جیمز کیمرون کی عہد ساز فلم ”ٹائی ٹینک“ 200 ملین ڈالرز سے بننے والی ایک مہنگی ترین فلم تھی ان کی فلم ”دی ٹرمینیٹر ون“ کو ڈسٹی بیوٹرز نے”ڈبا“ فلم کہہ کر رد کر دیا تھا انہوں نے فلم ”ریمبو۔فرسٹ بلڈ ، پارٹ ٹو“ کا اسکرین پلے لکھ کر ابتدائی شہرت حاصل کی تھی ان کی 2022 میں ریلیز ہونے والی فلم ”ایواتار ٹو ۔ دے وے آف واٹر“ بھی یادگارفلم ثابت ہوگی کینیڈا کے اس فلم ساز نے اپنی فلموں سے پوری دنیا کو حیرت میں مبتلا کردیا ہے

کینیڈا کے عالمی شہرت یافتہ فلم ساز جیمز کیمرون
ذاتی زندگی کا تعارف
جیمز فرانسس کیمرون 16 اگست 1954 کو کاپسکاسنگ، اونٹاریو، کینیڈا میں پیدا ہوئے۔ ان کے آبا ؤ اجداد کا تعلق اسکاٹ لینڈ سے ہے۔ نوجوان جیمز کیمرون نے اونٹاریو کے اسٹامفورڈ کالجیٹ اسکول میں بنیادی تعلیم حاصل کی، پھر اپنے خاندان کے ہمراہ ریاست ہائے متحدہ امریکا آگئے۔ یہاں سونورا ہائی اسکول اور بریا اولنڈا ہائی اسکول سے اپنی تعلیم کا سلسلہ مکمل کیا۔ فزکس کے کورس کے لیے فلرٹن کالج میں جانا شروع کیا، لیکن گریجویشن کرنے سے پہلے ہی اس تعلیمی سلسلے کوادھورا چھوڑ دیا۔ خود کو مالی سہارا دینے کے لیے ٹرک ڈرائیور کے طور پر کام کرتے ہوئے، اس خواہشمند فلم ساز نے وہ سب کچھ سیکھ لیا، جو وہ فلموں میں اسپیشل ایفیکٹس کے لیے ضروری تھا۔ تلاشِ معاش کی خاطران کا خاندان اورنج کاؤنٹی منتقل ہو گیا، تاہم وہاں بھی جیمز کیمرون کے لیے مواقع محدود تھے، کیونکہ ان کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہیں تھا اور اس لیے وہ عملی نقطہ نظر سے مونٹانا میں رہ نہیں سکتے تھے، کیونکہ وہاں کوئی باقاعدہ فلمی صنعت بھی نہیں تھی۔
ابتدائی طور پر ان کوفلم ساز بننے کا خواب غیر حقیقی لگ رہا تھا، کیونکہ انہیں یقین نہیں تھا، یہ خواب کبھی تعبیر کی صورت میں ممکن ہوسکے گا۔ کینیڈا میں فلرٹن کالج کے قریب کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی میں داخلہ لیتے ہوئے، انہوں نے فزکس کی تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا، اس کے ساتھ ساتھ ان کو اپنی خیالی دنیا میں رہنا بھی بے حد پسند تھا، لہٰذا جب انہوں نے پڑھائی شروع کی، تو انہیں احساس ہوا کہ سائنس میں ان کی دلچسپی کا کچھ بھی نہیں ہے۔
انہوں نے بالاآخر اپنا مرکزی مضمون سائنس سے انگریزی میں بدل دیا اور ادب کا گہرائی سے مطالعہ کرنا شروع کیا۔ مشینوں کی دوکان پر کام کرنا، ٹرک ڈرائیوری، اسکول بس کی ڈرائیوری، تصویریں بنانا، یہی ان کےدن میں معمولات تھے، رات کو لکھنے کا کام کیا کرتے تھے۔ مستقبل کے اس عظیم فلم ساز کی زندگی میں، ارتقا کا اگلا اہم موڑ 1977 میں اس وقت آیا، جب پہلی بار انہوں نے فلم ”اسٹار وارز“ دیکھی۔ اس فلم کو دیکھنے کے بعد ان کے احساسات ویسے ہی ہوگئے تھے ، جس طرح انہوں نے فلم’’ا سپیس اوڈیسی‘‘ دیکھنے کے بعد محسوس کیا تھا۔ جیمز کیمرون نے یہ فلمیں دیکھنے کے بعد طے کیا تھا کہ وہ بھی اسی طرح کی منفرد فلمیں تخلیق کریں گے ۔ ان فلموں نے جیمز کیمرون کو اپنے خوابوں کی تعبیر پانے کی تحریک دی۔

جیمز کیمرون کے تخلیق کی ہوئی فلموں کے چند یادگار کردار
پیشہ ورانہ معاملات اور فلمی کیرئیر
اپنے فلمی کیرئیر میں جیمز کیمرون 1978 میں امریکی اسکرین رائٹر”سڈ فیلڈ“ کی کتاب”اسکرین پلے“ سے متاثر ہوئے، پھر”زینوجینیسیس“ جیسی فلم کا اسکرپٹ لکھا۔ اس فلم کو 35 ایم ایم ریل پر شوٹ کیا گیا تھا۔ ان کے پاس فلم میکنگ کا کیمرہ لینے کے پیسے تک نہ تھے، جس کی وجہ سے انہیں وقتی طور پر کرائے پر کیمرہ لینا پڑا۔ کم بجٹ کے آگے فلم ہار گئی اور دورانیہ مختصر کرنا پڑا۔ وہ دس منٹ کی سائنس فکشن فلم تھی۔ اس فلم کی بدنصیبی، اس میں عکس بند کیے گئے مناظر انتہائی خراب اور بھدے تھے، جس کی وجہ سے مذکورہ فلم انتہائی برے طریقے سے ناکام ہوگئی۔ بیوی الگ ناراض تھی، ڈرائیونگ کی نوکری بھی وہ چھوڑ چکے تھے، لیکن پھر بھی ان کاکہانی سنانے کا شوق کم نہ ہوا، انہوں نے فلم کے پیشے میں ،اس کے فنی رموز سیکھنے کا عمل جاری رکھا اور ساتھ ساتھ اسپیشل ایفیکٹس پر کام کرنا شروع کر دیا۔
ان کو جلد ہی”راجر کورمین اسٹوڈیوز“ نے کم سرمایہ کاری والی فلموں کے چھوٹے ماڈل بنانے کے لیے موقع فراہم کیا۔ یہیں سے ان کو 1980 کی فلم”’بیٹل بیونڈ دی اسٹارز“ کے لیے آرٹ ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔ اگلے دو سال میں، انہوں نے اسکیپ فرام نیویارک، گلیکسی آف ٹیرر اور اینڈائڈ جیسی سائنس فکشن فلموں پر کام کیا۔ اس دوران انہوں نےمستقبل قریب میں آنے والی دو بڑی فلموں دی سیوپنگ، پیرانہاٹو پر بھی کام کرنے کی ابتدا کی۔ اس دوران وہاں کام کرتے ہوئے ان متعلقہ فلموں کے ہدایت کاروں اور پروڈیوسر کا آپس میں جھگڑا ہوگیا، جس کے نتیجے میں وہ فلم ادھوری چھوڑ کر چلے گئے۔ مجبوراً یہ فریضہ جیمزکیمرون کو ادا کرنا پڑا اور ان فلموں کی ہدایت کاری ان کے حوالے کر دی گئی۔ ان میں سے ایک فلم اطالوی زبان میں بننے والی ہارر فلم تھی، لیکن ان کا اناڑی پن انہیں یہاں پھنسا چکا تھا۔
وہ اس پہلی فلم کے لیے ہی بطور ہدایت کار اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکام رہے، جس کے ردعمل میں پروڈیوسر نے ان کو سیٹ سے چلتا کیا، مگر کچھ عرصے بعدان کو پھر وہیں دوبارہ بطور معاون بلالیا گیا، لیکن اس بار بھی قسمت ان پر مہربان نہ ہوئی اور انہیں خراب کھاناکھانے سے شدید بدہضمی ہوگئی۔ ایک طرح سے یہ ان کی زندگی کا بدترین دور تھا۔ وہ اپنی زندگی کی اٹھائیس بہاریں دیکھ چکے تھے۔ اس دوران انہیں بار بار ایک خواب تنگ کررہا تھا ، اس خواب میں ایک بھاری بھرکم انسان ان کے سینے پر چڑھ کربیٹھا ہوا ہوتا ہے، یہی خواب ان کو زندگی کی بلندیوں پر لے گیا۔ انہوں نے اس خواب کو اپنی فلموں کے موضوعات میں تبدیل کر دیا اور اس اقدام کی وجہ سے وہ اپنے فلمی کیرئیر میں بے حد کامیاب رہے۔

جیمز کیمرون کی بنائی ہوئی پہلی فلم انتہائی برے طریقے سے ناکام ہوگئ تھی ۔ ان کی بیوی الگ ناراض تھی، ڈرائیونگ کی نوکری وہ چھوڑ چکے تھے ، چاروں طرف مسائل تھے ، لیکن ان کا کہانی سنانے کا شوق کم نہیں ہوا ، آخرکار کامیابی کی دیوی نے ان کے قدم چومے ، آج وہ عالمی سینما کے ایک بڑے فلم ساز ہیں۔
مشکلات اور ناکامیوں کے بعد ملنے والے ثمرات
جیمز کیمرون کا 1984 میں پہلا بڑا پروجیکٹ”دی ٹرمینیٹرز“ تھا، جس کو”پیسفک ویسٹرن پروڈکشنز“ کے تحت ریلیز کیا تھا۔ اس فلم کی پروڈکشن کے مالکانہ حقوق ان کی ایک سابق ساتھی”گیل این ہرڈ“ کے تھے ، ان کی یہ شراکت دارخاتون بہت امیر عورت تھی۔ ان کی اس دوست نے انہیں ایک ڈالر کے عوض اس فلم کا کام کرنے کا کہا، جسے جیمز کیمرون نے نہ چاہتے ہوئے بھی قبول کرلیا، کیونکہ یہ کوئی معاوضہ نہیں تھا، لیکن وہ فلمی دنیا میں آگے بڑھنا چاہتے تھے، جس کے عوض انہوں نے کام کرنے کا یہ علامتی معاوضہ قبول کیا۔
اس فلم کو جب سینما گھروں میں نمائش کرنے کا فیصلہ کیا گیا، تو اس سلسلے میں ڈسٹی بیوٹرز سے بات کی گئی، لیکن ان کی طرف سے اس فلم کو’’ڈبا‘‘ فلم کہا گیا۔ اس کے لیے یہ تک کہا گیا کہ”یہ فلم ایک ہفتے تک بمشکل چل پائے گی اور پھر وہ اسے سستے داموں خریدیں گے۔“ اس طرح ان حالات میں اس فلم کو اونے پونے داموں بیچ دیا گیا۔ اس میں”آرنلڈ شوارزنیگر“ جیسے اداکار نے شاندار اداکاری کی تھی۔ اس فلم کا 6.5 ملین ڈالرز بجٹ تھا، لیکن اس نے بوکس آفس پر 78 ملین ڈالر زسے زیادہ کمائی کی۔ اسی طرح پھر جیمز کیمرون نے”ریمبو۔ فرسٹ بلڈ پارٹ ٹو“ کا اسکرین پلے لکھا اور یہ فلم 1985 میں ریلیز ہوئی۔ اس فلم میں ”سلویسٹر اسٹالون“ نے بھی بہترین کام کیا۔”جارج پی کاسمیٹوس“ کی ہدایت کاری میں بننے والی یہ فلم باکس آفس پر انتہائی کامیاب ثابت ہوئی۔ فلمی دنیا میں اس فلم سے جیمز کیمرون کی شہرت میں بھی اضافہ ہوا۔
یہ سلسلہ یہی تک محدود نہ رہا ، پھر انہوں نے 1986 میں فلم”ایلیئنز“ کا اسکرپٹ لکھا، جو کہ معروف فلم ساز”رڈلے اسکاٹ“ کی فلم”ایلین “کا سیکوئل تھا اور یہ فلم 1979 میں ریلیز ہوئی۔ اس فلم نے کروڑوں ڈالرز کمائے اور بے حد مقبولیت سمیٹی۔ اسے کئی اکادمی ایوارڈ کی نامزدگی بھی ملی۔ اگلی فلم”دی ابیس“ جیمز کیمرون کی ایک اور بڑی فلم تھی، جس کا اسکرپٹ انہوں نے لکھا تھا۔ اس فلم میں ”ایڈ ہیرس“ اور ”میری الزبتھ مسترانٹونیو“ نے مرکزی کرداروں میں کام کیا تھا۔ یہ پانی کے اندر شوٹ ہونے والی ایک ایسی حقیقی آبی فلم تھی، جس پر آج بھی فلم ساز فخر کرتے ہیں۔ یہ 41 ملین ڈالرز کی خطیر رقم سے بنائی گئی مہنگی فلم تھی۔
نوے کی دہائی کا آغاز جیمزکیمرون کے لیے مزید شہرت اور بلندیوں کی شروعات تھی۔ 1991 میں”ٹرمینیٹرٹو۔ ججمنٹ ڈے“ ریلیز ہوئی، جس میں ”آرنلڈ شوارزنیگر“ اور ”لنڈا ہیملٹن“ نے پچھلی فلم کی طرح، ایک بار پھر اپنے اپنے کرداروں کو دوبارہ نبھایا۔ اس فلم نے500 ملین ڈالرز سے زیادہ کی کمائی کی، بہترین بصری اثرات، بہترین میک اپ، بہترین ساؤنڈ مکسنگ اور بہترین ساؤنڈ ایفیکٹس اور ایڈیٹنگ کے شعبہ جات میں چار آسکر ایوارڈز اپنے نام کیے۔
پھر 90 کی دہائی کے دوران ”آرنلڈ شوارزنیگر“ کی اداکاری والی دیگر فلمیں، جن میں ٹرو لائز اور اسٹرینج ڈیزسرفہرست ہیں، یہ فلمیں ریلیز ہوئیں، جس میں ”رالف فینس“ نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ دونوں فلموں کو ناقدین کی جانب سے خوب پذیرائی ملی، جبکہ باکس آفس پر کامیابی حاصل کی، بعد میں پیسے جمع کرنے کے معاملے میں خراب کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ پھر بھی ان فلموں کی شہرت نے جیمز کیمرون کو کی کامیابی میں مزید اپنا حصہ ڈالا۔
اسی طرح 1997 میں جیمز کیمرون کی عہدساز فلم”’ٹائی ٹینک“ریلیز ہوئی، جس میں امریکی اداکار”لیونارڈو ڈی کیپریو“ اور برطانوی اداکار”کیٹ ونسلیٹ“ نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔ 200 ملین ڈالرز کے بجٹ سے تیار ہونے والی یہ مہنگی ترین فلم، اپنی نمائش کے پہلے چند ہفتوں میں زیادہ آمدنی کمانے میں ناکام رہی، تاہم، اس نے جلد ہی ناظرین کو متاثر کیا اور سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم بن گئی۔ اس نے دنیا بھر میں مجموعی طور پر 2 بلین ڈالرز کا بزنس کیا اور تاریخ ساز فلم ثابت ہوئی۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں بالخصوص اینی میشن کی تخیلاتی کائنات میں 2009 کو ریلیز ہونے والی فلم”ایواتار“ تھری ڈی فارمیٹ میں ریلیز ہوئی۔ سام ورتھنگٹن، زو سلڈانا اور سیگورنی ویور نے صوتی اداکاری کی، یہ فلم تکنیکی طور پر بہت شاندار ثابت ہوئی۔ اس کی ہدایت کاری اور مشترکہ پروڈکشن جیمزکیمرون کی تھی۔ اس فلم کااسکرپٹ بھی انہوں نے ہی تحریر کیا تھا۔ اس فلم کی تکنیکی خصوصیات سنیما کی دنیا میں زبردست ثابت ہوئیں۔ اس فلم نے 1 بلین ڈالر زکمائے۔ دو سال بعد اس ہونہار ڈائریکٹر نے”’سینکٹم“ نامی آسٹریلوی تھری ڈی فلم میں ایگزیکٹو پروڈیوسر کے طور پر اپنا پیشہ ورانہ فریضہ بھی انجام دیا۔
جیمز کیمرون کی فلم سازی اور کچھ دستاویزی فلمیں
نئی صدی کی شروعات پر 2002 میں، جیمز کیمرون نے فلم”سولاریس “کے پروڈیوسر کے طور پر خدمات انجام دیں، یہ ایک سائنس فکشن ڈرامائی فلم ہے ،جس کی ہدایات”اسٹیون سوڈربر گ“ کی تھیں۔ اس فلم کو ملے جلے جائزے ملے اور اس نے باکس آفس پر خراب کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ دستاویزی فلمیں بنانے کے خواہشمند، جیمز کیمرون نے جرمن بیٹل شپ’’بسمارک کے بارے میں مہم‘‘ کی ہدایت کاری بھی کی۔ 2003 میں، انہوں نے ”آر ایم ایس۔ ٹائی ٹینک“ کے بارے میں دستاویزی فلم”گھوسٹس آف دی ابیاس“ کی ہدایت کاری کے فرائض بھی انجام دیے۔ اس فلم کو والٹ ڈزنی پکچرز اور والڈن میڈیا نے ریلیز کیا، جبکہ تھری ڈی تھیٹرز کے لیے بھی ڈیزائن کیاگیا تھا۔
جیمز کیمرون نے 2005 میں”ایلینز آف دی ڈیپ“ کی مشترکہ ہدایت کاری بھی کی، جو سمندر میں زندگی کی مختلف شکلوں کے بارے میں ایک دستاویزی فلم تھی۔ انہوں نے ”ٹائی ٹینک ایڈونچر“ میں ٹونی رابنسن کے ساتھ بھی کام کیا، جو ٹائی ٹینک جہاز کے تباہ ہونے کے بارے میں ایک اور دستاویزی فلم تھی۔ 2006 میں، انہوں نے”ایکسوڈس ڈی کوڈڈ“ کو مشترکہ طور پر تخلیق کرتے ہوئے بیان کیا۔ یہ بھی ایک دستاویزی فلم تھی، جس میں ایکسوڈس کے بائبلی اکاؤنٹ کو تلاش کیا گیا۔ 2007 میں، کیمرون اور ساتھی ہدایت کار”سمچا جیکوبوویسی “نے ”دی لاسٹ ٹومب آف جیسس“ تیار کیا۔ اسے ڈسکوری چینل پر 4 مارچ 2007 کو نشر کیا گیا تھا، یہ دستاویزی فلم متنازعہ مباحث کا شکار بھی ہوئی۔
فلم سیریز ”ایواتار“ کے حوالے سے نئی تبدیلیاں
جیمز کیمرون اپنی مشہور فلم ”ایواتارتھری“کے بعد کسی اور ڈائریکٹر کو ہدایتکاری کی ذمہ داری سونپنے کا سوچ رہے ہیں۔ جیمز کیمرون ایک دہائی سے زائد عرصے سے میں 2009 کی بلاک بسٹر فلم ”ایواتار“ کے سیکوئلز کی تیاری میں مصروف ہیں،اب انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ وہ مستقبل میں دیگر پروجیکٹس کے لیے ایواتار فرنچائز سے سبکدوشی پر غور کر رہے ہیں۔ ان کی پہلی ”ایواتار“فلم کا سیکوئل، جس کا نام”دی وے آف واٹر“ ہے، جو رواں برس 2022 میں سینما گھروں میں ریلیز کی جائے گی، نمائش کے لیے تیار ہے جبکہ ایواتار سیریز کی تیسری فلم کی شوٹنگ بھی جاری ہے، وہ 2024 میں ریلیز ہوگی۔
فلم ”ایواتار“ کے تیسرے سیکوئل پر کام مکمل کرنے کے بعد فلمساز نے بتایا، وہ یہ فلم سیریز کو کسی اور ہدایت کار کو سونپنے پر غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”ایواتار فلموں کی ہدایت کاری میں بہت وقت اور محنت صرف ہوتی ہے۔ میرے پاس کچھ اور بھی پروجیکٹس ہیں، جس کیلئے میں تیاری کر رہا ہوں، لہٰذا مزید بننے والی تمام ایواتار فلموں کے سیکوئلز کی ہدایت کاری کی ذمے داری دیگرڈائریکٹر کو دینا چاہوں گا، جن پر مجھے بھروسہ ہے۔“

اپنی موجودہ شریک حیات ”سوزی آمس“ کے ہمراہ
نجی زندگی کے چند گوشے
جیمز کیمرون پانچ بار شادی کر چکے ہیں۔ ان کی پہلی شادی 1978 سے 1984 تک ”شیرون ولیمز“ سے ہوئی تھی۔ ان کی اور شیرون کی طلاق کے ایک سال بعد، کیمرون نے فلم پروڈیوسر ”گیل این ہرڈ“ سے شادی کی، وہ 1980 کی دہائی کی فلموں میں ان کے ساتھ تھیں۔ 1989 میں ان سے بھی طلاق ہوگئی۔ ہرڈ سے علیحدگی کے فوراً بعد، کیمرون نے ہدایت کار ”کیتھرین بگیلو“ سے 1989 میں شادی کی۔ 1991 میں ان سے بھی معاملہ طلاق پر ختم ہوا، پھرجیمز کیمرون نے”دی ٹرمینیٹرسیریز“ میں کام کرنے والی اداکارہ ”لنڈا ہیملٹن“ کے ساتھ مراسم استوار کیے۔ اس سے ان دونوں کی بیٹی 1993 میں پیدا ہوئی۔ جیمز کیمرون اور سوزی آمس کے درمیان افیئر کی قیاس آرائیوں کے درمیان، جیمز کیمرون اور ہیملٹن شادی کے دو سال بعد الگ ہو گئے۔ انہوں نے 2000 میں اپنی پانچویں بیوی ”سوزی آمس“ سے شادی کی۔ ان سے ان کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں۔
ان کے خلاف 2013 میں، برطانوی آرٹسٹ ”راجر ڈین“ نے کاپی رائٹ کی شکایت درج کرائی، جس میں 50 ملین ڈالرز ہرجانے کا مطالبہ کیا گیا۔ ان کی فلم ”ایواتار“ سے متعلق، ان پر برطانوی آرٹسٹ کے فن پاروں کی اصل تصاویر کو جان بوجھ کر کاپی کرنے، پھیلانے اور استحصال کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس کیس کو 2014 میں امریکی ڈسٹرکٹ جج جیسی فرمین نے خارج کر دیا تھا۔ 2016 میں، پریمیئر ایگزیبیشنز،آر ایم ایس ٹائی ٹینک کے بہت سے نمونوں کے مالک نے دیوالیہ ہونے کے لیے درخواست دائر کی۔ جیمزکیمرون نے برطانیہ کے نیشنل میری ٹائم میوزیم اور نیشنل میوزیم شمالی آئرلینڈ کے نمونے کے لیے بولی لگانے کے فیصلے کی حمایت بھی کی، لیکن وہ باضابطہ بولی لگنے سے پہلے ایک سرمایہ کاری گروپ کے ذریعے حاصل کر لیے گئے۔

ہم عصر اور اپنے جیسے منفرد امریکی فلم ساز اسٹیون اسپیل برگ کے سنگ
ایوارڈز اور شہرت کے سنگ میل
پانی کے اندر فلم بندی اور ریموٹ وہیکل ٹیکنالوجی میں اشتراک جیسی خدمات کے اعتراف میں، یونیورسٹی آف ساؤتھمپٹن نے جیمز کیمرون کو یونیورسٹی کی طرف سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازاگیا۔ انہوں نے جولائی 2004 میں گریجویشن تقریب میں ذاتی طور پر اپنی ڈگری بھی وصول کی۔ وہ اپنی فلموں کے بارے میں پرجوش ہیں اور اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ فلم سازی سے متعلق اس طرح کے جذبات کو تجارتی چیز میں تبدیل ہونا چاہیے، لیکن وہ تجارت کو شوق سے آگے نہیں رکھتے۔ ان کا جذبہ واضح ہے، جس کو فلم بین محسوس کر سکتے ہیں۔ جیمز کیمرون کو ان گنت ایوارڈز کے لیے نامزد کیا گیا اور وہ کئی اعزازات اپنے نام کربھی چکے ہیں۔ وہ اب بھی اپنے کام کے لیے حقیقی معنوں میں پرعزم ڈائریکٹر بننے کی کوشش کرتے ہیں، جیسا کہ صرف ایک پرفیکشنسٹ ہی کر سکتا ہے، شاید یہی وجہ ہے، وہ عالمی سطح پر بہت مشہور ہیں کہ وہ نئی طرز کی فلمیں بنا سکتے ہیں، ہمارے تخیل کو دور تک پہنچا سکتے ہیں، جہاں ہم پہلے کبھی نہیں گئے ہوں گے۔
انہوں نے نیشنل اوشیانوگرافی سینٹر میں ایوارڈ قبول کیا۔ 2008 میں ان کو کینیڈا کے واک آف فیم پر ایک ستارہ ملا۔ ایک سال بعد، ہالی وڈ واک آف فیم پر 2,396 واں ستارہ ملا۔ 28 فروری 2010 کو، کیمرون کو ویژول ایفیکٹس سوسائٹی لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ جون 2012 میں، ان کو سائنس فکشن اور فنتاسی کے شعبے میں ان کے تعاون کے لیے میوزیم آف پوپ کلچر کے سائنس فکشن ہال آف فیم میں شامل کیا گیا۔ ان کی فلم ”ایواتار“ سے متاثر ہو کر، ڈزنی نے فلوریڈا میں ڈزنی اینیمل کنگڈم میں دی ورلڈ آف ایواتار پنڈوراکی تعمیر کی، جسے 27 مئی 2017 کو عوام کے لیے کھول دیا گیا۔
اسی طرح 2010 میں ٹائم میگزین نے جیمزکیمرون کو دنیا کے 100 بااثر لوگوں میں سے ایک قرار دیا۔ اسی سال، وہ دی گارڈین فلم پاور 100 میں فہرست میں سب سے اوپر اور نیو سٹیٹس مین کی دنیا میں 50 سب سے زیادہ بااثر شخصیات کی فہرست میں 30ویں نمبر پر تھے۔ 2013 میں، عوام میں سائنس کے لیے نیرنبرگ پرائز ملا، جو ہر سال”سکریپس انسٹی ٹیوٹ آف اوشینوگرافی“ کی طرف سے دیا جاتا ہے۔ 2019 میں، انہیں گورنر جنرل جولی پییٹ کے ذریعہ آرڈر آف کینیڈا کے ساتھی کے طور پر مقرر کیا گیا تھا۔ 2020 میں ایپکلف میڈیا ڈرامائی پوڈ کاسٹ بلاک بسٹر کے دوسرے سیزن میں ان کی شخصیت اور کیرئیر کو موضوع بنایا گیا۔ایوارڈ یافتہ صحافی اور فلمساز میٹ شراڈر کی طرف سے تخلیق اور بیان کردہ یہ آڈیو ڈراما بھی متاثر کن تھا، جس میں جیمز کیمرون کی زندگی اور کیریئر (ٹائی ٹینک کی تخلیق اور ریلیز تک) کی تاریخ بیان کو بیان کیاگیا۔ صوتی اداکار ”راس مارکونڈ“ نے جیمز کیمرون کے طور پر مرکزی کردار کو اپنی آواز دی۔

جیمز کیمرون پانی کے اندر اب تک تین ہزار گھنٹے گزار چکے ہیں،جو ایک ریکارڈ ہے
تین پروڈکشن کمپنیوں کا مشترکہ قیام
جیمز کیمرون نے لائٹ اسٹورم انٹرٹینمنٹ، ڈیجیٹل ڈومین اور ارتھ شپ پروڈکشنز یعنی تین پروڈکشن کمپنیوں کی مشترکہ بنیاد رکھی۔ فلم سازی کے علاوہ، وہ نیشنل جیوگرافک سی ایکسپلورربھی ہیں، انہوں نے اس موضوع پر بہت سی دستاویزی فلمیں تیار کی ہیں، جن میں 2003 میں ”گھوسٹس آف دی ابیس“ اور 2005 میں ”ایلینز آف دی ڈیپ“ شامل ہیں۔ جیمز کیمرون نے پانی کے اندر فلم بندی اور ریموٹ گاڑیوں کی ٹیکنالوجی میں بھی تعاون کیا ہے اور ڈیجیٹل فیوژن کیمرہ سسٹم بنانے میں مدد کی ہے۔ 2012 میں وہ ڈیپ سی تھری ڈی چیلنجر آبدوز میں، زمین میں سمندر کے سب سے گہرے حصے، ماریانا ٹرینچ کی تہہ تک سولو ڈیسنٹ کرنے والے پہلے شخص بن گئے ہیں۔

معروف امریکی اداکار آرنلڈ شوارزنیگر ، جنہوں نے ان کی کئی فلموں میں یادگار کردار نبھائے
جیمز کیمرون سے ان کے دوستوں کو شکایات رہتی ہیں۔ ان کی یادگار فلم’’ٹائی ٹینک‘‘ میں کام کرنے والی مرکزی کردار’’کیٹ ونسلیٹ‘‘ کا ماننا ہے”وہ دوبارہ ان کے ساتھ ہرگز کام نہیں کریں گی۔“ یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے ایواتار فلم سیریز میں پھر ان کے ساتھ کام کیا ہے ، شاید جیمز کے اس سخت گیر رویے کی وجہ سے ان کی ہر نئی فلم میں زیادہ تر نئے اداکار نظر آتے ہیں۔ اسکرین کے پیچھے کام کرنے والے بھی اکثر ان سے ناراض رہتے ہیں۔ وہ سب یہ مانتے ہیں کہ جیمز کیمرون بہت اچھے انسان ہیں، لیکن جب وہ کام کرنا شروع کرتے ہیں، تو ان سے بڑا ظالم کوئی نہیں ہوتا۔ بہترین کام کو وہ بار بار کرواتے ہیں، جس کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ ان کے پروڈیوسرز بھی ان سے نالاں رہتے ہیں کہ جو پروجیکٹ کا بجٹ طے ہوتا ہے، وہ اس میں اضافہ کرتے رہتے ہیں، وہ بھی ایسے وقت میں جب فلم درمیان میں لٹک رہی ہوتی ہے۔ ان کی عالمی شہرت یہ ہے کہ وہ ایک داستان گو اور متجسس، حیرت سے بھرے انسان ہیں۔
جیمز کیمرون کی فلمی دنیا
جیمزکیمرون کے خیالات کی جھلکیاں
وہ مختلف مواقع پر اپنے خیالات کااظہار کرتے رہتے ہیں، ایسی گفتگو میں وہ بہت کام کی باتیں کرتے ہیں، جن سے فلم سازی کی دنیا میں لوگ اور عام فلم بین بھی بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ ان کی گفتگو سے چنے ہوئے کچھ موتی حاضر خدمت ہیں ۔
تخیل ایک ایسی قوت ہے، جو حقیقت میں حقیقت کو ظاہر کرسکتی ہے۔ خود پر پابندیاں مت لگائیں، یہ کام دوسرے آپ کے لیے کریں گے۔ کیمرہ اٹھائیں اور کچھ ریکارڈ کریں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے، وہ کیمرہ کتنا چھوٹا ہے، یا یہ کام کتنا خوشگوار ہے۔ چاہے آپ کے دوست اور آپ کی بہن اسٹار ہوں۔ بطور ڈائریکٹر اپنا نام رکھیں۔ اب آپ ڈائریکٹر ہیں۔ اس کے بعد کی ہر چیز آپ کے بجٹ اور اس کے شرح تناسب سے ہوگی۔ امید کوئی حکمت عملی نہیں ہے۔ قسمت ایک عنصر نہیں ہے۔ خوف ایک آپشن نہیں ہے۔ کبھی کبھی آپ کی ساری زندگی ایک پاگل حرکت کے سرزد ہونے ہی میں گزر جاتی ہے۔ بہت سارے ہنرمند لوگ ہیں، جنہوں نے اپنے خواب پورے نہیں کیے کیونکہ انھوں نے بہت زیادہ سوچا تھا یا بہت محتاط اور ایمان کی چھلانگ اٹھانے کو تیار نہیں تھے۔ آپ کے حریف آپ کی ماضی کی کامیابیاں ہیں اور آپ کا تخیل اس میں شاندار حقیقت پیدا کرسکتا ہے۔ میں نے اپنے مقاصد کو کہیں زیادہ منصوبہ بندی سے مرتب کیا، پھر بھی جب میں ناکام ہوجاتا ہوں، تو میں بہت اونچے درجے پر ناکام ہوجاتا ہوں اورمیرا یہ عمل ہے، جو واقعتا پاگل پن کی مانند ہے، لیکن یہ حقیقت میں کام کرتا ہے۔ آپ جب واقعی کچھ اعلیٰ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو آپ کو بھی ناکام ہونے کے لیے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے اور کسی نئے منصوبے سے آغاز کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
جیمز کیمرون کی فلموں کے چند یادگار مناظر

ٹرمینیٹر ٹو، دی ججمنٹ ڈے ۔ ریلیز کا سال 1991

ٹرولائز ۔ ریلیز کا سال 1994

دی ایبیز ۔ ریلیز کا سال 1989

ٹائی ٹینک ۔ ریلیز کا سال 1997

گھوسٹس آف دی ایبائسز ۔ ریلیز کا سال 2003

ایواتار: دی وے آف واٹر ۔ ریلیز کا سال 2022
جیمز کیمرون کی فلمیں ۔ سال بہ سال
زینوجینیسس ۔ 1978 روک اینڈ رول ہائی اسکول ۔ 1979 ہیپی برتھ ڈے جیمینائی ۔ 1980 بیٹل بیونڈ دی اسٹارز ۔ 1980 اسکیپ فرام نیویارک ۔ 1981 گلیکسی آف ٹیرر ۔ 1981 پیرانہ ٹو ، دی اسپاننگ ۔ 1982 اینڈرائڈ ۔ 1982 دی ٹرمینیٹر ۔ 1984 ریمبو فرسٹ بلڈ پارٹ ٹو ۔ 1985 ایلینز ۔ 1986 دی ایبیز ۔ 1989 ٹرمینیٹر ٹو، دی ججمنٹ ڈے ۔ 1991 پوائنٹ بریک ۔ 1991 ٹرولائز ۔ 1994 اسٹرینج ڈیز ۔ 1995 ٹائی ٹینک ۔ 1997 دی میوز ۔ 1999 آٹو موٹیوز ۔ 2000 ہائی ہیلز اینڈ لو لائف ۔ 2001 سولاریز ۔ 2002 گھوسٹس آف دی ایبائسز ۔ 2003 وال کینوز آف ڈیپ سیز ۔ 2003 دی کٹنگ ایج: دی میجک آف مووی ایڈیٹنگ ۔ 2004 ایلینز آف دی ڈیپ ۔ 2005 ایکسپلولرز فرام دی ٹائی ٹینک ٹو دی مون ۔ 2006 ایواتار ون ۔ 2009 سینگٹم ۔ 2011 سائیڈ بائے سائیڈ ۔ 2012 سرک دی سولیل: ورلڈز اوے ۔ 2012 ڈیپ سی چیلنج تھری ڈی ۔ 2014 دی گیم چینجرز ۔ 2018 الیتابیٹل این جل ۔ 2019 ٹرمینیٹر ڈارک فیتھ ۔ 2019 اکاشنگا: دی بریوونز ۔ 2020 دی سیکز ۔ 2021 ایواتار: دی وے آف واٹر ۔ 2022 ایواتار تھری ۔ 2024 ایواتار فور ۔ 2026 ایواتار فائیو ۔ 2028