معروف برطانوی اداکارہ کا مکمل نام”کیٹ ایلزبتھ ونسلیٹ“ہے۔ وہ پہلی مرتبہ پندرہ برس کی عمر میں ٹیلی وژن پر جلوہ گرہوئیں۔ اس سے پہلے تھیٹر کے منچ پر اپنے فن کا مظاہرہ کیا، پھر سینما کی بڑی اسکرین پر بھی اپنا جادو جگانے میں کامیاب رہیں۔ کینڈین فلم ساز”جیمز کیمرون“ کی فلم”ٹائی ٹینک“ سے شہرت سمیٹنے والی اس شاندار اداکارہ کے فن کااظہار تاحال جاری ہے اور بھرپور ہے۔ دو ڈائریکٹرزانتھونی منگیلا اور سڈنی پولاک کی فلم”دی ریڈر“ میں متاثرکن کام کرکے”آسکر ایوارڈ“ جیتنے والی اس اداکارہ نے دنیا ئے شوبز کے تمام بڑے اعزازات اپنے نام کیے ہیں، جس میں برطانیہ کا شاہی اعزاز بھی شامل ہے۔ ہالی وڈ کی یہ خوبرو اداکارہ، جو زندگی کی 46 بہاریں دیکھ چکی ہیں۔ انہوں نے ایک محتاط اندازے کے مطابق، اپنے فنی کیرئیر میں 50 فلمیں کی ہیں جبکہ 17 ٹیلی وژن ڈراموں اور ویب سیریز میں کام کیا ہے، پھر 20 سےزائد تھیٹر کے کھیلوں میں اداکاری ان سب کے علاوہ ہے۔ 5 مختلف فنی منصوبوں میں اپنی آواز کا جادو بھی جگا چکی ہیں۔ 4کتابوں کی پڑھت کاری، میوزک ویڈیو اور ایک ویڈیو گیم بھی ان کے کریڈیٹس میں شامل ہیں۔ اہم اعزازات کے لیے 50 مرتبہ نامزد ہونے کامنفرد اعزاز بھی ان کے پاس ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ موسیقی اور صداکاری سمیت مختلف ویڈیو گیمز میں بھی اپنی صوتی اداکاری کا تاثر رقم کیا ہے۔ میڈیم کوئی بھی ہو، ہر کردار میں اپنی ذات کو گم کر دیا ہے۔ انہوں نے ایک بیماری کے تناظر میں متعلقہ کتاب”گولڈن ہیٹ۔ آٹزم پر دوبارہ بات کرنا“ بھی دو شریک مصنفین کے ساتھ مل کر لکھی۔ انسانی فلاح و بہبودکے لیےمختلف سماجی سرگرمیوں میں بھی پیش پیش رہتی ہیں۔

عالمی شہرت یافتہ برطانوی اداکارہ ۔ کیٹ ونسلیٹ
س۔ آپ کی نظر میں خوبصورتی کی تعریف کیا ہے، بالخصوص گزرتی ہوئی زندگی کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گی؟
ج۔ یہ ایک ایسا احساس ہے، جو یقینی طور پر ان گزرتے سالوں میں بدلا ہے، جیسے کہ میں خود بھی بدلی ہوں، میرا چہرہ بدلا ہے اور یہ بدلاؤ مستقل جاری ہے۔ آپ کم عمری میں اکثر یہ سوچتے ہیں، خوبصورتی وہ چیز ہے، جسے آپ کسی اور پر لاگو کرتے ہیں، بجائے اس کے، آپ اپنی سچائی کو دیکھیں اور یہ سوچیں کہ آپ خود کون ہیں۔ آپ کا جسم کیسا ہے اور آپ کی شکل و صورت کیسی ہے۔ یہی وجہ ہے، میں نے زندگی سے یہی سیکھا کہ خوبصورتی ایسی چیز نہیں ہے، جس کا آپ اطلاق کرسکتے ہیں۔ پچھلے سال، میں نے میک اپ پر توجہ مرکوز کرنے سے زیادہ اپنی صحت اور اپنی جلد کی دیکھ بھال کرنے میں حقیقی لطف اٹھایا ہے۔
ہم میں سے کسی نے گزشتہ برس میک اپ نہیں کیا، پھر بھی، جبکہ یہ خوبصورت بات ہے، ایک زبردست کاجل لگانا یا شاندار سرخ ہونٹ کرنا، سب کو اچھا لگتا ہے، لیکن میں نے فطرت سے قریب ہوکر سادہ زندگی بسر کی، مجھے ان دنوں بہت لطف آیا۔ ہم جب کم عمر ہوتے ہیں، تو بوڑھے لوگوں کے بارے میں سوچتے ہیں کہ او میرے خدا یہ کتنے بوڑھے ہوچکے ہیں، لیکن ہمیں اپنا آپ کبھی بوڑھا محسوس نہیں ہوتا۔ میں نے ہمیشہ اندر سے آنے والی خوبصورتی پر یقین رکھا ہے۔

تیری صورت سے کسی کی نہیں ملتی صورت ۔ ہم جہاں میں تری تصویر لیے پھرتے ہیں (امام بخش ناسخ)
س۔ آپ نے اپنی سچائی تلاش کرنے کی بات کی۔ آپ کے لیے خوبصورتی کی حقیقت کیا ہے؟
ج۔ خواتین کے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے، ایک دوسرے کے لیے کھڑے ہونے، ایک دوسرے کی کھلے عام اور آزادانہ طور پر ان طریقوں سے تعریف کرنے کا احساس ہے، جو ہم واقعی پہلے نہیں کر تے تھے۔ ہم دوسروں کو موردِ الزام ٹھہراتے تھے۔ میں نے اپنی بیٹی کو یہ سکھایاہے کہ زندگی کاکوئی مقصد ہونا چاہیے اور ایک بہتر انسان بننے کے لیے کیا کچھ کیا جاسکتا ہے۔
س۔ آپ کا روزانہ ،جلد کی دیکھ بھال کا معمول کیسا چل رہا ہے؟
ج۔یہ کافی آسان ہے۔ میں صبح اٹھتی ہوں اور ٹھنڈے پانی سے اپنا چہرہ دھوتی ہوں۔ مجھے لگتا ہے، ٹھنڈا پانی صرف چہرے پر حواس کو جگاتا ہے اور آپ کی سوجھی ہوئی آنکھوں کو نیچے لے جاتا ہے۔ کبھی کبھی میں واش کلاتھ کو بھی بہت، بہت ٹھنڈے پانی میں ڈبوتی ہوں اور اسے اپنے چہرے پر پکڑ لیتی ہوں۔ میں اچھا موئسچرائزر استعمال کرتی ہوں۔ بعض اوقات اگر موئسچرائزر بہت زیادہ چکنائی والا ہو تو میک اپ سارا دن پھسل سکتا ہے اور میرے پاس اس کے لیے وقت نہیں ہے کیونکہ میرے پاس دوبارہ اس کو کرنے کی فرصت میسر نہیں آئے گی۔ میں ہمیشہ چہرے کے لیے ایسا کچھ کرتی ہوں، جس سے اس کی تازگی برقرار رہے، کیونکہ جیسے جیسے میری عمر بڑھتی جاتی ہے، مجھے چہرے پرکئی چھوٹے دھبے اور اس طرح کے نشانات مل جاتے ہیں، جو مجھے پسند نہیں ہیں۔ اسی طرح میری پیشانی بہت خشک ہو جائے، تو میں تھوڑا سا ویلڈا سکن فوڈ بھی استعمال کرتی ہوں۔

حسین اور باصلاحیت اداکارہ کا ایک اندازِ دلربا
س۔ آپ معروف اداکارائوں میں شمار کی جاتی ہیں، آپ کو گل بدن یا دراز قامت خاتون کا لیبل دیا جاتا ہے؟
ج۔ یہ خیال مجھے پاگل کر دیتا ہے۔ میرا قد صرف 5 فٹ ہے، لیکن لوگ سمجھتے ہیں، میں ایک طویل قامت خاتون ہوں، جبکہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے، میں انتہائی نارمل اور عام سی عورت ہوں۔
س۔ لیکن نو عمری میں آپ کاوزن کافی زیادہ تھا؟
ج۔ جی ہاں، میں کم عمری میں فربہ مائل تھی۔
س۔ آپ کی ڈائٹ روٹین کیا ہے؟ کیا آپ مسلسل ورزش کرتی ہیں؟
ج۔ ارے نہیں، میرا مطلب ہے، میں ورزش کرتی ہوں، جب میرے پاس وقت ہوتا ہے جو کہ ان دنوں بالکل بھی نہیں ہے، اسی طرح جب ڈائٹنگ کی بات آتی ہے تو مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے۔ میں اپنے آپ کو اتنا ہی دیکھتی ہوں، جتنا کوئی اوسط عورت دیکھتی ہے۔ خوراک کے لحاظ سے بھی میرا مزاج معتدل ہے۔ میں کھانا دیکھ کر پاگل نہیں ہوتی، اتنا ہی کھاتی ہوں، جتنی میری بھوک ہے۔
س۔ آپ کے بارے میں ایک بات یہ بھی مشہور ہوئی کہ آپ نے اس بات پر اعتراض کیا تھا، جب ایک میگزین نے اپنے سرورق پر آپ کے پوسٹر کوایسا بنا دیا تھا کہ اس پر آپ طویل قامت اور دبلی نظر آئیں۔
ج۔ اوہ! ایسا نہیں تھا کہ انہوں نے صرف میری تصویر کو دوبارہ اسٹریچ کیا، بلکہ انہوں نے اسے مکمل طور پر تبدیل کر دیا، مجھے توایسا لگ رہا تھا کہ بہت لمبی ہوگئی ہوں، جبکہ حقیقت اس کے برعکس تھی۔
س۔ اس کامطلب یہ ہوا، آپ کو اپنی جسامت کے لیے کوئی وہم نہیں ہے، نہ ہی اس کو لے کرآپ بہت زیادہ فکر مند ہیں؟
ج۔ میرے لیے یہ عام بات ہے۔ مجھے اس سے کم ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے جب کچھ سال قبل بچے پیدا کرنا شروع کیے، تو میرا جسم اپنے آپ میں بس گیا۔ مجھے لگتا ہے، زیادہ تر خواتین کے ساتھ ایسا ہوتا ہے، جب ان کے ہاں بچوں کی پیدائش ہوتی ہے۔ آپ کے ہارمونز واقعی ٹھیک ہو جاتے ہیں، اس لیے اب کچھ عرصے سے میرا وزن کم یا زیادہ نہیں ہوا، ایک ہی جگہ رکا ہوا ہے۔ اس تبدیلی کا مجھے احساس رہتا ہے۔ میں کھانے پینے کے معاملات میں زیادہ محتاط نہیں ہوں، نہ ہی مجھے دبلے پتلے رہنے کا خبط ہے۔
س۔ آپ کی خوبصورتی کا رازکیا ہے؟
ج۔ واقعی کوئی راز نہیں ہے۔ میں ہمیشہ سونے سے پہلے اپنا میک اپ اتارتی ہوں، یہاں تک کہ اگر میں مکمل طور پر تھک چکی ہوں اور میں صبح کے وقت تھوڑا سا میک اپ کرنے کی کوشش کرتی ہوں، لیکن میں زیادہ میک اپ کی شوقین نہیں ہوں۔ ویسے بھی مجھےخود سے زیادہ میک اپ کرنا نہیں آتا، میں اس معاملے میں میک اپ آرٹسٹوں کی محتاج ہی رہتی ہوں۔
س۔ کیا آپ کوایسا نہیں لگتا کہ آپ شہرت کے جال میں پھنسی ہوئی ہیں ؟
ج۔ شہرت اور مشہور اداکار ہونا دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ سرخ قالین پر چلنا اور فیشن شوز میں جانا اور ایسے نہ ختم ہونے والے مواقع، وہ لمحات ہوتے ہیں، جن سے آپ لطف لیتے ہیں، لیکن میں اپنی زندگی میں ہروقت یہ بھی نہیں کرناچاہتی کیونکہ یہ حقیقی زندگی نہیں ہے۔
س۔ شہرت کا سب سے بڑا نقصان کیا ہے؟
ج۔ پاپرازی، وہ فوٹوگرافرز، جو چھپ کر ہم جیسے لوگوں کی ذاتی زندگی کو عکس بند کرتے ہیں اور ہماری شہرت کو نقصان بھی پہنچاتے ہیں۔ مجھے واقعی ان سے کوئی فرق نہیں پڑتا، لیکن میرے بچوں کے ساتھ پاپارازی کا سامنا، مجھے پریشان کرتا ہے۔ میرا مطلب ہے، میرا بیٹا ابھی تک ان سے واقف نہیں ہے، لیکن میری بیٹی کو معلوم ہے اور وہ صرف میری پیٹھ کے پیچھے چھپ جاتی ہے۔
س۔ آپ اور آپ کے شوہر”سیم “جب ساتھ تھے، تو آپ پر پریس میں ایک سے زیادہ کامیاب شریک حیات تک سے’’تجارت‘‘ کرنے کا الزام لگایا گیا۔ آپ نے اسے کیسے ہینڈل کیا؟
ج۔آپ جانتے ہیں، اس قسم کی قیاس آرائیاں بے معنی ہوتی ہیں، بس ایسا ہی ہے۔ اس کا مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوا کیونکہ میں جانتی تھی، میں کیا کر رہی ہوں۔ آپ اپنے دماغ کو جانتے ہیں اور جب وہ سوئچ تبدیل کر دیا جاتا ہے، تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی اور کیا کہتا ہے۔
س۔ آپ نے ایک انکشاف کیا ، اپنی پہلی محبت کے کھو جانے سے تباہ ہو گئی تھیں۔ آپ نے اس دل کی منتشردھڑکنوں کو کیسے سنبھالا؟
ج۔ میرے خیال میں دل ٹوٹنا ایک ایسی چیز ہے، جس کے ساتھ آپ جینا سیکھتے ہیں، اس کے برعکس بھولنا سیکھتے ہیں۔ میں کسی بھی چیز کو کبھی نہیں بھولنا چاہوں گی، جس کا میں نے تجربہ کیا ہے۔ یہ زندگی کا ایک حصہ ہے اور اس بات کا تعلق، اس بات سے ہے کہ میں کون ہوں، لیکن میں کسی بات پر افسوس کرنے میں بھی یقین نہیں رکھتی، یعنی میں ایک ایسی عورت نہیں ہوں، جسے کوئی پچھتاوا ہو یا وہ ماضی میں زندہ رہتی ہو۔ میں آگے کا سو چتی ہوں اور مستقبل کے بارے میں مثبت رہنے کی کوشش کرتی ہوں۔

محبت کا رنگ نیلا اور اس کی ایک تمثیل ۔ کیٹ ونسلیٹ
س۔ آپ اداکاروں کے خاندان میں سے ہیں۔ کیا آپ اپنے بچوں کو اپنے نقش قدم پر چلنے کی ترغیب دیں گی؟
ج۔ میں اس بات کی حوصلہ افزائی یا حوصلہ شکنی نہیں کروں گی۔ میں یقینی طور پر انہیں ایسا کرنے کے لئے کبھی دھکا نہیں دوں گی۔ میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ وہ وہی ہوں، جو وہ ہیں اور اپنے اپنے فیصلے خود کریں، جو بھی وہ منتخب کریں، اس میں میرا تعان شامل ہوگا۔ میرا مطلب ہے، اگر وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ اداکاری میں جانا چاہتے ہیں، تو مجھے سنجیدگی سے گہرا سانس لینا پڑے گا اور اپنی زبان کاٹنا پڑے گی، لیکن میں انہیں اس کے خلاف انتباہ نہیں کرنا چاہوں گی۔ میں صرف یہ کہنا چاہوں گی ’’بالکل، بہت اچھے۔‘‘
س۔ کیا آپ خود کو دور حاضر کی بہترین اداکارسمجھتی ہیں؟
ج۔ میں اگراس طرح کی باتوں کوسوچنے لگی، تو پھر میرا کیا ہوگا۔ ہم خود کو بہتر بنانے کے لیے کوششیں کرتے رہتے ہیں اور اپنے آپ کو باور کرواتے ہیں کہ ہمیں مزید بہتر ہونا ہے، یہی طریقہ ہے ،خود کوجاننے کا، جس کے بارے میں ہمیں سوچتے رہنا چاہیے۔
س۔ تو اداکاری بھی خود کو بہتر طور پر جاننے کا ایک طریقہ ہے؟
ج۔ میں شاید اس بارے میں بہتر سمجھتی ہوں کہ میں اب کون ہوں، جب میں نے اداکاری کا آغاز کیا تھا، تو اس وقت میری سوچ مختلف تھی، لیکن اب بچے پیدا کرنے اور پھر شادی شدہ ہونا ،یہ کافی الگ احساس ہے۔ آپ جب حقیقی طور پر خوش ہوتے ہیں، تو آپ سوچتے ہیں’’ٹھیک ہے، مجھے زمین کے اس ٹکڑے پر کھڑا ہونا اچھا لگتا ہے۔‘‘ مجھے نیویارک میں رہنا اور ماں بننا پسند ہے۔
س۔ آپ کے نیویارک جانے کا کیا سبب ہوا ؟
ج۔ہم یہاں مستقل طور پر نہیں ہیں۔ ہم اس لیے آتے ہیں کیونکہ یہاں میرے شوہر کی فنی مصروفیات ہیں۔ میرے بچوں کی پیدائش، تعلیم، ان کی تربیت سب کچھ یہاں دیکھنا تھا، اس کے علاوہ برطانیہ میں پریس اور میڈیا میرے بارے میں طرح طرح کی باتیں کرتا ہے، جن کے بارے میں اب میں بات نہیں کرنا چاہتی، اس لیے امریکا میں سکونت اختیار کرنا مجھے ٹھیک لگا اور اب میں یہاں موجود ہوں۔
س۔ آپ عام زندگی میں پردے کے پیچھے رہنا پسند کرتی ہیں؟
ج۔ جی ہاں بالکل، ایسی ہی بات ہے۔ ویسے بھی زندگی میں مختلف مشکلات جب آئیں، جیسے کہ شوہر سے طلاق اور پھر بچوں کی تربیت، تو میں نے کوشش کی، اپنی فنی اور ذاتی زندگی کو متوزن کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔
س۔ ناول یا ڈراما لکھنا بھی ایسا ہی ہے، جیسے ہالی وڈ کی بڑی فلمیں بنانا غیر حقیقی، آپ کیا کہتی ہیں؟
ج۔ ہاں، یہ بالکل غیر حقیقی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے اپنی بڑی بہن کے ساتھ فون پر بات چیت کی تھی، جو ٹائی ٹینک کی شوٹنگ کے دوران انگلینڈ واپس آئی تھی۔ وہ اور میری چھوٹی بہن دونوں ہی اداکارہ ہیں، میں رو رہی تھی کہ میں کتنی تھکی ہوئی تھی۔ میری بہن نے کہا’’دن کے اختتام پر، کیٹ، آپ کا وہاں ہونا خوش قسمتی کی بات ہے۔‘‘ میں نے سوچا’’اوہ بھاڑ میں جاؤ، یقیناًمیں اپنی بہن کے سامنے رونے کی ہمت کیسے کر سکتی ہوں، جو ابھی آڈیشن لینا پسند کرے گی اور کہے گی کہ نوکری چھوڑ دو۔‘‘
س۔ ہم سب کو اپنی کامیابیوں کے لیے شکرگزار ہونا چاہیے ؟
ج۔ یہ بالکل سچ ہے۔ ایسا لگتا ہے، مجھے حقیقی طور پر رونے کا حق نہیں ہے بلکہ شکرگزار ہونا چاہیے کیونکہ میں ایک اداکار خاندان سے ہوں، ایک طرح سے یہ اور بھی مشکل ہے۔
س۔ کیا آپ تھیٹر باقاعدگی سے جاتی ہیں؟
ج۔اپنے شوہر ”سام“ کے ساتھ رہنے کے بعد سے، کیونکہ یہ میری زندگی سے کہیں زیادہ اس کی زندگی کا حصہ ہے۔ میں بھی تھیٹر سے محبت کرتی ہوں، اگر ہم بچوں کو بستر پر لے جا سکتے ہیں اور دس بج کر سات بجے ٹیکسی میں چھلانگ لگا سکتے ہیں، تو پردہ اوپر جانے سے پہلے ہمارے پاس پینے کے لیے دس منٹ بچتے ہیں اور ہم تھیٹر میں کوئی ایک کھیل دیکھ سکتے ہیں۔
س۔ پلاسٹک سرجری کروانے پر آپ کی کیا رائے ہے؟
ج۔ مجھے نہیں لگتا کہ میں کبھی یہ کروں گی کیونکہ جیسے جیسے میں بڑی ہوتی جا رہی ہوں، میں جسمانی خدوخال کے بارے میں زیادہ آرام دہ ہوتی جا رہی ہوں۔ میرا جسم میرے خیالات پر حاوی نہیں ہوتا ہے۔ میرا دن خرابی کے بارے میں سوچ کر نہیں گزرتا۔
س۔ زمانہ طالب علمی میں موٹاپے کی وجہ سے آپ کو ہم جماعت سہیلیاں بہت تنگ کیا کرتی تھیں، اس پر آپ کا ردعمل کیا ہوتا تھا؟
ج۔ جی ہاں، لڑکیوں نے مجھے بہت تنگ کیا، لیکن میں نے سوچ رکھا تھا کہ میں صرف اپنا سر نیچے رکھوں گی اور انہی حالات میں گزارا کروں گی، کیونکہ یہی میری بقا کا ذریعہ تھا۔
س۔ آپ کے نزدیک’’آپ قابل ہیں‘‘ کا کیا مطلب ہے؟
ج۔ میں نے زندگی میں جو چیزیں سیکھی ہیں یا جن حالات سے میں گزری ہوں، انہی کی وجہ سے میں اپنے موجودہ مقام پر ہوں، جو بھی شہرت اور دولت نصیب ہوئی، وہ انہی حالات سے فراہم کردہ اعتماد پر ہوئی۔ اجتماعی طور پر کہنا کہ ہم خواتین اس قابل ہیں، یہ بات آسان ہے، مگر انفرادی طور پر اس کو ثابت کرنا انتہائی مشکل ہے، کیونکہ اجتماعی حیثیت میں تو ہم ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہوتے ہیں، جب آپ تنہا اور اکیلے ہوتے ہیں تو حالات آپ کے لیے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔
س۔ آپ جب لوکیشن پر شوٹ کے لیے جاتی ہیں، تو کیا آپ کے بچے آپ کے ساتھ سفر کرتے ہیں؟
ج۔ جی ہاں۔ میں نے انہیں کبھی فلم میں کام کرنے کے لیے کہیں بھی اکیلا نہیں چھوڑا۔ ہم سب مل کرساتھ رہتے ہیں۔ میں انہیں کبھی نہیں چھوڑ سکتی۔ میرے بچے میری کل کائنات ہیں۔
س۔ آپ کو ماں بننے کے بارے میں سب سے زیادہ لطف کس بات میں آتا ہے؟
ج۔ مجھے یہ روٹین پسند ہے۔ مجھے صبح اٹھنا، ناشتہ کرنا،بچوں کے لنچ پیک کرنا اور ان کو اسکول بھیجنا پسند ہے۔ یہ روٹین میرے لیے واقعی اہم ہے، کیونکہ میں سمجھتی ہوں ، یہ چھوٹے چھوٹے، مگر اہم لمحات بچے کے لیے بہت قیمتی ہوتے ہیں۔
س۔ آپ کی یہ روٹین بھی کیا بچوں کی پرورش کا ایک بڑا حصہ ہے؟
ج۔ ہاں، وہ یہ جاننا پسند کرتے ہیں کہ ہر دن میں ان سے کیا امید رکھتی ہوں۔ مجھے لگتا ہے، ان کے اندر نظم وضبط ہونا ضروری ہے۔ میں سخت ماں نہیں ہوں، لیکن میں ان کے ساتھ زبردستی بھی نہیں کرتی، البتہ میرے شوہر بچوں سے بالکل مختلف برتاؤ کرتے ہیں۔
س۔ کیا آپ کو عوام میں مقبول ہونے کا شوق تھا؟
ج۔ بالکل نہیں۔ میرا خیال ہے کہ آپ کی اصل پرورش تیرہ اور اٹھارہ سال کی عمر کے درمیان ہوتی ہے۔ میں نے اپنی پہلی فلم’’ہیونلی کریچرز‘‘ جب کی، اس وقت میں سترہ سال کی تھا، لیکن میری مقبولیت واقعی’’ ٹائی ٹینک‘‘سے ہوئی۔ اس فلم سے مجھے شہرت ملی اور میں اتنی مقبولیت سمیٹنے میں کامیاب رہی۔
س۔ یہ فلم اس وقت ریلیز کی گئی، جب آپ اپنی عمر کی بیسویں دہائی کے اوائل میں تھیں؟
ج۔ میری فلم ٹائی ٹینک کے آنے تک، میں نے اسکول چھوڑ دیا تھا اور اپنی زندگی میں بہت کچھ کرنا چاہتی تھی۔ میں نے اکیس سال کا ہونے سے پہلے اپنے جذباتی درد کا تجربہ کرلیا تھا، اس لیے ان تمام چیزوں سے نجی طور پر نمٹنے کے قابل ہو گئی تھی، اب میں اس بات پر خدا کا شکر کرتی ہوں۔ میرے خیال میں دل ٹوٹنا ایک ایسی چیز ہے، جس کے ساتھ آپ جینا سیکھتے ہیں، کسی کو بھلانا سیکھتے ہیں۔
س۔ آپ کی زندگی مصروفیت سے بھرپور ہے۔ آپ اپنے کیریئر کے ساتھ ساتھ اپنے خاندان کو بھی پورا وقت دیتی ہیں۔ یہ سب آپ کس طرح کرلیتی ہیں؟
ج۔ آپ جانتے ہیں، اداکاری اور گھر چلانے کے لیے ایسا کرنے کے قابل ہونے کا اعزاز، میرے لیے بہت اہم ہے۔ میں پیچھے مڑکر نہیں دیکھتی اور صرف بہترین کی امید کرتی ہوں۔ میں واقعی اس بارے میں پریشان ہوں، میں اپنا ہوم ورک کرتی ہوں، میں اپنے آپ کو ایک خاص کردار ادا کرنے کے تجربے کے لیے تیار کرتی ہوں۔
س۔کیا آپ سبزی خور ہیں؟
ج۔نہیں، میں سب کچھ کھالیتی ہوں، البتہ میں زیادہ گوشت نہیں کھاتی، لیکن میں سبزی خوربھی نہیں ہوں اور ہاں، سلائی کرنا سیکھنا، یہ واقعی بہت اچھا تھا، اس مشین کو استعمال کرنا سیکھنا۔ میں یہ سب کرنا چاہتی تھی۔

کیٹ ونسلیٹ اپنی ساتھی اداکاراؤں جولیا رابرٹس، پینیلوپ کروز اور لیوتاؤ کے ہمراہ
س۔ جب آسکر گریڈ فلموں کو چننے کی بات آتی ہے، تو آپ کی چھٹی حس کیسے بیدار کرتی ہے۔ اس کے پیچھے ایسا کون سا راز ہے؟
ج۔ سچ میں، مجھے لگتا ہے کہ یہ صرف قسمت ہے۔ میں ایک ایسے گھر میں پلی بڑھی ہوں، جہاں ہمیں مفت اسکول کا کھانا ملتا تھا اور اسکول بس کے کرایوں کا انتظام ایک خیراتی ٹرسٹ سے ہوتا تھا۔ میں نے اپنے کام سے بہت کچھ سیکھا۔
س۔ آپ 22 سال کی تھیں، جب”ٹائی ٹینک“ فلم ریلیز ہوئی۔ آپ کو ہالی ووڈ کی مشہور ایکٹر بننے سے کس چیز نے روکاہوا تھا؟
ج۔ میں ایسےبھی ٹھیک تھی،اس نقطے پر کیا بات کی جائے، اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ ہم کتنے مشہور ہیں اور اگر مقبول نہیں بھی ہیں، تو کوئی بات نہیں، میں اس طرح کے خیالات کو دل میں جگہ نہیں دیتی ہوں، کیونکہ میرے خیال میں عاجزی کا عنصر میرے اندر شروع سے موجود ہے۔ یقینی طور پر یہ ایسی چیز ہے، جس کے ساتھ میں بڑی ہوئی ہوں اور مشہور شخصیت کے بارے میں سمجھدار رویہ رکھنا میں نے سیکھا ہے۔
س۔ زندگی کا کوئی سبق، جس پر خود کو یاد دہانی کرواتی ہوں؟
ج۔ کوئی خاص نہیں، بس میں پچھتاوے پر یقین نہیں رکھتی۔ آپ ان چیزوں سے سیکھتے ہیں، جن کا آپ زندگی میں تجربہ کرتے ہیں۔ میں یہ کبھی نہیں کہنا چاہوں گی کہ مجھے کسی چیز پر افسوس ہے یا یہ کہ کچھ بھی غلطی تھی۔ سچ کہوں تو، میں نے اپنی زندگی گزارنے کا انتخاب اس طرح نہیں کیا ہے، البتہ میری وقت کو سمیٹنے کی عادت پختہ نہیں ہے، میں وقت پر چیزیں کرنا چاہتی ہوں، جس میں اکثر تاخیر ہوجاتی ہے، خود کو سمجھاتی ہوں کہ مجھے اپنی اس عادت کو درست کرنا ہے۔
س۔ آپ کے بچے آپ کی شہرت سے کتنے واقف ہیں؟
ج۔ خاص طور پر آگاہ نہیں، کیونکہ یہ ان پر زور نہیں ہے۔ میں نے کبھی بھی ان پر یہ بے نقاب نہیں کیا۔ کبھی کبھی، اگر ہم لندن میں باہر ہوتے ہیں، لوگ کیمرہ فون نکالنا شروع کر دیتے ہیں، تو بیٹی مجھ سے کہتی ہے’’ہیٹ، مم‘‘ یا،’’بارہ بجے۔‘‘ بچے بھی ان سرگرمیوں کے عادی ہوچکے ہیں۔
س۔ کیا آپ بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ اپنے جسم کے بارے میں زیادہ آرام دہ اور پر اعتماد ہو گئی ہیں؟
ج۔ دیکھیں۔ یہ ہماری زندگی ہے۔ میں اپنے جسم کے سائز کے بارے میں سوچنے میں اپنا وقت ضائع نہیں کرتی ہوں۔ میں اتنا ہی صحت مند رہنا چاہتی ہوں، جتنا میں رہ سکتی ہوں اور میں اتنا ہی مزہ کرنا چاہتی ہوں، جتنا میں کر سکتی ہوں۔ میں اپنے بچوں کے آس پاس رہنا چاہتی ہوں۔ یہی ہے یہ میر ی ترجیحات میں شامل ہے۔ چپٹا پیٹ نہ ہونا یا ہونا بڑی بات نہیں ہے۔ مجھے غلط مت سمجھیں، مجھے فٹ اور صحت مند رہنا پسند ہے، یہ زندگی کے لیے صحت مند رویہ کا حصہ ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ میں اس میں اکیلی ہوں۔ میں وہاں زیادہ سے زیادہ منحنی اداکاروں کو دیکھتی ہوں اور ہر وقت فیشن کی دنیا ہمیں تھوڑا سا منحنی ماڈل دے گی۔ میں صرف نارمل اور صحت مند رہنے پر یقین رکھتی ہوں۔

بدلے بدلے مرے غم خوار نظر آتے ہیں ۔ مرحلے عشق کے دشوار نظر آتے ہیں(شکیل بدایونی)
س۔ بعض اوقات اخبارات میں آپ کےلیےبدتمیزی کا رویہ روا رکھاجاتا ہے۔ آپ کی شخصیت کی عکاسی اس طرح ہونا، آپ کو کیسا محسوس ہوتا ہے۔ کیا یہ رویہ آپ کو پریشان کرتا ہے؟
ج۔ مجھے خوشی ہے کہ میں اس بات سے بے خبر ہوں۔ میں اخبارات نہیں پڑھتی۔ میں اپنی زندگی میں اپنے اہداف کے ساتھ چلتی ہوں۔ میں واقعی اس کے بارے میں فکر مند نہیں ہو سکتی، کیونکہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ یہ بس خوفناک دھمکی آمیز رویہ ہے اور اس سے زیادہ اس کی کوئی وقعت نہیں ہے۔
س۔ آپ پرسکون رہنے کے لیے کیا کرتی ہیں؟
ج۔ میں آرام نہیں کرتی۔ میرے لیے آرام یا تو بچوں کا بورڈ گیمز کھیلنا یا کھانا پکانا ہے۔ مجھے کھانا پکانا پسند ہے۔ میں لیٹنے اور دو گھنٹے مساج کرنے والی عورت نہیں ہوں۔

ساتھی اداکار لیونارڈو ڈی کیپریو کے سنگ
س۔ رات گئے تک، آپ کو کیا چیز جگا سکتی ہے؟
ج۔ میرے بچے(قہقہہ لگاتے ہوئے)
س۔ لیونارڈو ڈی کیپریو کے ساتھ فلم”ٹائی ٹینک“ میں کام کرکے آپ کی زندگی کیسے بدلی؟
ج۔ اچھا تجربہ رہا، وہ چیز جو اس نے واقعی میرے لیے کی تھی، وہ مجھے انتخاب کی ناقابل یقین آزادی تھی، اب جب کہ میں ایک ماں بھی ہوں، میں ایک ایسی پوزیشن میں ہوں، جہاں میں کام کرنے یا نہ کرنے کا انتخاب کر سکتی ہوں۔ اس وقت، میرے پاس یہ آپشن نہ تھا۔
س۔ خاندانی زندگی آپ کے لیے کتنی اہم ہے؟
ج۔ آج کل، سوشل میڈیا کے اثر و رسوخ کے ساتھ یہ یاد رکھنا مشکل ہو گیا ہے کہ خاندانی ہونا کیسا ہوتا ہے۔ میں بہت خوش ہوں کہ میں اب بھی باقاعدہ خاندانی زندگی گزار تی ہوں۔ اسمارٹ فون کو ایک طرف رکھنا ہمارے لیے بہت آسان ہے۔ میری والدہ کہتی تھیں، خاندان ہمیشہ پہلے آتا ہے اور میری عمر جتنی زیادہ ہورہی ہے، مجھے اس بات کا شدت سے احساس ہونے لگا ہے۔
س۔ آپ کے بچوں کو سوشل میڈیا کے بغیر رہنا کیسا لگتا ہے؟
ج۔ یقین کریں، انہوں نے اس کے لیے مجھے بہت کہا، اس کو استعمال کرنے کی بھیک تک مانگی، لیکن اب وہ سمجھتے ہیں، ان پر اس کے استعمال سے کیا اثر پڑ سکتا ہے۔ اس دوران وہ گھر آکر کہتے ہیں’’آپ کو یقین نہیں آئے گا، دس لوگوں نے انسٹاگرام سے ان سبسکرائب کر دیا ہے۔‘‘ آج کی تیز رفتار دنیا میں، قابل اعتماد معلومات کی بہت ضرورت ہے، لیکن اس کا بے جا استعمال انتہائی نقصان دہ ہے۔
س۔ کیا آپ کے پاس شیف ہے؟ جو کھانا پکاتا ہو؟ اور کیا آپ کے پاس ورزش اور فنٹس کے لیے ذاتی ٹرینر ہے؟
ج۔ جی ہاں اور وہ شیف میں خود ہوں۔ مجھے کھانا پکانا پسند ہے، میں ہر روز کھانا پکاتی ہوں۔ گھریلو زندگی بہت اہم ہوتی ہے، اسی لیے مجھے شادی کرنا ہمیشہ سے پسند تھا، کیونکہ میں ایک روایتی طرز کی خاتون ہوں۔ اسی طرح میرے پاس ورزش کروانے کے لیے کوئی ٹرینر نہیں ہے، میں ڈی وی ڈیز کی مدد سے گھر پر اپنا کام کرتی ہوں،ابھی دوڑنے کی مشق شروع کی ہے، لیکن اس میں ہرگز تاک نہیں ہوں۔
س۔ آپ نے جب فلم’’دی ریڈر‘‘ کے لیے اپنا آسکر جیتا، تو کیا یہ کوئی خواب سامحسوس ہوا کہ آپ اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکی ہیں؟
ج۔ میرے لیے یہ خواب نہیں تھا۔ مجھے واقعی اس ایوارڈ کو جیتنے پر فخر ہے۔ اسکول کے کھیلوں کے دن، جو آپ کو دیا جا سکتا ہے، سب سے بڑے سرخ ربن کے ساتھ چلنا ایک الگ ہی احساس ہوتا ہے۔ میں وہ بچی تھا، جس نے کبھی کوئی ریس نہیں جیتی۔ اسی طرح میں اعلیٰ ایوارڈز حاصل کرنے والوں کی فہرست میں بھی کبھی شامل نہیں تھی، اس لیے آسکر جیتنا ایک ہی رات میں تمام انعامات جیتنے جیسا تھا، جو میں نے بچپن میں کبھی نہیں جیتا تھا۔
س۔ کچھ سال قبل آپ سے پوچھا گیا کہ اگلے پانچ سالوں میں کیا بننے جا رہی ہیں تو آپ نے مذاق میں جواب دیا، لائپوسکشن اور بوٹوکس استعمال کریں گی۔ کیا آپ نے ان کاسمیٹک چیزوں کو نہ آزمانے کے بارے میں اپنا خیال بدلا ہے؟
س۔ میرا چہرہ اب بھی تبدیل ہورہا ہے، ٹھیک ہے؟ نہیں، میں نے کبھی اس میں چھیڑ چھاڑ کی کوشش نہیں کی ہے، میرے اپنے جسم کے ایسے اعضا نہیں ہیں، جن سے میں نفرت کرنے کا یا ان کو تبدیل کروانے کا سوچوں۔
س۔ اپنی کچھ مشہور فلموں کے بارے میں بتائیے، ہم آپ کی زبانی ان کی تفصیلات جاننا چاہتے ہیں۔ کیا یادیں ہیں ؟
نوے کی دہائی میں میری سب سے معروف فلم ٹائی ٹینک کی بہت ساری یادیں ہیں۔ مجھے اور لیونارڈو کو فلمی دنیا میں مقبول ترین رومانوی جوڑا قرار دیا گیا۔ ہم اب بھی کبھی کبھی دونوں گفتگو میں اس فلم کے مکالموں کواپنی گفتگو میں استعمال کرتے ہیں۔
س۔ تو کیا ’’ٹائی ٹینک‘‘ نے آپ کی زندگی بدل دی؟
ج۔ یقینی طور پر تبدیلی آئی تھی۔ اس نے میری نجی زندگی بدل دی۔ یہ وہ چیز تھی، جو میرے لیے بہت مشکل تھی اور اس نےسب کچھ بدل دیا، میرا مطلب ہے، اس نے میرا کیریئر مکمل طور پر بدل دیا۔ مجھے اس سے دولت اور شہرت دونوں ملیں۔ آپ جانتے ہیں، لوگ اکثر بھول جاتے ہیں کہ’’ٹائی ٹینک‘‘ کی سات ماہ کی شوٹنگ تھی۔ میں نے اس عرصے میں اداکاری کے بارے میں، فلم سازی کے عمل کے بارے میں بہت کچھ سیکھا۔ میں نے بڑے اسٹوڈیو والی فلموں میں بڑے کردار ادا کرنے سے گریز کیا، جن کا بجٹ بہت زیادہ تھا اور میں یہ بھی کہوں گی، ہاں، لیکن مجھے کم بجٹ والی فلمیں زیادہ پسند ہیں۔ میں نے حقیقت میں محسوس نہیں کیا کہ میں ایک اداکار کے طور پر اتنا جانتی ہوں کہ واقعی فلمی ستاروں کے جوتوں میں قدم رکھ سکوں۔ یہ وہ الفاظ ہیں، جن سے مجھے آج بھی بے چینی محسوس ہوتی ہے۔ میں ایک اداکارہ بننا چاہتی تھی۔ کسی نہ کسی طرح جانتی تھی کہ مجھے بہت کچھ سیکھنا ہے۔
س۔ آپ نے جب اس فلم کا اسکرپٹ پڑھا ، تو”روز“ کا کردار کے لیے ہامی کیوں بھرلی؟
ج۔ اس کردار میں کئی چیزیں تھیں، جس سے مجھ میں شوق پیدا ہوا۔ اُس کی امید، طاقت، محبت میں بھرے جذبات۔ ایک طرح سے وہ میری ذات سے منسلک تھی۔ میں بھی اس طرح کی ہوا کرتی تھی، جوبالوں کی چوٹی لٹکائے گھومتی اور زندگی سے بھرپور ہوا کرتی تھی۔ ویسے بھی میرے لیے یہ ایک رومانوی کہانی تھی، جو ڈوبتی ہوئی کشتی تک محدود نہیں تھی۔ یہ کردار میرے لیے ہی تھا اور میری یہ خوش قسمتی تھی کہ لیو نارڈو جیسا اداکار مجھے ملا۔ ہم نے یہ کردار بخوبی نبھایا۔ میرے لیے یہ مسئلہ نہ تھا، جب میں پہلی بار اس سے ملی، تو میں بغیر کسی جھجک کے ملی اور میرے لیے کوئی مشکل نہیں ہوئی۔
س۔ سنا ہے ، لیونارڈو کے لیے لڑکیاں دیوانی تھیں؟ کیا آپ بھی۔۔؟
ج۔ جی ،وہ مجھے بھی پسند تھا،کیونکہ وہ واقعی حسین تھا۔ ہمارے درمیان دوستی تھی۔ ہماری اس دوستی سے کئی خواتین دوست جلتی تھیں۔
س۔ آپ کو یہ پروجیکٹ کیسے ملا؟ اور اس فلم کو کرتے ہوئے کتنا پریشر تھا؟
ج۔ میں1995 میں جیمز کیمرون سے ملی۔ میں نے ان سے کہا کہ میں یہ کردار میں کرسکتی ہوں، میں نے امریکا آکر اسکرین ٹیسٹ بھی دیا۔ باقی’’ریسٹ آز ہسٹری‘‘ جب میں اس فلم کی شوٹنگ میں مصروف تھی، تو مجھے ”ہائپو تھریمیا“ کا مرض لاحق ہوگیا تھا۔ میرے ہونٹ نیلے اور ناک سرخ ہوگئی تھی، یہ میرے لیے فائدہ مند بھی ثابت ہوا کیونکہ یہ سین کی ڈیمانڈ بھی تھی اور یہ ضروری نہیں ہوتا کہ آپ ہر وقت کیمرے کے سامنے حسین نظر آئیں۔
س۔ آپ کی ایک اورفلم’’فائنڈنگ نیور لینڈ‘‘ (2004) کے حوالے سے کیا یادیں ہیں، اس فلم کے بارے میں بتائیے؟
ج۔ یہ فلم ہر عمر کے فرد کے لیے ہے، جب میں نے یہ فلم خود دیکھی، تو میں چار مرتبہ روئی تھی۔ مجھے اس فلم سے بے انتہا محبت ہے۔ اس فلم کا پلاٹ دل کو چھو جاتا ہے، اس فلم کی عکس بندی کے دوران ایسے کئی لمحات آئے، جس سے ہم کافی لطف اندوز ہوئے تھے۔
س۔ کیا یہ فلم بچوں کے لیے ہے؟
ج۔ آج کل کے دور کے حساب سے جب بچے کمپیوٹر پر گیم کھیلتے ہیں، تو وہ اپنی من کی دنیا میں کھوجاتے ہیں۔ ہم سب میں کہیں نہ کہیں بچہ موجود ہوتا ہے۔ اس فلم کو کرنے کا سب سے بڑافائدہ مجھے یہ ہوا کہ فیملی، بچے اور ماحول سے محبت ہوتی چلی گئی۔ کس طرح ایک خاندان مل جل کر رہتا ہے، وہ اس فلم سے سیکھنے کو ملا۔ میں ہر دن اپنے بچو ں سے تازگی اور توانائی حاصل کرتی ہوں۔ میرے بچے ہمیشہ خوش رہتے ہیں اور وہ سحر انگیز کیفیات سے دوچار بھی ہوتے ہیں۔
س۔ اس فلم میں آپ کا کردار کیسا تھا؟
ج۔ میرا کردار’’سیلویا‘‘ کا تھا، جو ایک ماں تھی، اس کردارمیں ڈھلنے کے لیے ایک حقیقی ماں ہونا لازمی تھا۔ اس میں جذبات کے دریچے عیاں تھے اور یہ جذبات وہی اداکارہ پیش کرسکتی تھی، جو حقیقت میں ماں کے درجے پر بھی فائز ہو۔
س۔ آپ کی ایک اور فلم’’ایٹرنل سن شائن آف دی سپاٹ لیس مائنڈ“ تھی، اس کے بارے میں کیا کہیں گی؟ کیا روایتی معروف خاتون کرداروں کی توقعات سے انکار کرنا آپ کا مقصد ہے؟
ج۔ نہیں، یہ میرا مقصد نہیں ہے۔ خطرہ مول لینے کا اپنا ہی ایک مزہ ہے اور بہت سے مختلف کردار ادا کرنے میں واقعی لطف آتا ہے۔ کلیمینٹائن سب سے سنکی کردار تھی، جو میں نے کیا۔ مجھے اس کو کرنے میں بہت الگ احساس ہوا۔ میرا مطلب ہے، آپ تصور نہیں کریں گے کہ جم کیری اور میں کبھی ایک ساتھ فلم کریں گے۔ مجھے جب اسکرپٹ بھیجا گیا اور اسے کرنے کے لیے کہا گیا، تو میں نے صرف سوچا’’ٹھیک ہے، ایسا کوئی جواز نہیں ہے کہ میں اس کردار کو نہ کروں‘‘ کیونکہ میں جانتی تھی کہ یہ بالکل نیا اور منفرد تجربہ ہوگا اور یہ بہت چیلنجنگ تھا۔
س۔ کیا یہ ستم ظریفی ہے کہ کیٹ ونسلیٹ کے کردار میں جم کیری کےمد مقابل آپ کا سب سے مزاحیہ کردار ہے؟
ج۔ ہاں ،میرا مطلب ہے، میرے مدمقابل جم کیری تھے، تو میں حیرت زدہ تھی’’مجھے مضحکہ خیز ہونا پڑے گا۔ ارے نہیں یہ کردار میں کیسے کروں گی؟‘‘ تو ہاں، میں خوفزدہ ہوگئی تھی، لیکن مجھے یہ خوف پسند ہے۔ اس مرحلے کا خوف اکثر بہترین چیزوں میں سے ایک ہوتا ہے اور میں نے اس کی بہت زیادہ منصوبہ بندی بھی نہیں کی تھی۔
س۔ آپ کیوں سوچتے ہیں کہ لوگ بلاوجہ محبت میں کسی شخص کے لیے توجہ اور احساس کی مشعل تھامے رکھتے ہیں ؟
ج۔ دل ایک بے قابو شے ہے، کیا آپ نہیں جانتے؟ اگر میرے پاس اس سوال کا جواب ہوتا، تو مجھے یقین ہے کہ اتنے زیادہ لوگ نہیں نکلیں گے اور ان کے دل اس طرح ٹوٹیں گے، جیسے وہ کرتے ہیں۔ یہ زندگی کا صرف ایک پہلو ہے، جسے آپ جانتے ہیں اور میں بہت سارے لوگوں کو جانتی ہوں، جنہوں نے غلط لوگوں سے محبت کی۔ میں کسی ایک شخص کو نہیں جانتی، جس کا دل کسی نہ کسی موقع پر اور کبھی کبھی ایک سے زیادہ بار نہ ٹوٹا ہو۔
س۔ آپ نے ماضی میں دل ٹوٹنے سے کیسے نمٹا ہے؟ کیا آپ اپنے اس مذکورہ کردار کی طرح ہیں ؟
ج۔ میں اٹھارہ انیس سال کی تھی، تب تک میں دل ٹوٹنے اور مسترد ہونے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ میں ہمیشہ سے کافی جذباتی رہی ہوں، لیکن ایک ہی وقت میں، جب ایسا کچھ ہوتا ہے، تو آپ کو میرے خیال میں آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کرنا ہوتا ہے۔ میں نے بھی کم عمری کی محبتوں میں ناکام ہوکر وہی کیا، جوسب نوجوان کرتے ہیں یعنی ، بہت رونا اور اپنے دوستوں سے شکایت کرنا اور اپنے آپ کو خاک میں ملانا اور اپنی زندگی کو جاری رکھنا۔
س۔ محبت میں ناکامی پر، آپ اپنے آپ کو کس طرح کی ڈراما کوئین کہیں گے، جب آپ نوعمر تھیں اور آپ نے کہا تھا کہ’’میں رونا دھونا شروع کروں گی اور اپنے دوستوں سے بات کروں گی؟“
ج۔ مجھے ایک خاص واقعہ یاد ہے، جب میں پندرہ سال کی تھی اور میں واقعی ایک لڑکے کو پسند کرتی تھی، مجھے لگتا ہے کہ وہ میری عمر کے برابر تھا، شاید سولہ سال کا تھا اور اسے مجھ میں بالکل بھی دلچسپی نہیں تھی اور مجھے یاد ہے، ماریانے ڈیش ووڈ کا( سینس اینڈ سینسیبلٹی) کا کردار اندازنبھایا، جیسا آپ جانتے ہیں، بارش میں گھومنا، رونا، بعد میں میں نے سوچا’’اے خدا یہ وقت کا زیاں تھا‘‘ (ہنستے ہوئے) اور پھر میں نے دوبارہ نئے طریقے سے جینا شروع کر دیا۔
س۔ ایلی والچ(فلم ڈائریکٹر) کے ساتھ کام کرنا کیسا تھا؟
ج۔ اوہ ، یہ ناقابل یقین تھا۔ میرا مطلب ہے، یہ مکمل طور پر ناقابل یقین تھا، وہ آدمی نوے سال کا ہے، میں اسے روزانہ دیکھتی رہتی اور میں اسے ہر روز کہتی’’مجھے امید ہے کہ میں آپ کی طرح ہوں۔ میں اب بھی اداکاری کر رہی ہوں اوروہ اب بھی اچھا کام کر رہا ہو اور فلم کے سیٹ پر جب میں نوے سال کا ہوں اور کہیں وہیل چیئر پر نہیں ہوں یا اس سے بھی بدتر، یہاں بالکل نہیں اور وہ مجھےفلم کی عکس بندی کے درمیان ہونے والے وقفوں میں کہا کرتے’’میں آپ کو ایک اور کہانی سنانے والا ہوں۔‘‘ اور وہ مجھے بٹھاتے اور کہتے’’اب بات مارلین منرو کے بارے میں‘‘ یوں وہ جوش کا اظہار کرتے ہوئےبہت ساری باتیں کہتے، صرف ان شاندار کہانیوں کے ساتھ سامنے وہ بار بار سامنے آئیں گے۔ وہ بہت شاندارفلم ساز اور ان کے پاس یہ ناقابل یقین توانائی ہے۔
س۔ اس فلم میں میک اپ کے ساتھ عمر بڑھنے کا شاندار عمل دکھایا گیا۔ آپ نے اس میں توازن کیسے برقرار رکھا؟
ج۔ میک اپ ناقابل یقین تھا۔ ہم سب نے مل کر ایک ٹیم کے طور پر کام کیا۔ وہ میک اپ ہم سب نے مل کر ڈیزائن کیا تھا۔ ہم جانتے تھے کہ اسے صرف اصلی نظر آنا ہے اور ہم اسے اسکرین پر دیکھی جانے والی بہترین مصنوعی اشیا بنانے کے لیے پرعزم تھے۔ ان خیالات میں سب نے اپنااپنا حصہ ڈالا۔ ہر ایک کے پاس اپنا حصہ ڈالنے کے لیے کچھ نہ کچھ تھا، میں نے واقعی صرف بوڑھے لوگوں کا مشاہدہ کیا۔ یہ دیکھا کہ وہ کیسے کھڑے ہوتے ہیں، چلتے پھرتے ہیں اور بات کرتے ہیں۔
س۔ کیا اس جرمن سیٹ پر جرمن نہ ہونے کی وجہ سے آپ کے لیے یہ کردار ایساتھا، جیسے مچھلی پانی سے باہر موجود ہو ؟
ج۔ نہیں، میرے پاس پانی کے لمحات سے باہر کوئی مچھلی نہیں تھی۔ یہ ایک بہت ہی چھوٹا عملہ تھا، اس لیے ہر کوئی ایک دوسرے کو اپنے پہلے نام سے جانتا تھا اور بہت اچھا ساتھ ملا۔ وہ سب واقعی ہر وقت انگریزی بولنے کی کوشش کر رہے تھے۔میں نے اس فلم کے لیے اپناکافی ہوم ورک کیا۔ اس فلم کی کہانی کے مطابق لوگ اب بھی اس جرم کے ساتھ کس طرح واقعی جدوجہد کر رہے ہیں، وہ واقعی پچھلی نسل کے ہولناک جرائم سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ خیال مجھ پر غالب تھا اور اس کو میں نے دل کی گہرائی سے محسوس بھی کیا۔
س۔ اپنی فلم ریولوشنری روڈ(2008) کے بارے میں کیا سوچتی ہیں؟
ج۔ آنجہانی رچرڈ یٹس کے 60 کی دہائی کے ناول پر مبنی، جس میں 50 کی دہائی کی اجنبیت کے بارے میں ادھوری زندگی کو بیان کیا گیا تھا (اور 60 کی دہائی کی بغاوت کا باعث بنی تھی) اس میں، میں نے اداکارہ وانابی اپریل کا کردار ادا کیا ہے ،جو ایک پرکشش، لیکن دلکش فرینک وہیلر سے ملتی ہے۔ وہ انفرادی زندگی کے اپنے خواب بانٹتے ہیں اگرچہ، غیر منقولہ خواب اور جذباتی مایوسی ان کے رشتے کو گھیرے میں لے لیتی ہے۔ وہیلر اپنے مبہم اہداف کو ایک طرف رکھتا ہے اور اسی آدمی میں گرے فلالین سوٹ والے سیلز مین کی زندگی میںلوٹ آتا ہے، جو اس کے والد نے گزاری تھی۔
س۔ یہ واضح طور پر ایک پریشان کن شادی کے بارے میں ایک فلم ہے۔ کیا آپ کہیں گے کہ یہ بات چیت میں ناکامی کی وجہ سے ہوتی ہے؟
ج۔ یہ مختلف چیزوں کا مجموعہ ہے، یہ بات چیت کرنے میں ناکامی بھی ہے، یقینی طور پر اس حقیقت کے ساتھ بہت کچھ کرنا ہے کہ وہ کچھ عرصے سے ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرنا بھول گئے ہیں، یہ صرف اس وقت ہوتاہے، جب اپریل اس کی طرف مڑتا ہے اور کہتا ہے’’ہم یہ دکھاوا نہیں کر سکتے کہ یہ وہی زندگی ہے، جو ہم چاہتے تھے‘‘ اپریل کے لیے، یہ بالکل واضح ہے کہ یہ وہ زندگی نہیں ہے، جس کی وہ اپنے لیے توقع کر رہی تھی اور پھر فرینک کو اس پر بھی سوال کرنے پر مجبور کیا گیا۔ یہ اس وقت ہے کہ انہیں احساس ہوتا ہے کہ شاید وہ وہ لوگ نہیں ہیں جب وہ پہلی بار ملے تھے۔
س۔ کیا کوئی ایسا منظر، جو فلم”ٹائی ٹینک“ میں تھا اور آپ دونوں کے لیے سب سے زیادہ پرجوش یا سب سے زیادہ فائدہ مند تھا؟
ج۔ میرے لیے، سب سے یادگار مناظر میں سے ایک جو ہم نے ایک ساتھ شوٹ کیا، وہ فلم کے آخر میں ناشتے کا سین تھا، کیونکہ مجھے یاد ہے کہ اسے صفحہ پر پڑھا اور سوچا’’ہم اس سے کیسے گزریں گے؟ ہم یہ کریں گے؟‘‘ اور اس منظر کے بارے میں ہر چیز نے مجھے حیرت میں ڈال دیا، جس طرح سے اسے اس ناقابل یقین حد تک سخت، خوبصورت طریقے سے روشن کیا گیا تھا۔
س۔ فلم ریوولیوشنری روڈ کے سیٹ پر آپ، لیو نارڈو اور آپ کے شوہرسیم کے درمیان ہونے والی تکون سے آپ کیسے نمٹیں؟
ج۔ اگر میں ایمانداری سے کہوں، تو نمٹنے والی بات ایسی نہ تھی۔ میں پہلی بار سام کے ساتھ کام کرنے کے لیے بہت پرجوش تھی۔ میں انتظار نہیں کر سکتی تھی اور لیونارڈو کے ساتھ دوبارہ ملنا، یہ صرف ایک ایسا خواب تھا۔ ہم دونوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے یہ جانتے ہوئے کہ سیم کے لیے، ہماری یہ دوستی، اعتماد اور ایسی تاریخ ہے، جو سام کے ساتھ میرے تعلقات سے پہلے کی ہے۔ وہ زیرک تھا ،اس کو یہ علم تھا کہ ہم دونوں کی وجہ سے فائدہ ہوگا ۔
اس نے لفظی طور پر لیونارڈو اور مجھے یہ فلم کرنے دی ۔ ہم جب سیٹ پر تھے، تو میں اپنے شوہر کے کندھوں کی مالش کرنے والے مانیٹر پر نہیں کھڑی تھی، میں ایک کونے میں لیو نارڈو کے ساتھ لائنوں میں دوڑ رہی تھی۔ سام نے ہمیشہ میرے ساتھ اپریل وہیلر کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ کی طرح برتاؤ کیا، نہ کہ اس کی بیوی اپریل وہیلر کا۔ یہ ایک بہت ہی باہمی تعاون اور پیشہ ورانہ ماحول تھا۔ یہ واقعی کسی بھی دوسری فلم کے سیٹ سے مختلف نہیں تھا،جن پر میں رہی ہوں۔
س۔ آپ اپنی فلم اسٹیو جابز(2015) کو مختلف زاویوں سے کس طرح دیکھتی ہیں؟
ج۔ ایک اداکار کے طور پر، آپ مسلسل ان فلموں کے بارے میں سنتے رہتے ہیں، جن پر کام جاری ہوتا ہے۔ بعض اوقات(ڈائریکٹر یا پروڈیوسر) کو جھٹکا دینا غیر معمولی بات نہیں ہے۔ یہ ان تخلیقی لوگوں کے ساتھ کمرے میں رہنے کے بارے میں تھا، جس طرح سے آپ ایک اداکار کے طور پر بڑھتے اور تبدیل ہوتے دیکھتے ہیں۔ میں نے جب جوانا ہوفمین کو گوگل کیا، تو فوراً میں نے سوچا ، یقیناً وہ میرے بارے میں نہیں سوچیں گے۔ میں ایک سنہرے بالوں والی ہوں اور وہ پانچ فٹ، دو انچ کی پولش آرمینیائی ہے، جو کیٹ ونسلیٹ جیسی نہیں لگتی، جب میری ٹوپی کو رنگ میں پھینکنے اور اسکاٹ روڈن کو میری تصاویر ای میل کرنے کی بات آئی، تو مجھے اس بارے میں کوئی انا نہیں تھی۔
میرے لیے خوش قسمتی، چند گھنٹوں بعد ایک اسکرپٹ میرے ان باکس میں آگیا، جو انا صرف ایک مشرقی یورپی خاتون نہیں تھی، جو جابز پر غصہ کرتی تھی۔ وہ ایک بہن تھی، اس کی دوست تھی اور کہیں کہیں ماں بھی تھی۔ اس کی پہچان کہ وہ ایک شخص کے طور پر کون تھا اور اس کی قبولیت اور اس سے محبت ایک قابل تعریف خوبی تھی۔ میں نے جابز جیسے لوگوں کے ساتھ وقت گزارا ہے اور صرف اس وجہ سے کہ لوگ مشکل ہیں اس کا مطلب یہ نہیں ہے، ان کے پاس دل اور روح نہیں ہے۔ (حقیقی) جوانا ریہرسل کی جگہ پر آئی اور مجھے اس کے ساتھ وقت گزارنا پڑا۔ میں نقالی کرنے کی کوشش نہیں کرنا چاہتی تھی، لیکن میں اس کا احترام کرنا چاہتی تھی۔
س۔ جینیفر لارنس نے اداکاراؤں اور اداکاروں کے درمیان تنخواہ میں فرق کے بارے میں بات کی۔ کیا اس بات نے کبھی آپ کو پریشان کیا ہے؟
ج۔ میں نے کبھی بھی مالیاتی معاملات سے اپنی فکر نہیں کی۔ مجھے لگ بھگ ایسا لگتا ہے کہ میں دوسرے لوگوں کے تبصروں پر تبصرہ نہیں کر سکتی، لیکن میں ان لوگوں کی تعریف کرتی ہوں، جو عوامی طور پر اپنے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ میں کبھی بھی اس صورتحال میں نہیں رہی، جہاں مجھے اس قسم کے تبصرے کرنے کی ضرورت محسوس ہو۔ میں خوش قسمت ہوں۔ میری اچھی زندگی اور کیریئر ہے اور مجھے خوشی ہے، میں اب بھی کر رہی ہوں۔ تاہم، یہ مجھے ان تبصروں کی یاد دلاتا ہے، جو میں نے خواتین اور جسم کی نمائش کی تصویروں پر کیے تھے۔ اس عمر میں، مجھ سے اب بھی ان بیانات کے بارے میں سوالات پوچھے جا رہے ہیں، جو میں نے برسوں پہلے کیے تھے۔

دھوپ کافی دور تک تھی راہ میں ۔ لمحہ لمحہ ہو گیا پیکر سیاہ (عنبر شمیم)
س۔ آپ فلموں کے لیے کسی کردار کا انتخاب کیسے کرتی ہیں ؟
ج۔ بہت سی وجوہات ہیں، جن کی وجہ سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ کوئی خاص کردار درست ہے، اکثر ان وجوہات کا دوسرے عوامل سے بہت زیادہ تعلق ہوتا ہے۔ ڈائریکٹر میرے لیے اسکرین پلے کی طرح ایک بڑا کردار ادا کرتا ہے اور میں اتنی خوش قسمت ہوں کہ یہ دریافت کرنے میں کامیاب ہوں کہ دوسرے اداکار پہلے سے منسلک ہیں، تو یہ بھی اکثر ایک بڑا کردار ادا کرتا ہے۔ خاص طور پر پچھلے کچھ سالوں میں ،میں نے اپنے کیریئر میں کچھ واقعی ناقابل یقین ہدایت کاروں اور اداکاروں کے ساتھ کام کیا۔ میں نہیں جانتی، کیا کوئی واقعی میں جانتا ہے کہ کردار ادا کرنے کا فیصلہ صحیح ہے یا نہیں۔ ایمان کی وہ چھلانگ اور اسرار کا وہ احساس ہمیشہ رہتا ہے، لیکن یہی چیز اسے بہت پرجوش اور خطرناک بناتی ہے۔
س۔ مائیکل فاسبینڈر اور ڈینی بوئل کے ساتھ شوٹنگ کرنا کیسا رہا؟
ج۔ ان دو شاندار مردوں کے ساتھ کام کرنا ہر روز سنسنی خیز ہونے سے کم نہیں رہاہے۔ مائیکل فاسبینڈر ناقابل یقین حد تک پیشہ ور ہونے کے ساتھ ساتھ بہت ہنسی مذاق کرنے والے اوربالکل مزاحیہ انسان ہیں۔ ہم کام کے بارے میں اپنے نقطہ نظر میں بہت ملتے جلتے ہیں اور ہم دونوں واقعی مزہ کرنا بھی پسند کرتے ہیں،جبکہ ڈینی بوئل ایک بہت ہی پیارا، مہربان اور شاندار آدمی ہے۔
س۔ دی ڈریس میکر(2015) کے بارے میں کچھ بات کرتے ہیں۔ اس کے لیے آپ نے صحرا میں فلم کی شوٹنگ کی اور آسٹریلیا کا سفر کیا۔ آپ واقعی یہ کردار ادا کرنا چاہتی تھیں؟
ج۔ مجھے کردار پسند آیا تھا۔ میں نے جب اسے پڑھا، تو مجھے اسکرپٹ پسند آیا۔ مجھے فلم کی اس پہلی لائن نے مکمل طور پرجکڑلیاتھا کہ ’’میں واپس آ گئی ہوں، تم خبیث!‘‘ یہ اتنی شاندار لائن تھی، جب ٹیڈی سائلو میں چھلانگ لگاتا ہے، میں اب بھی تقریبا یقین نہیں کر سکتی کہ ڈائریکٹر( جوسلین مور ہاؤس) نے واقعی اسے فلم میں رکھا تھا۔ یہ بہت ہی بہادرانہ فلم سازی تھی، میں نے سوچابس ایسا ہی ہوا کہ یہ میری زندگی میں ایسا وقت تھا، جب میں اپنے مختصر خاندان کے ساتھ ہی اتنا دور سفر طے کرسکتی تھی۔
س۔ کیا آپ خواتین کی دل لبھانے والی پرکشش خاتون فلموں کی شوقین ہیں؟ نویئر طرح کی فلموں کی؟
ج۔ پاگل تو نہیں۔ سچ پوچھو تو میں فلمیں زیادہ نہیں دیکھتی۔ میرا مطلب ہے، میرے پاس فلموں کو دیکھنے کے لیے ٹائم نہیں ہوتا۔ لوگ اکثر سوچتے ہیں کہ میرے پاس فلمی علم ہونا چاہیے، جو بہت نفیس ہو۔ ویسے بھی میں نئی فلمیں دیکھتی ہوں، لیکن میں فلموں کی بہت شوقین یا دیوانی فلم بین نہیں ہوں۔
س۔ آپ کواپنی فلم”دی ڈریس میکر“ کے لیے سلائی سیکھنی پڑی۔ کیا یہ چیلنجنگ تھا؟
ج۔ یہ واقعی لطف اندوز رہا۔ ایک نیا ہنر سیکھنا ہمیشہ اچھا لگتا ہے۔ میں نے جب مختصر ٹی وی سیریز’’ملڈریڈ پیئرس‘‘ کی، تو مجھے یہ سیکھنا پڑا کہ چکن کو کس طرح بہت اچھی طرح سے پکانا ہے، جو میں اب بھی بہت اچھی طرح سے کرسکتی ہوں۔
س۔ آپ کے بچے آپ کی فلمیں دیکھتے اورپسند کرتے ہیں، کیا آپ کی کسی پرفارمنس نے انہیں شرمندہ کیا ہے؟
ج۔ ہاں میرے بچے وہ فلمیں پسند کرتے ہیں اور وہ میری فلموں کے بارے میں بھی کافی حوصلہ افزا رائے دیتے ہیں۔ میری بیٹی ’’ایٹرنل سن شائن آف دی سپاٹ لیس مائنڈ‘‘ پسند کرتی ہے جبکہ میری اداکاری سے مجھے ان کے سامنے کبھی کوئی شرمندگی نہیں اٹھانا پڑی۔
س۔ آپ انہیں اپنی کوئی فلم دیکھنے سے روکتی ہیں؟
ج۔ ٹھیک ہے، وہ دی ریڈر کو نہیں دیکھ سکتے ۔ یقینی طور پر، اس وقت تک نہیں، جب تک کہ وہ بالغ نہ ہوجائیں۔ ان دونوں نے 1994 کی تھرلرفلم’’ہیونلی کریچرز‘‘ دیکھی ہوئی ہے۔ میں نے ان کے ساتھ بیٹھ کر اسے دیکھا بھی تھا، جو حیرت انگیز تھا۔ مجھے لگتا ہے، میری بیٹی کے لیے یہ خوشگوار لمحات رہے۔ کیونکہ وہ حقیقت میں مجھ سے مل رہی تھی، جیسے میں نے ابھی دیکھا تھا۔ وہ 16 سال کی ہونے والی تھی۔ وہ خود یہ کہہ رہی تھی’’اوہ مائی گاڈ! یہ میری طرح لگ رہی ہے! اوہ میرے خدا، ماں۔‘‘ میں نے بھی اس کی تائید کی، انہیں فلم بہت پسند آئی۔ میرے خیال میں یہ حقیقت ہے کہ یہ میری پہلی فلم تھی اور اب بھی میرے لیے انتہائی واضح ہے کہ مجھے کیا تجربہ کرنا تھا ، اس کا میرے لیے کیا مطلب تھا اور انہوں نے مجھے بطور اداکارہ اور ایک ماں کے طور پر کتنا بدلا۔ انہوں نے یہ ساری کہانیاں برسوں سے سنی ہیں۔ انہوں نے مجھے وہ کہانیاں سناتے ہوئے سنا ہے۔

عاشق ہے جو تمہارے رخ سرخ رنگ کا ۔ رہتا ہے اس کو نشہ شراب فرنگ کا (ماتم فضل محمد)
س۔ کیا آپ نے ڈریس میکر میں آسٹریلوی لہجہ اپنانے میں دقت محسوس کی ؟
ج۔ کوئی بھی لہجہ وقت اور مشق مانگتا ہے۔ یہ سب سے مشکل لہجہ نہیں ہے، جو مجھے کبھی کرنا پڑا ہے۔ میں اس سے پہلے آسٹریلوی کردار ادا کر چکی ہوں، میں نے ہاروی کیٹل کے ساتھ ہولی سموک نامی فلم کی تھی، جب میں 22 سال کی تھی۔ میرے لیے مشکل کیری فاکس کے ساتھ سین کرنا تھا، جو نیوزی لینڈ سے تھے اور نیوزی لینڈ کا لہجہ کافی مشکل ہے۔ مجھے اس کی درستی کو یقینی بنانا تھا۔
س۔ معروف برطانوی تدریسی شخصیت پر بننے والی بائیوپک فلم”امونائٹ “نے آپ کو اپنے پچھلے پروجیکٹس کی بہ نسبت مختلف انداز میں سوچنے پر مجبور کیا؟
ج۔ اس نے مجھے یہ سوال دلایا کہ کیا ماضی میں، میں واقعی مطمئن تھی اور اس طرح کے خودکار طریقے سے روایت کے ساتھ جکڑی ہوئی تھی، جو ہم سب کبھی کبھی فالو کرتے ہیں۔ کوئی عورت جب کسی فلم میں لیڈ لیتی ہے، تو ہمیشہ یہ لکھا جاتا ہے کہ وہ بے وقوف ہے یا کنٹرول لینے کی کوشش کر رہی ہی ،اس کی خدمات کو تسلیم کیوں نہیں کیاجاتا؟ ہم یہ صرف یہ کیوں نہیں جان سکتے کہ وہ کیا چاہتی ہے؟ میں ہم جنس تعلقات کے بارے میں اچھی طرح سے جاننے کی کوشش کرتی ہوں اور یہ کہ’’امونائٹ‘‘ کی وجہ سے ان کو کس طرح سمجھا اور بحث کیا جاتا ہے اور اس وجہ سے کہ ان دو خواتین کرداروں کے درمیان تعلق پوشیدہ نہیں ہے۔یہ ایک شاندار کہانی تھی۔
س۔ آپ فلموں میں اپنے مخصوص بلکہ کسی حد تک متنازعہ کرداروں کے بارے میں کیا سوچتی ہیں؟
ج۔ نہیں، ایک عام چیز کے طور پر اس فلم نے مجھے توقف دیا۔ کیا میں خود بخود صرف اپنے آپ کو ایک چھوٹی سی عورت بننے دے رہی تھی؟ اس کے ساتھ ساتھ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ یہ کہانیاں جن کے بارے میں ہم بات کر رہے ہیں، جیسے”امونائٹ“ان کے بارے میں ہم جنس پرست محبت کی کہانیوں سے بالکل مختلف انداز میں بات کی گئی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ کیوں، ہم جنس محبت کی کہانیوں میں سوال کرنے کی لائن کو اتنی جلدی زیادہ مباشرت مناظر کی طرف موڑنا پڑتا ہے؟ جب میں کسی آدمی کے ساتھ مساوی مناظر میں رہی ہوں ،تو مجھ سے کبھی بھی اسی سطح کے سوالات نہیں پوچھے گئے۔ میں فلم’’ہیونلی کریچرز‘‘ میں خواتین کے ساتھ مباشرت کے مناظر میں رہی ہوں، جو میری ابتدائی پہلی فلم تھی اور ہولی اسموک۔ مجھے آج امونائٹ کے ساتھ یاد دلایا گیا ہے، جب مجھ سے بار بار پوچھا گیا، میں کافی حیران اور پریشان ہوئی کہ ہم کیا مخصوص صنف کے لیے معتصب ہوجاتے ہیں۔
س۔کیا”می ٹو “کی تحریک نے آپ کےاس احساس میں کوئی کردار ادا کیا ہے؟
ج۔ مجھے لگتا ہے، یہ ابھی ایک کردار ادا کرنا شروع کر رہا ہے، جب میں نے حقیقت میں فلم دیکھی ہے اور دیکھا ہے، فرانسس نے اس تعلقات کے ساتھ کیا کیا ہے۔ یہ بہت پیارا، بہت نرم اور بہت خوبصورت ہے۔’’امونائٹ‘‘ نے مجھے واقعی اس بات سے آگاہ کیا ہے کہ خواتین فلموں میں اپنے لیے کیا کہنا چاہتی ہیں اور ہم جنسی رجحان سے قطع نظر، اس کا احترام کرنے کے لیے اور بھی زیادہ پرعزم ہیں کیونکہ زندگی بہت مختصر ہے اور جب نوجوان خواتین کے لیے ایک اچھی مثال قائم کرنے کی بات آتی ہے، تو میں اپنی پوری کوشش کرنا چاہوں گی۔ ہم انہیں ایک خوبصورت دنیا کے حوالے کر رہے ہیں
س۔ کورونا وائرس کے دوران آپ کے لیے قرنطینہ کا تجربہ کیسا تھا؟
جی۔ کسی بھی چیز سے زیادہ توجہ بچوں کو محفوظ طریقے سے اسکول میں واپس لانے پر مرکوز ہوتی ہے۔ میں زندگی کے ساتھ ساتھ چل رہی ہوں۔ ظاہر ہے، ہم سب کی طرح نہیں ہیں کیونکہ ہم ایک اچھے گھر میں رہتے ہیں۔ ہم صرف ایک غیر معمولی عالمی آفت سے بہترین فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کافی خوف ناک عمل تھا اور اس بیماری کا وار بھی، جس کو ساری دنیا نے برداشت کیا۔
س۔ یہ حیرت انگیز ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ آپ کی فلم کنٹیجین سے کتنا ملتا جلتا تھا۔ کیا آپ نے دیکھا کہ کورونا وائرس کی زد میں آنے کے بعد لوگ اسےنیٹ فلیکس پر ریکارڈ تعداد میں سٹریم کر رہے تھے؟
ج۔ ہاں اورایسا ہی تھا، وہ سب کیا کہہ رہے تھے کہ یہ ایک ڈراؤنی فلم ہے۔ اسے دیکھنا بند کرو۔
س۔ آپ کو کیسے امید ہے کہ اس کے بعد ہالی ووڈ بدل گیا؟ آپ کے لیے سماجی فاصلے کے ساتھ کام کرنا کیسا تھا؟
ج۔ بالکل۔ درحقیقت میں نے اس وقت بھی بیت الخلا والے کپڑے پہنے ہوئے ہیں کیونکہ آپ کے ساتھ مکمل طور پر ایماندار ہونے کے لیے، اس وقت میری کوئی بھی پتلون مجھ پر فٹ نہیں ہے۔ میں اپنے پاجامے میں ہوں اور صرف اپنے بالوں میں کنگھی کر رہی ہوں۔ یہ میری کاسمیٹک تیاری کی حد تھی۔ میں نے صرف شاور لیا کیونکہ میں ایسی تھی’’مجھے غریب عورت کے لیے کچھ کرنا ہے۔‘‘ میرے خیال میں یہ سوال کہ ہالی ووڈ کیسے بدلے گا، شاید کوئی ایسی چیز نہیں ہے، جس کا ہم میں سے کوئی بھی پوری طرح سے جواب دے سکتا ہے، لیکن یہ نمایاں طور پر تبدیل ہو رہا ہے۔
میں بس تھوڑا سا پریس اور میڈیا کا تجربہ کر رہی ہوں، مجھے مہنگے ملبوسات اورجوتوں کی خریداری میں الجھنا پسند نہیں ہے۔ وہ پیسہ جو زبردست، بڑے بڑے فضول خرچیوں پر ضائع ہو جاتا ہے۔ پوری دنیا میں اڑنے والے صحافی، اداکار، گلیمر اسکواڈ۔ یہ سب اتنا اہم کوئی اہم کیوں ہے؟ یہ ہمیشہ میرے لیے بہت حیران کن رہا ہے۔ اس پیسے کو نیک مقاصد اور انسانی فلاح وبہبود کے لیے بھی تو خرچ کیا جاسکتا ہے۔
آپ کی ایک اور اہم ترین فلم”ایواتار“ کے بارے میں کچھ بات کرتے ہیں۔ جیمز کمرون کے ساتھ ایک اور نئے بلاک باسٹر پراجیکٹ کرنے کا خیال کیسے آیا؟ شوٹنگ کے دوران کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟
ج۔ پانی کے اندر بہت حفاظت میں تھے۔ ہر اداکار پر دو حفاظتی غوطہ خور رکھے ہوئے تھے۔ پانی کے اندر ہر کیمرے پر دو حفاظتی غوطہ خور تھے۔ اس ٹینک میں بہت سے لوگ تھے۔ میں نے شاید وہاں پر خشک زمین کے مقابلے میں خود کو زیادہ محفوظ محسوس کیا۔ میں نے پوری چیز کو ناقابل یقین حد تک پرسکون پایا۔ میرے لیے کچھ بہت ہی مراقبہ تھا اور میں مراقبہ نہیں کرتی ہوں، میں اپنا دماغ بند نہیں کر سکتی۔ میں بہت مصروف ہوں، مجھے یوگا کرنا پسند ہے، لیکن میں اسے صرف پچیس منٹ کے لیے کر سکتی ہوں اور پھر میں فہرستیں بنا رہی تھی۔ میں بور ہو گئی تھی اور مجھے رکنا پڑے گا، لیکن کسی نہ کسی طرح، سانس روکنا سیکھنا سب سے پرسکون چیزوں میں سے ایک تھا، جو میں نے کیا، کیونکہ آپ کو اپنے جسم کو سست کرنا پڑتا ہے۔ آپ کو اپنے جسم کو آکسیجن دینے کے قابل ہونے کے لیے درحقیقت اپنے دل کی دھڑکن کو کم کرنا ہوگا اور اس کے بعد اپنی سانسوں کو اس وقت تک روکنا ہوگا، لہٰذا، میرے پاس کوئی چارہ نہیں تھا، میں نے اس فلم سے بہت کچھ سیکھا۔
س۔ ٹائی ٹینک کے لحاظ سے ایواتار فلم پروڈکشن میں کیسی ہوگی؟ اگر ہم ان دونوں فلموں کا موازنہ کریں۔
ج۔ ٹھیک ہے، ہم سب بوڑھے ہو گئے ہیں۔ میں نے ٹائی ٹینک بنانے کے تجربے پر نظر ڈالی ہے اور یہ کوئی راز نہیں ہے کہ یہ ایک بہت مشکل شوٹ تھا۔ یہ بہت، بہت دباؤ والا تھا اور اس میں شامل تمام لوگوں کے لیے چیزیں مشکل تھیں۔ میں جب سوچتی ہوں کہ جیمز کو کیا کرنا تھا، ہفتےکے چھ دن، ساڑھے سات ماہ کی شوٹنگ کے لیے، جن میں سے ساڑھے چار مہینے رات تھی۔ اوخدا، میں جانتی ہوں کہ یہ ہمارے لیے، نوجوان اداکاروں کے لیے کتنا مشکل تھا، لیکن میں نقطہ نظر حاصل کرنے کے قابل بھی ہوں اور میں دیکھتی ہوں کہ جیمز کس چیز کو دور کرنے کی کوشش کر رہا تھا، وہ کس دباؤ میں تھا اور درحقیقت، میں اب ان کے لیے اس سے بھی زیادہ عزت رکھتی ہوں۔ میں نے پہلے کبھی ایسا کیا ہے۔ایواتار کے لیے وہ کافی پرسکون ہیں۔ میں یہ کہوں گی کہ انہوں نے پہلی ایواتار فلم بنانے کا بہترین تجربہ کیا ہے، اس لیے وہ اس دنیا کو جانتا ہے، وہ ان کرداروں کو جانتا ہے۔ اس نے فلم بندی کا یہ منفرد طریقہ ایجاد کیا ہے۔

کینیڈین فلم ساز جیمز کیمرون کے ساتھ
س۔ جیمز کے ساتھ آپ کی کیمسٹری کیسی ہے؟
ج۔ فرض کریں، پوری دنیا میں کوئی ایسی بیماری آجائے کہ ہمیں کسی زمین دوز بینکر میں چھپنا پڑے، تو میں جن لوگوں کے ساتھ وہاں چھپنا چاہوں گی، ان میں سے ایک جیمز کیمرون ہوں گے۔ وہ بہت زیادہ’’سیفٹی فرسٹ‘‘ ہیں۔ مجھے ان کے ساتھ کام کرنا بہت اچھا لگتا ہے۔
س۔ یہ فلم جوائس مینارڈ کی کتاب پر مبنی ہے۔ کیا آپ اس کتاب کو بہت زیادہ پڑھتی تھیں؟
ج۔ ہاں، مجھے کتاب پسند ہے۔ مجھے ایسی فلموں میں کام کرنا پسند ہے، جو ناولوں پر بنی ہوئی ہوں۔ میں ہمیشہ ان سے استفادہ کرتی ہوں۔ مجھے شوٹنگ کے دوران یہ معلوم ہوتا ہے کہ میں کبھی کبھی کتاب سے بھی آگے جاؤں گی۔ میں”دی ریڈر“ فلم میں کام کرنے کی وجہ سے یہ جانتی ہوں، مثال کے طور پر، میں ابھی آپ کو بتا سکتی ہوں کہ اس کتاب کے صفحہ 109 پر کیا ہوگا۔ میں صرف اس کہانی اور لوگوں کے شور سے اتنا واقف ہوگئی ہوں، جس طرح سے دروازہ کھلتا ہے یا جس طرح سے فرش کے تختے ٹوٹتے ہیں۔
(مینارڈ کی کتاب) کا استعمال میرے لیے زیادہ تھا اور (اڈیل کی) بیک اسٹوری بنانے کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ جاننے کے لیے کہ وہ کبھی کون تھی۔ میں جانتی تھی کہ مجھے اس کے ماضی کے مادے کے بارے میں کچھ سمجھنا ہوگا، جب وہ ہنری کے والد سے محبت کر رہی تھی اور جب ہینری پیدا ہوا تھا۔ یہ وہ چیزیں تھیں، جو میں نے محسوس کیں کہ ان کو مجھے اپنے اندر رکھنے کی ضرورت ہے، حالانکہ فلیش بیکس(فلم میں) آپ کو اس میں سے بہت کم نظر آتا ہے۔
س۔ آپ کی فلم’’دی ماوئنٹ بیٹوین اس‘‘ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، یہ فلم تو تنازعات کاشکار بھی ہوئی؟
ج۔ جی ہاں یہ ایک المناک ہوائی جہاز کے حادثے کے بعد پھنسے ہوئے، دو اجنبیوں کو ایک دور دراز برف سے ڈھکے پہاڑ کے انتہائی عناصر سے بچنے کے لیےان کی جدوجہد کی کہانی تھی۔ان دونوں کو جب احساس ہوتا ہے کہ حادثے کی جگہ پر کوئی مدد نہیں مل سکتی، تو پھر وہ سینکڑوں میل پھیلے جنگل میں ایک خطرناک سفر کا آغاز کرتے ہیں، ایک دوسرے کو برداشت کرنے پر مجبور کرتے ہیں اور ایسی طاقت دریافت کرتے ہیں، جس کے بارے میں وہ کبھی نہیں جانتے تھے۔ اس فلم میں اتنی کوئی متنازعہ بات نہیں تھی، میں ایسے کئی مناظر برسوں سے عکس بند کروا رہی ہوں۔

معروف برطانوی اداکار ادریس ایلبا کے ساتھ فلم ”دی مائونٹین بیٹوین اس“ سے جھلکیاں
س۔فلمی دنیا میں آپ کا کون سا پسندیدہ فلمی جینر ہے؟
ج۔ میں زندگی میں حیران اور خوف زدہ ہوئے بغیر حقیقت سے جڑے کردار نبھانا چاہتی ہوں۔ میں ہر وقت یہی سوچتی ہوں کہ کس طرح میں اپنے کمفرٹ زون سے باہر آئوں، اگر آپ انگلش ایکٹر ہوں، تو ہر کوئی یہی سمجھتا ہے کہ آپ پہلے سے اداکاری میں ماہرہوں گے ، بھلے آپ نئے اداکارہوں۔ میری عمر جیسے جیسے بڑھتی جا رہی ہے، میرے کندھوں پر پروفیشنل کام کی ذمے داری بھی بڑھ رہی ہیں۔میں اپنے کام سے بہت زیادہ پیار کرتی ہوں۔ مجھے فلم بنانے سے بہت پیار ہے۔ یہ باعث برکت ہے۔ دنیا میں بہت کم ایسے اداکار ہوتے ہیں ،جو اداکاری سے تاحیات منسلک رہ پاتے ہیں۔
حوالہ جات:
انٹریو بائے جولی ملر، وینیٹی فیئر ویب، ستمبر 2020
انٹرویو بائے کیٹی رچ، دسمبر 2008
انٹرویو بائے ٹیری وائٹ، ایمپائر ویب، اپریل 2021
انٹرویو بائے کیتھلین ہو، دا کٹ ویب، جون 2021
انٹرویو بائے لیز سمتھ،گڈ ہائوس کیپنگ ویب، فروری 2007
انٹرویو بائے ٹائم آوٹ، ستمبر 2013
انٹرویو بائے ربیکا مرے، لائف ابائوٹ ڈاٹ کام، مئی 2019
انٹرویو بائے کینو ویٹر ،نشر 8جون2020
انٹرویو بائے زیک شون فیلڈ، نیوز ویک ویب، مارچ 2016
۱نٹرویو بائے ٹائٹینیک ورلڈ یوٹیوب چینل، نشر 17نومبر 2012
انٹرویو بائے کوئی موئی ٹیم، کوئی موئی ڈاٹ کام، دسمبر 2021
انٹرویو بائے بریڈ بالفور، پاپ انٹرٹینمنٹ ڈاٹ کام، جنوری 2009
انٹرویو بائے سکپ ہالینڈزورتھ، گلیمر میگزین، فروری 2011
انٹرویوبائے ایلی جیمل، کولائیڈر ویب، اکتوبر2020
انٹرویو بائے سٹیو وینٹراب، کولائیڈر ویب، دسمبر 2006