‘
مارتھی؛ ’’ میرے پاس قلم ہے ۔‘‘
اس آپسی گفتگو کی وجہ سے مائیکل جج کی بات نہیں سن پاتا ۔
جج؛ ’’ ہانا شمیٹز ‘‘
چھ مدعاعلیہان ایک قطار میں بیٹھے ہیں ۔ان میں پانچویںہانا ہے ۔ اس کے بال ایک گانٹھ میں بندھے ہوئے ہیں ۔ اس کی نظریں کمرے کے درمیان میں کہیں دیکھ رہی ہیں ۔ وہ حاضرین کی طرف نہیں دیکھ رہی ۔ اس نے چھوٹی آستینوں والا سرمئی لباس پہن رکھا ہے ۔ وہ سب گیلری کے ایک پہلو میں بیٹھی ہیں ۔ہانا اپنے پیروں پرکھڑی ہوتی ہے۔ الفاظ کہیںبہت دور سے اور انتہائی مدہم آواز میں سنائی دے رہے ہیں ۔
جج؛ ’’ کیا تمہارا نام ہانا شمیٹز ہے ۔‘‘
ہانا؛ ’’ جی‘‘
جج جب ہانا کا نام دوبارہ لیتا ہے تب ہی مائیکل اسے پہلی بار سنتا ہے اور نظر اٹھا کر دیکھتا ہے ۔
جج؛ ’’ مہربانی ہو گی ،اونچی آواز میں بولو ‘‘
ہانا؛ ’’ میرا نام ہانا شمیٹز ہے ۔‘‘
مائیکل جما بیٹھا ہے ، اس کا ذہن خالی ہے اور وہ بس گھورے جا رہا ہے ۔
جج؛ ’’ شکریہ ، کیا تم 21 اکتوبر 1922 ء کو پیدا ہوئی تھیں ؟‘‘
ہانا؛ ’’ جی‘‘
جج؛ ’’ ہرمان سٹیڈمیں ۔ اور اب تم 43 برس کی ہو ؟‘‘
ہانا؛ ’’ جی‘‘
جج؛ ’’ تم 1943 ء میں ’ ایس ایس‘ میںشامل ہوئی تھیں ؟‘‘
ہانا؛ ’’ جی‘‘
جج؛ اس کی وجوہات کیا تھیں ۔ تم کس وجہ سے ایس ایس میں شامل ہوئیں ؟
ہانا جواب نہیں دیتی ہے ۔
جج؛ ’’ تم اس وقت سیمنز میں کام کر رہی تھیں ؟‘‘
ہانا؛ ’’ جی ‘‘
جج؛ ’’ تمہیںاس وقت ترقی دئیے جانے کے بارے میںبھی بتایا گیا تھا ۔ تم نے ’ ایس ایس‘ میں شامل ہونے کو ترجیح کیوں دی ؟‘‘
ہانا کے ساتھ اس کا وکیل تھا ۔ وہ ایک نوجوان وکیل تھا اس نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن جج نے اسے کھڑا ہونے سے روک دیا ۔
جج؛ ’’ میں اپنے سوال کو نئے انداز سے کرتا ہوں ۔ میں اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ کیا اس نے ’ ایس ایس ‘ میں آزادانہ طور شمولیت اختیار کی تھی ۔ اپنی مرضی سے ۔‘‘
سب جواب کے منتظر رہے۔
جج؛ ’’ تو ؟‘‘
ہانا ؛ ’’ میں نے سنا تھا کہ وہاں نوکریاں تھیں ۔‘‘
جج؛ ’’ بولتی جائو۔‘‘
ہانا؛ ’’ میں سیمنز میں کام کر رہی تھی تب میں نے سنا کہ ’ ایس ایس ‘ بھرتیاں کر رہی تھی ۔‘‘
جج؛ ’’ کیا تمہیں یہ پتہ تھا کہ تم سے کیا کام لیا جانا تھا ْ؟‘‘
ہانا؛ ’’ انہیں محافظوں کی ضرورت تھی ۔ میں نے بھی ایک کے لئے درخواست دے دی ۔
مائیکل اب توجہ سے سن رہا ہے ۔ اس کے ساتھی طالب علم بھی متوجہ ہیں ۔
جج؛ ’’ اور تم نے پہلے آشویٹز میں کام کیا ؟‘‘
ہانا؛ ’’ جی ‘‘
جج؛ ’’ 1944ء تک ۔ پھر تمہیں کراکائو کے نزدیک ایک چھوٹے کیمپ میں بھیج دیا گیا ؟‘‘
ہانا؛ ’’ جی‘‘
روہل مائیکل کی طرف جھکتا ہے ۔
روہل؛ ’’ کیا تم ٹھیک ہو؟‘‘
مائیکل؛ ’’ میں ٹھیک ہوں ۔‘‘
جج؛ ’’ اور پھر تم 1944 ء کی سردیوں میں قیدیوں کو مغرب کی جانب چلنے، جسے ’ڈیتھ مارچ ‘ کا نام دیا جاتا ہے ،میں مددگار رہیں؟
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ ریل گاڑی۔ دن کا وقت
مائیکل کھڑکی سے باہر لٹک رہا ہے اور وہ سگریٹ پی رہا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر ؛ ریل گاڑی ۔ دن کا وقت
مائیکل اپنی نشست پر بیٹھ جاتا ہے ۔ روہل کھسک کر اس کے سامنے ہوجاتا ہے ۔
روہل؛ ’’ تو پھر،تمہارا کیا خیال ہے ۔ ‘‘
مائیکل؛ ’’ مجھے معلوم نہیں ہے ۔ یہ کچھ ویسا نہیں ہے جیسا میں توقع کر رہا تھا ۔‘‘
روہل؛ ’’ ایسا نہیں تھاکیا ؟ کس لحاظ سے ؟ تم کیا توقع کر رہے تھے ؟‘‘
روہل اس کی طرف دیکھ رہا ہے ۔ مائیکل اسے جواب نہیں دیتا ۔
ڈائٹر؛ ’’ میرا خیال تھا کہ یہ دلچسپ ہو گا ۔‘‘
روہل؛ ’’ دلچسپ ؟‘‘
ڈائٹر؛ ’’ جی ‘‘
روہل؛ کیوں؟تم نے ایسا کیوں سوچا تھا کہ یہ دلچسپ ہو گا ؟‘‘
ڈائٹر؛ ’’ اس لئے کہ یہ انصاف ہے ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر؛ مضافاتی علاقہ ۔ دن کا وقت
ریل گاڑی ہچکولے کھاتی جرمن مضافات میں آگے بڑھ رہی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ طالب علموں کے چھوٹے چھوٹے کمرے ۔ رات کا وقت
موم بتی کی روشنی میں ایک کمرے میں طلباء کی پارٹی ہو رہی ہے ۔مارتھی گٹار کی دھن پر گا رہی ہے ۔ یہ پارٹی دیر سے جاری ہے ۔ ۔۔ طالب علم فرش پر بئیر لئے بیٹھے ہیں اور سگریٹ پی رہے ہیں ۔ کمرے کا سامنے والادروازہ کھلا ہے۔ڈائٹر ہاتھ میں بئیر لئے بیٹھا ہے ۔ وہ بالکونی کی طرف دیکھتا ہے ۔ وہاں مائیکل کھڑا ہے جس کی وہ پیٹھ دیکھ پاتا ہے ۔ مائیکل ان سے الگ تھلگ اپنے آپ میں ہی مست ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ طالب علموں کے چھوٹے چھوٹے کمرے ۔ رات کا وقت
مائیکل بالکونی پربازو ٹیکے سگریٹ پیتے ہوئے رات کے اندھیرے میں گھور رہا ہے ۔پھر اس کی نظریں ایک طالب علم کے کمرے کی طرف اٹھتی ہیں ۔ اس میں ایک جوڑا پیار کرنے میں مصروف ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ لیکچر روم ۔ ہائیڈل برگ لاء سکول۔ دن کا وقت
طلباء کا چھوٹا سا گروپ بڑے لیکچر روم میں غیر رسمی طور پر بحث کر رہا ہے ۔
روہل؛ ’’ میں ایک تاثر کو درست کرنا چاہوں گا ۔ ڈائٹر نے کل کہا تھا کہ اس کا تعلق انصاف سے ہے ۔ لیکن کیاایسا یہ ہے ؟اگر اس کا تعلق انصاف سے ہے تو اسے اتنی دیر کیوں لگی ؟ جنگ کو ختم ہوئے بیس سال ہو چکے ہیں ۔یاد رکھیں کہ 1946 ء کے نیورمبرگ کے مقدموں اور اب دو سال پہلے شروع ہوئے آشویٹز کے مقدموں کے دوران کوئی بھی قابل ذکر مقدمہ سامنے نہیں آیا ۔یہ درمیانی وقفہ بہت لمبا ہے ۔ اس لمبے وقفے کی کیا وجہ ہے ؟‘‘
روہل ایک لمحے کے لئے رکتا ہے تاکہ طلباء جواب دے سکیں ۔
ڈائٹر؛ ’’ میرے نزدیک یہ ہونا ہی تھا ۔ ‘‘
روہل؛ ’’ اچھا‘‘
ڈائٹر؛ بزدلی۔ یہ بزدلی ہے ، نہیں ہے کیا؟ یہ ایک بری شعوری کوشش ہے ۔ یہ ایک طرح کا بڑا دکھاوا ہے ۔‘‘
روہل؛ ’’ بولتے جائو۔‘‘
ڈائٹر؛ ’’ جنگ کے بعد ، جرمن لوگ یہ دیکھنا ہی نہیں چاہتے تھے کہ انہوں نے کیا کر ڈالا تھا ۔‘‘
روہل؛ ’’ کیا یہ بات ٹھیک ہے ؟‘‘
ڈائٹر؛ ’’ کیونکہ انہوں نے بہت کچھ چھپانا تھا ۔ ہم سب کے والدین جھوٹے ہیں ۔ٹھیک ہے ، سب کے نہ سہی ، میرے تو ہیں ۔ چنانچہ بوجھ ہم پر آن پڑا ہے ، ایسا نہیں ہے کیا ؟‘‘
روہل ؛ ’’ کیسے ؟‘‘
ڈائٹر ؛ ’’ کیونکہ ہم اس میں ملوث نہیں ہیں ۔‘‘روہل؛ ’’ کیا تم اس میں ملوث نہیں ہو؟ اچھی بات ہے
۔ یوں تو یہ سب پھرٹھیک ہے۔ ‘‘
سب ہنس پڑتے ہیں ۔
مارتھی؛ ’’ نہیں ، لیکن اگر سنجیدگی سے دیکھا جائے تو ڈائٹر ٹھیک کہہ رہا ہے ۔میں تواپنے والدین سے بات بھی نہیں کر سکتی ۔ میں ان سے محبت نہیں کرتی ۔ میں کر بھی کیسے سکتی ہوں ؟ کوئی ان سے کیسے محبت کر سکتا ہے ؟ کیونکہ انہوں نے خود سے اتنے جھوٹ بولے ہیں کہ انہیں یاد ہی نہیں رہا کہ سچ کیا ہے ۔ یہ تو دور کی بات ہے کہ وہ اسے مانیں ۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ ہم نے اسی لئے اس سیمینار میں شامل ہونا پسند کیا ہے ؟‘‘
روہل؛ ’’ مجھے اس بارے میں کچھ پتہ نہیں ۔ آپ مجھے بتائو۔‘‘
مارتھی؛ ’’ میں اپنی بات کر رہی ہوں ۔‘‘
روہل؛ ’’ مائیکل؟‘‘
مائیکل؛ ’’ مجھے اس بارے میں اب کچھ زیادہ یقین نہیں ہے ۔‘‘
روہل اسے سوچ بھری نظروں سے گھورتا ہے ۔
روہل؛ ’’ ڈائٹر، تمہارے والد کیا کرتے تھے ؟‘‘
ڈائٹر؛ ’’ آپ جاننا ہی چاہتے ہیں تووہ ’ ویفن ایس ایس‘ میں تھے ۔‘‘
روہل؛ ’’ اصل میں میرا نکتہ بھی یہی ہے ۔اس لئے بہتر یہ ہو گا کہ ہم یہ ڈھونگ نہ رچائیں کہ ان مقدموں کا تعلق انصاف کے ساتھ ہے ۔اور معاف کرنا ، اس کا تعلق اس بات سے بھی نہیں ہے کہ ہم جذباتی حالت میں آ جائیں ۔ اس بات کا بھی کوئی مقصد نہیں ہے کہ جوان نسل اپنے والدین سے برا سلوک کرے ۔‘‘
لیکچر روم میں خاموشی چھا جاتی ہے ۔ یہ بات واضح ہے کہ اس گروپ میں شامل کچھ تو اسی وجہ سے وہاں موجود ہیں ۔
مارتھی؛ ’’ تو یہ سب پھر کس لئے ہے ۔ آپ کا کیا خیال ہے ؟‘‘
روہل؛ ’’ معاشرے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایک ایسی شے سے چلتے ہیں جسے ’ اخلاقیات ‘ کہا جاتا ہے ۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے ۔ وہ کام کرتے ہیں ایک ایسی شے کے ساتھ جسے ’ قانون‘ کہا جاتا ہے ۔آپ صرف اس وجہ سے قصوروار نہیں بن جاتے کہ آپ نے آشویٹز میں کام کیا ہے ۔ آشویٹز میں آٹھ ہزار لوگ کام کرتے تھے ۔ ان میں سے صرف 19 کو سزا دی گئی اور ان میں سے بھی صرف 6 کو ہلاکتوں کے حوالے سے سزا ہوئی ۔ قتل کو ثابت کرنے کے لئے ’ نیت ‘ کو ثابت کرنا پڑتا ہے ۔ یہی قانون ہے ۔ یاد رکھیں کہ سوال کبھی یہ نہیں رہا کہ ’ کیا یہ غلط تھا‘؟‘ ، سوال یہ ہے کہ ’کیا یہ قانونی تھا ؟‘۔ اور یہ بھی کہ وہ ہمارے قوانین کے مطابق ہے ، نہیں ، دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس وقت کے قوانین کے مطابق تھا یا نہیں ۔
ڈائٹر کی تیوری چڑھ جاتی ہے ۔ وہ ناخوش ہے ۔
ڈائٹر؛ ’’ لیکن کیا یہ ۔۔۔‘‘
روہل؛’’ کیا؟‘‘
ڈائٹر ؛ ’’ تنگ نظری نہیں ہے ‘‘
روہل؛ ’’ ہاں ، قانون تنگ نظر ہوتا ہے ۔‘‘
روہل ایسے دکھائی دیتا ہے جیسے اسے اپنے کہے پر کوئی پشیمانی نہ ہو ۔
روہل؛ ’’ دوسری طرف ، میں ان لوگوں کو زیادہ شک کی نظر سے دیکھتا ہوں جو یہ جانتے ہوئے بھی کہ دوسروں کو ہلاک کرنا غلط ہے ،پھر بھی وہ ایسا کرتے ہیں ۔‘‘
جاری ہے