آخر ایسا کیا ہے سپرمین کے بعد، سب سے مقبول سپر ہیرو”بیٹ مین“ کی ٹرائیلوجی کرنے کے لیے فلم ساز کیسے راضی ہوگئے؟ ایک سپر ہیرو ”بیٹ مین“ کس طرح عام زندگی میں”بروس وین“ بن کر لوگوں میں گھلتا ملتا ہے حقیقتاً وہ یہ سب دُنیا کی نظر میں بیٹ مین سے لاتعلق رکھنے کے لیے کرتا ہے، تاکہ وہ اپنی انتقامی جد و جہد جاری رکھے جہاں ناانصافی اور لاقانونیت بڑھتی جارہی ہو، وہاں خودساختہ قانون کا رکھوالا بننے سے کس طرح مسائل بہتر ہوتے ہیں؟
عالمی سینما میں ایک کے بعد ایک آنے والی سپرہیرو فلمیں زیادہ تر کامیاب جا رہی ہیں، لیکن بعض نامی گرامی ،قابل احترام ڈائریکٹرز ان کو سینما کا حصہ نہیں مانتے، کیونکہ ان کے نزدیک شاید یہ بچکانہ خیال ہے، جس کو پذیرائی معاشرے میں”انفینٹل ازم“ کے رجحان کی وجہ سے مل رہی ہے۔ ایسا خیال برطانیہ کے مشہور کامیڈین”اسٹیفن فرائی“ اور کسی حد تک ہالی وڈ کے نامور ڈائریکٹر”مارٹن سکورسی“ کا بھی ہے، تو آخر ایسا کیا ہے سپرمین کے بعد، سب سے مقبول سپرہیرو بیٹ مین کی ٹرائیلوجی کرنے کے لیے کرسٹوفر نولان کیسے راضی ہو گئے؟
فلمی دنیا میں جن کو اس فلم ساز کے بارے میں پتہ ہے، وہ یہ جانتے ہیں کہ ان کے لیے ،کس پروجیکٹ میں حامی بھرنے کی وجہ صرف پیسے کی چمک نہیں، شاید اسی لیے ان کی دوسری فلم”دی ڈارک نائٹ“ پہلی سپرہیرو فلم تھی، جس نے باکس آفس پر 1 بلین ڈالرز کمانے کا معرکہ طے کیا۔ اس کے علاوہ، آسکرز کی تاریخ میں پہلی بار ایک سپر ہیرو فلم کے ولن کا کردار ادا کرنے والے اداکار کو بیسٹ سپورٹنگ ایکٹر کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔
ایسی فلموں کی قدر جاننے کے لیے یہ ضروری ہے کہ سپرہیرو کے کانسٹیوم پر توجہ کم اور اُس کے کردار پر توجہ زیادہ دی جائے۔ ان کی جہد، اُن کی جستجو اور ان کی اقدار ایسی کہانیوں کو شائقین میں مقبول بناتی ہیں یا یہ ان کے شائقین کے دل کو چھوجاتی ہیں، مگر اس کے لیے ڈائریکٹر کو ضروری میٹریل سمجھنا بہت ضروری ہے، ورنہ سطحی کام دکھانے میں آتا ہے۔اس بات کو اس عظیم فلم ساز کرسٹوفر نولان نے محسوس کیا کہ بیٹ مین محض بدمعاشوں کو مارنے والی بلا نہیں ہے، بلکہ ایک ایسے انسانی جذبے کے نام ہے، جسے ہم انتقام کا بدلہ بھی کہہ سکتے ہیں، مگر کیا بات یہیں پر آ کر رک جاتی ہے؟ ایسا نہیں ہے۔
بیٹ مین عام زندگی میں بروس وین بن کر لوگوں میں گھلتا ملتا ہے، ایک رئیس ہونے کے ناطے گوتھم کی اشرافیہ اُس کے آگے پیچھے گھومتی ہے، مگر حقیقی طور پر وہ یہ سب دُنیا کی نظر میں بیٹ مین سے لاتعلق رکھنے کے لیے کرتا ہے، تاکہ وہ اپنا انتقام جد و جہد جاری رکھے رات کے اندھیروں میں، لیکن وہ کیا چیز ہے جو بیٹ مین کو ماضی کے ہیروزسے منفرد کرتی ہے؟ ٹارزن، سندباد، ہرکولیس یہاں تک کہ سکندراعظم وغیرہ وہ کردار ہیں، جو اپنی ذات اور انا کے لیے لڑتے تھے۔ اُن کی فتوحات کا مقصد انسانیت کی فلاح نہیں تھا، جبکہ سپرمین کی تخلیق کے بعد، ہیروازم کا خیال بدل گیا، جیسے کہ امریکی کامکس کے مورخ ”رائے شوارٹز“ نے اپنی کتاب”از سپرمین سرکمسائزڈ“ میں بیان کیا ہے۔
کرسٹوفر نولان نے یہ دیکھا کہ کامکس میں بیٹ مین اُس ننھے بچے کی تڑپ کا ہے، جس نے اپنی ماں، باپ کو ایک چور کے ہاتھوں قتل ہوتے دیکھا۔ مال و دولت ہونے کے باوجود گوتھم شہر کا کرپٹ نظام وین فیملی کو انصاف نہیں دلا پاتا۔ وہ انتقام کی پیاس گزرتے وقت کے ساتھ بروس وین کو ختم کر دیتی ہے اور بیٹ مین اس مقصد کے ساتھ دنیا میں ظاہر ہوتا ہے کہ جس طرح چور ، بدمعاش، مجرم لوگوں کے دلوں میں دہشت بٹھاتے ہیں، ویسے ہی اب اُن کے دلوں میں قانون کے رکھوالے کا خوف نہیں، بلکہ دہشت بٹھانے کی ضرورت ہے۔ یہ تو بیٹ مین کا ابتدائی یا سطحی تعارف ہو گیا، نولان نے اپنی ٹرائیلوجی میں لوگوں کو یہ دکھایا ہے کہ ذہنوں پر لگی چوٹیں کسی قدر معاشرے کے لیے مہلک ہوسکتی ہیں اور قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے۔
ان باتوں پراگرعمل نہ کیاجائے،تو پھر کیسے وہ مزید مشکلات کو جنم دے سکتے ہیں اور عدل کا قیام ان سب کو روکنے کے لیے کس قدر ضروری ہے۔ نفسیاتی چوٹ کا بہترین مظہر ہمیں بروس وین، جوکر اور ٹوفیس /ہاروے ڈینٹ کے کرداروں میں دکھتا ہے، جبکہ احساس خداوندی کا خوف ناک مظہر”بیٹ مین بیگنز“ میں دراصل گاڈ کمپلیکس دکھائی دیتا ہے اور”دی ڈارک نائٹ ڈوئیلٹی“ اور”دی داڑک نائٹ رائزز“ عوامی مملکت کے اصول جیسے حساس موضوعات پر روشنی ڈالتے ہیں۔ کرسٹوفر نولان ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے، کیا ایک ایسی دنیا میں، جہاں ناانصافی اور لاقانونیت بڑھتی جارہی ہو، وہاں کسی کے خودساختہ قانون کا رکھوالا بننے سے کیا مسائل بہتر ہوتے ہیں یا مزید خراب ہو جاتے ہیں۔
یہ سوالات پچھلے 80 برس سے کامکس کی دنیا میں اٹھائے جا رہے ہیں۔ افسوس کہ پاکستان میں یہ شوق 90 کی دہائی سے تنزلی کا شکار ہے، ورنہ ان فلموں کے شائقین اور ان پر تنقید کرنے والے یہ جانتے ہیں ،کرسٹوفر نولان نے ان فلموں کی کہانیوں کے لیے ان کا سہارا لیا۔ یہ انوکھا کام نہیں،اس فلم ساز کی خصوصیت یہ ہے،انہوں نے کامکس کبھی پڑھی نہیں تھیں، لیکن جب اُنہوں نے یہ فلمیں بنانےکی ہامی بھری ،تو پھر کامکس کو نہ صرف پڑھا، بلکہ ہر کردار کی نفسیات کو سمجھا اور اس کو اس طریقے سے اجاگر کیا کہ ہمیں وہ ہماری زندگی اور معاشرے کا عکاسی کریں۔
اس کے ساتھ ہمیں یہ بھی یاد دلایا کہ انسان نیک تمنائوں کے باوجود اس نہج پر پہنچ جاتے ہیں کہ درندے اور ان کے درمیان کوئی فرق نہیں رہتا ہے۔”بیٹ مین بیگنز“ اس سلسلے کی سب سے پہلی فلم ہمیں ایک نہایت حساس موضوع سے آگاہ کرتی ہے، جس کا نام ہے گاڈ کمپلیکس یا احساس خداوندی کہ جہاں ایک شخص اس بات کا بیڑا اٹھالے کہ وہ معاشرے میں تمام خرابیوں کے ازالے کا ٹھیکیدار ہے، وہ اس بات کا اختیار رکھتا ہے کہ خیر اور شر کا توازن قائم کیا جائے۔
اس سلسلے کی دوسری فلم”دی ڈارک نائٹ“بھی نفسیات اور فلسفے کے مشکل سوالات کو ہمارے سامنے رکھتی ہے۔ ایک سکے کے دو رخ، کیا ایسا ہی معاملہ ہے بیٹ مین اور جوکر کے درمیان؟ ایک طرف انسان کے قیام کو یقینی بنانے والا فرد اور دوسری طرف معاشرت ، قانون اور انسانی جان و مال کی حرمت کی دھجیاں بکھیر دینے والے جنونی۔ کیا بیٹ مین کو اپنے وجود کو ثابت کرنے کے لیے جوکر جیسے مجرموں کی ضرورت ہے اور کیا جوکر کو اپنی درندگی کے لیے بیٹ مین یا کسی چوکس وجود کی ضرورت ہے؟ کیا بیٹ مین حقیقت ہے اور بروس وین اُس کا محض ایک سایا ہے اور بیٹ مین کی جہد کو قائم رکھنے کے لیے گوتھم میں مجرموں کا ہونا ضروری ہے؟ یہی وجہ ہے کہ اس سلسلے میں کوہ نور ہیرے کی حیثیت رکھتی ہے۔
اگر مغربی دنیا میں بڑھتی ہوئی اقتصادی ناانصافی کے نتیجے میں پروان چڑھنے والی تاریخوں کا ایک منظر”دی ڈارک نائٹ رائزز“ میں ہمیں دکھا دیا گیا تھا، یہ تب کی بات ہے ، جب کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ، بوریس جوہانسن، وکٹر اربن جیسی شخصیات لبرل جمہوری نظام کی طاقت سنبھال سکتے ہیں۔ یہ ٹرائیلوجی اس لیے اہم ہے کہ اس میں توازن برقرار رکھا گیا۔ زیک سنائیڈر کی طرح حد سے زیادہ سمبلائزڈ مناظر کو طول دینا یا مارول اسٹوڈیوز کی طرح بے تکا مزاح شامل کرنا، ان فلموں میں نہیں ملتا، بلکہ ایک حساس دل رکھنے والے انسان کی داستان ہم سب کو دکھاتی ہیں، جس کے اردگرد اہل و خیر چند اور اہل شر آزاد دندناتے ہیں۔ کیا یہی صورت حال دنیا میں عام ہوتی نظر آ رہی ہے؟ یہ تکونی فلم سیریز ایسے ہی سوالوں کو جنم دیتی ہے۔