سینما کا کچا مواد خود”زندگی“ ہے۔ یہ بات بہت ہی زبردست ہے اور ناقابل یقین ہے کہ اس دھرتی ، جس نے ، جہاں کے لوگوں نے بلکہ اس پر موجود زندگی کی ہر شکل نے فن مصوری ، مجسمہ سازی ، موسیقی اور ادب کو جس اعلیٰ سطح پر پہنچایا ہے ، وہ فلمیں بنانے والوں کو بھی کبھی مایوس کرے گی ۔ بس انہیں اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھنے ہوں گے۔۔۔۔۔۔ (ستیا جت رے، 1948)

ستیا جت رے
ستیہ جِت رے ایک سے زائد متوازی دنیاؤں کے آدمی رہے ہیں لیکن ان پر علم جیومٹری کا اطلاق نہیں ہوتا، ان کی یہ دنیائیں کہیں نہ کہیں یوں جا کر مل جاتی ہیں کہ ایک نیبولا سا بن جاتا ہے۔ میرے لیے بھی فلموں کی دو متوازی دنیائیں رہی ہیں۔ پہلی دُنیا میرے بچپن سے لے کر 1977 ء تک کی ہے۔ یہ دُنیا سینما گھروں اور ان میں لگنے والی فلموں، متعدد فلم فیسٹیولز اور ٹائون ہال لاہور میں فلم کلب کی طرف سے دکھائی جانے والی سنسر سے آزاد فلموں پر مبنی ہے۔ میں کئی فلموں کے حوالے سے اس دُنیا کے بارے میں اپنے مضامین میں پہلے بھی کئی بار بات کر چکا ہوں، لیکن یہ دنیا پاکستانی، کچھ ہندی(اردو) اور انگریزی فلموں تک محدود تھی۔
1977 ء تا 1980 ء تک کا زمانہ ایک سلیٹی دھند پر مبنی ہے۔ پاکستان میں یہ زہریلی دھند ختم تو تب ہوئی تھی جب پاکستان کی’ٹاپ براس‘ سمیت ضیاء الحق کا طیارہ اگست 1988ء میں گرنے سے پہلے ہی تباہ ہوگیا تھا اور نہ ٹاپ براس رہی تھی اور نہ ہی ان کے جسم، بس ایک دانت ہی ملا تھا لیکن یہ دھند فنون لطیفہ اور فلم سازی کو ایسے کھا گئی کہ آنے والی کئی دہائیوں یا شاید اب تک یہ میدان بانجھ پڑے ہیں۔
میرے لیے فلموں کی دوسری متوازی دُنیا 1980 ء میں شروع ہوئی۔ میں نے اپنا پہلا وی سی آر اسی برس خریدا تھا اور وی ایچ ایس کیسٹوں کے وسیلے سے ایک بار پھر فلموں کی دوسری دُنیا کا تعلق پہلی دُنیا سے یوں جڑا کہ سلیٹی دھند والے یہ تین سال دماغ پر ایک پتلی سی لکیر بن کر رہ گئے۔
یہ دوسری دنیا پہلی دُنیا کے مقابلے میں بہت وسیع رہی۔ ہندی (اردو) اور انگریزی فلموں کے علاوہ فرانسیسی، جرمن، اطالوی، مشرقی یورپ، سویڈن، سوویت یونین، جاپان اور ہند کی دیگر زبانوں میں بننے والی فلمیں بھی دستر س میں آ گئیں۔ اب ڈیجیٹل دور ہے اور یہ دُنیا مزید وسیع ہو گئی ہے۔
فلمسازوں و ہدایت کاروں، جن میں جین رینوئر، فرانکوس ٹرفائوٹ، جین لوک گوڈارڈ، وٹوریو ڈی سیکا، مائیکل اینجلو انتونیونی، انگمار برگمین، ارنسٹ لوبش، سرگئی آئزن اسٹائن، اکیرا کورو ساوا، اسٹینلے ببرک، شیام بینیگل، مرِنال سین، ستیہ جِت رے اور ان جیسے دیگر کے نام تو میں نے سن رکھے تھے لیکن ان کی اِکا دُکا فلموں کو دیکھنا فلم فیسٹیولز اور فلم کلب کے ہی مرہون منت رہا تھا۔
وی سی آر اور وی ایچ ایس کیسٹوں نے یہ رکاوٹ دور کی۔ اب فلمیں زیادہ تھیں اور دیکھنے کے لیے وقت کم۔ بہرحال’ڈی سیکا‘ کون تھا ؟ اس کا’ نیو رئیلزم‘ کیا تھا ؟ ’فرانکوس ٹرفائوٹ‘ کون تھا اور اس کے منجمد شاٹس کیا معانی رکھتے تھے،’جین لوک گوڈارڈ‘ کون تھا اور اس کے’جمپ کٹس‘، تحلیل ہوتے مناظر یا ایک دوسرے میں مکس ہوتے شاٹس فلموں میں کیا ندرت لے کر آئے؟ ہالی ووڈ کی مشہور فلم’سیون میگنیفسٹ‘ اکیرا کوروساوا کی کس فلم کا چربہ تھی؟ جرمن، سوویت اور مشرقی یورپ کی فلموں میں لائٹ اینڈ شیڈکا استعمال ہالی وڈ کی فلموں کے مقابلے میں کیونکر مختلف تھا؟ سٹینلے ببرک کو دوسرے ہالی ووڈ کے فلم میکروں پر کیونکر فوقیت حاصل تھی؟
چیتن آنند کی فلم’نیچا نگر‘(1946 ء ) کیوں اہم گردانی گئی کہ کانز میں گرینڈ پری ایوارڈ کی حقدار ٹھہری؟ آئی پی ٹی اے (اپٹا) کی بنائی فلم’دھرتی کے لال‘ اور رقاص’اود ئے شنکر ‘کی فلم’کلپنا‘ کیونکر اہم تھیں اور’کلپنا ‘ جیسی فلمیں دوبارہ کیوں نہ بن سکیں؟ وی کے مورتی نے کیونکر لائٹ اینڈ شیڈ کے منفرد انداز کو اپنایا اور گرودت کی فلم’کاغذ کے پھول‘(1959ء ) کو ایک یادگار فلم بنا ڈالا؟ حیدر آبادی شیام بینیگل کی فلم ’انُکر‘ (1973ء ) نے انڈیا میں جس سینما کی بنیاد ڈالی وہ متوازی کی بجائے’مڈل سینما‘ کیوں کہلاتا ہے؟ مجھے ان سب سوالوں کے جواب ایک ایک کرکے ملنے لگے تھے۔
میں 1980ء کی دہائی میں ہی مغربی بنگال کے سینما سے متعارف ہوا ( اس سے پیشتر جب مشرقی پاکستان الگ نہیں ہوا تھا تو میں وہاں بننے والی فلموں کو دیکھ چکا تھا اور’آخری سٹیشن ‘ جیسی فلمیں دیکھ کر مجھے اندازہ تھا کہ بنگال کا سینما، لاہور اور ممبئی کے سینما سے خاصا مختلف ہے۔) مارکسی مرنال سین، سوشل رئیلسٹ رتوِک گھاٹک اور تپن سنِہا اور پھر ستیہ جِت رے۔ ستیہ جِت رے صرف ایک فلم میکر ہی نہیں، بلکہ ایک ادیب، گیت نگار، موسیقار اور مصور بھی تھا۔
ستیہ جِت رے 2مئی 1921ء کو کولکتہ، بنگال میں سُوکمار رے کے ہاں پیدا ہوئے۔ وہ اپنی جگہ بنگالی لکھاری اور شاعر تھے اور بچوں کے ادب کے حوالے سے جانے جاتے تھے۔ وہ نہ صرف سائنس گریجوئیٹ تھے بلکہ فوٹوگرافی اور لِتھوگرافی کے حوالے سے بھی نام رکھتے تھے۔ ستیہ جِت رے کے دادا’اوپندر کشور رے چودھری‘ بھی بنگالی ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ مصور بھی تھے۔ اس کے علاوہ وہ بنگال میں پہلے گردانے جاتے ہیں، جنہوں نے بلاک میکنگ، ہاف ٹون اور رنگین پرنٹنگ کو متعارف کروایا۔ انہوں نے 1913 ء میں بچوں کا پہلا رنگین رسالہ’’سندیش‘‘ نکالا۔ 1914ء میں قائم کیا گیا ایسی چھپائی والا’یو۔رے اینڈ سنز‘ نامی پرنٹنگ پریس غالباً جنوبی ایشیا کا پہلا چھاپہ خانہ تھا۔ بچوں کی کہانیاں لکھنے کے علاوہ وہ ایک اچھے موسیقار بھی تھے اور انہوں نے موسیقی پر دو کتابیں بھی لکھیں۔ ان کی کتاب’ ٹنٹونی کی کتاب‘ بنگالی کے ادب اطفال میں ایک اہم نام ہے۔
رے کے برہمو سماجی دادا جو 1884ء کے بی اے پاس تھے، زیادہ عمر نہ پا سکے اور دسمبر1915 ء میں فوت ہو گئے۔ ان کی بیٹی شوکھلتا رائو( رے کی پھوپھو ) بھی بچوں کے لیے کہانیاں لکھتی تھیں اور درجن بھر کتابوں کی مصنفہ ہونے کے ساتھ ساتھ اخبار ’الوک‘ کی مدیرہ بھی تھیں۔ انہیں 1956ء میں ان کی کتاب’خود پڑھیں‘(نجی پورا) کے لیے انڈین ایوارڈ’قیصر ِ ہند ‘ بھی ملا تھا۔ والد کی وفات کے بعد ’ یو۔رے اینڈ سنز ‘ نامی پرنٹنگ پریس اور سندیس کی ذمہ داری سُوکمار رے کے کندھوں پر آن پڑی اور وہ اسے اپنے بھائیوں اور دیگر رشتہ داروں کی مدد سے لگ بھگ آٹھ سال تک نبھاتے رہے۔ وہ 35 برس کی عمر میں ستمبر 1923ء کو فوت ہوئے۔ ستیہ جِت رے اس وقت لگ بھگ ڈھائی برس کے تھے۔
ستیہ جِت رے نے اپنے والد کی طرح ہی پریذیڈنسی کالج، کولکتہ سے اکنامکس کے ساتھ بی اے کیا لیکن سکول کے زمانے کی فائن آرٹس میں دلچسپی برقرار رہی۔ یہ شوق انہیں وشوا۔ بھارتی یونیورسٹی ( شانتی نکیتن ) لے گیا جس کے لیے ان کی والدہ نے انہیں راغب کیا تھا۔ یہیں انہیں نندلال بوس اور بینودی پہاری مْکھرجی جیسے مصوروں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ انہی کی تحریک پر رے نے اجنتا، ایلورا، گھارا پوری اور دیگر اہم آثار قدیمہ کے مقامات پر جا کر ہند کے قدیم فنون لطیفہ کی جانکاری حاصل کی اور واپس آ کر 1943 ء میں ایک برطانوی اشتہاری کمپنی میں بطور جونئیر آرٹسٹ نوکری کر لی۔ یہاں انہیں اس تفاوت کا سامنا کرنا پڑا جو بدیسی اور دیسی میں تھا۔ رے کو 80 روپے ماہوار تنخواہ ملتی تھی جبکہ گورے ملازمین کی تنخواہیں مقامیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھیں۔ انہوں نے یہ نوکری چھوڑی اور ’ سگنیٹ پریس‘ میں ملازمت اختیار کر لی۔ اس کے مالک ڈی۔ کے۔ گپتا نے ان سے کتابوں کے سرورق بنانے کا کام لیا۔ دیگر کئی اہم کتابوں، بنگالی ادیبوں کی کتب کے علاوہ انہوں نے جواہر لال نہرو کی کتاب’ڈسکوری آف انڈیا‘ کا سرورق بھی بنایا۔
یہیں انہوں نے بیہوتی بھوشن بندیو اپادھیائے کے نیم سوانحی ناول’پاتھِر پانچلی‘(1929ء ) کو بچوں کے لیے بھی آسان بنگالی میں خاکوں( گرافکس ) کے ساتھ ڈھالا اور اسے’آم کا بھونپو‘ کا نام دیا۔ یاد رہے کہ جب 1955 ء میں انہوں نے’پاتھِر پانچلی‘ فلم بنائی تو یہی خاکے ان کے کام آئے تھے۔ 1947ء کا سال جہاں ہندوستان کی تاریخ میں آزادی و بٹوارے کے لحاظ سے اہم ہے، اسی طرح یہ ستیہ جِت رے کی زندگی کا بھی ایک اہم موڑ ہے۔ انہوں نے داس گپتا اور دیگر کے ساتھ مل کر کولکتہ فلم سوسائٹی کی بنیاد رکھی، یہ ویسا ہی ایک کلب تھا جیساساٹھ اور ستر کی دہائی کے اوائل میں لاہور میں بھی تھا جس کا میں خود بھی ممبر رہا۔ یہ بدیسی فلموں کو دکھانے کا اہتمام کرتی۔ اس کے اراکین انہیں دیکھتے اور ان پر سنجیدگی سے بحث و مباحثہ کرتے۔ وہیں نارمن کلئیر نامی ایک انگریز کے ذریعے رے کو مغربی موسیقی سے بھی رغبت ہوئی۔ نارمن کلئیر اور رے میں اب تین شوق مشترک تھے، بدیسی فلمیں دیکھنا اور شطرنج کی بازیاں لگاتے ہوئے مغربی کلاسیکی موسیقی سننا۔
1949ء کا سال بھی رے کی زندگی کا ایک اہم سال ہے۔ اس سال فرانسیسی فلم میکر’جین رینوئر‘ اپنی فلم’دریا‘(لی فلیو) بنانے کے حوالے سے کولکتہ آیا۔ یہ برطانوی ناول نگار ’رومرگوڈن‘ کے ناول سے ماخوذ تھی۔ وہ اس کا سکرپٹ لکھنے میں بھی شامل تھی۔ ناول کا پس منظر اور محل وقوع چونکہ انڈیا تھا، اس لیے اسے انڈیا میں ہی فلمایا جانا تھا۔ رے نے اس فلم کی شوٹنگ میں رینوئر کو گنگا اور اس کے مضافاتی علاقوں میں مناسب مقامات کی تلاش میں مدد کی اور یوں یہ رے کاپہلا تجربہ تھا
جو انہیں فلم میکنگ کے حوالے سے ہوا۔ رے نے اسی برس اپنی ایک کزن’بیجوائے داس‘ سے شادی بھی کی۔ اس وقت وہ ڈی۔ جے۔ کیمر کمپنی کے ساتھ وابستہ تھے۔ اگلے برس ہی رے کو اس کمپنی کے لندن دفتر بھیجا گیا۔ وہ وہاں چھ ماہ رہے۔ اس دوران انہوں نے لگ بھگ سو فلمیں دیکھیں جن میں ڈی سیکا کی’سائیکل چور‘(لادری دی بیچیکلیٹ) بھی تھی۔ ڈی سیکا کی فلم’سائیکل چور‘ کا جادو ایسا چلا کہ ستیہ جِت رے نے یہ فیصلہ کیا،’ میں نے بھی ایک فلم ساز بننا ہے۔’ ، لوٹتے ہی ان کے سامنے انڈیا کا پہلا عالمی فلمی میلہ تھا جس میں دکھائی جانے والی تقریباً ساری فلمیں ہی نیو رئیلزم سے بھری تھیں۔ اس میں انہوں نے جاپانی اکیرا کوروساوا کی فلم’راشومان ‘ کی جھلکیاں پہلی بار دیکھیں۔ ساتھ ہی انہیں یہ بھی سمجھ آ گئی تھی کہ ڈی سیکا اور اکیرا کوروساوا کی مانند انہیں اپنے اداکاروں کو سیٹ کی بجائے اصل جگہوں(لوکیشنز ) پر لے جا کر شوٹنگ کرنا ہو گی تاکہ وہ بھی کم خرچے میں نیو رئیلزم کو بنگالی سینما میں جگہ دے سکیں۔

ستیہ جت رے 1982 کے وینس فلم فیسٹیول (اٹلی) میں اپنے ہم عصر عالمی شہرت یافتہ فلم ساز آکیرا کوروساوا (جاپان) کے ہمراہ موجود ہیں

ستیہ جت رے 1982 کے کانز فلم فیسٹیول (فرانس) میں عالمی فلم سازوں ، جان بورمین (برطانیہ) بلی وائلڈر (امریکا) اور مائیکل اینجلو انٹونیونی (اٹلی) کے ساتھ محو گفتگو ہیں
یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ اس سب کے پیچھے’رے ‘ کا بچپن سے یہاں تک پہنچنے کا سفر اپنی داستان رکھتا ہے،’اوور فلمز، دیئرفلمز‘ میں وہ خود لکھتے ہیں؛
’’ میرے بچپن میںمیرا سینما دیکھا کافی زیادہ تھا۔ یہ چارلی چپلن یا کیٹن یا پھر ہیرلڈ لائڈ کی تازہ فلمیں دیکھنے پر مبنی ہوتا۔۔۔ اور پھر’ٹاکیز‘ کے آنے پر وہ دور آیا جس میں لاریل اور ہارڈی اہم رہا پھر ٹارزن والی فیز آئی۔ میں، جب پندرہ سولہ برس کا تھا تو مجھے یہ آزادی مل گئی کہ میں اپنی پسند کی فلمیں دیکھ سکوں۔۔۔ اب میں ویسٹرن، گینگسٹر، ہورر، میوزیکل، مزاحیہ، ڈرامے اور ہالی ووڈ کی دیگر فلمیں دیکھنے لگا۔ میں نے ایک چھوٹی سی ڈائری رکھی ہوئی تھی اور میں اس میں ان فلموں کے نام نوٹ کرتا اور ان پر مختصر تنقیدی نوٹ لکھتا اور ان کی، اپنی سمجھ کے مطابق، درجہ بندی کرتا۔
’’فلموں کا یہ نشہ کالج کے دوران بھی برقرار رہا ۔ پہلے میں نے سٹوڈیوز کے حوالے سے فلموں کی پہچان کرنا سیکھی؛ کونسی ’ایم جی ایم‘ کی ہو گی، کونسی’پیرامائونٹ‘ کی، وارنر کی پروڈکشن اور 20th سینچری فوکس میں کیا فرق تھا۔۔۔ لیکن پھر اس طرح کی مشقوں میں ایک واضح فرق آیا اور میرا دھیان’ہدایت کاروں‘ پر مرکوز ہوا۔ ۔۔ہدایت کار فورڈ ہدایت کار وائلر سے کیونکر مختلف تھا، وائلر اور کیپرا میں کیا فرق تھا اور کیپرا کیونکرسٹیونز سے الگ فلمیں بناتا تھا۔ یوں ہر طرح کی درجہ بندی، سٹوڈیو، کہانی ، اداکار سب پس پشت چلے گئے۔۔۔ اب اہم تھے تو بس ہدایت کار ۔۔۔اور پھر میرے سامنے فرانسیسی، جرمن اور سوویت سینما کے خدوخال بھی واضح ہونے لگے۔۔۔ اور پھر ایک اتوار میں نے شمالی کولکتہ کے ایک سینما میں’سرگئی آئزن اسٹائن‘ کی فلم’آئیون دی ٹیربیل‘ کا پہلا پارٹ دیکھا۔۔۔ فلم کی اداسی بھری گوتھک تکنیک، چیرکاسوف کی اداکاری، پروکوفیوکی موسیقی سارا دن اور رات بھر مجھ پر چھائی رہی، یہاں تک کہ مجھے خوابوں میں بھی یہ فلم بے چین کرتی رہی کہ میں سوتے میں ہانپتا ہوا اٹھ جاتا۔۔۔‘‘
رے کا یہ کہنا اس تسلسل کو بیان کرتا ہے جو بچپن سے ہی ان کی سینما میں دلچسپی کو بڑھاوا دیتے ہوئے انہیں’پاتھِر پانچلی ‘بنانے تک لاتا ہے۔
چیداند داس گپتا اپنی کتاب’دی سینما آف ستیا جِت رے‘ میں لکھتے ہیں؛
’’رے نے، اگر اِن فلموں سے اثر نہ لیا ہوتا تو شاید اُن کی پہلی فلم اُس سکرپٹ پر مبنی ہوتی جو انہوں نے 40 ء کی دہائی کے اوائلی سالوں میں لکھی تھی اور یہ انتھونی ہوپ کے ناول’زینڈا کا قیدی‘ (دی پریزن آف زینڈا) سے ماخوذ تھی یا وہ ٹیگور کی’گھرے۔ باہرے‘ میں پیشہ ور اداکاروں کی بجائے نئے چہروں کو لے کر پہلی فلم بناتے اور شایدیہ ناکام ہوتی۔ ‘‘
ہاں تو بات ہو رہی تھی اصل جگہوں ( لوکیشنز) پر جا کر شوٹنگ کرنے کی، تو یہ بات وہ لوگ باآسانی سمجھ سکتے ہیں جو لینڈ سکیپ پینٹنگ کو سمجھتے ہیں کہ اصل لوکیشن کی کیا اہمیت اور قباحتیں ہوتی ہیں۔ ایسا ہی کچھ رے کے ساتھ’پاتھِر پانچلی‘ کی شوٹنگ کے پہلے روز ہی ہوا تھا۔ اس فلم کی شوٹنگ کے حوالے سے رے اپنی کتاب ’اوور فلمز، دیئر فلمز‘ میں لکھتے ہیں؛
’’مجھے پاتھِر پانچلی کی شوٹنگ کا پہلا دن بہت اچھی طرح یاد ہے۔۔۔۔ سکرین پلے میں ایک ایپی سوڈ یہ تھا کہ کہانی کے دو بچے، بہن بھائی اپنے گائوں سے آوارہ گردی کرتے ہوئے ایسے میدانوں میں جا نکلتے ہیں جہاں’کاش‘ گھاس پھولوں سے لدی ہے۔ وہ وہاں آپس میں لڑتے جھگڑتے ہیں اور بعد میں صلح بھی کر لیتے ہیں اور پھر جب وہ گھر کی جانب لوٹتے ہیں تو انہیں پہلی بار ریل گاڑی دیکھنے کا اتفاق ہوتا ہے۔
میں نے اس سے فلم کی شوٹنگ کرنا شروع کی۔۔۔ ہم نے پہلے روز آٹھ شاٹ لیے اور یہ نامکمل تھے۔۔۔ ہم اگلی اتوار پھر وہیں جا پہنچے لیکن کیا وہ وہی جگہ تھی، جہاں ہم نے پہلے فلم بندی کی تھی؟ ۔۔۔ جہاں ایک ہفتہ پہلے سفیدپھولوں کا سمندر ٹھاٹیں مار رہا تھا وہاں اب بھوری گھاس کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ ہمیں معلوم تھا کہ’کاش‘ کے پھول موسمی ہوتے ہیں لیکن ان کی زندگی اتنی مختصر ہوتی ہے، یہ ہمیں معلوم نہ تھا۔ ایک مقامی بندے نے ہمیں بتایا کہ یہ پھول مویشیوں کی خوراک ہوتی ہے۔۔۔ گائیں بھینسیں ایک روز قبل ہماری ساری’سینری ‘چبا کر ہضم کر چکی تھیں۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔
1 تبصرہ
ماشاءاللہ بہت خوبصورت تحریر۔
ستیا جیت رے کی کچھ فلمیں دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے۔ انکی چھاپ آج بھی کہیں کہیں بھارتی فلموں میں نظر آجاتی ہے۔ یہ رسالہ خرم سہیل کی بہت اچھی کاوش ہے جو کہ میرے جیسے فلمی شائقین کو فلم اور اسکے فن پر سنجیدہ مطالعے کا موقع فراہم کرتا ہے۔