نولی وڈ نائیجیرین فلم انڈسٹری کی عرفیت ہے، جو کچھ برسوں میں ریلیز شدہ فلموں کی تعداد کے اعتبار سے ہالی وڈ اور بالی وڈ کے بعد تیسری بڑی انڈسٹری ہے۔ نولی وڈ نام بھارت کے بولی وڈ اور امریکا کے ہالی وڈ سے متاثر ہوکے رکھا گیا ہے۔ نولی وڈ ان نائیجیرین فلموں کا احاطہ کرتا ہے، جو بر اعظم افریقا اور تارکین افریقا کی جانب سے قائم ذیلی انڈسٹریز بناتی ہیں۔ چھوٹے سیکٹرز یوروبا اور ہاؤسا زبان کی فلموں پر فوکس کرتے ہیں۔ مغربی افریقاکے پڑوسی ملک گھانا سمیت دیگر ممالک میں بننے والی انگریزی نائیجیرین فلمیں بھی نولی وڈ کے بینر تلے ہی شمار ہوتی ہیں۔
دی فیگرین
یہ فلم’’دی فیگرین‘‘ 2009کو نا ئیجریا میں ریلیز ہوئی۔ اس کی کہانی تھرلر اور پر اسرار واقعات پر مبنی ہے، جس میں کچھ خوفناک اور ہیبت انگیز مناظر بھی دکھائے گئے ہیں۔ اس فلم کے ہدایت کار”کنلے افولائن“ ہیں، جنہوں نے فلم میں ہدایت کاری کے ساتھ ساتھ خود بھی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔ مذکورہ فلم کے مرکزی اداکاروں میں رمسی نوح، کنلے افولائن، اومونی اوبولی اور فنولاعوفیبیریمی شامل ہیں۔ فلم نے افریقا کی فلمی صنعت میں نئی تاریخ رقم کی اور اس فلم نے 30 ملین نائرا کی کمائی کی، جسے نائیجریا کے شہروں اور اسکولوں میں کرائے کے ہالوں میں بھی دکھایا گیا۔ فلم کا دورانیہ دو گھنٹے پر مشتمل ہے۔’’دی فیگرائن‘‘ نے چھٹے افریقی اکیڈمی مووی ایوارڈز میں دس نامزدگیاں حاصل کیں اور بہترین فلم ہونے پر پانچ ایوارڈز جیتے۔ 2014 کے نولی سلور اسکرین میگزین کے مطابق نولی وڈ کی اب تک کی 10 بہترین فلموں میں یہ فلم سرِفہرست ہے۔
فلم کا مرکزی خیال بہت دل چسپ اور اچھوتا ہے، جوفلم بینوں کو متحیر کردے گا۔ اس فلم کی کہانی نیشنل یوتھ سروس کور کے کیمپ میں خدمات انجام دینے والے دو دوستوں کے حوالے سے ہے، جو جنگل میں ایک لاوارث عبادت گاہ کے ایک صوفیانہ مجسمے کی تلاش میں ہیں۔ ان میں سے ایک کے ہاتھ یہ مجسمہ آتا ہے، جسے وہ گھر لے جانے کا فیصلہ کرتا ہے۔ وہ اس مجسمے کی حقیقت سے لا علم ہوتے ہیں۔ یہ مجسمہ یو روبا دیوی اررومیر کا ہے، جو اس کا سامنا کرنے والے کو سات سال تک خوش نصیبی دیتی ہے اور اس کے بعد سات سال تک بدترین ناکامیوں کے دلدل میں دھکیل دیتی ہے۔ دونوں دوستوں کے ابتدائی سات برس بہت عیش و عشرت میں گزرتے ہیں اور وہ دولت مند تاجر بن جاتے ہیں۔ یہ لوک کہانی ہے، جس کے مرکزی خیال میں یہ تمام باتیں بیان کی گئی ہیں۔
کہانی کے فلیش بیک میں مجسمے کی حقیقت کا کچھ ٹکڑا دکھایا گیا ہے، فلم کے اوائل میں ایک مجسمہ دکھایا گیا، جو اس کہانی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ مجسمہ کہاں سے آیا او ر فلم کے وقفے کے بعد کیسے افراتفری کی صورتِ حال پیدا ہوئی، کہانی اس موڑ کی طرف بڑھتی ہے۔ مارومائر کے بارے میں کہی گئی ہر چیز سات سال کی تباہی کے بعد ظاہر ہونے لگی۔ سب کچھ تباہ ہونے لگا اور ان کے پاس چند دن کی مہلت تھی کہ اب وہ اس مسئلے کا حل کیسے تلاش کریں گے؟ کہانی کے اختتام تک ایک پراسرار فضا قائم رہتی ہے، اس تجسس نے آخرکار حل دریافت کرلیا لیکن اس تک پہنچنے کے لیے فلم کے منظر نامے کو حقیقت کی آنکھ سے دیکھنا ضروری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیونگ ان بونڈیج
یہ فلم 1992 کو نائیجریا کی دو حصّوں پر مشتمل ایک فیچر تھرلر فلم ہے، جس کا دوسرا سیکوئل 2019 میں بنا تھا۔ اس فلم کے ہدایت کار”کرس اوبی راپو“ اور پروڈیوسر”کینتھ نینابو“ ہیں۔ اس فلم کا دورانیہ ایک گھنٹہ تریسٹھ منٹس کا ہے۔ اسے نائیجیریا کی پہلی گھریلو ویڈیو قرار دیا جاتا ہے، جس نے بلاک بسٹر کامیابی حاصل کی۔ اس فلم کے مرکزی کردار وں میں کینتھ اوکونکوو، نانّن نوابیوزی، اکیچوکواگونجیوفور اور فرانسس اگو شامل ہیں۔ 2015 میںچارلس اوکپلا کی نے اپنی پروڈکشن کمپنی کے تحت دس سال کی مدت کے لیےاس فلم کے حقوق حاصل کرلیے۔ فلم کے دوسرے سیکوئل کے ہدایت کار”رامسی نوحا“ ہیں اور پروڈیوسرز سٹیوگوکس، ڈوٹن اولاکنری اور چارلس اوکپلا کی ہیں۔ فلم کے سیکوئل نے باکس آفس پر 169 ملین کا بزنس کیا۔ یہ فلم نائجیریا کی سب سے زیادہ معاوضہ کمانے والی فلم بن گئی، جو فہرست کے اعتبار سے گیارہویں نمبر پر ہے۔ اس کا دورانیہ ایک گھنٹہ پچاس منٹس ہے۔ ان فلموں کے دونوں حصوں نے باکس آفس پر نمایاں کامیابی حاصل کی۔
فلم کی کہانی کا پہلا حصہ دوسرے سے قدرِمختلف ہے۔ اس فلم کی کہانی ایک ایسے شخص کے گر د گھومتی ہے، جو ایک خفیہ فرقے میں شامل ہوتا ہے اور اپنی بیوی کو اپنے ذاتی مفاد ات کی بنا پر قتل کر دیتا ہے اور بطور تاجر اپنے کاروبار کے فروغ کے لیے جادو ٹونے کا استعمال بھی کرتا ہے۔ اس طرح اپنی بیوی کو قتل کرنے کے بعد بطور انعام ایک گروہ سے بھاری معاوضہ وصول کرتا ہے، لیکن بعد میں اس کی بیوی کی روح اس سے اپنی موت کا انتقام لیتی ہے۔ اسی فلم کا دوسرا حصہ، جس میں فلم کے سیکوئل میں جو حوالہ دیاگیا، اس کے مطابق، دولت اور جادو ٹونے کی ہوس نے ایک آدمی کو اپنی محبوب بیوی کا قتل کرنے پر مجبور کیا، لیکن سیکوئل میں دکھایا گیا ہے کہ پھر وہ یہ خفیہ فرقہ ترک کر چکا اور ایک پادری بن گیا ہے۔
کہانی کا سیکوئل پر اسراریت پر مبنی ہے۔ اس فلم میں اس شخص کا بیٹا نامدی دانستہ طور پر اپنے باپ کی برائیوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ نامدی اپنے والد کے سابق رابطہ کار سے جڑتا ہے، اسی فرقے کا حصہ بن کر شیطانی طاقتوں کے حصول کے لیے اپنے پیاروں کی جان کی بازی دیتا ہے اوران سے ملنے والی مراعات سے بھی لطف اندوز ہوتا ہے۔ آخر میں کہانی اسے ایسے موڑ پر لا کر کھڑا کرتی ہے کہ وہ خود اس میں الجھ جاتا ہے۔ کہانی میں بہت پر اسرار اور ہیبت ناک مناظر دکھائے گئے ہیں، جو فلم بین خود دیکھ کر ہی اندازہ کرسکیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر لینری
نائیجیریا کی یہ اہم فلم 14 اکتوبر 2021 کو سینما گھروں کی زینت بنی۔ اس فلم کی کہانی تجس بھری اور پراسراریت پر مبنی ہے۔ اس کے دو اسکرپٹ نویس ہیں، جو”ایفینیائے اوپرا“ اور”ٹمی پوڈائی“ شامل ہیں۔ فلم کے ایگزیکٹو پروڈیوسرز میں بھی”ایفینیائے اوپرا“ شامل ہیں، جبکہ فلم کے ہدایت کار”ایوکا تھامسن“ ہیں۔ فلم کے مرکزی کرداروںمیں، اوکے ازوشی، فیمی برانچ اور بولاجی اوگنمولا شامل ہیں۔ سجن کی بہترین کارکردگی نے ناظرین کا دل تسخیر کرلیا۔ کہانی کو ابتدا سے ہی بہت پر اسرار دکھایا گیا ہے، جس کی سنسنی خیزی آپ کو فلم دیکھنے پر اکسائے گی۔ اس کہانی کا پلاٹ نہایت د ل چسپ ہونے کے ساتھ پیچیدہ بھی ہے۔
کہانی کا آغاز ایک مریض کی اچانک موت سے ہوتا ہے، حالات پولیس افسر کو ایک ایسے ڈاکٹر تک لے جاتے ہیں، جو مریض کا علاج کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ اس طرح سے پولیس افسر ایک میز پر مشتبہ افراد کو بلاتا ہے اور ان سے تفتیش کرتاہے، لیکن کہانی میں اتنے انوکھے موڑ آتے ہیں کہ ایک ذہین و فطین پولیس افسر کی عقل بھی اس معمے کو حل کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔ ان حالات سے خود پولیس افسر کو اپنی نوکری، لائسنس اور آزادی کے سلب ہوجانے کا خطرہ لاحق ہوتا اور پولیس کی تفتیش بھی ڈاکٹر کو الجھن میں مبتلا کردیتی ہے۔
گزرتے وقت کے ساتھ مشتبہ افراد کےبیانات کی روشنی میں کہانی الگ رخ اختیار کرتی ہے۔ اس فلم کا اختتام بھی بہت حیرت انگیز ہے، جو آپ کو عجیب کیفیت میں مبتلا کر دے گا کہ آخر اس شخص کی موت کس وجہ سے ہوئی اورمقتول کون تھا؟ لیکن اس کے لیے فلم کو دیکھنا ناگزیر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئی جے ای۔ دی جرنی
یہ فلم 30جولائی 2010 کو نائیجیریامیں ریلیز ہوئی۔ یہ ایک ڈرامائی کہانی پر مبنی فلم ہے، جس کی ہدایت کار”چائینزاینیاین“ ہیں۔ا س کے مرکزی کرداروں میں جنیویونناجی اور اوموٹولا جلاید ایکاندے شامل ہیں۔ یہ فلم ریاست ہائے متحدہ امریکا اور نائجیر یا میں فلمائی گئی ہے۔ فلم نے کینیڈاانٹرنییشنل فلم فیسٹیول میں ایوارڈ آف ایکسلینس، لاس ویگاس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں سلور پام ایوارڈ اور دیگر فلم ایوارڈز فیسٹیول میں متعدد اعزازات حاصل کیے۔ نائیجیریا سمیت دنیا بھر میں اس کو بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی۔
اس فلم کا پلاٹ بہت مختلف ہے۔ یہ کہانی دو بہنوں کی زندگی کے گرد گردش کر رہی ہے۔ کہانی میں چیوما اپنی بہن انیا کی مدد کے لیے ریاست ہائے متحدہ امریکا کا سفر کرتی ہے، جس پر اس کے اپنے شوہر سمیت تین مردوں کے قتل کا الزام لگایا جاتا ہے۔ چیوما اپنی بہن کو جعل سازی کا شکار ہونے سے خبردار کرتی ہے اور امریکی خواب کے تاریک پہلو سے آگاہ کرتی ہے۔
چیوما ایک نوجوان وکیل کی مدد سے معاملات کی تہہ تک پہنچتی ہے اور پتا لگاتی ہے کہ جس تاریک راز کو اس نے پوشیدہ رکھا ہے، وہ واحد چیز ہے، جو اس کی آزادی اورجیت سکتی ہے۔ اس کہانی کے پس ِپشت معاملات کا جائزہ لینے کے لیے چیوما ہر آزمائش سے لڑنے کو تیار رہتی ہے۔ سچائی اور انصاف کے حصول میں اس کہانی کا کیا انجام ہوتا ہے، جاننے کے لیے فلم ضرور دیکھیں۔