ہالی وڈ سنیما ایک ایسی چھتری کی مانند ہے، جو اپنے اندر تمام اقسام کو سمیٹے ہوئے ہے، اگر اس چھتری میں جگہ چاہیے، تو یہ لازمی عنصر ہے کہ اداکار ہر قسم کے کرداروں میں جان ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ایسی ہی ایک اداکارہ سلمیٰ ہائیک ہیں، جو ہالی وڈمیں میکسیکو سے تعلق رکھنے والی مقبول اور نمایاں شخصیات میں سے ایک ہیں۔
سلمیٰ ہائیک جمینیز، کوٹزاکولکوس میکسیکو میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے والد ایک امیرکاروباری شخصیت اور والدہ نامور اوپیرا گلوکارہ ہیں۔ سلمیٰ کا ایک چھوٹا بھائی بھی ہے ، جو فرنیچر ڈیزائنر ہے۔ اُن کے والد لبنان جبکہ والدہ اسپین سے تعلق رکھتی ہیں، یہی وجہ ہے، وہ خود کو آدھا لبنانی اور آدھا ہسپانوی کہتی ہیں۔ اُن کی پرورش ایک مذہبی کیتھولک گھرانے میں ہوئی، حتیٰ تعلیم بھی کیتھولک اسکول سے حاصل کی، مگراُن کے ایک انٹرویو کے مطابق وہ مذہب اور گرجا پر بھروسہ نہیں رکھتیں۔ سلمیٰ جب میکسکو سٹی میں بین الاقوامی تعلقات میں اپنی ڈگری مکمل کر رہی تھیں، تب وہ ٹی وی پروڈیوسرز کی نظروں میں آگئی تھیں۔
سلمیٰ ہائیک نے 23 سال کی عمر میں کامیاب میکسیکن ٹی وی سیریز”ٹریسا“ میں ایک کردار کے ساتھ اپنے اداکاری کے کامیاب کیریئر کا آغاز کیا۔ 1991 میں سلمہ ہائیک فلمی کیریئر کو آگے بڑھانے کے لیے لاس اینجلس چلی گئیں۔ 1993 کی فلم”مائی کریزی لائف“ میں ایک چھوٹا سا حصہ لینے کے بعد، اُنہیں ہدایتکار رابرٹ روڈریگیز نے اپنے پروجیکٹ”ڈیسپریڈو“ (1995) میں کاسٹ کیا اور اس ایکشن فلم کے کردار نے نوجوان اداکارہ کو اسٹارڈم تک پہنچا دیا۔
ان کا اگلا اہم کردار روڈریگیز کی ایک اور فلم”فرام ڈسک ٹل ڈان“(1996) میں تھا، جو ویمپائر فلم تھی، جس میں جارج کلونی اور کوئنٹن ٹرانٹینو نے بھی اداکاری کی تھی۔ 1997 میں وہ رومانٹک کامیڈی”فولز رش ان“ میں میتھیو پیری کے مقابل نظر آئیں اور دو سال بعد ”ڈاگما“(1999) میں ایک غیر ملکی رقاصہ کی تصویر کشی کی۔ اس کے بعد 2002 میں انہوں نے میکسیکن پینٹر فریدا کاہلو کی حیات پر مبنی بایوپک فلم”فریدا“ پروڈیوس کی اور اُس میں اداکاری بھی کی۔ اس فلم کو چھ اکیڈمی ایوارڈز کے لیے نامزد کیا گیا، جس میں ان کوبہترین اداکارہ کی نامزدگی بھی ملی تھی۔
سلمہ ہائیک نے اپنی پہلی ہدایت کردہ ٹیلی ویژن فلم”دی میرکل مالڈوناڈو“(2003) کے لیے بھی خاصی توصیف اور مثبت تنقید حاصل کی، جو کہ متاثر کن ڈراما ہے، ایک جدوجہد کرنے والے چھوٹے شہر کے گرد گھومتا ہے، جو ایک مبینہ معجزے کا مقام بن جاتا ہے۔ اِس فلم کی شاندار ہدایت کاری پر انہیں ایمی ایوارڈ ملا۔ وہ بعد میں ہٹ ٹیلی ویژن سیریز”اَگلی بیٹی“(2006–10) کی ایگزیکٹو پروڈیوسر بن گئیں، جو ایک فیشن میگزین میں کامیڈی سیٹ ہے۔ اُنہوں نے 2006-07 نامی شو میں اور 2009 میں سٹ کام”30 راک“ میں کردار ادا کیے۔
اس دوران، سلمیٰ نے”ونس اپون اے ٹائم ان میکسیکو“(2003) جیسی فلموں میں بینڈراس اور جانی ڈیپ کے ساتھ کام کرنا جاری رکھا۔”آفٹر دی سن سیٹ“(2004)،”آسک دی ڈسٹ“(2006)، جان فانٹ کے ناول پر مبنی”اورسرک ڈو فریک: دی ویمپائرز اسسٹنٹ“(2009) میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ 2010 کی دہائی وہ دور تھا، جب اُن کا کیرئیر پختہ ہو گیا اور اُنہوں نے مسلسل کام کیا۔ کامیڈی فلم”گرو ون اپس“(2010) میں ایڈم سینڈلر اور کرس راک کے ساتھ اداکاری کے بعد سلمیٰ نے اولیور اسٹون کے”سیویجز“(2012) میں ایک بے رحم ڈرگ کنگ پن اور کامیڈی”ہیئر کمز دی بوم“(2012) میں ایک خواہش مند مخلوط مارشل آرٹسٹ کی محبوبہ کا کردار ادا کیا۔
اُنہوں نے متنازعہ طور پر ایک ایسی عورت کا کردار ادا کیا، جو خود کو جنسی غلامی سے نکالنے کے لیے تشدد کا استعمال کرتی ہے۔ یہ سنوینری ایکشن فلم”ایورلی“(2014) ہے۔ 2015 کی”ٹیل آف ٹیلز“،جو 17 ویں صدی کے مصنف بازیل کی پریوں کی کہانیوں کی ایک کتاب سے اخذ کردہ ہے، انہوں نے ایسی ملکہ کی تصویر کشی کی ہے، جو اپنے آپ کو ایک جادوئی رسم کے ذریعے حاملہ کر لیتی ہے، جس کے لیے اسے ایک سمندری مونسٹر کے دل کو کھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔
وہ کامیڈیز کی ایک سیریز میں نظر آئیں، جس میں”ہاؤ ٹو بی اے لاطین لوور“(2017)،”بیٹریز ایٹ ڈنر“(2017)،”ڈرنک پیرنٹس“(2018)، اور”دی ہمنگ برڈ پروجیکٹ“(2018) شامل تھے۔ ایکشن کامیڈی”دی ہٹ مینز باڈی گارڈ“(2017) اور”دی ہٹ مینز باڈی گارڈز وائف“(2021) میں ان کا کردارایک ایسی عورت کا کا تھا، جس کی شادی ایک قاتل سے ہوجاتی ہے۔ 2020 کے اس کے کریڈٹ میں کامیڈی”لائک اے باس“ شامل تھی، جس میں کاسمیٹکس ٹائٹن کی تصویر کشی کی تھی۔
سائنس فکشن ڈرامے”بلیس“(2021) میںان کو ایک ایسی عورت کے کردار کے لیے کاسٹ کیا گیا، جو یقین رکھتی ہے کہ دنیا ایک کمپیوٹر سمولیشن ہے۔ 2021 میں بھی وہ ”ایٹرنلز“ میں ایجک کےکردار میں مارول سنیماٹک یونیورس کا حصہ بنیں۔ اس کے علاوہ، اُنہوں نے کئی اینی میٹڈ فلموں کے کرداروں کو اپنی آواز دی، جن میں”پُس اِن بوٹز“(2011)،”باندرئس“، اور”دی پائریٹز؛بینڈ آف مسفٹ“(2012) شامل ہیں۔
سلمیٰ ہائیک نے اپنی کارکردگی کی بنیاد پہ 75 ویںاکیڈمی ایوارڈز، 61 ویں گولڈن گلوب ایوارڈز، 53 ویں برٹش اکیڈمی ٹیلی ویژن ایوارڈز اور 9 ویں اسکرین ایکٹرز گلڈ ایوارڈز میں بہترین اداکارہ کے لیے نامزدہوئیں۔ اُنہوں نے چلڈرن اسپیشل میں شاندار ہدایت کاری کے لیے ڈے ٹائم ایمی ایوارڈ جیتا اور دو پرائم ٹائم ایمی ایوارڈ ز کے لیے نامزد ہوئیں۔ 2011 میں، سلمیٰ کو نیشنل آرڈر آف دی لیجن آف آنر کی نائٹ(شیولیئر) مقرر کیا گیا، جو کہ اعلیٰ ترین فرانسیسی آرڈر آف میرٹ ہے، اور 2021 میں، انہیں ہالی ووڈ واک آف فیم پر ایک ستارے سے بھی نوازا گیا۔

عالمی سینما کی حسین اداکاروں کے جھرمٹ میں سے ایک سلمہ ہائیک بھی ہیں
اپنے پورے کیریئر کے دوران وہ متعدد بین الاقوامی میگزینز کے سرورق کا حصہ بنیں، جن میں اِن اسٹائل، ایلے، پریمیئر، گلیمر اور ورائٹی شامل ہیں۔ ان کا شمار ایسی پندرہ خواتین میں تھا، جنہیں برٹش ووگ کے ستمبر 2019 کے شمارے کے سرورق پر نمودار ہونے کے لیے مہمان ایڈیٹر میگھن، ڈچس آف سسیکس نے منتخب کیا۔ سلمیٰ ہائیک نے نامور برانڈز کے لیے بطور ایمبیسیڈربھی کام کیا، جن میں میں ریولن، ایون، چوپارڈ، لنکن کارز، کارٹئیر،اور ماریو ٹیسٹینو شامل ہیں۔ کاسمیٹکس کمپنیوں کے لیے اسپوکس ماڈل کے کام نے اِن کے اسکرین پر دھواں دھار کرشمے کو مزید تقویت بخشی۔
سلمیٰ ہائیک کی ذاتی زندگی کی بات کی جائے، تو 9 مارچ 2007 کو، سلمیٰ نے فرانسیسی ارب پتی اور کیرنگ کے سی ای او فرینچوئس ہینری سے اپنی منگنی کی تصدیق کی۔ بعد ازاں اُنہوں نے 21 ستمبر 2007 کو لاس اینجلس، کیلیفورنیا میں اپنی بیٹی کو جنم دیا۔ سلمیٰ کی شادی 14 فروری 2009 کو پیرس میں ہوئی۔ 25 اپریل 2009 میں دونوں نے وینس، اٹلی میں اپنے شادی کے عہد کی تجدید کی۔
وہ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی خیراتی تنظیموں سے بھی وابستہ ہیں، جبکہ وہ یونیسیف اور پیمپرز کے ساتھ مل کے زچہ اور نوزائیدہ بچوں کی ویکسینیشن کے حوالے سے بیداری کی عالمی مہم کی ترجمان بھی ہیں۔ 2011 میں مشہور اسٹور” سی وی ایس“ کے ساتھ شراکت داری قائم کی تاکہ نوئنس سلمیٰ ہائیک کے نام سے وہ ایک بیوٹی لائن لانچ کر سکیں، لیکن اُن کی یہ لائن زیادہ مقبولیت نہ حاصل کر پائی اور 2017 میں بند ہوگئی۔
اداکاری ہو یا ہدایتکاری، برانڈز کی ترجمانی ہو یا ماڈلنگ، سلمیٰ ہائیک نے ثابت کیا کہ وہ ہالی ووڈ کی آئی کینڈی کا ایک اور ٹکڑا بننے سے کہیں زیادہ بڑے عزائم رکھتی ہیں۔ اسی لیے وہ مداحوں اور مختلف میڈیا آئوٹ لیٹ کے مطابق ہالی وڈ کی بااثر اداکاراؤں میں شامل ہیں۔