اندر کا منظر؛ کمرہ عدالت ۔ من ہائم۔ دن کا وقت
روہل آگے جھکا ہوا ہے اور متوجہ ہے ۔ ہانا جج کے سامنے کھڑی ہے ۔ جج نے ایک کتاب ’ ماں اور بیٹی؛ بقا کی ایک کہانی‘ تھام رکھی ہے ۔
جج؛ ’’ مِس شمیٹز کیا تم اس کتاب سے واقف ہو۔۔۔‘‘
ہانا؛ ’’ جی ‘‘
جج؛ ’’ اس کتاب کے کچھ حصے اس عدالت میں بھی پڑھ کر سنائے گئے ہیں ۔یہ امریکہ میں شائع ہوئی کتاب ہے جس کا ترجمہ کیا گیا ہے ۔یہ ایک ایسی قیدی ،جو بچ جاتی ہے ، الاناماتھر کی لکھی ہوئی ہے ۔۔۔‘‘
ہانا؛ ’’ جی ، مجھے معلوم ہے ۔ میں الانا مارتھر کو جانتی ہوں ۔‘‘
جج؛ ’’ ایسا نہیں تھا کیاکہ جب وہ بچی تھی تووہ کیمپ میں تھی ۔ وہ اپنی ماں کے ساتھ تھی ۔‘‘
جج انتظار کرتا ہے ۔ ہانا دیکھنے میں سرکش اور گستاخ نظر آ رہی ہے ۔
جج؛’’ الانا کتاب میں چنائو کے عمل کو بیان کرتی ہے ۔ہر ماہ ، مشقت کے بعد ساٹھ قیدیوں کو چُنا جاتا تھا ۔ انہیں اس لئے چُنا جاتا تھا کہ انہیں اس سیارچی کیمپ سے آشویٹز واپس بھیجا جائے ۔ کیا یہ بات درست ہے ، ایسا نہیں ہے کیا؟‘‘
ہانا؛ ’’ جی ، یہ درست ہے ۔‘‘
جج؛ ’’ ابھی تک تمہاری ساتھی مدعاعلیہان نے، خصوصی طور پر، اس عمل میں شمولیت سے انکار کیا ہے ۔ میں اب تم سے یہ پوچھنے لگا ہوں ؛ کیا تم اس عمل کا حصہ تھیں؟‘‘
ہانا؛ ’’ جی‘‘
دوسری مدعاعلیہان اور عدالت میں ہل چل مچتی ہے۔یہ مداعلیہان اپنے وکیلوں سے باتیں کرنا شروع کر دیتی ہیں ۔
جج؛ ’’ تو تم نے اس چنائو کے عمل میں مدد کی ؟‘‘
ہانا؛ ’’ جی‘‘
جج؛ ’’ تو تم اقرار کرتی ہو؟ اگر ایسا ہے تو ذرا یہ بتائو کہ یہ چنائو کیسے ہوتا تھا ؟‘‘
ہانا ہولے سے کندھے جھٹکتی ہے جیسے جو ہوا تھا وہ معمول کی بات تھی ۔
ہانا؛ ’’ وہاں چھ محافظ تھیں ، چنانچہ ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم دس دس قیدیوں کا چنائو کریں گی ۔ یہی طریقہ تھا جو ہم ہر ماہ استعمال کرتی تھیں ۔ ہم دس دس کا چُنائو کرتی تھیں ۔‘‘
جج؛’’ کیا تم یہ کہہ رہی ہو کہ تمہاری ساتھی مدعاالیہان بھی اس عمل میں شامل تھیں ۔؟‘‘
ہانا؛ ’’ ہم سب شامل تھیں ۔‘‘
جج؛ ’’ گو کہ ان سب نے اس بات سے انکار کیا ہے ؟ لیکن تم اقرار کر رہی ہو۔ تم یہ کہہ رہی ہو کہ تم اس عمل میں شریک رہی ہو ۔‘‘
دوسری مدعاعلیہان میں بغض بھری ہلچل ہوتی ہے ، لیکن جج ارادتاً اپنی ہی رو میں رہتا ہے ۔
جج؛ ’’ کیا تمہیں اس بات کا احساس نہیں تھا کہ تم ان عورتوں کو مرنے کے لئے واپس بھیج رہی تھیں ؟‘‘
جج انتظار کرتا ہے ۔ ہانا ہولے سے سر ہلاتی ہے ۔
ہانا؛ ’’ جی ، لیکن وہاں نئی قیدی عورتوں کی آمد بھی تھی ۔ وہاں ہر وقت نئی قیدی عورتیں آتی تھیں ۔ اس لئے ضروری تھا کہ پرانی عورتوں میں سے کچھ کو وہاں سے واپس بھیجا جائے ۔‘‘
جج؛ ’’ مجھے اس بات کا یقین نہیں ہے کہ تم سمجھ رہی ہو ۔۔۔‘‘
ہانا؛ ہم سب کو نہیں رکھ سکتے تھے ۔ وہاں اتنی جگہ نہیں تھی ۔‘‘
جج کے ماتھے پر بل پڑتے ہیں ، اسے حقیقت میں حیرانی ہوتی ہے کہ ہانا اس کی اس بات کو سمجھ نہیں پا رہی ۔
جج؛ ’’ نہیں ، لیکن میں جو کہہ رہا ہوں ، میں اسے اور طرح سے پیش کرتا ہوں ؛ تم جگہ بنانے کے لئے عورتوں کا چنائو کرتی تھیں اور کہتی تھیں، ’ تم ، تم ،اور تم کو واپس بھیجا جا رہا ہے کہ ہلاک کر دی جائو ۔‘‘
ہانا ؛ ’’ اچھا تو، اگر آپ ہماری جگہ ہوتے تو کیا کرتے ؟‘‘
ہانا سیدھے جج کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی ۔ اس کا سوال قطعی طور پر سیدھا ہے ۔مائیکل کے چہرے پر مسکراہٹ آتی ہے ، اسے ہانا پرفخر محسوس ہوتا ہے ۔کمرہ عدالت میں ہر کوئی جج کے جواب کا منتظر ہے ۔ خاموشی ۔ روہل پر بے حسی چھائی ہے۔ ہانا اپنی سوچوں میں گم ہے ۔ وہ خاموشی سے خود سے سوال کرتی ہے۔
ہانا؛ ’’ تو کیا مجھے سیمنز سے نوکری نہیں چھوڑنی چاہیے تھی ؟‘‘
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر ؛ دالان ، ٹائون ہال ، دن کا وقت
مائیکل اکیلا سگریٹ پی رہا ہے ۔ ایک بینچ پر دو عورتیں ساتھ ساتھ بیٹھی ہیں ۔ ایک منحنی اور گہرے رنگ کی ایسی عورت ہے جو ساٹھ کے پیٹے میں ہے۔ دوسری زیادہ مرتب ،مضبوط ، باوقار ہے ۔ وہ تیس کے پیٹے میں ہے ۔ یہ روز اور الانا مارتھر ہیں ۔ وہ اوپر دیکھتی ہیں اور مائیکل کی نظروں میں آتی ہیں ۔ ایک کلرک جوان عورت کی طرف جھکتی ہے ۔
کلرک؛ ’’ مِز ( Ms )مارتھر ، وہ اب آپ کے لئے تیار ہیں ۔‘‘
دونوں عورتیں اٹھتی ہیں اور کمرہ عدالت میں چلی جاتی ہیں ۔ دروازہ بند ہو جاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر ؛ دالان ، ٹائون ہال ، دن کا وقت
مائیکل اب خالی دالان میں اکیلا ہے ، وہ اندرواپس نہیں جانا چاہتا ۔ پھر وہ دروازے کی طرف جاتا ہے ۔ وہ اسے تھوڑا سا کھولتا ہے ۔ مقدمے کی کارروائی کی آوازیں آتی ہیں ۔وہ پورا دروازہ کھول دیتا ہے ۔مائیکل دیکھتا ہے کہ اب الانا بیان دے رہی ہے ۔ کمرہ عدالت کچھاکھچ بھرا ہے ۔مشقتی کیمپوں کی سفید و سیاہ بڑی تصاویر کمرے میں نمایاں طور پرآویزاں ہیں۔ مائیکل خاموشی سے کمرے میں آ جاتا ہے ۔ مقدمے کی کارروائی جاری ہے ۔
مائیکل دو ایک لوگوں کو دھکیل کر روز کے پاس بیٹھ جاتا ہے جو عوامی بینچوں میں سے ایک پر بیٹھی ہے ۔ وہ مدعاعلیہان کی طرف دیکھتا ہے ۔ ریٹا بیکہارٹ ، جو ایک موٹی بوڑھی عورت ہے ان دو میں سے ایک ہے جو مقدمے کی کارروائی کو سننے کی زحمت بھی نہیں کر رہیں ۔
پراسیکیوٹر؛ ’’ تم نے اپنی کتاب میں چنائو کے عمل کو بیان کیا ہے ۔۔۔ ‘‘
الانا؛ ’’ جی ۔ قیدی عورتوں کو کام پر لگایا جاتا تھا اور پھر جب وہ ان کے کام کی نہ رہتیں تو ان کو واپس آشویٹز بھیج دیا جاتا تھا جہاں وہ ہلاک کر دی جاتی تھیں ۔‘‘
پراسیکیوٹر؛ ’’ کیا یہاں وہ لوگ موجود ہیں جو یہ چنائو کرتے تھے ؟‘‘
الانا؛ ’’ جی ‘‘
پراسیکیوٹر؛ ’’ میرے لئے یہ ضروری ہے کہ تم انہیں پہچانو۔ کیا تم ان کی شناخت کر سکتی ہو؟‘‘
الانا مدعاعلیہان کی طرف اپنی انگلی اٹھاتی ہے ۔
الانا؛ ’’ وہ ۔ اور وہ۔ اور وہ۔ اور وہ ۔ اور وہ ۔ اور وہ ‘‘
الانا سب سے آخر میں ہانا کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔ مائیکل اسے ایسا کرتے ہوئے دیکھتا ہے ۔ ہانا کسی رد عمل کا اظہار نہیں کرتی ۔
الانا؛ ہر محافظ عورتوں کی ایک مخصوص تعداد کا چنائو کرتی تھی ۔ ہانا کا چنائو البتہ مختلف ہوتا تھا ۔
جج؛ ’’ یہ کس طرح مختلف تھا ؟‘‘
الانا؛ ’’ کچھ عورتیں اس کی پسندیدہ ہوتیں ، خاص طور پر لڑکیاں ، وہ بھی نوجوان ۔ ہم سب یہ دیکھتے تھے ۔ وہ انہیں کھانا دیتی اور سونے کے لئے جگہ بھی ۔ شام میں وہ انہیں اپنے گرد اکٹھا کر لیتی ۔ ہم سب سوچتے ۔۔۔خیر ، آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ہم کیا سوچتی تھیں ۔ ‘‘
ہانا مڑ کر بے حسی سے اسے دیکھتی ہے ۔ مائیکل بھی دیکھ رہا ہے ۔
الانا؛ ’’ پھر ہمیں یہ پتہ چلا ۔۔۔ وہ سب اس کے لئے اونچی آواز میں پڑھتی تھیں ۔ پہلے ہم نے اس
محافظ کے بارے میں سوچا کہ یہ محافظ زیادہ حساس ہے ، مشفق ہے اور زیادہ انسانی رویہ رکھتی ہے ۔ وہ اکثرکمزوراور بیمارکا چنائو کرتی ، ایسے لگتا جیسے وہ ان کی حفاظت کر رہی ہو ۔لیکن پھر وہ انہیں روانہ کر دیتی ۔ کیا یہ شفقت اور رحم دِلی ہے ؟‘‘
ہانا پھر مڑ کر دیکھتی ہے ، اس کا رویہ معذرت خوانہ نہیں ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر ؛ دالان ، ٹائون ہال ، دن کا وقت
مائیکل اکیلا بیٹھا ہے اس نے اپنا سر ہاتھوں میں لے رکھا ہے ۔ وہ مایوسی کے عالم میں ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ کمرہ عدالت۔ دن کا وقت
اب روز بیان دے رہی ہے ۔ عدالت میں خاموشی ہے اور سب متوجہ ہیں ۔
جج؛ ’’ میں اب ’ مارچ‘ کی طرف آتا ہوں ۔جیسے میں سمجھا ہوں ، تم اور تمہاری بیٹی کئی مہینوں تک پیدل چلتے رہے ۔‘‘
روز؛ ’’ جی۔ یہ 1944 ء کی سردیاں تھیں ۔ ہمارا کیمپ بند کر دیا گیا تھا اور ہمیں کہا گیا تھا کہ ہمیں آگے جانا ہو گا ۔ لیکن ہر روز منصوبہ بدل جاتا تھا ۔ برفباری میں ہمارے اردگرد عورتیں مر رہی تھیں ۔ پیدل چلنے کے دوران ہم میں سے آدھی عورتیں مر چکی تھیں ۔میری بیٹی نے کتاب میں اسے’ ڈیتھ مارچ‘ کی بجائے’ موت کی دوڑ‘ کا نام دیا ہے ۔‘‘
مائیکل بینچوں کی اس قطار کی طرف دیکھتا ہے جہاں الانا بیٹھی ہے ۔
جج؛ ’’ مہربانی ہو گی اگر آپ ہمیں گرجا گھر میں گزری رات کے بارے میں بتائیں ۔‘‘
مائیکل دیکھتا ہے کہ روز نے الانا کی طرف دیکھا ۔ الانا بھی اس کی طرف دیکھتی ہے ۔ مائیکل انہیں آنکھوں ہی آنکھوں میں باتیں کرتا دیکھتا ہے ۔ روز اس طرح سر ہلاتی ہے جیسے وہ الانا کی بات مان رہی ہے کہ اسے مزید بات کرنی چاہیے ۔
روز؛’’ اس رات ہم نے خود کو خوش قسمت جانا تھا کیونکہ ہمارے سر پر چھت تھی ۔ہم ایک گائوں میں پہنچے تھے اور جیسا کہ ہمیشہ ہوتا آیا تھا ، محافظوں نے بہتر جگہ کا انتخاب کیا ۔ انہوں نے پادری کے گھر میں ڈیرہ لگایا ۔ لیکن انہوں نے ہمیں بھی گرجا گھر میں سونے دیا ۔تب نصف شب کے قریب بمباری ہوئی۔ پہلے ہمیں صرف آگ لگنے کی آوازیں آئیں جو گھنٹہ گھر میں لگی تھی ۔پھر ہمیں شہتیروں میں لگی آگ نظر آئی اور وہ فرش پر گرنے لگے ۔ ہر کوئی بھاگا، ہر کوئی دروازوں کی طرف بھاگا۔ لیکن ان سب پر باہرکی طرف سے تالے لگے تھے ۔
جج؛ ’’ گرجا گھر جل گیا؟ کوئی دروازے کھولنے کے لئے نہیں آیا؟ کیا یہ درست ہے؟‘‘
روز؛ ’’ کوئی نہ آیا ۔‘‘
جج؛ ’’ گو کہ سب جل کر مر رہی تھیں ۔‘‘
روز نے ہاں میں سر ہلایا ۔
جج؛ ’’ کتنی عورتیں ماری گئیں ؟‘‘
روز؛ ’’ ہرکوئی مارا گیا ۔‘‘
جج؛ ’’ تم کیسے بچیں ؟‘‘
روز؛ ’’ میں دوسری عورتوں سے الگ ہونا چاہتی تھی ۔ کیونکہ وہ چیخ رہی تھیں اور انہوں نے بھگدڑ مچا رکھی تھی ۔یہ سب میری برداشت سے باہر تھا ۔ ان کی چیخ و پکار میرے لئے ناقابل برداشت تھی ۔ میں آگ سے زیادہ ان عورتوں سے خوفزدہ تھی ۔میں نے اپنی بیٹی کو لیا اور ہم گرجا گھر کے اوپرلے حصے میں چلے گئے ۔ میں اپنے اس کرتبے کا دفاع نہیں کر سکتی ۔ اس کا دفاع ویسے بھی ناممکن ہے ۔ میں نے الانا کو بازوئوں میں اٹھایا اور اسے لئے آگ کی طرف بڑھی ۔گرجا گھر کے اس اوپرلے حصے میںایک طرف ایک چھوٹی سی گیلری تھی ۔ اس نے ہماری جان بچائی ۔ آگ نے گیلری کو نہیں جلایا تھا ۔‘‘
روز نے آنسو بھری آنکھوں سے الانا کی طرف دیکھا ۔
جج؛ ’’ شکریہ۔ میں اس بات کے لئے بھی شکر گزار ہوں کہ آپ شہادتی بیان دینے کے لئے اس ملک میں آئیں ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ لیکچر روم۔ ہائیڈل برگ لاء سکول ۔ دن کا وقت
طلباء کا گروپ بڑے ہال میں واپس آ چکا ہے ۔ ماحول پر افسردگی طاری ہے ۔ یہ ڈائٹر کے بولنے سے پہلے کا ماحول ہے ۔
ڈائٹر؛ ’’ مجھے معلوم نہیں ہے ۔ میں نہیں جانتا کہ ہم اب یہاںمزید کیا کر رہے ہیں ۔‘‘
روہل؛ ’’ تمہیں نہیں معلوم ؟‘‘
ڈائٹر؛ ’’ آپ ہمیں یہ بتاتے رہے ہو کہ وکیلوں کی طرح سوچو ، لیکن اس سب کے بارے میں کچھ ایسا ہے جو کہ مکروہ اور قابل نفرت ہے ۔‘‘
روہل ساکت کھڑا ہے جیسے ایک تجزیہ کار ، جواپنے شادگردوں کو مسئلے کے مرکز کی طرف لے کر جانا چاہتا ہو ۔
روہل؛ ’’ یہ کیسے ہے ؟‘‘
ڈائٹر؛ ’’ یہ جرمن لوگوں کے ساتھ نہیں ہوا ۔ یہ یہودیوں کے ساتھ ہوا ۔‘‘
ہر کوئی ڈائٹر کے اس تُند جذبے پر حیران ہے ۔
ڈائٹر؛ ’’ ہم کیا کرنا چاہ رہے ہیں ؟‘‘
مائیکل؛ ’’ ہم سمجھنا چاہ رہے ہیں ۔‘‘
ڈائٹر؛ ’’ چھ عورتوں نے تین سویہودی عورتوں کو گرجا گھر میں بند کر رکھا تھا اور انہیں جل جانے دیا ۔ اس میں سمجھنے والی کیا چیز ہے ؟ مجھے بتائو، میں پوچھ رہا ہوں ؛ اس میں سمجھ میں نہ آنے والی کونسی بات
ہے ؟‘‘
مائیکل جواب نہیں دے پاتا ۔ ڈائٹرکھڑا ہو جاتا ہے اور سخت غصے میں ہے ۔
ڈائٹر؛ ’’ میں نے اس مقدمے پر یقین کرنا شروع کر دیا تھا ، میرا خیال تھا کہ یہ بہت عظیم کام ہے۔ اب میرا خیال ہے کہ اس طرح بات کا رخ پلٹا جا رہا ہے ۔‘‘
روہل؛’’ٹھیک ۔ رخ پلٹا جا رہا ہے لیکن کیسے ؟‘‘
ڈائٹر؛ ’’ آپ چھ عورتوں کو چُنتے ہیں ، ان پر مقدمہ چلاتے ہیں ۔ آپ کہتے ہیں یہ شیطان ہیں ، یہ قصوروار ہیں ۔ شاندار !کیونکہ شکار ہوئے لوگوں میں سے ایک کتاب لکھ دیتی ہے ! وہ چھ عورتیں اسی وجہ سے مقدمہ بھگت رہی ہیں اور ان کے علاوہ کوئی بھی مقدمہ نہیں بھگت رہا ۔کیا آپ کو معلوم ہے کہ یورپ میں ایسے کتنے کیمپ تھے ؟‘‘
ڈائٹر مڑتا ہے ۔ وہ انتہائی غصے کے عالم میں ہے ۔
ڈائٹر؛ ’’ لوگ اس بارے میں باتیں کرتے رہتے ہیں کہ ہر کوئی کتنا جانتا ہے ؟ کون جانتا تھا؟ انہیں کیا معلوم تھا؟ یہ سوال نہیں ہے ۔ سوال یہ ہے کہ آپ نے یہ سب کیسے ہونے دیا ؟اور ۔۔۔یہ بہتر ہوتا ۔۔۔ کہ جب آپ کو علم ہو گیا تھا تو آپ نے خود کو کیوں نہ ختم کر لیا ؟‘‘
گروپ کا ایک رکن کمرے سے باہر چلا جاتا ہے ۔
ڈائٹر ؛ ’’ ہزاروں ! یہ تعداد بنتی ہے ۔ہزاروں کی تعداد میں کیمپ موجود تھے ۔ اور سب کو ان کا پتہ تھا ۔‘‘
ڈائٹر کے غصے اور جوش کو دیکھ کر ہر کوئی ہکا بکا ہے ۔
ڈائٹر؛ ’’ اور اس عورت کو دیکھو ۔ ۔ ۔‘‘
مائیکل؛ ’’ کونسی عورت ؟‘‘
ڈائٹر؛ ’’ وہی عورت جسے تم ہمیشہ گھورتے رہتے ہو ۔ میں معذرت خواہ ہوں ، لیکن تم ایسا ہی کرتے ہو ۔‘‘
مائیکل کا چہرہ سفید ہو جاتا ہے۔ماحول گرم ہے ۔
مائیکل؛ ’’ مجھے معلوم نہیں ہے کہ تم کس عورت کی بات کر رہے ہو ۔‘‘
ڈائٹر؛ ’’ تمہیں پتہ ہے کہ میں کیا کرتا ؟ میں اپنے ہاتھ میں پستول پکڑتا اور اسے خود گولی مار دیتا ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر؛ خالی سڑک ۔ دن کا وقت
مائیکل ایک سڑک پر چل رہا ہے ۔ اس کے دونوں طرف درخت ہیں ۔ یہ جگہ کسی بھی آبادی سے میلوں دور ہے ۔ سورج کی روشنی درختوں میں سے چھن کر اس پر پڑ رہی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر؛ سٹروتھوف کیمپ ۔ دن کا وقت
ایک غیر آباد کنسنٹریشن کیمپ خاردار تاروں والی باڑ ، مائیکل کندھے پر پٹھو رکھے ، دھاتی دروازے سے اکیلا اندر داخل ہوتا ہے ۔مائیکل غیر آباد اور خالی بیرکوں کے درمیان گھومتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کامنظر ؛ سٹروتھوف کیمپ ۔ دن کا وقت
ایک بیرک کے اندر ، مائیکل قطار میں بچھے خالی بستروں کو دیکھتا ہے ۔ وہ آگے بڑھتا ہے ۔ اس پر ہیجانی کیفیت طاری ہے اور اپنے خیالات میں گم ہے ۔ وہ شاوروں میں سے گزرتا ہے۔ پھر وہ اس کمرے میں داخل ہوتا ہے جس میں اس کے دونوں طرف دھاتی پنجرے ہیں ۔ ان پنجروں میںمار دئیے گئے ہوئوںکے گرد سے اٹے ان گنت جوتے پڑے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کامنظر ؛ سٹروتھوف کیمپ ۔ دن کا وقت
مائیکل ایک دروازہ کھولتا ہے اور ایک ایسے کمرے میں داخل ہوتا ہے جس میں گیس کے تندوروں کی قطار ہے ۔ وہ ان کے پاس سے گزرتا ہے ۔ پھر وہ سر نیچا کئے ان کے پاس کھڑا رہتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کامنظر ؛ کمرہ عدالت ۔ دن کا وقت
ہانا جج کے سامنے کھڑی ہے جو اس سے سوال جواب کر رہا ہے ۔کمرہ عدالت میںاب گائوں کے نقشے ، گرجا گھر کے خاکے اور تصاویر بڑے سائز میں لگائے گئے ہیں ۔
جج؛ ’’ تم نے دروازوں کو کیوں نہیں کھولا؟‘‘
وہ انتظار کرتا ہے ۔ ہانا کوئی جواب نہیں دیتی ۔
جج؛ ’’ تم نے دروازوں کو کیوں نہیں کھولا؟‘‘
جج مدعاالیہان کی طرف مڑتا ہے ۔
جج؛ ’’ میں تم سب سے یہ سوال پوچھ چکا ہوں لیکن مجھے کوئی جواب نہیں دیاگیا ۔ کمرہ عدالت میں اس وقت آپ کے دو شکار موجود ہیں ۔ یہ ان کا حق ہے کہ انہیں جواب دیا جائے ۔‘‘
الانا اور روز مائیکل اور دوسرے طلباء سے زیادہ دور نہیں ہیں ۔ جج ایک جلدکی ہوئی ہاتھ سے لکھی ہوئی ایک دستاویز سامنے رکھتا ہے ۔
جج؛ ’’ یہ ’ ایس ایس‘ کی رپورٹ ہے ۔ تم سب کے پاس اس کی کاپیاں موجود ہیں ۔‘‘
مدعاعلیہان اور وکیلوں کے درمیان کاغذات کا شور اٹھتا ہے اور وہ اس رپورٹ کی کاپیاں کھولتے ہیں ۔
جج؛ ’’ یہ وہ رپورٹ ہے جسے تم لوگوں نے گرجا گھر میں پیش آئے سانحے کے بعد لکھا ، منظور کیا اور اس پر دستخط کئے ۔اس لکھی ہوئی رپورٹ میںتم لوگوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ تم لوگوں کو آگ کا اس وقت تک پتہ نہیں چلا تھا جب تک سانحہ ہو نہیں گیا تھا ۔ لیکن کیا یہ درست ہے ؟‘‘
جج انتظار کرتا ہے ۔
جج؛ ’’خیر؟ یہ سچ نہیں ہے ۔‘‘
ہانا؛ ’’ مجھے معلوم نہیں کہ آپ کیا پوچھ رہے ہیں ۔‘‘
جج؛ ’’ پہلی بات جو میں پوچھ رہا ہوں ، وہ یہ ہے کہ تم نے دروازے کیوں نہیں کھولے ؟‘‘
ہانا دوسرے مدعاعلیہان کی طرف دیکھتی ہے ۔ پہلی بار وہ متزلزل نظر آتی ہے ۔ ( پہلی بار اسے اپنا توازن ڈھیر ہوتا دکھائی دیتا ہے ۔)
ہانا؛ ’’ ظاہر ہے ۔اس کی واضح وجوہات تھیں ۔ ہم تالے نہیں کھول سکتے تھے ۔‘‘
جج؛ ’’ کیوں ؟ تم کیوں نہیں کھول سکتی تھیں ؟‘‘
ہانا؛ ’’ ہم محافظ تھیں ۔ ہمارا فرض ہی یہ تھا کہ ہم قیدیوں کی نگہداشت کریں ۔ ہم انہیں فرار کا موقع نہیں دے سکتی تھیں ۔
جج؛ ’’ ٹھیک ہے۔ اور اگر وہ بھاگ جاتیں تو اس کا الزام تم پر آنا تھا ، تمہیں اس کا ذمہ د ار ٹھہرایا جاتا اور شاید تمہیں مار بھی دیا جاتا ؟‘‘
ہانا؛ ’’ نہیں ۔‘‘
جج؛ ’’ تو پھر ؟‘‘
جج انتظار کرتا ہے ۔
ہانا؛ ’’ اگر ہم دروازے کھول دیتیں ، تو وہاں بھگڈر مچ جانی تھی ۔ ہم ان میں نظم و ضبط کیسے برقرار رکھ سکتے تھے ۔سب کچھ اتنی تیزی سے ہوا تھا ۔ برفباری ہو رہی تھی ۔ بم برس رہے تھے ۔۔۔سارے گائوں سے شعلے اٹھ رہے تھے ۔ پھر چیخوں کی آوازیں آنا شروع ہوئیں ۔ اور یہ بدتر سے بدتر ہوتی گئیں ۔ اور اگر وہ سب باہر نکل آتیں ، تو ہم انہیں ادھر ادھر بھاگنے کا موقع نہیں دے سکتے تھے ۔ ہم ایسا نہیں کر سکتے تھے ۔ ہم ان کے لئے ذمہ دار اور جواب دہ تھے ۔
جج؛ ’’ تو تمہیں پتہ تھا کہ کیا سانحہ وقوع پذیر ہو رہا تھا ۔تمہیں معلوم تھا ؟ تم لوگوں نے اپنی مرضی سے ایسا ہونے دیا ۔ تم نے ان کے فرار ہونے کے ڈر کے مقابلے میں انہیں مر جانے دیا ۔
ہانا اس کا جواب نہ دے سکی ۔ ۔۔ اس کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا ۔
جج؛ ’’دوسری مدعاعلیہان نے تم پر ایک الزام بھی لگایا ہے ۔ کیا تم نے یہ الزام سنا ہے ؟‘‘
ہانا کوئی جواب نہیں دیتی ۔
جج؛ ’’ ان کا کہنا ہے کہ تم انچارج تھیں ۔‘‘
ہانا؛ ’’ یہ درست نہیں ہے ۔ میں محافظوں میں سے ایک تھی ۔
دوسری مدعاعلیہان نے درمیان میں مداخلت کی اور چِلانا شروع کر دیا ؛ ’ یہی انچارج تھی ۔‘
جج؛ ’’ کیا تم نے رپورٹ لکھی تھی ؟‘‘
ہانا؛ ’’ نہیں ۔۔۔ نہیں ۔ہم سب نے آپس میں بحث مباحثہ کیا تھا کہ کیا لکھا جائے ۔ ہم سب نے مل کر رپورٹ لکھی تھی ۔‘‘
بیخہارٹ ؛ اس نے لکھی تھی ۔ اس نے رپورٹ لکھی تھی ۔ یہ انچارج تھی ۔‘‘
جج؛ ’’ کیا یہ درست ہے؟‘‘
ہانا؛ ’’ نہیں ۔ اور میں نے رپورٹ نہیں لکھی تھی ۔ ویسے کیا یہ بات اہم ہے کہ اسے کس نے لکھا تھا ؟ ‘‘
ریٹا بیخہارٹ نے اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے ہی چیخ کر کہا تھا ۔ جج ہانا کو ایک لمحے کے لئے گھورتا ہے ۔
جج؛ ’’ میں تمہاری لکھائی کا نمونہ دیکھنا چاہتا ہوں ۔‘‘
ہانا؛ ’’ میری لکھائی ؟‘‘
جج؛ ’’ ہاں ۔ میں اس بات کا یقین کرنا چاہتا ہوں کہ رپورٹ کس نے لکھی تھی ۔‘‘
اس پر ہانا کا وکیل کھڑا ہو تا ہے ۔
ہانا کا وکیل؛ ’’ معذرت چاہتا ہوں ، لیکن مجھے ایسا کرنا مناسب دکھائی نہیں دیتا ۔ لگ بھگ بیس سال گزر چکے ہیں ۔
جج؛ ’’ کوئی کاغذ کا یہ ٹکڑا اس تک لے کر جائے ۔‘‘
ہانا کا وکیل؛ ’’ کیا آپ واقعی آج کی لکھائی کا موازنہ بیس سال پرانی لکھائی سے کرنا چاہتے ہیں ؟‘‘
جج؛ ’’ اسے کاغذ اور قلم دیا جائے ۔ وکیل، بینچ سے رجوع کرو ۔‘‘
ہانا کے سامنے کاغذ اور قلم رکھ دیا جاتا ہے ۔ اس کا وکیل جج کے پاس جاتا ہے ۔ مائیکل پہلے ہانا کو گھورتا ہے اور پھر اس کی نظریں قلم اور کاغذ پر جم جاتی ہیں ، اس کے دل میں شبہ سر اٹھاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر اور باہر کا منظر؛ دن اور رات ۔فلیش بیکس ( ماضی کی یاددیں)
مائیکل پیچھے کا سوچتا ہے ، اسے ہانا اپنے بیڈ روم میں یہ کہتے دکھائی دیتی ہے ’ نہیں تم پڑھو‘ ۔ اسے سائیکلوں والی سیر کے دوران وہ ہانا نظر آتی ہے جو مینو کارڈ کو دیکھ کر مخمصے میں پڑی ہوتی ہے ۔ اور وہ ہانا بھی جو اپنے اپارٹمنٹ میں ایک کتاب کو پرے پھینکتی ہے ۔اسی لمحے اسے احساس ہوتا ہے کہ ہانا تو ناخواندہ ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ کمرہ عدالت ۔ دن کا وقت
واپس عدالت میں ، ہانا جج کی طرف دیکھتی ہے تاکہ اس کی وکیل کے ساتھ بحث کو ختم کروا سکے ۔
ہانا؛’’ لکھائی کے نمونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ میں نے رپورٹ لکھی تھی ۔‘‘
مائیکل گھبرا کر بے چینی میں اپنی قطار میں بیٹھے لوگوں سے رگڑ کھاتا روہل اور دوسروں کے پاس سے گزرتا ہے ، وہ سب نظر اٹھا کر اسے دیکھتے ہیں ، انہیں اندازہ ہے کہ کوئی بات ہے جس کا انہیں علم نہیں ۔ ہانا بھی مڑ کر دیکھتی ہے جیسے اسے محسوس ہوا ہو کہ مائیکل اس کے پیچھے ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ سیڑھیاں ۔ ہائیڈل برگ لاء سکول ۔ دن کا وقت
مائیکل لیکچر روم کے باہر سیڑھیوں پر بیٹھا ہے ۔ روہل اس کے پاس سے گزرتا ہے ۔
روہل؛ ’’ تم سیمیناروں سے غیر حاضر رہ رہے ہو ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ لیکچر روم ۔ ہائیڈل برگ لاء سکول ۔ دن کا وقت
مائیکل کمرے میں آتا ہے اور ایک نشست پر بیٹھ جاتا ہے ۔ وہ سگریٹ پی رہا ہے ۔ روہل انتظار میں ہے ۔
روہل؛ ’’ تو؟‘‘
مائیکل اس کی طرف دیکھتا ہے ۔
مائیکل؛ ’’ میرے پاس ایک مدعاعلیہ کے بارے میں کچھ معلومات ہیں ہے ۔ کچھ ایسا جس کا وہ اقرار نہیں کر رہی۔
روہل؛ ’’ کیسی معلومات ؟‘‘
مائیکل سگریٹ کو پیر تلے کچلتا ہے۔
روہل؛ ’’ یہ ضروری نہیں ہے کہ تم مجھے بتائو ۔البتہ یہ بات مکمل طور واضح ہے۔ یہ تمہاری اخلاقی ذمہ داری ہے کہ تم یہ معلومات عدالت کو مہیا کرو ۔‘‘
مائیکل؛ ’’ کچھ ایسا ہے کہ یہ بات مدعاالیہ کے حق میں جاتی ہے ۔ یہ اس کے مقدمے میں اس کی مددگار ثابت ہو سکتی ہے ۔یہ نتیجے پر بھی اثرانداز ہو سکتی ہے ، یقینی طور پر سزا پر تو ہو ہی سکتی ہے ۔‘‘
روہل؛ ’’ تو ؟‘‘
مائیکل؛ ’’ لیکن ایک مسئلہ ہے ۔ مدعاعلیہ نے یہ تعین کر رکھا ہے کہ وہ اس بات کو چھپائے رکھے ۔‘‘
دو طالب علم سیمینار کے لئے اندر داخل ہوتے ہیں ۔
روہل؛ ’’ مہربانی ہو گی ، ایک لمحے کے لئے باہر ہی رہو ۔‘‘
اس تنبیہ پر وہ باہر نکل جاتے ہیں ۔
روہل؛ ’’ مدعاعلیہ کی وجوہات کیا ہیں ؟‘‘
مائیکل؛ ’’ کیونکہ وہ شرمندہ ہے ۔‘‘
روہل؛ ’’ شرمندہ ؟ کس چیز کے لئے شرمندہ ؟‘‘
مائیکل اس کا جواب نہیں دیتا ۔
روہل؛ ’’ کیا تم نے اس سے بات کی ہے ؟‘‘
مائیکل؛’’ بالکل نہیں ۔‘‘
روہل ؛ ’’ بالکل نہیں ۔ کیوں ؟‘‘
مائیکل؛ ’’ میں نہیں کر سکتا ۔ میں ایسا نہیں کر سکتا ۔ میں اس سے بات نہیں کر سکتا ۔ ‘‘
روہل ؛ ’’ یہ اہم نہیں ہے کہ ہم کیا محسوس کرتے ہیں ۔ یہ بالکل ہی غیر اہم ہے ۔ سوال صرف یہ ہے کہ ہم کرتے کیا ہیں ۔ ‘‘
روہل اٹھ جاتا ہے ۔
روہل؛ ’’ اگر تم جیسے لوگ اس بات سے کچھ نہیں سیکھ سکے کہ میرے جیسے لوگوں کے ساتھ کیا ہوا تو پھر کسی بھی بات کا کوئی مطلب ہے کیا ؟
جاری ہے