ماحولیاتی آلودگی کے تناظر میں بنائی گئی یہ فلمیں انسانیت کو لاحق خطرات کا ادراک دیتی ہیں ان مہلک ہتھیاروں نے جہاں انسانی جان کو بے مول کیا ہے، وہیں ماحول کو بھی خطرناک حد تک متاثر کیا ہے ماحولیاتی آلودگی نے قدرتی دنیا اور انسانی معاشرے کو شدید اور ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ہالی وڈ کی بنائی ہوئی ایک عمدہ فلم ”میناماتا“ جس میں امریکی اداکار”جونی ڈپ“ نے شاندار اداکاری سے دل موہ لیے ہیں جاپانی فلم سازوں نے انتہائی دکھی دل کے ساتھ اس طرح کے موضوعات پر حساس لیکن بہترین فلمیں تخلیق کی ہیں
فلم ایک ایسا میڈیم ہے، جس کے ذریعے سیاسی، سماجی، گھریلو، تاریخی اور ثقافتی مسائل کی حقیقت سے قریب تر منظر کشی کی جاتی ہے، جو مسائل کو سمجھنے اور انہیں حل کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دنیا بھر میں فلم انسان میں شعور اور آ گاہی بیدار کرتی ہے، جس سے ایک بہتراور صحت مند معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ یہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے، سائنس نے اپنی بہت سی حیرت انگیز ایجادات اور دریافتوں سے زمین کا نقشہ بدل دیا ہے۔ اسلحہ، حیاتیاتی ہتھیار، میزائل اور ایٹم بم ہر گزرتے دن کے ساتھ مہلک ہوتے جارہے ہیں اور وہ دن زیادہ دور نہیں، جب ایک بٹن کے دبانے سے پوری انسانیت ماضی کا قصہ بن جائے گی۔ ان مہلک ہتھیاروں نے جہاں انسانی جان کو بے مول کیا ہے، وہیں ماحول کو بھی خطرناک حد تک متاثر کیا ہے۔

جاپان کے شہر فوکوشیما میں ہونے والے نیوکلیئر حادثے پر بنی فلم ”فوکوشیما پچاس“ کا ایک منظر
عالمی ادارۂ صحت نے ماحولیاتی آلودگی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا ہے، جس نے قدرتی دنیا اور انسانی معاشرے کو شدید اور ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق عالمی سطح پر ہونے والی تقریباً 40فیصد اموات پانی، ہوا اور مٹی کی آلودگی سے ہوتی ہیں۔ دنیا کی بڑی معیشتوں میں سے ایک ہونے کے ناطے جاپان نے اپنے ماحول کو بہتر بنانے میں مختلف طریقے سے پیش رفت کی ہے۔ جاپان جغرافیائی لحاظ سے چار بڑے جزائر کے علاوہ ہزاروں دیگر چھوٹے جزائر پر مشتمل ہے۔ ان کی معیشت قدرتی وسائل مثلاً توانائی، خوراک اور دیگر خام مال کی درآمد پرزیادہ انحصار کرتی ہے، یہی وجہ ہے،جاپان کی قومی پالیسی ماحولیاتی تعلیم کے ذریعے ماحولیاتی تحفظ کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی پابند ہے۔ اپنی معیشت میں بے پناہ ترقی کے باوجود جاپان میں ماحولیاتی مسائل اپنی جگہ موجود ہیں ۔
دوسری جنگ عظیم کے وقت1945 میں ہیروشیما اور ناگاسا کی پر ایٹمی حملوں سے جہاں ہزاروں قیمتی جانوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، وہیں وہ قدرتی نظام فطرت بھی نشانہ بنا، جو انسانی حیات کے لیے لازم و ملزوم ہے۔ ایٹم بم کے زمین پر گرتے ہی اس کے اطراف کے ماحول کا درجہ حرارت سات ہزار دو سو فارن ہائٹ تک پہنچ جاتا ہے، اس درجۂ حرارت میں ہر طرح کے نباتات اور حیوانات صفحہ ہستی سے مٹ جاتے ہیں۔ جاپان میں ماحولیاتی تعلیم کا آغاز 1960 کی دہائی کے وسط میں ہوا۔ وہاں لوگوں میں ماحولیات کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے ماس میڈیا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماس میڈیا میں فلم سب سے زیادہ متاثر کن آڈیو ویژول میڈیم ہے، جو براہ راست انسان کی نفسیات، شعور اور احساسات پر اثر انداز ہوتا ہےاور جس کے نتیجے میں ایک خاص جذباتی ردِ عمل بیدار ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ہونے والی مختلف تحقیقات کے مطابق، فلم کا میڈیم، عوام میں ماحولیاتی بیداری پیدا کرنے کا ایک جادوئی آلہ ہے۔

جاپان کے شہر فوکوشیما میں ہونے والے نیوکلیئر حادثے کا اداس کردینے والا ایک منظر
ماحولیات کا تحفظ اب صرف دستاویزی فلموں کا مرکز نہیں رہا۔ یہ طویل عرصے سے مرکزی دھارے کی فلموں کا بھی موضوع رہا ہے۔ 2011 میں شمالی جاپان میں ہونے والا فوکو شیما حادثہ بھی چرنوبل تباہی کے بعد نیوکلیر پاور جنریشن کا دوسرا بد ترین جوہری حادثہ تھا۔ تابکاری کی وجہ سے اطراف کے ایک بڑے علاقے سے تقریبا ڈیڑھ لاکھ افراد کا انخلا کروایا گیا تھا۔ فوکوشیما بجلی گھر سے خارج ہونے والی تابکار آلودگی ابھی تک نہ صرف ماحول، بلکہ سمندری حیات کے لیے بھی بہت مضر ثابت ہو رہی ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق پلانٹ کے منتظمین، نگرانوں اور حکومت کی جانب سے ردِ عمل میں سنجیدہ کوتاہیاں تھیں۔ فوکوشیما جوہری پلانٹ کی تباہی کو ایک دہائی سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔
جاپانی اخبارات، ٹی وی، دستاویزی فلمیں، آزاد صحافی، سائنسدان، انسانی اور سماجی سائنسز کے دانشوروں نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران فوکوشیما حادثے کی جوہری تباہی پر مختلف طریقوں سے تنقیدی ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ فوکوشیما جوہری پلانٹ کے زلزلے کے تناظر میں ملک اور دنیا بھر کے لوگ افواہوں سے خوفزدہ تھے۔ اکثریت ایک گہری بے یقینی اور بے چینی کی لپیٹ میں گرفتار تھی کہ انہیں کیا کرنا چاہیے۔ فوکوشیما حادثے سے پہلے بھی کئی ایسے لوگ موجود تھے، جنہوں نے جوہری طاقت کے خاتمے کا مطالبہ کیاتھا،اجن میں شہری، کارکن، موسیقار اور دستاویزی فلم ساز شامل تھے، لیکن ان کی تعداد بہت کم تھی۔

فوکوشیما حادثے پر بنی فلم ”فوکوشیما پچاس“ کے ایک منظر میں دکھائے گئے دو ملازمین ، جو حالات کی سنگینی کااندازہ لگاتے ہوئے فکر مند دکھائی دے رہے ہیں
فوکوشیما حادثے کے بعد جوہری مخالف پوزیشن ایک بڑا موضوع بن گیا، جسے دانشوروں اور ذرائع ابلاغ کی اکثریت نے حمایت دی۔ تین سال سے بھی کم عرصے میں جاپان میں کئی آفات(بشمول ٹیلی وژن دستاویزی فلمیں اور شارٹ فلمیں) کے بارے میں تقریباً 300 غیر قانونی فلمیں تیار کی گئی ہیں۔ ان میں سے تقریباً ایک تہائی نے بنیادی طور پر یا کافی حد تک فوکوشیما جوہری تباہی کے اثرات یا جوہری طاقت اور تابکار آلودگی کے خطرات کو اجاگر کیا۔ دستاویزی فلموں کی کثرت کے برعکس فکشن فلموں کی قلت رہی ہے، جس میں خاص طور پر فوکوشیما حادثے کی عکاسی کی گئی ہے۔
جاپان دنیا کی قدیم ترین اور چند بڑی فلمی صنعتوں میں سے ایک ہے۔ جاپانی سنیما کی تاریخ 100 سال سے زیادہ عرصے پر محیط ہے۔ وہاں فلم سازی میں بڑی حد تک چار بڑی فلم کمپنیوں، توہو، شوچیکو، توئی اور کاڈوکاوا کا غلبہ رہا ہے، جو پروڈکشن، ڈسٹری بیوشن اور نمائش تینوں میں ہی اپنی مثال آپ ہیں۔ جاپان 2021 تک تیار کی جانے والی فیچر فلموں کی تعداد کے لحاظ سے چوتھا سب سے بڑا ملک ہے۔ 2011 کے بعد جاپانی فلم سازوں نے فوکوشیماحادثے کے نتیجے میں عوامی گفتگو اور سماجی بیانیے کی تبدیلی کو نہ صرف محسوس کیا، بلکہ اس حوالے سے دل کو چھو جانے والی کئی فلمیں منظر عام پر آئیں۔ بہتر ماحولیاتی موضوعات کے حوالے سے جاپانی فلم ساز”حیااومیازاکی“کی پانچ فلمیں قابل ذکر ہیں، جن میں ”پونیو“(2008) ”پرجوش دور“ (2001)”شہزادی مونوکے “(1999) ”مائی نیبر توتورو“ (1988) ”ہوا کی وادی کے نوسیکا“ (1984) شامل ہیں۔

عالمی شہرت یافتہ جاپانی فلم ساز ۔ حیااوکی میازاکی
اس معروف جاپانی فلم ساز”حیااومیازاکی“ انسانی معاشرے اور ماحولیاتی تحفظ کو درپیش پیچیدہ مسائل کو اپنی فلموں میں بہت خوبصورتی سےپیش کرتے ہیں۔ وہ ان فلموں میں جاپانی شنتو مت اور بدھ مت سے متاثر نقطہ نظر کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ان کی بہت سی فلموں کا موضوع”اینم ازم“ عقیدے سے متاثر ہے، جس کے مطابق دیوتا ہر چیز میں موجود ہے، یعنی درختوں کی روحیں، دریائی دیوتا اور جانوروں کے دیوتا ہمیں اکثر ان کی تخلیق کی ہوئی فلموں میں نظر آتے ہیں۔ قدرت کے ان نمائندوں اور فطرت کی طاقت کو ”حیااومیازاکی” کی فلموں میں باقاعدہ طور پر نمایاں کیا جاتا ہے، جس کا اعتراف فلم میں نہ صرف ہیرو اور ولن کرتے نظر آتے ہیں، بلکہ جو بھی فطرت کی تنبیہات کو نظر اندازکرے، اسے اس کے سنگین نتائج بھی بھگتنے پڑتے ہیں۔ ”حیااومیازاکی“ کی فلموں میں انسان اور فطرت باہم مربوط ہیں اور فطرت کی تباہی کو انسانی فلاح و بہبود کے لیے نقصان دہ دکھایا گیا ہے۔
معروف جاپانی فلم ساز”کاٹسویا ٹومیتا“ کی فلم ”ٹینزو“ حالیہ برسوں میں اس موضوع پر زیادہ حیرت انگیز فلموں میں سے ایک ہے۔ یہ فلم 2019 میں نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ”سیون سونو“ کی ہدایتکاری میں بننے والی”دی لینڈ آف ہوپ“ (2012) فوکوشیما جوہری پلانٹ کی تباہی کے فوری نفسیاتی اثرات کو واضح طور پر بیان کرتی ہے۔اس فلم کے ہدایت کار نے فوکوشیما حادثے کے دو سال بعدخیالی جگہ پر وہی المناک کہانی بیان کی ہے، جس میں دکھایا گیا ہے کہ تشدد کس طرح غیر مرئی ہو سکتا ہے۔
بدقسمتی سے”دی لینڈ آف ہوپ“ کو”سیون سونو“ کی بہترین فلموں میں سے ایک کے طور پر درج نہیں کیا جا سکتا، لیکن پھر بھی ایک متاثر کن کام ہے۔ انہیں کئی فلمیں پروڈیوس کرنے کی متعدد پیشکش موصول ہوئیں، تاہم جب انہوں نے مختلف پروڈکشن کمپنیوں کو مطلع کیا کہ وہ نیوکلیر پاور کے بارے میں فلم بنانا چاہتے تھے، تو انہیں کوئی خاطر خواہ جواب نہ ملا۔ اس مذکورہ فلم میں بڑے پیمانے پر آنے والے زلزلے سے جوہری بجلی گھر کو نقصان پہنچتاہے، جس کے نتیجے میں تابکاری پیدا ہو جاتی ہے اور20 کلومیٹر کے دائرے کے اندر انخلا زون قائم کر دیا جاتا ہے۔ اس فلم میں یہ بھی دکھایا گیا ہے، کس طرح ایک ہی سڑک کے مخالف اطراف میں رہنے والے دو خاندانوں کی قسمت کا تعین چند میٹر سے ہوتا ہے۔ ایک خاندان کو گھر خالی کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، کیونکہ ان کا گھر انخلا زون کے اندر آتا ہے، جبکہ دوسرا خاندان وہاں رہ سکتا ہے۔
ماحولیاتی آلودگی پر بہترین فلمیں بنانے والے جاپانی فلم ساز

ان جاپانی فلم سازوں میں کازو ہیاشی، کوجی شنتوکو، ماکاتوشنکائی، ریوایچی کیمیزوکا، ریوایچی ہیروکی، سیتسورو واکامتسو اورسیون سونو شامل ہیں
فلم میں ایسے کئی مناظر ہیں، جن میں جاپانیوں کو تابکاری کا سامنا کرنے والے اپنے ہی لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور دیگر ایسے بھی ہیں، جو بحرانوں سے نمٹنے میں حکام کی نااہلی پر تنقید کرتے ہیں۔ جوہری طاقت کو توانائی کے ماخذ کے طور پر استعمال کرنے کے بارے میں بھی واضح ناپسندیدگی ہے اور یہ احساس دلانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ہر چیز تابکاری سے آلودہ ہو چکی ہے۔ اسی طرح ایک اورفلم”فوکوشیما پچاس“ بھی ایک عمدہ ڈرامائی فلم ہے، جس کی ہدایتکاری ”سیتسورو واکاماتسو “نے اور اور فلم کا اسکرپٹ”یواوچی میکاوا“ نے تحریر کیا تھا ۔ یہ پہلی جاپانی فلم ہے، جس میں اس تباہی کی عکاسی کی گئی ہے اور صف اول کے کارکنوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، جن کی محنت نے اس سے کہیں زیادہ تباہی کو روکا۔
اسی طرح 2019میں ریلیز کی گئی جاپانی فلم جس کا نام”بولٹ“ ہے، وہ بھی زلزلوں سے ہونے والی تباہ کاریوں پر مبنی فلم تھی، جس کے ہدایت کار”کائزو ہیاشی“ تھے، اس کے ساتھ ساتھ زلزلوں سے تباہ ہونے والی فلموں میں”اوڈایاکا“ (2012) بھی شامل ہے، اگر بات کی جائےجاپان کے ہولناک سونامی سے ہونے والے تباہ کاریوں کی، تو2017میں ریلیز ہونے جانے والی فلم ”سائیڈ جاب“بھی خاندان کے تباہ ہونے پر مشتمل ہوتی ہے،فلم میں دکھایاگیاہے،کس طرح ایک نوجوان جوڑاسخت مشقت کرکے وہاں سے نکلتاہے۔ اس فلم کے ہدایت کار” ریوچی ہیروئکی“ ہیں۔
ہالی وڈ کی بنائی ہوئی فلم ”میناماتا“ جوکہ 2020 میں ریلیز ہوئی، اس میں امریکا کے ”جونی ڈپ“ جیسے منجھے ہوئے اداکار نے کام کیا، یہ فلم بھی متعلقہ موضوع پر ایک بہترین فلم ہے۔ امریکی اگرفلم ایکشن میں سب سے بہتر اور یورپی فلم کریکٹر میں سب سے زیادہ مضبوط ہیں، تو انسان اور اس کے ارد گرد کے ماحول کے درمیان تعلق جاپانی فلم سازوں کا مسلسل موضوع ہے، جو حیرت انگیز طور پر فطرت کے ساتھ یکجہتی کی عکاسی کرتا ہے۔ جاپانی فلموں کا مواد دوسرے ممالک کی فلموں سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ جاپانی فلم کے بارے میں جو چیز منفرد ہے، وہ ان کی منظر کشی ہے۔
ہالی وڈ کی دیگر فلموں کے مقابلے میں جاپانی فلموں میں کہانی میں کلائمیکس کی کمی ہوسکتی ہے اور اس کا دائرہ کار چھوٹا ہوسکتا ہے، تاہم جاپانی فلم حقیقت سے قریب ترین منظر کشی کرتی ہے، جس کی وجہ سے جب لوگ بڑی اسکرین پر اپنے ماضی سے جڑے واقعات کو رونما ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں، تو کچھ لمحوں کے لیے انہیں محسوس ہوتا ہے، یہ انہی کی کہانی ہے اور وہ کہانی کے کردار میں اپنا آپ محسوس کرتے ہیں۔اس فلم کے ہدایت کار”اینڈریو لیویٹس“ ہیں،جو فلم ساز ہونے کے علاوہ ، ایک بہت اچھے اداکار، مصور اور تدریس کے شعبے سے وابستہ ایک ایسی امریکی شخصیت ہیں،جن کی شہرت میں ہرگزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے۔
جاپانی سینما کا ماحولیاتی بحرانوں سے نمٹنے میں ایک اہم اور طاقتور مقام ہے۔ جاپانی ہدایت کاروں نے بھی تباہی کی حقیقت سے قریب تر منظر کشی کرتے ہوئے جائے وقوعہ کی تصاویر اور ویڈیو کا استعمال کرکے ماحولیاتی خطرات کا بہترین اور بروقت بصری تبصرہ پیش کیا ہے۔ فلم سازوں کی زیادہ تر یہی کوشش رہی کہ عوام میں شعور پیدا کیا جائے۔ ماحولیاتی آلودگی کس طرح ان کی زندگی، نفسیات اور ماحول پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ فوکوشیما حادثے میں سب سے اہم سبق یہ سیکھا گیا کہ جوہری پلانٹ کے لائسنس یافتگان اور ان کے ریگولیٹرز کو ماحولیاتی تعلیم دینے کی اشد ضرورت ہے۔ ان موضوعات پر بننے والی فلمیں جوہری پلانٹس کے نتیجے میں آنے والے خطرات کے بارے میں آگاہی پھیلانے میں ایک اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بین الاقوامی سطح پر ماحولیاتی بیداری پر بننے والی فلموں کی اہمیت کو تسلیم کیا جائے۔