لومیر برادرز سے بہت پہلے ہی فلم میکنگ کے سائنسی تجربات کا آغاز ہو چکا تھا اس رنگ برنگی اور چمکتی دمکتی فلمی دنیا کو کہانیوں سے فلم پروڈکشن کمپنیز نے سجایا گزشتہ تقریباً سو ا سو سال کے عرصے میں کتنی ہی شاہکار فلمیں بنیں، جنہیں عظیم الشان فلم سازاداروں نے پروڈیوس کیا یونیورسل اسٹوڈیوز نے اس سو سال سے زائد عرصے میں کئی سدا بہار شاہکار تخلیق کیے ہیں تاریخ میں سب سے زیادہ بزنس کرنے والی سوبہترین فلموں میں سے 11 وارنر برادرز نے پروڈیوس کی ہیں والٹ ڈزنی امریکا اسٹوڈیوز ڈزنی کا ایک ذیلی ادارہ ہے، جو اینیمیٹڈ شارٹس اور فیچر فلمز بناتا ہے دنیا کے چھ بڑے اسٹوڈیوز میں 20 سنچری فوکس کا بھی شمار ہوتا ہے
وہ 28دسمبر، 1895 کو پیرس کی ایک شام تھی، جب گرینڈ کیفے میں دو بھائیوں لوئی اور آگسٹ لومیر نے دنیا کے پہلے کمرشل مووی شو کا انعقاد کیا۔ ان فرانسیسی بھائیوں نے سینماٹوگراف نامی کیمرہ پروجیکٹر کا استعمال کیا، جو انہی کی ایجاد تھا۔ انہوں نے جو مختصر فلم دکھائی، وہ بھی انہوں نے ہی شوٹ کی اور ان کی اپنی کمپنی کے ورکرز اور عام فرانسیسی لوگوں کی زندگی کے مناظر پر مبنی تھی۔
یہ وہ پہلی فلم تھی، جس کی نمائش کے لیے لوگوں سے باقاعدہ رقم لی گئی۔ لومیر برادرز سے بہت پہلے ہی فلم میکنگ کے سائنسی تجربات کا آغاز ہو چکا تھا۔ انیسویں صدی میں ہی بیلجیم کے جوزف پلیٹو، آسٹریا کے سائمن اسٹیمفر اور بابائے ایجادات یعنی امریکا کے تھامس ایڈیسن اور ان کے اسسٹنٹ ولیم ڈکسن چھوٹے لیول کے کامیاب تجربات کر چکے تھے۔ تاہم یہ ذکر تفصیلاً پھر کبھی سہی ، کیونکہ ہمارا آج کا موضوع فلم کی سائنسی تاریخ نہیں بلکہ فلم کا کمرشل سفر ہے۔
فلم تو لومیر برادرز کی اسکریننگ کے بعد دنیا بھر میں انقلابات سے گزرتی رہی۔ خاموش بلیک اینڈ وائٹ فلموں سے بولتی فلموں تک اور رنگین فلموں سے جدید ترین 5 ڈی فلموں تک پہنچنے میں دنیا کو زیادہ وقت نہیں لگا۔ فلم پروڈکشن کمپنیز تو بیسویں صدی کے اوائل سے ہی وجود میں آنا شروع ہوگئی تھیں، لیکن چیلنج یہ تھا کہ دنیا کو دکھایا کیا جائے۔ انسان زبانی داستانوں کے دور سے ہی کہانیوں کا دیوانہ ہے۔ اس کے تمام جذبات کہانیوں سے جڑے ہیں۔ ہنسنا، رونا، جیتنا، برداشت کرنا سب کچھ وہ کہانی کے کرداروں سے ہی سیکھتا آیا ہے، تو فلموں کا دائرہ کار بھی کہانیوں کے ہی گرد گھوما اور آج تک گھوم رہا ہے۔ اسی رنگ برنگی اور چمکتی دمکتی فلمی دنیا کو کہانیوں سے فلم پروڈکشن کمپنیز نے سجایا اور یہی شوق لوگوں کو سینما ہاؤسز تک لانے اور فلم انڈسٹری کو دنیا کی منافع بخش ترین انڈسٹریز میں شامل کرنے میں کامیاب ہوا۔
پروڈکشن کمپنیز فلمیں بنانے کے لیے فنڈنگ کرتی ہیں اور انسانی و دیگر وسائل بھی فراہم کرتی ہیں۔ گزشتہ تقریباً سو ا سو سال کے عرصے میں کتنی ہی شاہکار فلمیں بنیں، جن کو دنیا کی عظیم الشان فلم کمپنیز نے پروڈیوس کیا۔ آج ہم دنیا کی دس صف اول کی فلم کمپنیز اوران کے تخلیق کیے گئے، شاہکاروں کا جائزہ لیں گے۔ ان کمپنیز کے نام کسی خاص ترتیب میں نہیں ہیں، بلکہ مختلف ذرائع سے حاصل کی گئی معلومات اور تبصروں کی مدد سے یہ تجزیہ کیا گیا ہے۔ اس جائزے کو فلمی تاریخ کے جائزے کی حیثیت سے دیکھا جائے تو بہتر ہوگا، کیونکہ مذکورہ کمپنیز میں وہ نام بھی شامل ہیں، جو پہلے خود مختار ادارے تھے، لیکن اب کسی اور بڑے گروپ میں ضم ہوگئے ہیں۔ تاہم ان کی سابقہ کامیابیوں کا الگ سے ذکر نہ کرنا زیادتی ہوگی۔
یونیورسل پکچرز
یونیورسل پکچرز کام کاسٹ کی ملکیت ہے، جو اپنی ذیلی کمپنی این بی سی یونیورسل کے تحت اس کا انتظام چلاتے ہیں۔ 1912 میں قائم ہونے والا یہ ادارہ امریکا کا سب سے قدیم اسٹوڈیو ہے۔ یونیورسل اسٹوڈیوز نے اس سو سال سے زائد عرصے میں کئی سدا بہار شاہکار تخلیق کیے ہیں ۔ اس میں جراسک پارک، ای ٹی اورجازجیسے باکس آفس ہٹس شامل ہیں، جن سب کو اسٹیون اسپیل برگ نے ڈائریکٹ کیا۔ اسپیل برگ کے علاوہ بھی یونیورسل نے کامیاب فرنچائزز تخلیق کیں، جن میں فاسٹ اینڈ دی فیوریئس، بورن آئیڈینٹٹی اور ہینی بال شامل ہیں۔ تادم تحریرتاریخ میں سب سے زیادہ بزنس کرنے والی 50 بہترین فلموں میں سے سات یونیورسل اسٹوڈیوز کی پیشکش تھیں، جن میں سے فیوریئس سیون کا شمار ٹاپ ٹین میں ہوتا ہے۔
اس اسٹوڈیو کی ایک ڈویژن یونیورسل اینیمیشن اسٹوڈیو ز بھی ہے، جو اینیمیٹڈ فلمیں اور ٹی وی سیریز بناتی ہے۔ ان کی نمایاں فیچر فلموں میں”دی لینڈ بیفور ٹائم“،”این امریکن ٹیل“ اور”بالٹو“ شامل ہیں۔ ایک اور ڈویژن کا نام ہے الیمیونیشن، جس کا آغاز کرس میلیڈانڈری نے 2007 میں کیا۔ اس اینیمیشن اسٹوڈیو کی کامیابی ہے”ڈیسپیک ایبل می“ نامی فلم، جس نے 546.1 ملین ڈالر کا بزنس کیا۔ اس فلم سے ایک ایسی فرنچائز کا آغاز ہوا، جس نے باکس آفس پر 3بلین ڈالرز کا بزنس کر لیا ہے۔ یونیورسل پکچرز کے دیگر ذیلی اداروں میں یونیورسل ہوم انٹرٹینمنٹ، ڈریم ورکس اینیمیشن، فوکس فیچرز اور ورکنگ ٹائٹل فلمز شامل ہیں۔
وارنر برادرز انٹرٹینمنٹ
وارنر برادرز انٹرٹینمنٹ کا قیام 1923 میں عمل میں آیا۔ معرکۃ الآرا فلمیں تخلیق کرنے والا یہ اسٹوڈیو ٹائم وارنر کی ملکیت ہے۔ وارنر برادرز کے ذیلی اداروں میں نیو لائن سینما، کاسل روک انٹرٹینمنٹ، وٹرنرانٹرٹینمنٹ، وارنر برادرز اینیمیشن اور ڈی سی فلمز شامل ہیں۔ شاہکار فلموں کے ساتھ ساتھ وارنر برادرز نے چند بہترین فرنچائزز بھی تخلیق کی ہیں، جن میں ہیری پوٹر ، دی میٹرکس اور بیٹ مین کا نام نمایاں ہے۔ تادم تحریرتاریخ میں سب سے زیادہ بزنس کرنے والی سوبہترین فلموں میں سے 11 وارنر برادرز نے پروڈیوس کی ہیں۔ ان میں سے ہیری پوٹر سیریز کی فلمیں سر فہرست ہیں۔
سونی موشن پکچرز گروپ
الیکٹرونکس ہو یا تعلیم، فنانس ہو یا موسیقی، سونی گروپ نے ہر انڈسٹری میں انقلاب ہی پیدا کیے ہیں اور فلم انڈسٹری بھی اس سے مختلف نہیں۔ سونی انٹرٹینمنٹ ایک بہت بڑے گروپ سونی کا ایک حصہ ہے اور سونی انٹرٹینمنٹ کی ایک ڈویژن سونی موشن پکچرز گروپ ہے۔ اس اسٹوڈیو کا سب سے بڑا ذیلی ادارہ کولمبیا پکچرز ہے، جس کو 1989 میں کوکا کولا سے 3.4بلین ڈالرز کے عوض خریدا گیا تھا۔ اس ڈویژن کے مزید ذیلی ادارے ٹرائی اسٹار پکچرز، اسکرین جیمز، سونی پکچرز کلاسک، سونی پکچرز اینیمیشن ، ڈیسٹینیشن فلمز اور افرم فلمز ہیں۔ سونی اس وقت دنیا کا سب سے بڑا اسٹوڈیو ہے اور اس کے کریڈٹ پر کئی کامیاب فلموں کے علاوہ اسپائڈر مین، مین ان بلیک اور ڑیزیدنٹ ایول جیسی فرنچائزز بھی ہیں۔ ان کا سب سے بڑا اثاثہ یقیناً کولمبیا پکچرز ہے، جو 1924 سے فلمیں پروڈیوس کر رہا ہے۔ تاریخ میں سب سے زیادہ بزنس کرنے والی بہترین فلموں میں سے تادم تحریر سونی کے کریڈٹ پر”جمانجی ویلکم ٹو دی جنگل“ اور ”اسپائڈر مین تھری“ ہیں۔
والٹ ڈزنی اسٹوڈیوز
انٹرٹینمنٹ کاذکر آئے تو مکی ماؤس اور ڈونلڈ ڈک کے خالق والٹ ڈزنی کو ہم کیسے بھول سکتے ہیں، جو امریکا میں اینیمیشن انڈسٹری کے بھی بانی ہیں اور ڈزنی لینڈ جیسی تفریح گاہیں متعارف کروانے کا سہرا بھی انہی کے سر جاتا ہے۔ والٹ ڈزنی اسٹوڈیوز دی والٹ ڈزنی کمپنی کا انٹرٹینمنٹ یونٹ ہے۔ اس اسٹوڈیو نے ایسی لاجواب داستانوں کو فلم کے پردے پر پیش کیا ہے، جن میں زندگی بدل دینے کی طاقت ہے۔ خاص طور پر بچوں اور فیملی انٹرٹیننمٹ کے لیے ان کی خدمات کا کوئی دور دور تک ثانی نہیں۔ والٹ ڈزنی امریکا اسٹوڈیوز ڈزنی کا ایک ذیلی ادارہ ہے، جو اینیمیٹڈ شارٹس اور فیچر فلمز بناتا ہے۔ اس کی عظیم الشان فلموں کی فہرست بہت طویل ہے، جس میں”سنو وائٹ اینڈ دی سیون ڈوارفس“،”پیٹر پین“،”لائن کنگ“ اور”فروزن“ شامل ہیں۔ زیادہ تر لائیو ایکشن فلمیں بنیادی ذیلی ادارے والٹ ڈزنی پکچرز کے تحت بنتی ہیں، جن میں”پائریٹس آف دی کیریبین“،”بیوٹی اینڈ دی بیسٹ“ اور”دی جنگل بک“ شامل ہیں۔ والٹ ڈزنی اسٹوڈیوز کے ذیلی ادارے لوکس فلمز، مارول اسٹوڈیوز، پکسار اور ڈزنی نیچرہیں۔
اینیمیشن کی دنیا کے بادشاہ یعنی پکسار اینیمیشن اسٹوڈیوز کی فلمیں 1995 سے ڈزنی نے صرف ریلیز کیں، لیکن 2006 میں پکسار کو ڈزنی نے باقاعدہ اپنے گروپ میں ضم کر لیا اور اب ان اینیمیٹڈفلموں کی تیاری کا سہرا بھی ڈزنی کے سر ہے۔ پکسار کی شاہکار فلموں میں”وال ای“،”ٹوائے اسٹوری سیریز“،”کارز سیریز“، ”دی انکریڈیبل سیریز“،”کوکو“،”لوکا “اور تازہ ترین ”لائٹ ایئر“ شامل ہیں۔
ڈزنی کا ایک اور ذیلی ادارہ خود اپنی ذات میں انجمن ہے، یعنی مارول اسٹوڈیوز جس نے مارول کامکس کے کرداروں پر مبنی فلمیں اور ٹی وی سیریز بنا کے تہلکہ مچایا ہوا ہے۔ 2009 سے ڈزنی کے تحت کام کرنے والے مارول اسٹوڈیوز ایوینجرز سیریز، ایکس مین اور مارول یونیورس کے انفرادی ہیروز پر مبنی والی فلمیں آئرن مین، تھور، انکریڈیبل ہلک وغیرہ بھی پیش کرتے ہیں۔ تاریخ میں سب سے زیادہ بزنس کرنے والی 50 بہترین فلموں میں سے ڈزنی کا حصہ سب سے زیادہ یعنی 21 ہے۔ اس میں ایوینجرز سیریز، اسٹار وارز سیریز اور پائریٹس آف دی کیریبین سیریزکے علاوہ فروزن، زوٹوپیا، فائینڈنگ نیمو، فائینڈنگ ڈوری، لائن کنگ اور جنگل بک وغیرہ شامل ہیں۔
20 سنچری فوکس
دنیا کے چھ بڑے اسٹوڈیوز میں 20 سنچری فوکس کا بھی شمار ہوتا ہے۔ 1984 سے 2013 تک یہ نیو کارپوریشن کی ملکیت رہا اور اس کے بعد یہ کمپنی نیوز کارپ اور 21 سنچری فوکس میں تقسیم ہو گئی۔ اس کے بعد سے 21 سنچری فوکس ہی اس اسٹوڈیو کی مالک رہی، تاقتیکہ 2019 میں ڈزنی نے اسے خرید کے اس کا نام فوکس کارپوریشن نہ رکھ دیا۔ تب سے اب تک یہ ٹیلی وژن اور ڈیجیٹل میڈیا تک محدود ہے، لیکن اس ادارے کی تاریخ دلچسپ ہے۔ اس اسٹوڈیو کا قیام 1935 میں عمل میں آیا اور اسے میوزیکل فلمیں بنانے میں شہرت حاصل تھی۔ موجودہ زمانے میں ان کی سب سے بڑی ہٹ فلم اواتار(2009) ہے، جسے تادم تحریر 2.7 بلین ڈالر کے بزنس کے ساتھ تاریخ کی کامیاب ترین فلم ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
20سنچری فوکس کو چند دلچسپ اور کامیاب فرنچائزز پروڈیوس کرنے کا اعزاز حاصل ہے، جن میں آئس ایج، ایکس مین اور وہ اسٹار وارز فلمز شامل ہیں، جو ڈزنی کے اسٹار وارز کے حقوق حاصل کرنے سے قبل بنائی گئیں۔ ان کی اوریجنل اینیمیشن ڈویژن 20 سنچری فوکس اینیمیشن کا آغاز 1994 میں ہوا اور اس کا مقصد والٹ ڈزنی اینیمیشن اسٹوڈیوز کا مقابلہ کرنا تھا، جو اس وقت لائن کنگ، الہ دین اور بیوٹی اینڈ دی بیسٹ جیسی کامیاب فلمیں بنا رہے تھے۔
ان کا بنیادی پروڈکشن یونٹ فوکس اینیمیشن اسٹوڈیوز تھا، جس نے1997میں اینسٹیشیا نامی فلم کے ذریعے کچھ کامیابی حاصل کی۔ 35 ملین ڈالرز کے بجٹ پر بنی اس فلم نے 140 ملین ڈالرز کمائے، لیکن کافی لوگوں نے اسے ڈزنی کی فلم سمجھا۔ اس کے بعد اس اسٹوڈیو نے ٹائٹن اے ای بنائی جو 75ملین ڈالر زکی لاگت سے تیار ہو کے صرف 37ملین ڈالرز کما سکی اور اسٹوڈیو کو مجموعی طور پر 100 ملین ڈالرز کا نقصان ہوا۔ اسی لیے فوکس اینیمیشن اسٹوڈیوز کو 2000 میں بند کر دیا گیا۔
دوسری جانب 20 سنچری فوکس نے 1997 میں بلیو اسکائی اسٹوڈیوز کے مالکانہ حقوق حاصل کیے تھے، جس نے آئس ایج، روبوٹس اور ریو جیسی شاندار کمپیوٹر اینیمیشن فلمز پروڈیوس کیں۔ مزید کام نہ کرنے کے باعث تاریخ میں سب سے زیادہ بزنس کرنے والی بہترین فلموں میں سے 20 سنچری فوکس کا حصہ کم ہوتا جا رہا ہے، لیکن تاریخ کی کامیاب ترین فلم یعنی اوتار اب بھی اسے ٹاپ پہ رکھے ہوئے ہے۔