اندر کا منظر؛ جیل کی لائبریری ۔ دن کا وقت
لائبریری ڈاک والے کمرے کے ساتھ ہے ۔ ہانا ڈاک والے کمرے سے ہوتی لائبریری کے کائونٹر پر جاتی ہے۔
ہانا؛ ’’ میں ایک کتاب لینا چاہتی ہوں ‘‘
لائبریرین؛ ’’کونسی کتاب ؟‘‘
ہانا؛ ’’ کیا آپ کے پاس ’ ننھے کتے والی خاتون‘ ہے ؟‘‘
لائبریرین؛ ’’ تمہارا نام کیا ہے ؟‘‘
ہانا؛ ’’ ہانا شمیٹز ‘‘
لائبریرین کتاب لینے کے لئے جاتی ہے ۔ ہانا انتظار میں کھڑی کتابوں کے لگے انباروں کو دیکھتی ہے ۔ اس کی آنکھوں میں امکان کی روشنی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ کوٹھری ۔ دن کا وقت
ہانا اپنی کوٹھری میں واپس آتی ہے ۔ وہ کتاب اور نیا آیا پیکٹ رکھتی ہے ۔ پیکٹ کو ایک طرف کرکے وہ کتاب کھولتی ہے ۔ پھر وہ ٹیپ کو، جو ریکارڈر میں ہی ہے،الٹا چلاتی ہے ۔
مائیکل کی آواز؛ ’’ ’’ ننھے کتے والی خاتون ، از انتن چیخوف ۔گفتگو یہ تھی۔۔۔‘‘
وہ ٹیپ بند کر دیتی ہے اور کتاب کے عنوان پر اپنی انگلی پھیرتی ہے ۔ پھر وہ ایک ٹین کا بنا ایک سجاوٹی ڈبہ اٹھاتی ہے اور اس میں سے ایک پنسل نکالتی ہے ۔ اور منہ سے ’دی‘ ، ’ دی‘ ، ’ دی ‘ ۔۔۔۔ایل ، ایل ، ایل وغیرہ کی آوازیں نکالتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر ؛ کوٹھری ۔ رات کا وقت
ہانابیٹھی کتاب میں ہر اس جگہ کے گرد دائرہ لگا رہی ہے جہاں جہاں ’ دی ‘ کا لفظ لکھا ہے ۔ کتاب ان نشانوں سے بھر جاتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر اور اندر کا منظر ؛ مائیکل کا اپارٹمنٹ۔ شام کاوقت
1981 ء ؛ مائیکل کریوزبرگ کی ایک مصروف سڑک سے آ رہا ہے ۔ وہ اب 37 سال کا ہے ۔ وہ اس عمارت میں داخل ہوتا ہے جس میں اس کا اپارٹمنٹ ہے ۔وہ دروازہ کھولتا ہے ؛ اس کے گھر سے اندازہ ہوتا ہے کہ اب یہ رہنے کے لئے ایک بہتر جگہ بن چکی ہے ۔ وہ اپنی ڈاک اٹھاتا ہے ۔ وہ ایک خط کو دیکھتا ہے تو اسے ان میں ایک خط ایسا نظر آتا ہے جسے کسی بچے نے لکھا ہو ۔مائیکل کے چہرے پر تیوری پڑتی ہے ، وہ اسے کھولتا ہے اور اس میں سے کاغذ کا ٹکڑا نکالتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر ؛ مائیکل کا اپارٹمنٹ ۔ شام کا وقت
مائیکل نے ایک خط پکڑا ہوا ہے ۔ وہ لکھائی پر نظر ڈالتا ہے ؛
’’ بچے!تازہ ترین کے لئے شکریہ ۔ مجھے یہ بہت پسند آئی۔‘‘
وہ اسے گھورتا ہے اور پھر اسے میز پر رکھ کر حیران و پریشان پیچھے ہٹ جاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ کوٹھری ۔ دن کا وقت
ہانا ایک نیا پیکٹ لئے کھڑی ہے ۔ وہ اسے جوشیلے انداز سے کھولتی ہے ۔ وہ ٹیپیں باہر نکالتی ہے ۔ وہ لکھائی ؛ ایک خط کی تلاش میں ہے لیکن اس میں خط نہیں ہے ۔وہ پیکنگ کے کاغذ کو بار بار الٹ پلٹ کر دیکھتی ہے لیکن خط نہ پا کرسُونے پن سے کھڑی رہتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ کوٹھری، جیل۔ رات کا وقت ۔ مرکب تصویر سازی
ہانا بہت کوشش کرکے کئی خط لکھتی ہے ۔۔۔سب پر ایک ہی پیغام لکھا ہے ۔قلم کاغذ پر مشکل سے ہی چل رہا ہے ۔ پہلے ؛’’مجھے مہم جوئی کم اور رومانوی مواد زیادہ چاہیے ۔‘‘ اگلا؛ ’’مجھے صحیح اندازہ نہیں کہ کافکا کیا کہہ رہا ہے ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ مائیکل کا اپارٹمنٹ ۔ بیڈ روم ۔ رات کا وقت
مائیکل ٹیپ مشین پر ہانا کے لئے پڑھے جا رہا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر ؛ کوٹھری، جیل ۔ رات کا وقت ۔ مرکب تصویر سازی
ہانا ابھی بھی لکھ رہی ہے ۔
’ ’کیا تمہیں ڈِکنز ابھی بھی پسند ہے ؟‘‘
اور پھر بالآخر ایک ہی جملے کو لکھنے کی کئی کوششوں کے بعد ؛
’’کیا تمہیں میرے خط مل رہے ہیں ؟ بچے! مجھے بھی کچھ لکھو ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ مطالعہ گاہ ، مائیکل کا اپارٹمنٹ ۔ دن کا وقت
مائیکل ہانا کی طرف سے آیا تازہ خط پڑھ رہا ہے ۔
’ ’ کیا تمہیں میرے خط مل رہے ہیں ؟ بچے! مجھے بھی کچھ لکھو ۔‘ ‘
مائیکل فرش پر پڑے فائلوں والے بکسے کی ایک دراز کھولتا ہے ۔ اس میں پہلے ہی ہانا کے خط اوپر تلے پڑے ہوئے ہیں ۔ وہ تازہ والا خط بھی اس ڈھیر پر رکھ کر دراز بند کر دیتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ کوٹھری ، جیل۔ دن کا وقت
ہانا بند کھڑکی میں کھڑی ہے ۔ اس کے چہرے پر سخت مایوسی اور ناامیدی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ مائیکل کا اپارٹمنٹ ، کریزبرگ۔ دن کا وقت
1988ء ؛ مائیکل جو اب 44سال کا ہے ، فون ہاتھ میں لئے ڈیسک پر بیٹھا ہے ۔ اس کے سامنے ایک ٹائپ شدہ خط پڑا ہے ۔
مِز برینر( فون پر آواز)؛ کیا آپ مائیکل برگ ہو؟‘‘
مائیکل؛ ’’جی‘‘
مِز برینر( فون پر آواز)؛’’ کیا تمہیں میرا خط ملا؟‘‘
مائیکل؛ ’’ یہ میرے سامنے پڑا ہے ۔‘‘
مِز برینر( فون پر آواز)؛’’ جیسا کہ میں نے لکھا ہے ، ہانا شمیٹز کو بہت جلد رہا کر دیا جائے گا۔‘‘
مائیکل خط پر انگلیاں پھیرتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندرکا منظر؛ برینر کا دفتر، جیل، دن کا وقت
مِز برینر؛ ’’ہانا کو جیل میں رہتے ہوئے بیس سا ل سے زیاد ہ ہو چکے ہیں ۔اس کا کوئی کنبہ نہیں ہے ۔ اس کے کوئی دوست نہیں ہیں ۔تم ہی اس کا واحد رابطہ ہو ۔ اور یہ کہ تم بھی اس سے ملاقات کے لئے نہیں آتے ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ مائیکل کا اپارٹمنٹ ۔۔۔ دن کا وقت
مائیکل ساکت بیٹھا ہے ۔
مائیکل؛ ’’ نہیں ۔ میں اس سے ملنے نہیں جاتا ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ برینر کا دفتر، جیل۔ دن کا وقت
مِزبرینر؛ جب وہ باہر جائے گی ، اسے ایک نوکری کی ضرورت ہو گی ۔ اسے رہنے کے لئے جگہ درکار ہو گی ۔ آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ جدید دنیا اس کے لئے کتنی خوفناک اور ڈرادینے والی ہو گی ۔‘‘
کچھ دیر کے لئے خاموشی چھا جاتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ مائیکل کا اپارٹمنٹ ۔ دن کا وقت
مائیکل؛ ’’ جی ۔ میں سن رہا ہوں ۔‘‘
مِز برینر ؛ ’’ میں کسی اور سے توقع نہیں کر سکتی ۔ اگرآپ اس کی ذمہ داری نہیں لو گے تو ہانا کا کوئی مستقبل نہیں ہے ۔‘‘
مائیکل؛ یہ آپ کی مہربانی ہے ۔ آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے یہ سب بتایا ۔ ‘‘
مائیکل فون رکھ دیتا ہے ۔ وہ ایسے دکھائی دے رہا ہے جیسے اسے سزا سنا دی گئی ہو ۔وہ اٹھتا ہے اور دیوار کو گھورتا ہے جس پر اب اس کی وہ ساری کتابیں ، جنہیں اس نے پڑھا تھا،ترتیب سے سجی ہیں ۔ پھر وہ بالکونی میں چلا جاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر اور باہر کا منظر؛ مائیکل کا اپارٹمنٹ ۔۔۔، برلن۔ دن کا وقت
مائیکل بالکونی میں کھڑا برلن کو دیکھ رہا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر؛ جیل۔ دن کا وقت
مائیکل جیل کی دیوار کے ساتھ ساتھ سڑک پر چلتا جیل کے چھوٹے دروازے ، جس میں ایک چھوٹی سی کھڑکی بنی ہے ، کے پاس رکتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر؛ جیل کا دالان ۔ دن کا وقت
مائیکل جنگلہ لگے جیل کے دالان میں کھڑا انتظار کر رہا ہے ۔ مِز برینر چلتی ہوئی اس کے پاس آتی ہے ۔ ایک محافظ عورت دروازہ کھولتی ہے اور مائیکل کو اندر جانے دیتی ہے ۔
مِز برینر؛ کیا آپ مائیکل برگ ہو ؟‘‘
مائیکل؛ ’’ جی ‘‘
مِز برینر؛ ’’ میں لویزا برینر ہوں ۔ ہم کافی پہلے سے آپ کے منتظر تھے ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
اندر اور باہر کا منظر؛ سیڑھیا ں ، راہداری ، جیل ۔ دن کا وقت
مِز برینر مائیکل کو لئے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے جیل کی کینٹین کی طرف جا رہی ہے ۔ ان کے پاس سے محافظ عورتیں اور قیدی خواتین گزر رہی ہیں ۔
مِز برینر؛ میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں ؛ ہانا نے ایک لمبا عرصہ خود کو سنبھالے رکھا ۔وہ بہت کارآمد بھی رہی ۔ البتہ آخری کچھ سالوں میں وہ خاصی بدل گئی ہے ۔ اس نے اپنا آپ چھوڑ دیا ہے ۔‘‘
مِز برینر مائیکل کو لئے کینٹین کے دروازے پر پہنچتی ہے ۔
مِز برینر؛ ’’ وہ کینٹین میں ہیں ۔ اور وہ اپنا کھانا ختم کر رہی ہیں ۔ ‘‘
مائیکل ایک میز کے پاس بیٹھی ایک بوڑھی عورت کو دیکھتا ہے ۔ اس کا نیلاتنگ لباس اس کے فربہ جسم پرکھچا ہوا ہے ۔اس کے بال سفیدی مائل سرمئی ہیں ۔ اس کے زانو پر ایک کتاب دھری ہے لیکن وہ اسے پڑھ نہیں رہی ۔۔ کینٹین میں کچھ اور قیدی خواتین اپنا کھانا ختم کر رہی ہیں ۔
مائیکل کو اس بوڑھی عورت کی شکل میں ہانا کو پہچاننے میں کچھ وقت لگتا ہے ۔ تب ہانا کو احساس ہوتا ہے کہ اسے دیکھا جا رہا ہے ۔ وہ مڑتی ہے اور ادھر ادھر دیکھتی ہے ۔ ایک دم اس کا چہرہ کھل جاتا ہے ۔ مائیکل جواباًمسکراتا ہے۔ لیکن جیسے ہی وہ اس کے پاس پہنچتا ہے تو محسوس کرتا ہے کہ ہانا کی آنکھوں کی چمک ماند پڑ چکی ہے اور اس کی آنکھوں میں اب سوال ہیں، مایوسی ہے ۔وہ اس کے سامنے بیٹھ جاتا ہے ۔ ہانا تھکان سے مسکراتی ہے ۔
ہانا؛ ’’تم بڑے ہو گئے ہو ، بچے۔‘‘
وہ اس کا ہاتھ تھامتی ہے۔ کافی دیر خاموشی رہتی ہے ، مائیکل کو کہنے کے لئے کوئی بات ہی نہیں ہے۔ وہ اپنا ہاتھ کھینچ لیتا ہے ۔
مائیکل؛ ’’ میرا ایک دوست ہے جو درزی ہے ۔ وہ تمہیں نوکری دے گا ۔ اور میں نے تمہارے رہنے کے لئے جگہ کا بھی بندوبست کر دیا ہے ۔ یہ ایک اچھی جگہ ہے ۔ چھوٹی تو ہے لیکن اچھی ہے ۔ میرا خیال ہے کہ تمہیں یہ پسند آئے گی ۔‘‘
ہانا؛ ’’ شکریہ‘‘
پھر خاموشی چھا جاتی ہے ۔
مائیکل ؛ ’’بہت سے ایسے سماجی اور ثقافتی پروگرام بھی ہیں جن سے میں تمہیں متعارف کروا سکتا ہوں ۔ اور تمہاری رہائش والی جگہ سے پبلک لائبریری بھی بہت نزدیک ہے ۔‘‘
ہانا ہولے سے سر ہلاتی ہے ۔
مائیکل؛’’ تم نے بہت پڑھا ہے ؟‘‘
ہانا؛ ’’ مجھے سننا زیادہ اچھا لگتا ہے ۔‘‘
تھوڑی دیر کے لئے ایک بار پھر خاموشی چھا جاتی ہے ۔
ہانا؛ ’’ اب یہ ختم ہوگیا ہے ، ایسا نہیں ہے کیا ؟‘‘
مائیکل جواب نہیں دیتا ۔
ہانا؛ ’’ کیا تم نے شادی کی؟‘‘
مائیکل؛ ’’ میں نے کی تھی ۔ہاں میں نے کی تھی ۔ ہماری ایک بیٹی ہے ۔ میں اس سے اتنا نہیں مل پاتا جتنا کہ میں چاہتا ہوں ۔ میری خواہش ہے کہ میں اس سے زیادہ مل سکوں ۔‘‘
چند لمحوں کے توقف کے بعد وہ اعتراف کرتا ہے ۔
مائیکل؛ ’’ شادی زیادہ دیر نہ چل پائی ۔‘‘
پھر خاموشی چھا جاتی ہے ۔
مائیکل؛ ’’کیا تمہیں ماضی کے بارے میں غور کرنے کا وقت ملا ؟‘‘
ہانا؛ ’’ تمہارا مطلب ہے ، تمہارے ساتھ؟‘‘
مائیکل؛ ’’ نہیں ، نہیں ، میرا مطلب یہ نہیں ہے کہ میرے ساتھ ۔‘‘
ہانا؛ ’’ مقدمے سے پہلے میں نے ماضی کے بارے میں کبھی نہیں سوچا تھا ۔ مجھے اس کی ضرورت ہی نہ تھی ۔‘‘
مائیکل ؛ ’’ اور اب؟ اب تم کیسا محسوس کرتی ہو ؟‘‘
ہانا اسے نظر بھر کر دیکھتی ہے ، اس کی نظر آسیبی ہے جیسے وہ اس میں کچھ ڈھونڈ رہی ہو۔
ہانا ؛ ’’ اب یہ بات اہم نہیں رہی کہ میں کیا سوچتی ہوں ۔ اس بات کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ میں کیسا محسوس کرتی ہوں ۔ جو مر گئے وہ ابھی بھی مرے ہی ہوئے ہیں ۔‘‘
پھر خاموشی چھا جاتی ہے ۔
مائیکل؛ ’’مجھے یقین نہیں تھا کہ تم یہ سیکھ پائو گی ۔‘‘
ہانا؛ ’’بچے! میں نے سیکھ لیا ہے۔ میں نے پڑھنا سیکھ لیا ہے ۔‘‘
مائیکل یہ سن کر ایسے دیکھتا ہے جیسے برباد ہو گیا ہو ۔
مائیکل ؛ ’’ میں تمہیں اگلے ہفتے لینے آ جائوں گا ۔ ٹھیک ہے نا؟‘‘
ہانا؛ ’’یہ ایک اچھا منصوبہ لگتا ہے ۔‘‘
مائیکل؛ ’’ ٹھیک ہے ۔ خاموشی سے ، یا کہ بڑے ہلے گلے کے ساتھ ؟‘‘
ہانا؛ ’’ خاموشی سے ۔‘‘
مائیکل ؛ ’’ او کے ، خاموشی کے ساتھ ۔‘‘
وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں ۔ دوسری قیدی عورتیں پہلے ہی جا چکی ہیں ۔ وہ کھڑے ہو تے ہیں ۔ وہ ایک بار پھر اس کے چہرے پر کچھ ٹٹولنے کی کوشش کرتی ہے ، اس کا دماغ پڑھنے کی کوشش کرتی ہے ۔ مائیکل خجالت بھرے انداز میں ہانا کو گلے لگاتا ہے ۔
ہانا؛ ’’ بچے ، اپنا خیال رکھنا ۔‘‘
مائیکل؛ ’’ تم بھی ‘‘
وہ ساتھ ساتھ چلتے دروازے تک آتے ہیں ۔ وہ الوداع کہنے کے انداز میں اس کا ہاتھ تھامتی ہے ۔
مائیکل؛ ’’ تم سے اگلے ہفتے ملاقات ہو گی ۔‘‘
وہ اس کا ہاتھ چھوڑنے سے پہلے اپنا بازو پھیلاتی ہے ، اور پھر اندر ہی گم ہو جاتی ہے ۔ مائیکل اکیلا ہی باہر نکلتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر؛ جیل ۔ شام کا وقت
مائیکل جیل کے مرکزی دورازے سے نکلتا ہے ۔ وہ رک کرشام کو اپنے ارد گرد اُترتے دیکھتا ہے اور پھر اپنی کار کی طرف چل پڑتا ہے ۔
(جاری ہے )
جاری ہے