ہالی وڈ کے معروف اداکار اور گلوکار”ول اسمتھ“ ، جنہوں 2022 میں بہترین اداکار کا آسکر ایوارڈ بھی حاصل کیا ہے۔ انہوں نے اس بائیوگرافی میں اپنی زندگی کے متعدد گوشوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے مختلف پہلوؤں پر بہت کھل کر بات کی ہے۔ دورِحاضر میں شوبز کی دنیا میں یہ سوانح عمری سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ہے، جس کا اردو زبان میں پہلی بار باقاعدہ اور مستند ترجمہ پیش کیا جارہا ہے۔
اس ترجمے کا اہتمام مہورت نے کیا ہے۔ اس بائیوگرافی کے اردو مترجم یوسف خان ہیں۔ قارئین مہورت کی ویب سائٹ پر اور میگزین میں اسے سلسلہ وار پڑھ سکتے ہیں اور یوٹیوب چینل پر اس کتاب کے ترجمے کے تناظر میں ویڈیوز بھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ یہ کتاب ایک عام آدمی سے خاص آدمی بننے تک کی کہانی کو نہایت دلکش انداز میں پیش کرتی ہے۔ امید ہے، آپ کو ہماری کوشش پسند آئے گی۔ (ادارہ)
(باب 1 ۔ دوسرا حصہ)
شہر کے مشرقی کنارے پر واقع سیاہ فام پڑوس’’ہوم میڈ‘‘ میں کیرولین ایلین برائٹ نام کی ایک پیٹس برگ لڑکی نے جنم لیا، جو مقامی لڑکیوں کی طرح متوسط قد کاٹھ، متناسب خدوخال کی حامل،بلا کی چست چاق و چوبند اور پرجوش لڑکی تھی۔ دلکش نقوش کی مالک یہ نفیس خاتون ہماری ماں تھیں، جنہیں ہم’’مام مام‘‘ پکارا کرتے تھے، ان کی حسین لانبی، مخروطی انگلیاں پیا نو پر’’فورلائز‘‘ کی دلکش ذہین چھیڑتیں، تو سماعتیں دم بخود رہ جاتیں۔ ویٹنگ ہائوس ہائی اسکول کی یہ ممتاز طالبہ’’کارنیگی میلن یونیورسٹی‘‘ میں داخلہ لینے والی پہلی نیگرو خاتون تھیں۔
’مام مام‘اکثر یہ جملہ دوہراتی تھیں۔ ’’دنیا کی کوئی طاقت تم سے علم کی میراث نہیں چھین سکتی۔‘‘ آخری سانس تک یہ تین کام ان کی ترجیحات میں سرفہرست رہے۔ تعلیم، تعلیم اور بس تعلیم تجارت، بینکاری، مالیات، خرید و فروخت اور ٹھیکہ جات کے معاملات سے انہیں شوق کی حد تک لگائو تھا۔ یہی ان کی خود کفالت کا راز تھا، نجی ضروریات کے لیے کبھی انہیں دستِ سوال دراز کرتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔

ول اسمتھ کے بچپن کے دن
اُس دور کے حالات کی رُو سے ماں کی ازدواجی زندگی نے بھی بڑی سُرعت سے رُخ بدلے۔ بیس سال کی عمر میں ہی شادی رچالی، تین سالہ سلور جوبلی پر شاید وہ پیٹس برگ کی واحد اعلیٰ تعلیم یافتہ افریقی نژاد امریکن بیوہ ماں تھی، جو انفرادی صلاحیت، تعلیمی اہلیت اور بے مثال لیاقت کے باوجود اپنے معیار سے پست سطح کی ملازمت قبول کرنے پر مجبور ہوئی، لیکن اندر کی امنگ نےبہت جلد مجبوری کا یہ طوق اتار پھینکا، گھر کا اسباب سمیٹا اور بچی کو سینے سے چمٹائے فلاڈیلفیا میں اپنی والدہ یعنی ہماری نانی صاحبہ’’گی گی‘‘ کے گھر آدھمکیں۔ جہاں صلاح و مشورے شروع ہوگئے۔
انہی دنوں میں1964 کو’’مام مام‘‘ فلی کے ایک’’فیڈیلٹی بینک‘‘ میں قانونی مشیر کی حیثیت سے تعینات تھیں، ایک شام وہ اپنی سہیلیوں کے ہمراہ پیشہ ورانہ اُمور کی پیش بندی کے سلسلے میں ایک پارٹی میں مدعو تھیں، مگر تقدیر میں کچھ اور ہی کتھا تھی، ان کے خواب وخیال میں بھی نہیں تھا، یہاںاتفاقیہ طور پر کسی شخص سے متعارف ہونے جا رہی ہیں، گپ شپ کے دوران اُن کی ایک سہیلی نے سرگوشی کرتے ہوئے ایک شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ترغیب دی کہ’’تمھیں اس جوانِ رعنا ولِ اسمتھ سے ایک بار ضرور ہیلو ہائے کرلینی چاہیے!‘‘
مم و ڈیڈ کی خصلتوں کا اگر سرسری ساموازنہ کیا جاتا، تو یہ کہنے میں کوئی مبالغہ نہ ہوتا کہ دونوں کی طبیعتوں میں بعدالمشر قین پایا جاتا ہے۔ ’’ڈیڈیو‘‘ کی شخصیت جاذب نظر، سحر انگیز اور طبیعت میں شوخی و مستی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی، یہی وجہ ہے ،وہ جہاں بھی جاتے، مرکز نگاہ ہوجاتے جبکہ ان کے برعکس’مام مام‘اپنی خاموش طبیعت اور محتاط رویے کے باعث لوگوں کی توجہ حاصل نہ کرپاتیں۔ ـ’مام مام‘کی خاموشی اور احتیاط کا سبب فطری شرم، کم آمیزی یا گویائی کی جھجک نہیں تھی بلکہ ان کی عالمانہ حیثیت انہیں لب کشائی سے اس وقت تک روکے رکھتی تھی، جب تک خاموشی پر گیرائی کی برتری ثابت کرنا لازم نہ ہو جاتا۔ انہیں حروف و صورت کی وقعت، قدر وقیمت اور بروقت برتنے کا سلیقہ خوب آتا تھا۔
میری والدہ اکثر ایک جملہ کہا کرتی تھیں کہ دنیا کی کوئی طاقت تم سے علم کی میراث نہیں چھین سکتی
وہ یہ ہنر سوچ سمجھ کر آزماتی تھیں اور جب وہ گفتگو کا آغاز کرتیں، تو ایک ایک جملے سے شائستگی اور عالمانہ شجر کی مہک محسوس ہوتی تھی۔ ایسی مہذب، نفیس اور شائستہ خاتون کے مقابل’’ڈیڈیو‘‘ بیسویں صدی کی پانچویں دہائی کی وحشیانہ حبشی زبان میں چیختے، چنگھاڑتے، غراتے،دھارٹے ہوئے فحش گوئی تک اُتر آتے اور اس پر طُرہ یہ کہ سُبکی یا ہتک محسوس کرنے کی بجائے اپنی اس لغوگویائی پر اُلٹا اِتراتے پھرتے تھے۔ ایک بار میرے گناہ گار کانوں نے خود ان کی یہ مغلظات سماعت کی ہیں کہ وہ کسی کو غلیظ چوہے، کمینے اوردیگر کئی متنازعہ القابات سے نواز رہے تھے۔ ’’مام مام‘‘ کی آب و کوثر سے دُھلی زبان اس بیہودگی سے کوئی لگا نہ کھاتی تھی۔
ہاں البتہ بادی النظر میں’’ڈیڈیو‘‘ کے نرخ اس لحاظ سے بالا تھے کہ ایک دراز قد، وجیہہ اور پرکشش نوجوان فائر انجن والی گھلے چھت کی لال رنگی پونسٹیلک کار میں فراٹے بھرتا پھرے، شوخ طبیعت اور من چلا ہو، گانے بجائے کے ہنر میںبھی یکتا ہو تو پھر ان دِلربا اوصاف کے ساتھ، سماجی تفوق اُسے ہر دلعزیزی کے منصب سے کیونکر دور کرسکتا ہے۔ وہ تو ایک مشتاق بازیگرکی طرح ایک ہاتھ میں شراب کی بوتل تھامے اور دوسرے ہاتھ کی دو انگلیوں میں سگریٹ دبائے ہجوم کے بیچوں بیچ پہنچ کر اپنی رنگین داستان سنانی شروع کر دیتے، تو مجمع پرسکوت طاری ہو جاتا اورہر کوئی’’ڈیڈیو‘‘ کی سحر طراز شخصیت میں جکڑا ہمہ تن گوش ان کی لن ترانیاں سنتا رہتا۔ اس پر مستزاد’’ڈیڈیو‘‘ میں ودیعت کچھ خدادا صلاحیتیں بھی انہیں دوسروں سے ممتاز بنائے رکھتی تھیں، وہ ذہین ہونے کے ساتھ بلا کے مردم شناس بھی تھے۔

اداکار کے لڑکپن کا ایک انداز
مافی الضمیر کے اظہار اور اپنے موقف کی برتری ثابت کرنے میں تاک، اشارہ ابرو سے جسے چاہتے شیشے میں سامنے کی میز تو جیسے انہیں نذر نذرانے کے طور پر پیش کردی جاتی تھی۔ ’’ڈیڈیو‘‘ تو’’مام مام‘‘ کو پہلی نظر میں ہی بھاگئے کیونکہ ان پر پہلی نظر پڑتے ہی’’مام مام‘‘ کی نگاہوں میں دراز قد’’مارون گے‘‘ کا سراپا گھوم گیا۔ ہم دراز قدی کے علاوہ، دو ایک خرابیوں کی ناپسندیدگی کے باوجود’’ڈیڈیو‘‘ کی ہمہ صفت مرعوب کن ہردلعزیز شخصیت، کھلنڈرانہ سرگرمیاں اور آسودہ مالی حالت’’مام مام‘‘ کو اس صیاد کے دام الفت میں گھیر لائیں، وہ دام ہر رنگ زمین میں بڑی طمانیت اور آسودگی محسوس کرنے لگیں۔

ول اسمتھ اپنی والدہ کے سنگ
یقیناً’’مام مام‘‘ کے ماضی کے دریچوں سے ڈیڈی کی اول اول ملاقاتوںکا حسین تصور ایک دھندلے سے نقش کی صورت اُبھرتا ہوگا، جس کے اردگرد اور بہت سی تصویریں رنگ بکھیرتی دکھائی دیتی ہوں گی۔ کلبوں اور ریستورانوں میں گزری رنگین شاموں میں لطیفوں کے طومار، قہقہوں کی بوچھاڑ اور ہمہ وقت غیر سنجیدہ بے مصرف کھلکھلاتی، مضحکہ خیز صورت حال کی اکتاہٹ سے قطع نظر ممی کے لیے یہ حقیقت باعث اطمینان تھی کہ’’ڈیڈیو‘‘ ایک بلند نگاہ پرعزم، پرجوش اور پانے کی تڑپ ہے، سب سے بڑھ کر اس وقت بھی ان کا ذاتی کاروبار ہے، کئی ملازمین ان کے ماتحت ہیں اور کمال کی بات تو یہ ہے کہ سفید فاموں کے پڑوس میں وہ ان سے کام لینے کے شدید آرزو مند ہیں۔
مگر مشکل یہ آن پڑی تھی کہ’’ڈیڈیو‘‘ صرف اور صرف اپنے زورِ بازو پر بھروسہ کرنے کے قائل تھے، وہ بلا اشتراک اپنی اہلیت اور قابلیت کی بنیاد پر کامیابیاں سمیٹنے کے تمنائی تھے۔ ’’ڈیڈیو‘‘ اس مردانہ تعصب کے مئوید تھے کہ عورت کے مقابلے مرد زیادہ دانا و بینا اورزیرک پرندہ ہے، یہی وجہ ہے، انہوں نے ’’مام مام‘‘ کی تعلیمی استعداد اور قابلیت سے کبھی استفادے کی زحمت گوارا نہیں کی اور نہ ہی پیشہ ورانہ اشتراکِ عمل قائم کرنے کا سوچا۔
’’ڈیڈیو‘‘ کی بزعم خویش شاید ذہنی برتری کی وجہ یہ ہو کہ ان کے اکتسابی علم کی بنیاد زمانے کی ٹھوکریںتھیں، تلخ تجربات وحوادث نے انہیں دانش و بینش سکھائی، کھرے کھرے کی پہچان عطا کی اور بلاشبہ ان کی عملی زندگی سے کشید کئے گئے اسباق تک’’مام مام‘‘ کے کتابی علم کے فرمودات کو ئی معنی نہیں رکھتے تھے۔’’مام مام‘‘ نے زندگی کو سنہرے الفاظ کی روشنی میں سمجھا جبکہ’’ڈیڈیو‘‘ آزمائش کے پتھروں سے ٹکراٹکرا کر کھوٹے کھرے کی پرکھ کے اہل بنے، یوں’’مام مام‘‘ کا علم ڈیڈی کے تجربے کے آگے دم مارنے کی مجال نہ رکھتا تھا۔
اس قدر واضح ذہنی فرق کے باوجود قدرتی طور پر کچھ مشترکہ دلچسپیوں کے لیے سازگار ترین دنیا سُروں کی دنیاتھی، جہاں دونوں ہم ذوق و ہم زباں تھے۔ وہ دونوں جیز، بلوز اور آر اینڈ بی کی دھنوں پر سر دھنتے تھے، ان کی زندگی کا ایک شاندار پیریڈ باہم جذب وانجذاب، والہانہ پیار، قابل رشک چاہت میں کامل یکسوئی اور ہم آہنگی کی کہکشاں میں لتھڑاہوا۔ فراغت کے اوقات میں شاداں و فرحاںمستی بیسمنٹ اور جاز کلبوں کی رقص و سرود کی محافل میں حِظ اُٹھاتے گزرتے۔
بعض لوگوں کی زندگی کے معاملات میں قدرتی اتفاقات نے اتنی گہری مماثلت پیدا کر دی ہوتی ہے کہ ان پر معمولی سی سوچ بچار ہی کرتے کرتے انسان حیرت کے سمندر میں غوطے کھانے لگتا ہے، مثال کے طور پر میری ماں اور دادی کی زندگی کا ہی موازنہ کرکے دیکھ لیں۔ ماں کا نام ہیلن اور دادی کا نام ایلن ہے۔ دونوں کا پیشہ نرسنگ اور دونوں ہی نائٹ شفٹ میں ڈیوٹی پر مامور، دونوں اٹھتی جوانی یعنی بیس سال کی عمر میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں، دونوں کی پہلی ازدواجی زندگی کا دورانیہ انتہائی مختصر رہا، جس میں دونوں نے ایک ایک بیٹی کو جنم دیا اور حیرت انگیز اتفاق کہ دونوں نے اپنی بیٹی کا نام’’پام‘‘ تجویز کیا۔
نیا گرا آبشار کے پاس منعقدہ ایک سادہ سی تقریب میں میرے والدین بالاآخر قانونی طور پر ایک دوسرے کے جیون ساتھی بن گئے۔ شادی رچاتے ہی’’ڈیڈیو‘‘ اپنی نوبیاہتا دلہن کو لے کر اپنی ماں یعنی ہماری دادی کے گھر آبسے، جو ویسٹ فلاڈیلفیا کی ففٹی فورتھ اسٹریٹ میں واقع تھا۔ ازدواجی زندگی کی شروعات میں تو دونوں نے بڑی دانشمندی سے جداگانہ صفات کے باوصف ہم آہنگ ہوکر ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے بھرپور توانائیوں کے ساتھ، جہد معاش میں قابل رشک اشتراک پیدا کیا۔
’’مام مام‘‘ نے بڑی ذمہ داری سے ’’ڈیڈیو‘‘ کے جملہ دفتری امور مثلاََ پے رول، معاہدات، محاصلات اور اکائونٹنگ یعنی تمام’’پیپرورک‘‘ سنبھال لیا جبکہ ’’ڈیڈیو‘‘ حسب عادات حتی الوسع تن دہی، جانفشانی سے محنت شاقہ میں جت گئے، جس کا عین متوقع نتیجہ ان کے بینک بیلنس میں روز افزوں اضافہ تھا۔ یقین نہیں آتا کہ بعد ازاں وہ ان سنہری بیتے ایام کو حسرت و اشتیاق سے زیر بحث نہ لاتے ہوں گے، جب ایک دوسرے کی محبت میں سرشار دو پُرجوش کاندھے سے کاندھا ملائے، دنیا و مافیہا سے بے نیاز شاہراہ زندگی پر آگے ہی آگے بڑھتے چلے جا رہے تھے۔

ول اسمتھ اپنے چھوٹے بھائی کے ہمراہ، جن سے ان کے بچپن کی بہت ساری یادیں جڑی ہیں
میں اپنا مکمل نام’’ولیم کیرول اسمتھ دوم‘‘ بتاتے وقت ہمیشہ یہ مراد’’جونیئر‘‘ ہرگز نہیں ہے کیونکہ جب بھی مجھے کوئی’اسمتھ دوم ‘کی بجائے’’اسمتھ جونیئر‘‘ کہہ کر مخاطب کرتا، تو ’’ڈیڈیو‘‘ برہم ہوکر اُسے متنبہ کرتے کہ اُن کے بیٹے کو آئندہ اس بے ہودہ لفظ’’جونیئر‘‘ سے نہ پکارے کیونکہ’’جونیئر‘‘ اور’سینئر‘‘ کے سابقے کو میرے اور اپنے دونوں کے لیے کم رتبہ اور ہتک آمیز محسوس کرتے، تو اِس دنیا میں میری تشریف آوری 1968 کے ماہ ستمبر کی 25ویں تاریخ کو ہوئی۔’’مام مام‘‘ کی زبانی پتا چلا، مابدولت کے چہرے پر دلکش مسکان ڈیرہ جمائے رکھتی تھی۔ (انٹ شنٹ، بے ربط اور اوٹ پٹانگ طولانی باتیں، میرا وطیرہ اور بلاوجہ شورشرابہ، چیخم دھاڑ اور ہلا گلا سرشت میں شامل تھا)۔

اداکار کا ایک شوخ انداز
میری دادی’’گی گی‘‘ جیفرسن اسپتال سنیٹر سٹی فلاڈیلفیا میں رات کے پچھلے پہر کی شفٹ میں بطورِ نرس ڈیوٹی انجام دیتی تھیں، لہٰذا ’’ڈیڈیو‘‘ اور’’مام مام‘‘ کے آفس جاتے ہی دن بھر میں انہی کی نگرانی میں رہتا۔ دادی کے مکان کی کشادہ ڈیوڑھی ہی بنیادی طور پر میری تمثیل نگاری کا وہ اولین اسٹیج ثابت ہوئی، جس کے خوش رنگ نقوش آگے چل کر قوسِ قزح کی طرح نکھرتے اور بکھرتے چلے گئے۔ دادی بیچاری ڈیوڑھی پر مجھے تھامے کھڑی رہتی اور میں نارتھ ففٹی فورتھ اسٹریٹ پر آتے جاتے راہگیروں کی توجہ کا مرکز بنتا۔ اپنی جذباتی تیز وطرار لایعنی باتوں سے ہنسانے میں مشغول رہتا، دادی بھی اپنی تھکن بھول بھال کر میری معصوم باتوں میں کھوئی رہتی۔ اس قدر کمسنی میں یہ اولین نظارہ بازی سے میں بھی خوب لطف اندوز ہوتا رہتا تھا۔

تھامس جیفرسن اسپتال کا داخلی راستہ
میرے جڑواں بہن بھائی ایلن اور ہیری میری پیدائش کے تین سال بعد 5 مئی 1971 کو پیدا ہوئے، اگر اس گنتی میں اپنی سوتیلی بہن’’پام‘‘ کو بھی شمار کرلوں، تو دادی کے گھر میں دادی سمیت چھ نفوس گزر بسر کر رہے تھے۔ وہ تو قسمت یاور تھی’’ڈیڈیو‘‘ میں نارتھ فلی کی بیوپارا نہ حس بیدار تھی، وہ ریفریجریٹرز کی ریپئرنگ کے کام کو بھی غیر سُودمند جان کر چھوڑ بیٹھے اور بڑی بڑی سپر مارکیٹوں میں فریز رزاور ریفریجریٹرز کی تنصیب و دیکھ بھال کے ٹھیکے لینے کی بھاگ دوڑ شروع کر دی۔ یہ کاروبار دیکھتے ہی دیکھتے چمک اُٹھا۔’’ڈیڈیو‘‘ کی مہم جُو طبیعت نے اسے فلی کے گرد ونواح کے تمام مضافات تک وسعت دے ڈالی۔
اُن کی پارہ صفت خصلت نے اب بھی انہیں چین سے نہ بیٹھنے دیا، ان کے دماغ میں ایک معمل بیڑا تیار کرنے کا منصوبہ سر اٹھانے لگا، ذہن آمادہ ہوجائے تو پھر دیر کیسی؟ انہوں نے فوری طور پر ریفریجریٹرز اور الیکٹریکل ٹیکنیشنز کی فوج ظفر موج کی خدمات مستعار لے لی اور ٹرکوں کا بیڑا بنانے کی غرض سے ایک چھوٹی سی عمارت بھی کرائے پر حاصل کرلی۔ ایک بار’’ڈیڈیو‘‘ کوئی کام شروع کر دیں، تو اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ان پر جنونی کیفیت طاری ہوجاتی تھی، جوا نہیں آخری لمحے تک بے کلی و بے قرار رکھتی۔
ایک بار فلی میں خلافِ معمول’’خون منجمد کرنے والی سردی پڑی، گیس کی ترسیل تک رک گئی، پورا فلی گیس کی بندش پر بیزار اول فول بک رہا تھا، اتفاق سے’’ڈیڈیو‘‘ مالی بحران کا بھی شکار تھے۔ رگوں میں خون جما دینے والی ٹھنڈ، گیس کی نایابی اور تنگدستی۔’’ڈیڈیو‘‘ کے دماغ میں پھلجڑیاں سی پھوٹنے لگیں، انہیں معلوم تھا، فلی کے بیشتر گھروں میں کیروسین سے جلنے والے چولھے خراب پڑے ہیں، انہوں نے جھٹ کیروسین آئل کے چولھوں کی مرمت کا طریقہ کار سکھانے کی کتابیں پکڑیں اور قلیل ترین وقت میں تمام طریقے ازبر کرلیے اور بھرپور طور سے فلی میں عدم دستیابی کی صورت کے تشہیری پمفلٹ تقسیم کرا دیئے۔ اس یخ موسم میں آس پاس کے خراب خستہ حال چولھوں کے ڈھیر لگ گئے۔’’ڈیڈیو‘‘ نے اپنی تسلی کے لیے ایک چولھے پر آزمائشی مشق کی۔

ول اسمتھ اپنی والدہ کے ہمراہ خوشگوار موڈ میں
دو دن تک اپنے گھر میں ہی استعمال کرکے اس کی کارکردگی کا بغور مشاہدہ کیا، جب اچھی طرح مطمئن ہوگئے، تو روزانہ کی بنیاد پر دس بارہ چولھوں کی مرمت کرتے اور تسلی بخش کارکردگی پر مالکوں کو لوٹا دیتے۔’’ڈیڈیو‘‘ کی اس معرکہ آرائی کی بدولت گیس کی سہولت نہ ہونے کے باجود ویسٹ فلی کے درجنوں مکانات کو اس برفانی سردی میں بھی کیروسین چولھوں نے حرارت سے معمور رکھا جبکہ’’ڈیڈیو‘‘ نے تو گیس سروس ہی منقطع کرا دی اور پورا موسم سرما اپنے اہل خانہ کے ساتھ گرما گرم ماحول میں گزارا، نہلے پہ دہلا یہ کہ اس کسمپرسی کے عالم میں چولہوں کی مرمت کے عوض ایک خطیر رقم بھی کمالی۔
خیر یہ تو ایک واقعہ’’ڈیڈیو‘‘ کی مشکل حالات میں محنت و ذہانت کے حوالے سے برسبیل تذکرہ در آیا، بات ہورہی تھی ریفریجرٹیرز کی تنصیب کے ٹھیکوں کی، جس میں ان کا بزنس اس تیزی سے پھلا پھولا کہ انہوں نے’’گی گی‘‘ کے گھر سے کوئی ایک میل کی مسافت پر ویسٹ فلی ہی کے ایک مڈل کلاس ایریا’’وینی فیلڈ‘‘ میں ایک مکان خرید لیا۔ اس وقت میری عمر بمشکل دو سال کی تھی۔
5943 ووڈ کرلینٹ ایونیو کی ایک گلی، جس میں ایک قطار میں گھنے سرسبز درخت ایستادہ تھے، بھوری مائل سرخ اینٹوں سے یکساں ڈیزائن کے بنے باہم منسلک انہی مکانات میں سے ایک مکان ہمارا تھا ، جس میں میری اُٹھان ہوئی۔ یہ مکانات ہی باہم مشابہہ اور یکساں نوعیت کے نہیں تھے بلکہ یہاں کے مکینوں کے لباس، زبان اور رہن سہن کے انداز میں بھی سرمُو فرق نہ تھا، یہاںتک کہ اگر آپ نے بال بڑھا کر پونی باندھ رکھی ہے، تو بلا تشکیک یقین کرلیجیے کہ آپ کے پڑوسی نے بھی ایسا ہی کیا ہوگا۔
علاقے کا ہر شخص دوسرے شخص سے بخوبی آشنا تھا، مکانوں اور مکینوں کی یہ ہیئت پختہ اجتماعی شعور کی علامت تھی۔ مختصر یہ کہ بیسویں صدی کی ساتویں دہائی کی نیگرو برادری کے بارے میں جو انتہائی تصور آپ کے ذہن میں آتا ہے، وہی ہوا کرتا تھا۔ گلی کے اس پار بیڈر مڈل اسکول کی عمارت تھی، جس میں کھیل کا پختہ میدان آج بھی میرے ذہن میں ہلچل مچائے رکھتا ہے۔ یہاں باسکٹ بال، بیس بال، ڈبل ڈچ، گرلز جمپن، اول ہیڈرز، اور سلیپ باکسنگ جیسے کھیلوںکا میلہ لگا رہتا تھا۔ خاص طور پر’’ سمر ہٹ‘‘ اور’’پوپ گوز دی واٹر پلگ‘‘ تو ذہن سے محو ہونے کا نام نہیں لیتے۔
پڑوس میں بچوں کی بھرمار تھی، جو گھروںسے باہر ہی کھیل کود کا شوق پورا کرسکتے تھے، اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیجیے کہ ہمارے ایک مربع گز کے مکان میں لگ بھگ چالیس کے قریب ہم عمر بچے اودھم مچائے رکھتے تھے۔ اسٹیسی ڈیوڈ، ریسی، چیری، مائیکل ٹیڈی، شون، اُومر اور خدا جانے کون کون جبکہ ان کے ہمراہ ان کے دیگر بہن بھائی اور دیگر بلاکوں کے بچوں کو تو میں نے شمار ہی نہیں کیا۔ ان ہم عمروں میں سیلسی بروک کے بارے میں یہ دعوی کیا جاسکتا ہے، وہ میری بہت سی پرانی بلکہ پہلی دوست تھی، ہمارا ٹکرائو تو اسی دن ہوگیا تھا، جس دن ہم ووڈ کریسٹ منتقل ہوئے تھے اور آمنے سامنے کھڑی ہمارے مائوں نے ہمارے اسٹرولرز(بچہ گاڑیاں) کو ایک دوسرے کی طرف دھکیل کر ہمیں باہم ملاقات کا موقع فراہم کیا تھا، اس وقت ہم ابھی زندگی کی دوسری بہار ہی دیکھنے میں مگن تھے کہ ہماری آنکھیں چار ہوئیں۔ ہم دو بہن بھائی تھے اور وہ تین، ہمیں گھر کے آنگن میں ہنستے کھیلتے پانچ سال گزر گئے۔ ساتویں سال دل میں یہ احساس چٹکیاں لینے لگا کہ میں اُسے چاہنے لگا ہوں، مگر شومئی قسمت کہ اسے ڈیوڈ براڈرن بھاتا تھا، جو مجھ سے دو سال بڑا تھا۔
وہ بڑا ہی رنگین اور سنگین دور تھا، اس مڈل کلاس سوسائٹی میں آزادانہ جنسی میل ملاپ ایک عام سی بات تھی۔ ماحول کی اس رنگینی میں سنگین بات یہ تھی کہ اوائل عمری سے ہی میں ہدفِ تنقید بنتا رہا اور مسلسل طعن و تشینع کے نشانے پر رہا ، صد شکرکہ اس گنجلک ماحول نے بھی مجھے گینگسٹر یا منشیات فروش بنانے کی بجائے’’ریپر‘‘ بننے کی طرف راغب کیا، شاید ایک نفیس گلی میں والدین کی بھرپورنگرانی کے باعث میں بھٹکنے سے بچ گیا۔ چودہ سال کی عمر تک تو میں سفید فام دوستوں کے ساتھ ایک کیتھولک اسکول میں زیر تعلیم رہا۔ میری ماں باقاعدہ کالج کی ایک ڈگری یافتہ خاتون تھیں اور والد تمام تر خامیوں کے باجود اولاد کو اس قدر عزیز رکھتے تھے کہ کھانے کی میز پر اپنے ہاتھوں سے کھانا چُنتے۔

امریکی اداکار ول اسمتھ نے اس کتاب کے ابتدائی باب میں والد کا ایک ایسا نقشہ کھینچا ہے کہ وہ اس کہانی میں قاری کو بیک وقت ہیرو اور ولن دکھائی دیتے محسوس ہوتے ہیں
’’ہپ ہاپ‘‘ سیاہ فام نوجوانوں کے بارے میں دنیا بھر میں جو عمومی رائے رائج ہوچکی ہے، میرا معاملہ ان سے قدرے مختلف ہے۔ میں ایک بے ضابطہ سا آرٹسٹ تھا۔ نکتہ چیں مجھے’’سوفٹ، وُآک، کوری‘‘ اور ایک’’ببل گم ریپر‘‘ اور نہ جانے کیا کیا کہتے ہوں گے، یقینا ًیہ بے جا انگشت نمائی مجھے مشتعل کر دیتی تھی، یہ کچوکے جیسے مجھے احساس دلاتے رہتے کہ میں کوئی کمتر قسم کی مخلوق ہوں، خاص طور پر موسیقی کے علم سے نابلد، اجڈ اور گنوار لوگوں کی بے جا تنقید مجھے اس حد تک ذہنی کرب میں مبتلا کر دیتی تھی کہ مجھے اپنے آپ سے گھن آنے لگتی اور یہ احساس دوچند ہوجاتا کہ میں ایک کم حوصلہ اور بزدل شخص ہوں۔
٭٭٭٭