اندر کا منظر؛ ہانا کا کمرہ ۔ شام کاوقت
کمرہ سادہ ہے ، ایک طرف بیڈروم ہے جبکہ دوسری طرف باتھ روم ۔ یہ سادہ اور ضروری فرنیچر سے آراستہ ہے ۔ یہ ایک تھکا دینے والے دن کا اختتام ہے ۔ مائیکل ڈیسک کے اوپر ایک تصویر ٹانگتا ہے ۔۔۔ یہ ایک لینڈ سکیپ ہے ، کچھ ایسا جو اس جگہ کی یاد دلاتا ہے جہاں وہ سائیکلوں پر سیر کو گئے تھے ۔کام مکمل ہوگیا ہے ۔ وہ مسکراتے ہوئے مطمئن انداز میں چاروں طرف نظر دوڑاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ہانا کی کوٹھری ۔ جیل ۔ پو پھٹنے کا وقت
ہانا اپنے بستر پر پورے لباس میں لیٹی ہوئی ہے۔ وہ اٹھتی ہے اور شیلفوں سے کچھ کتابیں اتارتی ہے ۔ وہ انہیں میز پررکھتی جاتی ہے اور ان کی ڈھیری بناتی ہے ۔پھر وہ اپنے جوتے اتارتی ہے ، کھڑی ہوتی ہے اور میز پر چڑھ کر کتابوں پر کھڑی ہو جاتی ہے ۔ اس کے ننگے پیر کتابوں پر ہیں ۔ پھر وہ اوپر پہنچ جاتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر اور اندر کا منظر؛ جیل ۔ دن کا وقت
مائیکل کار سے باہر نکلتا ہے ۔ اس کے ہاتھ میں پھولوں کا گلدستہ ہے ۔ وہ جیل کی طرف بڑھتا ہے ۔ وہ محافظ کے سامنے جھکتا ہے جو ایک جدید دفتر میں بیٹھا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ جیل ۔ دن کا وقت
راہداری کے دور والے کونے میں مائیکل ایک بینچ پر بیٹھا ہے ۔ مِز برینر اپنے دفتر سے باہرنکلتی ہے اور مائیکل کے کان میں سرگوشی کرتی ہے ۔مائیکل سر ہلاتا ہے ۔ وہ ڈرا ہوا ہے ، حیران ہے اور اس کا رنگ پیلا پڑ گیا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ راہداری اور کوٹھری ، جیل ۔ دن کا وقت
مائیکل اور مِز برینر راہداری میں چلتے آتے ہیں ۔ وہ کوٹھری کے کھلے دروازے کے سامنے رکتے ہیں ۔ ہانا کی لاش وہاں سے ہٹا لی گئی ہے ۔کتابیں البتہ ابھی بھی زمین پر بکھری ہوئی ہیں ۔ مائیکل اندر جاتا ہے ۔ ایک خالی میز ، ایک کرسی ، ایک بستر، ایک الماری ، دروازے کے پیچھے ایک کونے میں ٹائلٹ ۔ بہت سی کتابیں شیلفوں پر بھی پڑی ہوئی ہیں ۔، ایک الارم کلاک ، چیزوں سے بھرا ایک تھیلا ، دو مگ ، فوری بن جانے والی کافی اور چائے کا ڈبہ۔
مائیکل؛ ’’ اس نے اپنا سامان تو باندھا ہی نہیں ۔ وہ تو جانے کے لئے تیار ہی نہ تھی ۔‘‘
مِز برینر تائیدی نظروں سے مائیکل کو دیکھتی ہے ۔ مائیکل نیچے والی دو شیلفوں پر نظر ڈالتا ہے جن پر کیسٹیں اور ٹیپ مشین پڑی ہوئی ہیں ۔
بستر کے اوپر بہت سے تراشے ، تصاویر،جنہیں رسالوں سے پھاڑا گیا ہے، لگی ہوئی ہیں ۔ ان میں پہاڑیاں ، چراہ گاہیں ، مرغزار ، چیری کے درخت ہیں ۔ ایک میں خاص طور پر خزاں کے رنگ ہیں ۔ مائیکل بستر پر گھٹنے ٹیک کر ان کو دیکھتا ہے ۔ وہاں اقوال بھی ہیں ، مضامین بھی اور کھانا پکانے کی ترکیبیں بھی ہیں ۔ ہانا کی بچگانہ لکھائی میں لکھی کچھ باتیں بھی ہیں ؛
’ بہار اپنا نیلا پردہ ہوا میں لہراتی ہے ۔‘
پھر اسے وہاں اخبار میں چھپی ایک تصویر بھی نظر آتی ہے؛ مائیکل برگ اس میں سکول کے پرنسپل سے انعام وصول کر رہا ہے ، جس پر لکھا ہے
’ مائیکل برگ سکول کا انعام برائے ادب وصول کرتے ہوئے ‘
مِز برینر شیلف میں پڑے چائے کے ٹین کے ایک ڈبے کی طرف بڑھتی ہے ۔ وہ مائیکل کے ساتھ بستر پر بیٹھ جاتی ہے اوراپنے سوٹ کی جیب سے تہہ شدہ کاغذ کا ایک ورق نکالتی ہے ۔
مِز برینر ؛ ’’ اس نے میرے لئے ایک پیغام چھوڑا ہے ، یہ ایک طرح سے اس کی وصیت بھی ہے ۔
میں تمہیں وہ حصہ پڑھ کر سناتی ہوںجس کا تعلق تمہارے ساتھ ہے ۔‘‘
مائیکل اس صفحے پر شدید کوشش سے لکھی ہوئی لکھائی پر نظر ڈالتا ہے ۔
مِز برینر ؛ ’’ چائے کے پرانے ڈبے میں پیسے پڑے ہیں ۔ یہ مائیکل برگ کو دے دینا ۔ اسے چاہیے کہ وہ انہیں بنک میں پڑے سات ہزار مارک کے ساتھ اس بیٹی کو بھیج دے جس نے کتاب لکھی تھی ۔ یہ اس کا کام ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ اس نے ان پیسوں کا کیا کرنا ہے ۔ اور مائیکل کو بتائیں کہ میں نے اس کو’ ہیلو ‘بولا تھا ۔ اسے بتائیں کہ وہ اپنی زندگی اپنے ڈھب سے ہی گزارے ۔‘‘
مِز برینر اس کی طرف دیکھتی ہے ۔
مِز برینر؛ ’’ کیا تم اسے دیکھنا چاہتے ہو؟‘‘
مائیکل سر ہلا دیتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر؛ پُل ، مینہیٹن ۔ دن کا وقت
مائیکل مینہیٹن میں ٹیکسی میں بیٹھا ہے ۔ سامنے مانوس افق کا منظر ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر؛ پانچویں ایونیو ۔ دن کا وقت
مائیکل کی ٹیکسی پانچویں ایونیو پر آتی ہے اور یہ ایک ایسی عمارت کے سامنے رکتی ہے جس میں مہنگے اپارٹمنٹ ہیں ۔ مائیکل باہر نکلتا ہے اور اندر داخل ہو جاتا ہے ۔ اس کے پس منظر میں مینہیٹن کا افق ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ لیونگ روم ، الانا کا اپارٹمنٹ ۔ دن کا وقت
عمدہ اور مہنگے آرٹ سے بھری اورانتہائی شاندار طریقے سے سجائی گئی جگہ ۔مائیکل نے اپنا لمباکوٹ اتار رکھا ہے ۔ الانا مارتھر سامنے آتی ہے ، وہ دیکھنے میں وضع دار اور عمدہ لباس میں ہے ۔اسے دیکھ کر
اندازہ ہوتا ہے کہ مالدار نیویارک کی اوپرلی تہہ سے تعلق رکھتی ہے ۔وہ اب پچاس کے پیٹے کے ابتدائی سالوں میں ہے۔
مائیکل؛ ’’ مِز مارتھر ‘‘
الانا؛ ’’ ہاں ۔ اور تم مائیکل برگ ہو۔ میں تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی ۔‘‘
الانا؛ ’’ تو تم مجھے بتائو کہ تمہیں اصل میںکیا شے امریکہ کھینچ لائی ہے ؟‘‘
مائیکل؛ ’’ میں پہلے سے یہاں تھا ۔ میں بوسٹن میں ایک کانفرنس کے لئے آیا تھا ۔‘‘
الانا؛ ’’ تم ایک وکیل ہو؟‘‘
مائیکل؛ ’’ ہاں ‘‘
الانا؛ ’’ میں تمہارے خط سے حیران ہوئی تھی لیکن میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ میں اسے پوری طرح سمجھ پائی ۔ تم نے مقدمہ کی کارروائی دیکھی تھی ؟‘‘
مائیکل؛ ’’ ہاں ۔ اس بات کو اب لگ بھگ بیس سال ہو گئے ہیں ۔ میں اس وقت قانون کا طالب علم تھا ۔ مجھے آپ یاد ہو اور میں آپ کی ماں بھی مجھے اچھی طرح یاد ہیں ۔‘‘
الانا؛ ’’ میری ماں کئی سال پہلے اسرائیل میں فوت ہوگئیں تھیں ۔‘‘
مائیکل؛ ’’ مجھے افسوس ہے ۔‘‘
مائیکل ایک لمحے کے لئے مزید بولنے سے جھجکتا ہے ۔
الانا ؛ ’’ تم بات کرتے رہو ، پلیز‘‘
مائیکل؛ شاید تم نے سنا ہوگا ۔ ہانا شمیٹز کچھ عرصہ پہلے فوت ہوگئی ۔ اس نے خودکشی کر لی تھی ۔‘‘
الانا سر ہلاتی ہے ۔
الانا؛ ’’ کیا وہ تمہاری دوست تھی ؟‘‘
مائیکل؛ ’’ ایک طرح کی دوست ہی تھی ۔یہ بہت سادہ بات ہے کہ ہانا اپنی زندگی کے بیشتر حصے میںناخواندہ رہی تھی۔‘‘
الانا؛ ’’ کیا یہ اس کے برتائو کی وضاحت ہے؟‘‘
مائیکل؛ ’’ نہیں ‘‘
الانا؛ ’’ یا پھر ایک عذر؟‘‘
مائیکل سر ہلاتا ہے ۔
مائیکل؛ نہیں ۔ نہیں ۔ اس نے خود کو اس وقت خواندہ بنایا جب وہ جیل میں تھی ۔میں اسے ٹیپیں بھیجتا تھا ۔ اسے ہمیشہ سے سُننا پسند تھا ۔
الانا ہولے سے پہلو بدلتی ہے ۔
الانا؛ ’’ تم مجھ سے ایمانداری سے بات شروع کیوں نہیں کرتے ؟ کم از کم اس طرح بات شروع کرو۔ تمہاری دوستی کی نوعیت کیا تھی؟‘‘
مائیکل؛ ’’ جب میں نوجوان تھا تو مجھے ہانا کے ساتھ عشق ہوا تھا ۔‘‘
الانا اسے نظر بھر کر دیکھتی ہے ۔
الانا؛ ’’مسٹر برگ! میرا خیال ہے کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتی ۔ بلکہ اگر میں یوں کہوں کہ میں اگر چاہوں بھی تو ایسا نہیں کرنا چاہوں گی ۔‘‘
مائیکل ؛ جب میں لگ بھگ سولہ سال کا تھا تو میرا ہانا کے ساتھ تعلق قائم ہوا تھا ۔ یہ تعلق صرف گرمیوں کے ایک موسم تک ہی رہا ۔ لیکن۔۔۔‘‘
الانا؛ ’’لیکن کیا ؟‘‘
مائیکل الانا کی طرف دیکھتا ہے ۔
الانا؛ اچھا ۔ اور کیا ہانا شمیٹز اس بات کو جانتی ہے کہ اس نے تمہاری زندگی پر کیا اثر ڈالا ؟‘‘
مائیکل اسے گھورتا ہے ، اسے پہلی بار سمجھ آتی ہے ۔
مائیکل؛ ’’ اس نے دوسرے لوگوں کے ساتھ زیادہ بُرا سلوک کیا ۔ میں نے کبھی کسی کو نہیں بتایا ۔‘‘
الانا؛ ’’ لوگ مجھ سے اکثر پوچھتے ہیں کہ میں نے کیمپوں میں کیا سیکھا ۔ لیکن کیمپ کبھی بھی علاج نہیں تھے ۔تم ان جگہوں کے بارے میں کیا سوچتے ہو؟ کیا یہ یونیورسٹیاں تھیں ؟ ہم وہاں کچھ سیکھنے نہیں جاتے ۔ بندے کو ان باتوں کے بارے میں پتہ ہونا چاہیے ۔‘‘
الانا ، مائیکل کو سنگدلی سے دیکھتی ہے ۔
الانا؛ ’’ تم مجھ سے کیا توقع کر رہے ہو؟ اس کے لئے معافی چاہتے ہو؟ یا تم اپنے آپ میں مطمئن ہونا چاہتے ہو؟ اگر تم تزکیہ نفس چاہتے ہوتومیرا مشورہ ہے ، جا کر تھیئٹر دیکھو ، ادب پڑھو۔ کیمپوں کی طرف مت جائو ۔ کیمپوں سے کچھ برآمد نہیں ہو گا ۔ کچھ بھی نہیں ۔‘‘
الانا اسے پھر بے رحمی سے دیکھتی ہے ۔
مائیکل؛ ’’ وہ یہ چاہتی تھی ۔۔۔وہ یہ چاہتی تھی کہ وہ اپنے پیسے تمہارے لئے چھوڑکر جائے ۔ یہ میرے پاس ہیں۔‘‘
الانا؛’’ کس کام کے لئے ؟‘‘
مائیکل؛ ’’ جیسے تم مناسب سمجھو۔‘‘
مائیکل اپنا بریف کیس کھولتا ہے ۔ وہ لیونڈرچائے کا ڈبہ نکالتا ہے اور الانا کے سامنے رکھ دیتا ہے ۔
مائیکل؛ ’’ یہ ہے ‘‘
الانا؛ ’’ میں جب ننھی بچی تھی تو میرے پاس بھی چائے کا ایک ڈبہ تھا جس میں، میںاپنی قیمتی چیزیں رکھتی تھی ۔اپنے کتے کے بالوں کا گچھا ، ان اوپیراز کے ٹکٹ ، جن میں میرے والد مجھے لے کر گئے تھے ۔یہ اپنے اندر رکھی چیزوں کی وجہ سے نہیں چرایا گیا تھا ۔ ڈبہ بذات خود قیمتی تھا جس کے ساتھ آپ کچھ کر سکتے تھے ۔‘‘
وہ چائے کے ڈبے پر ہاتھ رکھے کچھ دیر کے لئے یادوں میں کھو جاتی ہے ۔
الانا؛ ’’میں اس رقم کے ساتھ کچھ نہیں کر سکتی ۔ اگر میں اسے کسی ایسے مقصد کے لئے استعمال کرتی
ہوں جو یہودیوں کی نسل کشی سے جڑا ہے تو مجھے یوں لگے گا کہ میں ’ معاف‘ کر رہی ہوں ، اور یہ کچھ ایسا ہے جسے میں کرنے کے لئے تیار نہیں ہوںاور نہ ہی اس بات کی کسی کو اجازت دینے کا اختیار رکھتی ہوں ۔‘‘
مائیکل ہولے سے سر ہلاتا ہے ۔
مائیکل؛ ’’ میں سوچ رہا تھا کہ انہیں کسی ایسی تنظیم کو دے دئیے جائیں جو خواندگی کی حوصلہ افزائی کے لئے کام کرتی ہو۔‘‘
الانا؛ ’’ اچھا خیال ہے ۔‘‘
خاموشی چھا جاتی ہے ۔
مائیکل؛ ’’ کیا تم کسی ایسی یہودی تنظیم کو جانتی ہو؟‘‘
الانا؛ ’’ مجھے یہ جان کر حیرت ہو گی کہ ایسی کوئی تنظیم نہیں ہے ۔ ہر کام کے لئے یہودی تنظیمیں ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ ’ ناخونداگی ‘ اب یہودیوں کے لئے مسئلہ ہے ۔‘‘
الانا کے چہرے پر ایک طنزیہ مسکراہٹ ہے ۔
الانا؛ ’’تم کیوں نہیں کوئی ایسی تنظیم تلاش کر لیتے ۔ اسے یہ رقم بھیج دو ۔ ‘‘
مائیکل؛ ’’ کیا میں یہ ہانا کے نام سے بھیج سکتا ہوں ؟‘‘
الانا؛ ’’ جیساتم مناسب سمجھو۔‘‘
الانا کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آتی ہے ۔ وہ ٹین کے ڈبے پر ہاتھ رکھتی ہے ۔
الانا؛ ’’ میں یہ ڈبہ رکھ لیتی ہوں ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
اندر کا منظر؛ الانا کا گھر ۔ دن کا وقت
الانا کھڑکی میں کھڑی نیچے گلی میں دیکھ رہی ہے جہاں مائیکل پیدل چلتا جا رہا ہے ۔اس کے ہاتھ میں چائے کا خالی ڈبہ ہے ۔ جب مائیکل نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے تو وہ مڑتی ہے اور اپنے بیڈ
روم میں جاتی ہے ۔ وہاں ایک ڈریسنگ ٹیبل پر الانا کی اپنی ماں کے ساتھ ایک تصویر پڑی ہے جس میں وہ اپنی ماں کے ساتھ جرمنی میں ہے ۔وہ ٹین کا ڈبہ اس کے پاس رکھ دیتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
اندر اور باہر کا منظر؛ کار ۔ دن کا وقت
1995 ء ؛ مائیکل جولیا کو لئے ایک بڑی مرسیڈیز کار میں جرمن مضافات میںسے گزر رہا ہے۔ وہ خاموش اورتنائو میں ہے ۔جولیا رخ بدل کر اسے دیکھتی ہے لیکن وہ کوئی رد عمل ظاہر نہیں کرتا ۔
جولیا؛ ’’ ہم کہاں جا رہے ہیں ؟‘‘
مائیکل؛ ’’ میرا خیال تھا کہ تمہیں ’ حیرانیاں‘ پسند ہیں ۔‘‘
جولیا؛ ’’ مجھے ہیں ۔ مجھے حیران ہونا پسند ہے ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر؛ مضافات ۔ دن کا وقت
وہ ایک گرجا گھر کے سامنے رکتے ہیں ۔یہ وہی گرجا گھر ہے جہاں سالوں پہلے مائیکل اور ہانا اس وقت آئے تھے جب وہ سائیکلوں پر سیر کو نکلے تھے ۔مائیکل اور جولیا کار سے باہر نکلتے ہیں اور گرجا گھر کے ساتھ موجود قبرستان کی طرف بڑھتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔
باہر کا منظر؛ قبرستان۔ دن کا وقت
مائیکل اور جولیا ایک ویران قبرستان میں کھڑے ہیں ۔پورا قبرستان پس منظر میں ہے ۔ مائیکل ایک قبر کے پاس رکتا ہے اور جھک کر اس قبر کا کتبہ صاف کرتا ہے ؛ ہانا شمیٹز ، 1923 ء ۔ 1988 ء ، جولیا دیکھتی ہے اور ہانا شمیٹز کا نام لیتی ہے ۔
جولیا ؛ ’’ ہانا شمیٹز ‘‘
جولیا یہ کہہ کر ایک لمحے کے لئے انتظار کرتی ہے ۔
جولیا ؛ ’’ یہ کون تھی ؟‘‘
مائیکل؛ ’’ یہی تو میں تمہیں بتانا چاہتا تھا ۔ اسی لئے تو میں تمہیں یہاں لے کر آیا ہوں ۔‘‘
جولیا اسے دیکھتی ہے اور منتظر ہے ۔ مائیکل ایسے دکھائی دیتا ہے جیسے اس سے مزید کچھ کہا نہ جا رہا ہو ۔
جولیا؛ ’’ تو مجھے بتائیں ۔‘‘
لمحے بھر بعد وہ واپس مڑتے ہیں اور گاڑی کی طرف بڑھتے ہیں اور مائیکل بولنا شروع کرتا ہے اور جولیا کو کہانی سنانے لگتا ہے ۔
مائیکل؛ ’’ میں پندرہ سال کا تھا ، میں سکول سے گھر واپس آ رہا تھا ، میں بیمار تھا ۔۔۔۔‘‘
وہ درختوں کے درمیان چل رہے ہیں ۔
۔۔۔۔اور پھر منظرمدہم ہوتے ہوتے سیاہ ہو جاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔ختم شد۔۔۔۔۔