ہالی وڈ کے معروف اداکار اور گلوکار”ول اسمتھ“ ، جنہوں 2022 میں بہترین اداکار کا آسکر ایوارڈ بھی حاصل کیا ہے۔ انہوں نے اس بائیوگرافی میں اپنی زندگی کے متعدد گوشوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے مختلف پہلوؤں پر بہت کھل کر بات کی ہے۔ دورِحاضر میں شوبز کی دنیا میں یہ سوانح عمری سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ہے، جس کا اردو زبان میں پہلی بار باقاعدہ اور مستند ترجمہ پیش کیا جارہا ہے۔
اس ترجمے کا اہتمام مہورت نے کیا ہے۔ اس بائیوگرافی کے اردو مترجم یوسف خان ہیں۔ قارئین مہورت کی ویب سائٹ پر اور میگزین میں اسے سلسلہ وار پڑھ سکتے ہیں اور یوٹیوب چینل پر اس کتاب کے ترجمے کے تناظر میں ویڈیوز بھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ یہ کتاب ایک عام آدمی سے خاص آدمی بننے تک کی کہانی کو نہایت دلکش انداز میں پیش کرتی ہے۔ امید ہے، آپ کو ہماری کوشش پسند آئے گی۔ (ادارہ)
(باب 1 ۔ تیسرا حصہ)
’’ڈیڈیو‘‘ کا فوجی ساختہ ذہن دنیا کے ہر کام کو ایک مہم سمجھ کر ایک کمانڈو کے طرز عمل کی طرح انجام دینے کا خُوگر تھا۔ ہمارا ووڈ کرلینٹ ایونیو صرف ایک مکان نہیں بلکہ بیرک بنا ہوا تھا، جس میں ایک گھرانہ نہیں بلکہ فوجی پلاٹون قیام پذیر تھی، جو لیفٹینٹ’’ڈیڈیو‘‘ کی کمانڈ میں ہر کام خواہ وہ کمروں کی صفائی کا ہو یا بستر لگانے کا، ایک فوجی سربراہ کے حکم کی تعمیل میں انجام پاتے تھے۔ کوئی بھی مشورہ یا نصیحت گھر کے سربراہ کی بزرگانہ وحکیمانہ رنگ میں نہیں، فوجی اعلامیہ کے طور پر کچھ اس انداز میں جاری ہوتی تھی’’اپنے ایریا کی نگرانی کریں۔‘‘

باپ بیٹا خوشگوار موڈ میں
’’ڈیڈیو‘‘ کا گھر عام گھریلو ماحول سے یکسر مختلف’’مشن در مشن‘‘ کا پٹارا تھا، اسکول کا ہوم ورک ہو، باتھ روم کی صفائی ہو، فرش کی دھلائی ہو یا سُپرمارکیٹ سے اشیائے صرف کی خریداری، کسی بھی کام میں سُستی، لاپرواہی، تاخیر یا ناکامی حُکم عدولی کے مترادف تھی، جس کی بھیانک سزا لازم تھی، ایک فوجی مہم سرکرنے کے لیے جس طرح اپنی تمام تر صلاحیت و استعداد کو کسی کی مدد و رہنمائی کے بغیر استعمال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی، اسی طرح’’ڈیڈیو‘‘ کے فرمان کی تعمیل میں سو فیصد نمبرز کا حصول لازم تھا۔ اُن کا پسندیدہ ترین تکیہ کلام ایک ہی تھا۔
’’ننانوی فیصد کامیابی بھی کامیابی نہیں بلکہ صفر کا درجہ رکھتی ہے۔‘‘ اگر ان کا کوئی’’فوجی‘‘ اپنے مشن میں ناکام ہو جاتا، تو بھی اس وقت تک وہ اپنی جدوجہد جاری رکھتا، جب تک اس’’مہم‘‘ کو سر نہ کرلیتا، کامیابی کے سوا جاں بخشی کی کوئی دوسری صورت نہیں تھی، جبکہ’’حکم عدولی‘‘ کا خمیازہ؟ خدا کی پناہ!! فوری کورٹ مارشل!! جس کی عبرت ناک سزا؟ ننگی پیٹھ پر دُروں پہ دُرے، اس پھنکار کے ساتھ کہ ’’اور کرو انکار!! بسا اوقات کو سزا کے اس عمل میں’’مجرم‘‘ مادر زاد ننگا تک کر دیا جاتا تھا۔’’ڈیڈیو‘‘ جہدِمسلسل کے قائل تھے، وہ’’حرکت‘‘ کو زندگی اور جمود یا سکون کو ’’موت‘‘ سے تعبیر کرتے تھے، ان کے کارخانے میں سکون قطعی طور پر مُحال بلکہ حرام تھا۔
’’ڈیڈیو‘‘ کی اس وحشیانہ سرشت کی حقیقت جہاں تک میں جان پایا ہوں، وہ یہ تھی، انہوں نے یہ کُھردرا خول شعوری طور پر چڑھا رکھا تھا تاکہ اس ہنگامہ پرور، سفاک اور بے رحم دنیا میں کامیابی کا سفر طے کرنے کے لیے ان کی اولاد ذہنی اور جسمانی طور پر مضبوط اور توانا ہوجائے۔ میں دیکھتا ہوں، آج بھی سیاہ فام کمیونٹی کے والدین اس تیقین کے ساتھ وہی روایتی متشددانہ رویہ روا رکھتے ہیں، جس کے باعث بچے عبرت ناک سزا کے خوف سے ان کے مطیع اور فرماں بردار رہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور ان کے اذہان پر مسلط سزا کا یہ خوف ایک طرح سے ان کو بھٹکنے اور بے راہ روی سے بچانے کے لیے خود حفاظتی حصار کا کام انجام دیتا ہے، گویا خوف کے ماحول میں بچوں کو پروان چڑھانے کا یہ روایتی بندوبست در پردہ والدین کی شقاوت کا نہیں بلکہ بچوں سے والہانہ پیار اور شفقت کا عکاس ہے۔

اس مذکورہ باب میں اداکار زندگی کے خوف ہراس کی پرچھائیوں کو بیان کرتے ہوئے
زندگی اس ڈگر پر رواں دواں تھی کہ 13 مئی 1985 کو ایک ایسا روح فرسا واقعہ رونما ہوا، جس نے ہماری برادری کو ہلا کررکھ دیا۔’’ڈیڈیو‘‘ ہر کمرے کے آگے سے چلاتے ہوئے دوڑتے جارہے تھے، نکلو، باہر آئو، نیچے فرش پر اکٹھے ہو جائو، جلدی کرو جلدی! دراصل ووڈ کریسنٹ سے کوئی دو میل پرے فلاڈ یلفیا کی پولیس نے ایک رہائشی مکان پر ہیلی کاپٹرکے ذریعے ایک ایک پونڈ کے وزنی دو بم مار گرائے تھے، اس پر مستزاد آٹومیٹک مشین گنوں کی مسلسل فائرنگ کی تڑاخ تڑاخ کانوں کے پردے پھاڑے جارہی تھی، پانچ بچوں اور چھ مردوخواتین کی ہلاکت کے علاوہ دو بلاکوں میں واقع 65 مکانات جل کر خاکستر ہوچکے تھے۔
آہ! وہ بھیانک دن جو آج تک’’موو بم بینگ‘‘ کے نام سے منایا جاتا ہے۔ ’’ڈیڈیو‘‘ کے خیال میں اس نوعیت کی خبروں کے ساتھ بہت سا اضافی مواد بھی چلا آتا ہے، بادی النظر میں’’ڈیڈیو‘‘ اپنی دانست میں زندگی کی ان سنگینیوں اور ناگزیر حادثات سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہمیں ذہنی و جسمانی طور پر تیار کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا تھے، مگر اس اہم اور نازک فریضے سے عہدہ برا ہونے کے لیے نادانستگی میں ایک مستقل تنائو اور مسلسل اضطراب کا ماحول بپا کیے رکھتے تھے۔
اس ضمن میں یہ ایک واقعہ آج بھی مجھ پر کپکپی طاری کر دیتا ہے۔ اتوار کی وہ دوپہر جب خلاف معمول’’ڈیڈیو‘‘ گھر بیٹھے چھٹی منا رہے تھے اور اپنے کمرے میں مزے سے کوئی پسندیدہ ٹی وی پروگرام دیکھنے میں مگن تھے کہ یکدم ان کی آواز گونجی،’’اوئے وِل؟؟؟ میں ایک ہی جست میں اُن کے رُوبرو کھڑا تھا۔’’جی ڈیڈیو؟‘‘
’’لپک کر جاؤ اور مسٹر برنیٹ سے میرا’’ٹیلر ون ہنڈرڈس پکڑ لاؤ۔‘‘ یہ ڈیڈی کا مطلوبہ سگریٹ برانڈ تھا۔
’’بہتر جناب!!‘‘
انہوں نے مجھے پانچ ڈالر تھمائے اور میں گلی کے نکڑپر واقع اسٹور کی جانب دوڑ پڑا۔ اس وقت میری عمر بمشکل دس سال ہی تھی، مگر بیسویں صدی کی ساتویں دہائی میں کمسن بچوں سے سگریٹ منگوانا والدین کے لیے کوئی ایسی معیوب ثابت نہیں سمجھی جاتی تھی۔ ’’ڈیڈیو‘‘ کے’’حکم‘‘ کی تعمیل میں ان کا یہ ’’فوجی‘‘ کہیں رکے بغیر ڈبل مارچ کرتا ہوا ایک ہی سانس میں مسٹر برنیٹ کے اسٹور میں جا دھمکا’’ہائے برنیٹ! مجھے ڈیڈیو نے اپنا سگریٹ برانڈ لانے کے لیے بھیجا ہے۔‘‘ مسٹر برنیٹ نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور بے ساختہ بولے’’ارے وِل،تم یہاں کیسے؟ اوہ اچھا اچھا، معذرت!
اتفاق سے آج ان کے مرغوب برانڈ کے سگریٹ ابھی تک نہیں پہنچے، ان سے کہہ دینا کہ کل تک ضرور آجائیں گے، میں ان کے لیے پورا کارٹن بچا رکھوں گا۔ ‘‘میں نے مسٹر برنٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جواب دیا کہ ٹھیک ہے، میں ’’ڈیڈیو‘‘ تک ان کا پیغام پہنچا دوں گا۔ یہ کہہ کر میںایک بار پھر ایک پیشہ ور فوجی کی طرح پلٹا اور سیدھی گھر کی راہ لی۔ راستے میں مجھے ڈینی اور ڈیوڈ برنیڈن ٹکراگئے، میری توجہ ان کے ہاتھوں میں پکڑی ایک نئی اور انوکھی شے پر مبذول ہوگئی، یہ ایک ملائم سافٹ بال تھا، جسے’’نرف‘‘ کہتے تھے اور انہوں نے بھی نئی نئی ہی خریدی تھی۔

اداکار زندگی میں خوف کے احساسات میں غلطاں
’’کیا اپنے مشن پرگامزن کوئی فوجی کہیں راستے میں کبھی رُکتا ہے؟؟؟
مگر یہ’’احمق فوجی‘‘ اس غیر معمولی دلچسپ شے کی دلچسپی میں کھوگیا۔ دوستوں نے’ نرف‘‘ کے گُن گِنوانے شروع کر دیے’’ دیکھو! انتہائی سخت سردی میں بھی تم باآسانی اس فٹ بال کو اپنی سرد انگلیوں کی گرفت میں سنبھال سکتے ہو، اسے تھامتے اور اُچھالتے ہوئے تمھاری انگلیوں کو کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوگی اور اگر اسے کیچ کرتے وقت چُوک بھی جائو، تو سیدھا منہ پر پڑتے کے باوجود تم چوٹ سے محفوظ رہو گے، میں اس انوکھے فٹ بال کی خوبیاں جانچنے میں ایسا محو تھا کہ اپنا مشن وِشن بُھول بھال گیا۔
وقت گزرنے کا احساس تک نہ ہوا، ایک منٹ، پانچ منٹ، دس منٹ، اوہو بیس منٹ اسی مشغولیت میں گزر گئے، دفعتاً میں نے محسوس کیا کہ ڈیوڈ اورڈینی کے قدم زمین میں دھنس چکے ہیںاورمیرے کاندھے سے اُوپر اٹھتی نگاہیں’’ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم‘‘ کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ ان کی اس کیفیت کی حقیقت بھانپنے کے لیے جونہی میں نے گھوم کر دیکھا، تو مار کے خوف سے میری اپنی رگوں میں خون منجمد ہوگیا۔ گلی کے بیچوں بیچ عریاں چھاتی نکالے، لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے’’ڈیڈیو‘‘ عین میرے سر پر آن پہنچے تھے۔
’’یہ کیا بیہودہ پن ہے؟‘‘ ڈیڈی دھاڑے۔ ان کی پہلی غراہٹ پر ہی ڈیوڈ اور ڈینی تو سرپٹ بھاگے اور میں نے لرزتے ہوئے صفائی پیش کرنے کی اپنی سی کوشش شروع کر دی’’وہ وہ ’’ڈیڈیو‘‘ مسٹر برنیٹ کے اسٹور پر آپ کے سگریٹ نہیں تھے اور اور ۔۔۔۔۔؟‘‘ انہوں نے میری صفائی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے سوال داغ دیا ’’میں نے تمھیں کہیں کام کے لیے بھیجا تھا؟‘‘ میں منمنایا’’ جی جی، مجھے یاد ہے مگر وہ۔۔۔۔۔؟‘‘ انہوں نے عجیب سی بات کہہ دی۔
’’سرپرست اعلیٰ کون ہے؟ کچھ نہ سمجھتے ہوئے میں نے استفسار کیا۔
’’میں سمجھا نہیں؟‘‘
انہوں نے وضاحت کی’’گھر کا سرپرست اعلیٰ کون ہے؟ میں کہ تم؟؟؟‘‘
میں لجاتے ہو ئے بولا ’’آپ ڈیڈی، آپ!!!‘‘
ڈیڈی بپھرتے ہوئے بولے ’’میرے لیے یہ جاننا اشد ضروری ہے کہ سرپرست کون ہے؟ اور اگر واقعی تم سرپرست ہو، تو تمھاری سرکوبی ابھی اور اسی وقت کردینی لازم ہے کیونکہ یہ بات پلے باندھ لو، جس مقام پر بھی دو سرپرست ہوں گے، وہاں ہر شے نیست و نابود ہوکر رہ جاتی ہے۔‘‘
یہ کہتے ہوئے’’ڈیڈیو‘‘ کے نتھنے پھڑکنے لگے، بائیں کنپٹی کی نس پھول گئی اور آنکھیں دہکتا ہوا انگارہ بن گئیں، اس طیش وتپش کی تاب نہ لاتے ہوئے ایک دس سالہ معصوم و نادان بچہ جذباتی طور پر جھلس کررہ گیا، لیکن’’ڈیڈیو‘‘ کی زبان مسلسل شعلے اُگل رہی تھی ’’جب میں کوئی مشن سونپتا ہوں، تو تمھارے پاس صرف اور صرف دو ہی راستے ہوتے ہیں، مشن مکمل کرکے سُرخرو لوٹو یا پھرنا کام و نامراد تھوبڑا دِکھانے کی بجائے خودکشی کرلو، کچھ پلے پڑا کہ نہیں؟‘‘
میں نے مُردہ آواز میں جواب دیا ’’جی جی ڈیڈی سمجھ گیا۔‘‘
’’ڈیڈیو‘‘ نے مجھے گردن کی پشت سے دبوچا اور بے دردی سے گھسیٹتے ہوئے گھر لے آئے۔ کوڑوں کی ایسی اذیت ناک سراسر غیر منصفانہ سزا کا ایک کمسن اور معصوم بچہ کس حد تک مستحق ہے؟ بارہا اس کربناک صورتحال سے دوچار ہونے کے باوجود میرا دماغ اس پہلو پر سوچنے تک کی زحمت سے قاصر رہتا کیونکہ میرے ذہن میں یہ خیال جڑ پکڑ چکا تھا کہ یہ سب کچھ میرے اپنے کیے کی سزا ہے، حالانکہ میں اس قبیل کا بچہ ہرگز نہیں تھا، جسے تختہ مشقِ ستم بنائے رکھنے کا اہل گردانا جاتا۔ میں تو ’’ڈیڈیو‘‘ کو سدا خوش و خرم دیکھنے کی حسرتیں دل میں دبائے بیٹھا تھا۔ آخر ڈیوڈ برنیڈن اورمیٹ برادران بھی تو ایسی پٹائی کے اتنے ہی سزاوار تھے، مگر پھر میری سوچوں کا دھارا خود بہ خود غلط اس خود احتسابی کی جانب پلٹ جاتا کہ میرے بھلکڑ پن، ذہنی پراگندگی یا کام پر عدم توجہی کے باعث بجا طور پر ان سزاؤں کا مستحق ہوں۔ کم سنی کی انہی ستم رانیوں نے مجھےیہ باور کرائے رکھا کہ ’’میں ایک بُرا لڑکا ہوں۔‘‘
٭٭٭٭
ایک دوسرے پہلو سے جبکہ خوف کی یہی مستقل کیفیت میری حسیات پر ایسے مثبت اثرات مرتب کر رہی تھی، جو میرے شعور اور وجدان دونوں کی صلاحیت اور قوت میںاضافے کا باعث تھے۔ گردو پیش کے ماحول کا ناقدرانہ جائرہ، مختلف النوع جذبات مثلاً استدلال، مسرت اور حزن و ملال کی پہچان کی صلاحیت لڑکپن سے ہی اپنے عمر بچوں کی نسبت مجھ میں کہیں زیادہ تھی۔
ستم بالائے ستم یہ کہ جذبے اور احساس کی کیفیات کی سمجھ اور پرکھ بھی میری ذات کے لیے عدم تحفظ کا باعث ہوگئی تھی۔’’ڈیڈیو‘‘ کے لب و لہجے سے ان کے تیور کی سمجھ، ماں کے چبھتے سوالات کی مقبولیت، بہن کی مٹکتی نگاہوں کے اسرار، ان تمام اشارات و کتابیات میں پوشیدہ رموز کو پلک جھپکتے جان لینا میرا روزمرہ کا معمول بن چکا تھا۔ تاہم ان احساس وجذبات کا ادراک اور آگہی کے تناظر میں مجھ پر یوں بھی لازم ہوچکا تھا کہ لمحہ بھر کی نظر کی چُوک یا کسی تحفظ کا غلط مطلب اخذ کرنے کا نتیجہ، بلا تاخیر پیٹھ پر سنسناتے ہوئے کوڑے یا پھر ماں کے چہرے پر پڑنے والے زور دار گھونسے کی صورت بھی اختیار کرسکتا تھا۔
’’ڈیڈیو‘‘ اپنے یوٹیلیٹی بیلٹ میں کالے چمڑے کا نیا ایک بٹوہ سا ٹکائے رکھتے تھے، اس بٹوے میں کوئی تیس کے قریب چابیوں کا گچھا دھرا رہتا تھا۔ یہ بٹوہ میرے لیے نہ صرف یہ کہ اطلاعی گھنٹی تھا بلکہ’’ڈیڈیو‘‘ کے مُوڈ کو بھانپ جانے کے اشارے کا کام بھی بخوبی انجام دیتا تھا۔ اس میں پڑی چابیوں کی جھنکار اس بات کا اعلان تھی کہ موصوف اپنے کمرے کی جانب رواں ہیں۔ میرے سونے کا کمرہ سیڑھیوں کے عین اوپر ایسے جھکاؤ میں تھا، جہاں سے اگلا دروازہ صاف دکھائی دیتا تھا۔
والد اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہی جب چابیوں کے باہم ٹکرانے کی آواز خلاف معمول دھیمی دھیمی سی سنائی دیتی، تو میں سمجھ جاتا کہ آج سرکار کا موڈ خوش گوار ہے، اگر چابیوں کے بٹوے کو بیلٹ سے ایک جھٹکے سے آزاد کرنے کی چھنا چھن ہوتی، تو سمجھ لیجیے کہ موسیٰ سے ضرور طُور پر کوئی بات ہوئی ہے البتہ’’انگور کی بیٹی‘‘ سر چڑھی ہوتی، تو بٹوہ بیلٹ ہی میں لٹکا رہ جاتا۔
جذب و احساس، لہجوں اور حرکات و سکنات کی انہی کیفیات کو بھانپنے، سمجھنے اور یاد رکھنے کی ریاضتوں میں مرافہم و شعور الجھا رہا اور حقیقت تو یہ ہے کہ اسی گھریلو ریاضت نے فنِ اداکاری میں میری پرفارمنس کو چار چاند لگائے۔ جذبات اور احساسات کے پیچیدہ اور گنجلک پہلوؤں کی سمجھ، جانچ اور پرکھ مجھے ایک نظر میں ہوجاتی اور ان کا عمدگی کے ساتھ اظہار میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا تھا۔ اس ماحول کی پرور دہ یہی صلاحیتیں مجھے بہت پہلے یہ باور کراچکی تھیں کہ میری یہ کارکردگی ایک دن لوگوں کو ضرور خراج تحسین پیش کرنے پر مجبور کر دے گی۔
٭٭٭٭

اداکارہ کے آبائی علاقے میں ان کو ایک دیوقامت دیوار پر پینٹ کرکے خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے ، اس موقع پر ان کی والدہ شکربجا لارہی ہیں کہ اس بیٹے نے اپنی محنت اور لگن سے اداکاری کے شعبے میں کام کرکے خاندان کو شہرت دوام دلوائی
مجھے مِنہا کر دیں، تو میرے گھر کا ہر فرد’’لڑاکو‘‘ تھا۔ مجھ سے چھ سال بڑی بہن’’پام‘‘ جو ماں کا ساقن و توش رکھتی تھی، بچپن میں ایک طرح سے وہ میری باڈی گارڈ تھیں، وہ کہیں، کبھی اور کسی کا بھی مقابلہ کرنے کا حوصلہ رکھتی تھی۔ ایسے کئی مواقع پر جب کوئی میرے ہاتھ سے نقدی چھین کر بھاگ گیا ہو یا کسی نے مجھے مارا پیٹا ہو یا کسی بھی وجہ سے میں منہ بسورتا گھر پہنچتا، تو پام سے رہا نہ جاتا، وہ مجھے ہاتھ سے پکڑکر باہر لے آتی اور چیخ چیخ کرپوچھتی’’یہ سب کس نے کیا؟ وِل؟ ول؟ بتاتے کیوں نہیں؟ کون تھا وہ کمینہ!!!‘‘ اور جب میں قصور وار بچے کی طرف اشارہ کربیٹھتا، تو پام یکدم درآمدشدہ کالی کھانسی کی طرح اس بدنصیب کو پڑ جاتی اور دُھن کر رکھ دیتی۔‘‘

چھوٹے بھائی ہیری کے ساتھ
آہ! اس دن کی اُداسی ناقابلِ فراموش ہے، جس دن کالج کے لیے پام گھر چھوڑ رہی تھی۔ میری تو دلچسپی اک محور’’ڈیڈیو‘‘ کی ذات رہی، جنہیں خوش رکھنے کے مواقع کی تلاش میں ہی میری توجہ مبذول رہی جبکہ ہیری غیر متوقع طور پر مضبوط اعصاب کے ساتھ کسرتی بدن لے کر جوان ہوا، اس کی عادات، اطوار گھٹی میں پڑچکی تھی۔
ایک بار وہ والد پر برس پڑا اور چیخ چیخ کر انہیں باور کرانے لگا کہ’’تم مجھے مَار گرا سکتے ہو لیکن رلا نہیں سکتے!‘‘ اس دیدہ دلیر گستاخی پر ایک زناٹے دار تھپٹر نے اس کے گال سُرخ کر دیے، جس پر وہ دیوانہ وار اور زور سے چیخا’’ دیکھ لو میں رو نہیں رہا‘۔
‘ ایک اور تھپڑ!!! مگر اس پر تو جیسے جنون طاری ہوگیا تھا، وہ ایک ہی گردان میں چیخے جا رہا تھا، ’’میں نہیں رویا، میں نہیں رویا، دیکھ لو میں نہیں رویا۔‘‘
جہاندیدہ باپ سمجھ گیا کہ یہ بھاری پتھر ہے، مگر چوم کر چھوڑنے کے بجائے اپنی فطرت کے لموجب اُسے انتہائی حقارت سے ٹھکرا دیا بلکہ دھتکار دیا اور پھر کبھی اس سے کوئی واسطہ نہیں رکھا۔ ہیری کا یہ بے خوف دلیرانہ رویہ ہر اعتبار سے اس حقیقت کا غماز تھا کہ میرا یہ چھوٹا بھائی راکش کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کے مقابلے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ جبکہ اس کی اس جرات و استقامت نے میری سوچ پر یہ منفی اثرات مزید پختہ کردیئے کہ اس جنگجو گھرانے میں فقط ایک میں ہی بزدل اور کمزور ہوں۔
٭٭٭٭

اداکار کا موقف ہے کہ اپنے بچپن کے تلخ و شیریں ، جو بھی تجربات رہے ، ان پر کھل کر بات کریں ، جس طرح انہوں نے اپنی اس مذکورہ کتاب میں خیالات کا اظہار کیا ہے
فنِ اداکاری میں ایک خوف زدہ، کردار کی نفسیات کو ملحوظِ خاطررکھتے ہوئے اس کے خوف کو سمجھ کر کرنا ایک پرپیچ، الجھا ہوا نازک عمل ہے، جو خواہشات کو جنم دیتا ہے اور خواہشات افعال کے لیے اسراع کا کام دیتی ہیں۔ عمل متوقع ردعمل کی یہی تکرار عظیم اور یادگار فلمی کرداروں کی تخلیق کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہے۔ عجیب اتفاق ہے کہ یہی عمل اور ردعمل ہماری عملی زندگی میں بھی رائج ہے، جب ہمیں اپنی زندگی میں کچھ ناروا اور ناخوشگوار معاملات سے سابقہ پیش آتا ہے، تو ہم یہ ارادہ باندھ لیتے ہیں، آئندہ ایسا کچھ نہیں ہونے دیں گے، جس کے لیے پھر ہم ایک مخصوص حفاظتی طریقہ کار اپناتے ہیں، ہم کامل اعتقاد کے ساتھ ایسے رویے اختیار کرتے ہیں، جو ہمیں تحفظ، استحکام اور چاہت کے تحائف سے نوازتے ہیں۔ اسی رویے کی تکرار در تکرار سے فلم میں’’کردار‘‘ تخلیق ہوتا جبکہ حقیقی زندگی میں’’شخصیت‘‘ اُبھر کر سامنے آتی ہے۔
اپنے خوف کے مقابل جس قسم کے رویے کی بنیاد پر ہم جس ردعمل کا اظہار کرتے ہیں، وہی رویہ ہماری شخصی یا انفرادی شناخت بن جاتا ہے۔ اس اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے’’ظریف‘‘ بننے کا فیصلہ کیا۔
ہم بہن بھائی بیڈروم میں اپنی ماں کے سنگ بِتانے والی وہ رات کبھی نہیں بھلاسکتے، جب ہر بچہ بری طرح سہما اور دبکا بیٹھا تھا۔ اس ہولناک کیفیت کے اظہار کے جداگانہ انداز ہونے کے باوجود بہرحال ایک مشترکہ احساس کا کرب نمایاںتھا کہ ’’اس ہنگامہ و خیز زندگی میں آخر ہم کہاں کھڑے ہیں؟‘‘
ہم بہن بھائیوںمیں، ہیری چھ سال کا بچہ ہونے کے باوجود اس حد تک غیور و جسور تھا کہ وہ ننھا سا وجود ماں کو بچانے کے لیے پیہم باپ کے آڑے آتا رہا، جس کا اعادہ وہ اکثر کرتا بھی رہا، مگر اس رات تو’’ڈیڈیو‘‘ نے اسے اٹھا کر باہر پھینک دیا تھا۔
میرے اس بھائی میں تکلیف سہہ جانے کا یہ ہنرماں سے ودیعت ہوا تھا۔ اُس کوچوٹ لگائی جاتی، اُسے درد کا احساس تک نہ ہوتا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے، ایک بار ہیری باپ کے مقابل کھڑا انہیں چیخ چیخ کر یہ چتونی دے رہا تھا’’ڈیڈیو!! مجھے جان سے مارکر تم مجھے باز رکھ پاؤ گے!!!‘‘
اسی بھیانک لمحے میں میری بہن ایلن خوف کے مارے پہلے تو کمرے میں دوڑتی پھرتی رہی، پھر بستر میں دبک کر کان لپیٹ لیے اور دھاڑیں مارمارکررونے لگی، تھوڑی دیر بعد اسے اپنے کمرے کی جانب’’ڈیڈیو‘‘ کے بڑھتے قدموں کی چاپ سنائی دی، ڈیڈیو نے بڑی سرد مہری سے استفسار کیا’’ تم کس کا ماتم کر رہی ہو؟‘‘
اس بات پر ایلن کو تو ایسی چُپ لگی کہ اس نے نہ صرف یہ کہ ’’ڈیڈیو‘‘ بلکہ گھر کے ہر فرد سے لاتعلقی اختیار کرلی اور پھر اس کی یہی چپ اور لاتعلقی بغاوت کی صورت میں وہ رنگ لائی کہ اس کی نشے میں دُھت اکثر راتیں، سگریٹ دھویں کے مرغولے بناتی گھر سے باہر ہی بسر ہونے لگیں، یوں ایلن کی رات گئے گھر دیر تک لوٹنے کی باز پرس کی زحمت سے بھی اہل خانہ آزاد ہوگئے۔
یہ کشیدہ ماحول گھر کے ہر فرد پر الگ الگ اثرات مرتب کرتا چلا گیا، ہیری لڑاکو بن گیا، ایلن اُڑن چُھو ہوگئی اور میں ہر کسی کی تفریح طبع کا سامان۔ یوں ہماری کمسنی کا پورا دور یکساںحالات میں مختلف ردعمل کے اظہار پر باہم کئے گئے تجربوں اور تبصروں کی نذر ہوا اور رشتوں کے مابین خلیج مزید بڑھتی چلی گئی۔ ایلن کو یہ گلہ رہا کہ میں اور ہیری اس پر توجہ نہ دے پائے، ہیری کو یہ شکایت کہ بڑے بھائی کی حیثیت سے مضبوط اعصاب کے ساتھ مجھے ان کے لیے کچھ نہ کچھ کرنا چاہیے تھا، جبکہ میں ان کے غلط رویوں کو گھر کی بگڑتی صورتحال کے لیے بد سے بدتر قرار دینے پر بضد رہا۔ میں تو بس ایک ایسی آرزو میں گھلتا رہا کہ گھر کا ہر فرد اپنی روش چھوڑ کر میرے طریق پر چلے۔ میں بھائی بہنوں کو خوش اور مطمئن رکھنے کے لیے تسلیاں اور دلاسے دیتا رہتا تاکہ ڈیڈیو ان کی کسی نامعقول حرکت پر طیش میں نہ آجائیں کیونکہ میں ان کے مزاج کے اس بھید کو پاچکا تھا کہ جب تک وہ ہنستے مسکراتے رہیں گے، ہم ان کے اعتاب سے محفوظ و مامون رہیں گے۔ میں اپنے گھر میں ایسی خوش امیدی پر تفریح طبع اور دلداریوں میں مگن رہتا کہ گھر کا ماحول آرام دہ، سہل اور پرمسرت رہے۔ میرا یہ نفسیاتی رویہ آگے چل کر میری فنکارانہ اور مالی امور میں بھی بہت ہی سُود مند اور ثمر آور ثابت ہوا۔ جس کو میں اس انداز میں بھی سوچتا ہوں کہ عین ممکن ہے کہ’’ڈیڈیو‘‘ کی بد دماغی دماغی کا تسلسل شاید9 سال کے بچے سے مسلسل سرزد ہوجانے والی غلطیوں کا ہی شاخسانہ ہو۔
کاش میں خود کو’’ڈیڈیو‘‘ کے بھروسے کے قابل بنا پاتا!
کاش میں اپنی’مام مام ‘کو بچاسکنے کی سکت رکھتا!
کاش میں اپنے خاندان کو مستحکم اور خوشحال بنانے کی طاقت رکھتا!
کاش میں اتنی ذہنی استعداد رکھتا کہ معاملات کو درست کر پاتا، تاہم یہ سب کچھ نہ کرسکنے کے باوجود دوسروں کو ہمیشہ خوش دیکھنا، ہمہ وقت ان کے ہونٹوں پر مسکان بکھیرے رکھنا، ہر کمرے سے ناگوار ِخاطر ان کو نکال باہر کرنے کی ازسرنو ہدایات جاری کرتے رہنا اور حسین و دلکش اور مسرت آگیں لمحات کی تلاش، یہ سب کچھ ایک مجبور محض انسان کی حسرت ناتمام اور تشنہ کام آرزوں کے سوال کچھ بھی نہیں، مگر ان تمام اشیا سے حاصل ہونے والی تسلی، طمانیت اور مسرت کے نعم البدل کے طور پر قدرت نے ایک شاہکار تخلیق کیا ہے، جس کا نام’ انٹرٹینر‘‘ ہے، یک قدرتی انٹرٹینر!!!
آہ! وہ رات جب اپنے سونے کے کمرے کے دروازے کی راہ میں تماشائی بنا اپنے باپ کے فولادی گھونسلوں کو اس عورت پر برستے دیکھ رہا تھا، جو مجھے دنیا کی ہر شے سے بڑھ کر عزیز تھی۔ وہ فرش پر بے یارومددگار بے ہوش پڑی تھی اور میں برف کی سیل بنا پتھرائی آنکھوں سے کہیں اُسے تکے جا رہا تھا، اگرچہ میرا پورا بچپن خوف اور سراسیمگی کے سائے میں گزرا، لیکن اس رات پہلی بار مجھ میں اپنی کم مائیگی اور بے بسی کا شدید احساس جاگا، میں اپنی ماں کا سب سے بڑا سپوت، اس کا واحد خبر گیر، اس حرماںنصیب سے محض دس گز سے بھی کم فاصلے پر کھڑا اُسے دیکھتا رہا اور اس کے لیے کچھ بھی توجہ نہ کرسکا۔
یہی وہ لمحہ تھا، جب میری جواں عمری کی شناخت میرے ذہن کے سردخانے میں منجمد ٹھوس تلچھٹ بن کر چپک گئی تھی۔ ایک بے روح سا احساس جس نے میرے کار ہائے نمایاں، معرکتہ الآرا کامیابی، کمائی ہوئی بے تحاشا دولت، نمبرون ہونے کے اعزازات اور باکس آفس پر توڑے ہوئے ریکارڈ ز، غرض یہ کہ مجھے ہر شے سے بیگانہ اور بے نیاز کردیا تھا۔ میرے توذہن کے پردے میں سیدھی اور سپاٹ سی ایک ہی فلم چلتی رہتی ہے’’میں ڈرپوک ہوں، میں نامُراد ہوں۔‘‘ مجھے معاف کر دینا ماں، مجھے بخش دینا، ماں بہت شرمسار ہوں۔‘‘
’’تم جانتے ہو، جب دو افراد بیک وقت نگراں ہوں، تو کیانتیجہ برآمد ہوتا ہے؟ اس رات اُس بیڈ روم میں ایک 9 سالہ بچے نے فرش پر خون میں لت پت پڑی ماںنے اپنے گھر اور خاندان کی بربادی کا تماشا سمجھتے ہوئے اُسی لمحے ایک فیصلہ کرلیا تھا۔
جی میں نے دل ہی دل میں اپنی ماں، اپنے خاندان اور اپنے آپ سے ایک عہد کیا تھا، ایک خاموش عہد۔
’’ایک دن میں نگران بنوں گا، لیکن دوبارہ یہ تاریخ کبھی نہیں دوہرائی جائے گی۔‘‘
(جاری ہے)