نولی وڈ نائیجیرین فلم انڈسٹری کی عرفیت ہے، جو کچھ برسوں میں ریلیز شدہ فلموں کی تعداد کے اعتبار سے ہالی وڈ اور بالی وڈ کے بعد تیسری بڑی انڈسٹری ہے۔ نولی وڈ نام بھارت کے بولی وڈ اور امریکا کے ہالی وڈ سے متاثر ہوکے رکھا گیا ہے۔ نولی وڈ ان نائیجیرین فلموں کا احاطہ کرتا ہے، جو بر اعظم افریقا اور تارکین افریقا کی جانب سے قائم ذیلی انڈسٹریز بناتی ہیں۔ چھوٹے سیکٹرز یوروبا اور ہاؤسا زبان کی فلموں پر فوکس کرتے ہیں۔ مغربی افریقاکے پڑوسی ملک گھانا سمیت دیگر ممالک میں بننے والی انگریزی نائیجیرین فلمیں بھی نولی وڈ کے بینر تلے ہی شمار ہوتی ہیں۔
نائیجیرین پرنس
یہ فلم امریکا کے مشہور ادارے اے ٹی اینڈٹی اورٹرابیکا انسٹی ٹیوٹ کے اشتراک سے بنائی گئی ہے۔ اس فلم میں انتونیو جے بیل، بیمبو مینوئل، چینزا اوچے، کریگ اسٹوٹ، ڈین کیمرون اور دیگر اداکار بھی شامل ہیں۔ فلم کی ہدایت کاری کے فرائض ”فیراڈے اوکورو“ نے ادا کیے۔ اس نائیجیرین امریکی فلمسازکی پہلی فلم، نائیجیرین پرنس( اے۔ٹی۔اینڈٹی) اور ٹرائبیکا ان ٹولڈ اسٹوریز کے اقدام کے نتیجے میں تیار اور تقسیم کی جانے والی پہلی فلم ہے، یہ ایک گرانٹ پروگرام ہے، جو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ متنوع فلم سازوں کو اسکرین پر اپنی کہانیاں سنانے کے مواقع ملیں۔ 2017 کے ٹرابیکا فلم فیسٹیول کے دوران، اوکورو نے ججوں کے ایک پینل کے سامنے اپنا خیال پیش کیا اور ان ٹولڈ اسٹوریزپروگرام کی گرانٹ، سرپرستی اور تقسیم کے عہد کو استعمال کرتے ہوئے اپنی فلم بنانے کےمعاونت حاصل کی اور فلم نے بوکس آفس پر کئی ملین ڈالرز کا بزنس کیا۔
یہ ایک نائیجیرین نژاد امریکی لڑکے کی کہانی ہے، جو لاگوس کے سفر کے دوران اپنے ہوشیار کزن کی سازشوں میں پھنس جاتا ہے۔ فلم میں معیاری تھرلر ٹرپس کا استعمال کیا گیا ہے تاکہ نائیجیریا میں روزمرہ زندگی میں ہونے والی جدوجہد پر آنکھیں کھول دینے والا منظر پیش کیا جا سکے۔ یہ فلم شاندار پرفارمنس سے بھری ہوئی ہے، خاص طور پر دو اداکاروں کی اداکاری سے ،جن میں ”چائنازا اوچے“ اور ”بیمبو مینوئل“ شامل ہیں ، جو کہ بظاہر ثانوی کردار ہیں لیکن اگر ان دونوں کی اداکاری کی بات کی جائے تو وہ انتہائی پھیکی ہے اور صرف فلم خاموش ہونے پر بہترین دکھائی دیتی ہے، کیونکہ ان کا نائیجرین لہجہ مصنوعی لگ رہا تھا۔ ایک اور چیز جو فلم میں مثبت دکھائی دی، وہ سینماٹوگرافی تھی۔
نائیجیرین پرنس اپنے سماجی پہلوؤں کا احاطہ کرنے پر اتنا کریڈٹ نہیں جیت پاتی، پلاٹ قابل اعتراض ہے، نہ صرف اس لحاظ سے کہ یہ کیسے آگے بڑھتا ہے بلکہ اس لحاظ سے کہ پلاٹ کیا ہے؟ کیا اس میں کوئی کلائمکس بھی ہے؟ تو ان باتوں کا جواب ہے کہ یہ یقینی طور پر ہچکچاہٹ کا شکار فلم ہے ۔ کچھ فلمیں کلائمکس پر قابو پانے ناکام رہ جاتی ہیں اور شاید یہی مسئلہ نائیجیرین پرنس کا ہے۔ آپ سماجی پیغامات اور مفہوم کو نظر انداز کر سکتے ہیں، لیکن فلم نے واقعی متاثر کن بننے میں مدد نہیں دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھرٹی ڈیز ان اٹلانٹا
تھرٹی ڈیز ان اٹلانٹا 2014 کی ایک نائیجیرین رومانٹک کامیڈی فلم ہے، جسے پیٹرک”کوئنیج نامانی“ نے لکھا اور ”ایو مکون“ نے پروڈیوس کیا ہے۔ اس کی ہدایت کاری ”رابرٹ پیٹرز“ نے کی ہے۔ 2014میں اس فلم نے 163 ملین کماکر باکس آفس کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ فلم کے مرکزی اداکاروں میں آیو مکون، رمسی نوح، رچرڈ موفی ڈیمیجو اور ڈیسمنڈ ایلیٹ شامل ہیں۔
اس فلم کو 2014 کے گولڈن آئیکونز اکیڈمی فلم ایوارڈز میں 10 نامزدگیاں حاصل ہوئی تھیں، جن میں افریقی مووی ایوارڈفار بیسٹ کامیڈی اور سٹی پیپل مووی ایوارڈ فار بیسٹ مووی آف دی ائیر جیسے اعزازات شامل ہیں۔ بات ہو اگر فلم کے پلاٹ کی، تویہ ایک منظم اور کافی حقیقت پسندانہ کہانی کی پیروی کرتا ہے، کہانی نائیجیریا میں شروع ہوتی ہے، جب اکپوس(کردار) کو پتا چلتا ہے کہ وہ 30 دنوں کے لیے امریکا میں اٹلانٹا کے سفر کا خوش قسمت فاتح طے پایا ہے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ اس سفر کے تمام اخراجات سرکار کے ذمے ہوتے ہیں۔ ایک بیچلر اپنے کزن رچرڈ (رمسی نواہ) کا انتخاب کرنے کے بعد اس کے ساتھ سفر پر جانے کے لیے تیاری کرتا ہے، وہاں انہیں جو مسائل پیش آتے ہیں، وہ اس فلم میں پیش کیے گئے ہیں، اگرچہ اس کی کامیڈی اُس دائرے سے باہر آسکتی ہے، جو حقیقی زندگی کی منظرکشی کرتی ہو اور حقیقی زندگی کے مسائل کی عکس بندی کرتی ہو، یعنی وہ چیزیں جو اکثر نائیجیریا کے عوام کے ساتھ پیش آتی ہیں، جیسے مزاحیہ انداز میں پہلی بار بیرون ملک سفر کرنا۔ فلم کی کامیڈی حقیقی معلوم ہوتی ہے۔
گرافکس کے لحاظ سے بھی فلم بہت اچھی ہے۔ فلم بینوں کو متاثرکن ساؤنڈ ٹریک کے ساتھ اسکرین سے جڑے رہنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ اس فلم کے بیک گراؤنڈ میوزک کا انتخاب قابل تعریف ہے اور اس کے باوجود فلم بنانے والے پیشہ ورانہ طور پر بیک گراؤنڈ میوزک کے استعمال سے گریز کرنے میں کامیاب رہےکہ فلم کے دوران غیر ضروری تاخیر سے اجتناب برتا جاسکے۔ دوسرے الفاظ میں ناظرین کو اگلے منظر پر جانے سے پہلے کسی خاص ساؤنڈ ٹریک کے رکنے کا انتظار کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ یہ ایک ایسا معیار ہے، جس پر بہت سی نائجیرین فلمیں فخر نہیں کر سکتیں۔ یہ بہت ہی دلچسپ کامیڈی فلم ہے، جو یقیناً آپ کے چہرے پر بہت ساری مسکراہٹ بکھیر دے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آ سوکن
یہ 2017 میں ریلیز ہونے والی ایک رومانوی مزاحیہ طرز کی فلم ہے۔ اس کی اسکرپٹ نویس اور ہدایت کار”جیڈسولا اوسیبیرو“ ہیں۔ یہ ان کی پہلی فلم تھی، جس میں انہوں نے ہدایت کاری کے ساتھ پروڈکشن کے فرائض بھی سر انجام دیے۔ یہ فلم ٹرائب 85 پروڈکشنز کے ذریعہ سے تیار کی گئی۔ اس فلم کے مرکزی کرداروں میں اڈاکور اکاندے، جوزف بنجمن اور مارک رائس شامل ہیں۔ اس فلم کو 2018 میں(اے۔ایم۔وی۔سی۔اے) غیر ملکی مغربی افریقا کی بہترین فلم کااعزاز ملا ، دیگر ممالک کےکئی اہم فلم فیسٹولز میں بھی ایوارڈ زکے لیے نامزد ہوئی اور ساتھ ساتھ ہی متعددایوارڈ ز حاصل بھی کیے۔ اس فلم کا شمار نائجیریا کی بہترین فلموں میں ہوتا ہے۔ آئسوکن فلم کی کامیابی کے بعد جیڈکو نہ صرف ایک عمدہ ہدایت کار کا خطاب ملا، بلکہ متعدد اعزازات سے بھی نوازا گیا۔
اس فلم کی کہانی ایک 34 سالہ لڑکی کے گرد گھوم رہی ہے، جس کا تعلق ایک اعلیٰ خاندان سے ہے، وہ خود بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور باشعور لڑکی ہے۔ تاہم وہ اب تک کنواری ہے۔ معاشرے کی فرسودہ سوچ کے تحت آئسوکن کا اب تک اکیلا رہنا مناسب نہ تھا، لیکن اس نے زندگی کو کبھی سمجھوتے کی آنکھ سے نہیں دیکھا، اس نے اپنی زندگی کا مقصد حاصل کرنے کے لیے کسی رکاوٹ کو حائل نہیں ہونے دیا، وہ معاشرے میں ان تمام لڑکیوں کے لیے ایک مثال ہے، جو اپنی زندگی صرف شادی کےلیے وقف کر دیتی ہیں اور اپنے مقاصد کوفراموش کر کے دوسروں کی محتاجی قبول کرلیتی ہیں۔
آئسوکن نے اپنے کیرئیر کوفروغ دیا، 35 سال کی عمر میں آئسوکن کو محبت ہوئی اور اس نے اپنی مرضی سے اس شخص کو منتخب کیا، جس کے ساتھ وہ اپنی پوری عمر گزار سکتی تھی۔ الغرض اس کہانی کو پیش کرنے کا مقصدیہ ہے کہ شادی عمر کی محتاج نہیں، فیصلہ اس وقت کریں، جب دل آپ کو اختیار دے، مجبوری اور دبائو میں آکر رشتہ جوڑنا ایک ظلم ہے۔ یہی مرکزی خیال تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنگ آف تھیوز
یہ 2022 کی نائیجیرین تھرلر فلم ہے، جسے”فیمی ادیبایو “نے پروڈیوس کیا ہے اور اس فلم کی ہدایت کاری”ٹوپے ادیبایو“ اور”ادے بائیو تیجانی“ نے کی ہے۔ یوروبا زبان کی یہ فلم، معروف افریقی فلم ساز ادارے”فیمی کے یوفوریا تھری سکسٹی میڈیا“ کی طرف سے تیار کی گئی تھی، جس میں”اینتھل اسٹوڈیوز“ کا اشتراک بھی شامل تھا۔ اس فلم نے اب تک 267 ملین نائیجیرین کرنسی کا بزنس کیا، جو بذات خود ایک ریکارڈ ہے۔ اس فلم کے مرکزی کرداروں میں فیمی ادیبایو سلامی نے مرکزی کردار جبکہ ٹوئن ابراہم، اوڈونلڈ اڈیکولا، ابراہیم چٹا، ایڈیڈیمجی لطیف، عائشہ لاول، مسٹر میکرونی اور بروڈا شگی معاون کرداروں میں نمایاں تھے۔
یہ فلم یوروبا کی ثقافت کے مختلف پہلوؤں جن میں زبان سے لے کر لباس تک، موسیقی، رقص، عبادت کے نظام اور عام طرز زندگی تک کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ ان سب کو مربوط انداز میں اکٹھا کرنے پر مصنفین تحسین کے مستحق ہیں۔ کہانی میں کئی موڑ ہیں، جس میں فلم کی ہیرو سے لڑائی بہترین انداز میں فلمائی گئی ہے۔ یہاں تک کہ فلم نے متنوع ادبی تکنیکوں کے مؤثر استعمال کے ذریعے ایک فلم انڈسٹری کو نئی روح بخشی ہے۔ اداکاری سے لے کر پروڈکشن تک کہانی سنانے تک ملبوسات، اثرات، اداکاری، ساؤنڈ ٹریک اور بیک گراؤنڈ کے نعرے، ایگیشینکول کی آواز اور موسیقی پر پڑنے والے اثرات اور یہ تمام پہلو، ایک فلم کو ناظرین کے لیے دلچسپ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
یہی وجہ ہے، یہ فلم کئی سالوں سے نالی وڈ کی ترقی کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ، فلمائے ہوئے مقامات کو اچھی طرح سے ترتیب دیا گیا۔ پہاڑوں، گھوڑوں کے استعمال نے فلم میں جمالیاتی اضافہ کیا، جس سے اسے تاریخی تاثرات بھی حاصل ہوئے۔