قدرتی حسن کے باوجود اوشیانیا میں آسٹریلیا کے علاوہ کوئی فیچر فلم انڈسٹری پروان نہیں چڑھ سکی یورپ اور ہالی ووڈ نے اوشیانیا کے ٹیلنٹ کو اچھی طرح پہچانا ہے ممکن ہے کہ آپ کے پسندیدہ فنکار اوشیانیا سے تعلق رکھتے ہوں، لیکن آپ کو اس کا علم نہ ہو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے بین الاقوامی سینما میں نمائندوں کی فہرست طویل ہے تکنیکی عملہ فلم کے خاموش مجاہدین میں شمار ہوتا ہے
بحرالکاہل کا وہ خطہ جو آسٹریلیااور نیوزی لینڈ کے علاوہ فجی، ساموا، پاپوا نیو گنی اور دیگر چھوٹے جزائر پر مشتمل ہے، اوشیانیا کہلاتا ہے۔ قدرتی حسن سے مالا مال ہونے کے باوجود اس خطے میں آسٹریلیا کے علاوہ کوئی قابل ذکر فیچر فلم انڈسٹری پروان نہیں چڑھ سکی اور زیادہ تر ڈاکومینٹری فلمیں ہی بنتی رہیں۔ تاہم بین الاقوامی فلم میکرز نے اس خطے کی لوکیشنز کا بہت استعمال کیا ہے اور شوٹنگ کے لیے ان جزائر کا انتخاب ڈائریکٹرز میں بہت مقبول رہا ہے۔
مقامی فلم انڈسٹریز کا قابل ذکر کردار نہ ہونے کے باوجوداوشیانیا سے تعلق رکھنے والے فنکاروںکی عالمی سینما میں نمائندگی اچھی خاصی ہے، کیونکہ ان کے ٹیلنٹ کو ہالی وڈ اور یورپ نے اچھی طرح پہچانا۔ زیر نظر جائزے میں ہم عالمی سینما میں اوشیانیا کے نمائندوں کا ذکر کر رہے ہیں۔ ممکن ہے کہ آپ ان فنکاروں کے پرستار ہوں، لیکن آپ کو معلوم نہ ہو کہ آبائی طور پر وہ اوشیانیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہاں ہم ان فنکاروں میں سے چند کا ذکر کر رہے ہیں، جو اوشیانیا کے سینما کے علاوہ دنیا کی دیگر فلم انڈسٹریز میں اوشیانیا کی نمائندگی کر چکے ہیں۔
آسٹریلیا
کرس ہیمز ورتھ
یوں تو ہالی ووڈ اور یورپ میں کامیابی حاصل کرنے والے آسٹریلین اداکا روں کی فہرست بہت لمبی ہے، لیکن مقبولیت کے حالیہ تناظر میں ہم کرس ہیمزورتھ کی بات کرتے ہیں، جو مارول یونیورس میں تھور کے کردار کے لیے مشہور ہیں۔ ہیمز ورتھ 11 اگست 1983 کو میلبورن میں پیدا ہوئے اور آسٹریلین ٹیلی وژن پر مقبولیت حاصل کرنے کے بعدہالی ووڈ کی طرف چلے گئے۔ 2009 میں”اسٹار ٹریک“ اور”اے پرفیکٹ گیٹ اوے“ کے بعد انہوں نے”کیش“(2010) میں کام کیا اور پھر 2011 میں تھور کے ٹائٹل رول کے لیے منتخب ہوگئے۔
اس انتخاب کے لیے انہیں باڈی بلڈنگ کے ذریعے 20 کلو گرام مسلز بڑھانے پڑے۔”تھور“(2011) میں متعارف ہونے کے بعد ہیمز ورتھ نے اس کردار کو مارول کی سات مزید فلموں میں نبھایا۔ اس سلسلے میں اب تک کی آخری فلم”تھور: لو اینڈ تھنڈر“(2022) ہے، جس کے ایگزیکٹیو پروڈیوسر بھی ہیمز ورتھ ہی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اپنی فلموں”ایکسٹریکشن“(2020)،”انٹرسیپٹر“(2020) اور”اسپائیڈر ہیڈ“(2022) کو بھی پروڈیوس کر چکے ہیں اور ایک انتہائی مقبول اداکار ہونے کے ساتھ ساتھ ہالی وڈ میں بطور پروڈیوسر بھی قدم جما رہے ہیں۔
کیٹ بلانچٹ
دو آسکر ایوارڈز جیتنے والی اداکارہ کیٹ بلانچٹ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ ایک ہی سال میں آسکر کی دو الگ الگ کیٹگریزمیں نامزد ہوئیں۔”بلیو جیسمین“(2013) کے لیے بہترین اداکارہ اور”ایوی ایٹر“(2004) کے لیے بہترین سپورٹنگ اداکارہ کا آسکر جیتنے کے علاوہ بلانچٹ کو 2007میں”الزبیتھ: دی گولڈن ایج“ کے لیے بہترین اداکارہ اور”آئی ایم ناٹ دئیر“ کے لیے بہترین سپورٹنگ اداکارہ کے ایوارڈ کے لیے بھی نامزد کیا گیا۔ ہالی وڈ کی یہ نامی گرامی اداکارہ اور پروڈیوسر 14مئی 1969کو میلبورن میں پیدا ہوئیں اور آسٹریلیا کے تھیٹر، ٹیلی وژن اور کچھ مقامی فلموں میں کامیابی سے کام کیا۔
نیوزی لینڈ کی شہرۂ آفاق سیریز”لارڈز آف دی رنگز“ کو ہم بلانچٹ کا عالمی سینما پر تعارف کہہ سکتے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے آسکر میں نمائندگی والی فلموں کے علاوہ”انڈیانا جونز اینڈ دی کنگڈم آف دی کرسٹل اسکل“(2008)،”روبن ہڈ“(2010)،”تھور: ریگناروک“(2017) اور”اوشینز ایٹ“(2018) میں قابل ذکر کردار ادا کیے اور متعدد فلموں میں بیک گراؤنڈ وائس کا جادوبھی جگایا۔ سینما کے علاوہ بلانچٹ سماجی، فلاحی اور ماحولیاتی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے حوالے سے بھی دنیا بھر میں مشہور ہیں۔
نیوزی لینڈ
رسل کرو
نیوزی لینڈ کی فیچر فلم انڈسٹری کا اپناقابل ذکرکارنامہ تو”لارڈز آف دی رنگز“ سیریز تک ہی محدود ہے، لیکن اس ملک کے فنکار مقبولیت میں بہت دور تک پہنچے ہوئے ہیں۔ بہت کم لوگ یہ بات جانتے ہوں گے کہ فلم”گلیڈی ایٹر“(2000) کے لیے بہترین اداکار کا آسکر ایوارڈ جیتنے والے اداکار، ڈائریکٹر، پروڈیوسر اور گلوکار رسل کرو آبائی طور پر نیوزی لینڈ سے تعلق رکھتے ہیں۔ نیوزی لینڈ کے کرکٹ کپتانوں جیف کرو اور مارٹن کرو کے کزن رسل کرو 7 اپریل 1964 کو ویلنگٹن میں پیدا ہوئے اور ان کے بچپن میں ہی ان کا خاندان سڈنی، آسٹریلیا شفٹ ہو گیا۔
آسٹریلیا میں ٹیلی وژن اور فلموں میں اداکاری کے علاوہ انہوں نے ایک کینڈین فلم”فور دی مومنٹ“(1993) میں کام کیا اور ہالی وڈ کی نظروں میں آگئے۔ یہاں ان کی قابل ذکر فلموں میں”گلیڈی ایٹر“ کے علاوہ”ورچیوسٹی“(1995)، دو آسکرز جیتنے والی”ایل اے کانفیڈنشل“(1997)،”مسٹری الاسکا“(1999)،”دی انسائیڈر“(1999)، چار آسکرز جیتنے والی”اے بیوٹی فل مائنڈ“(2001)،”امریکن گینگسٹر“(2007)،”باڈی آف لائیز“(2008)،”روبن ہڈ“(2010)،”مین آف اسٹیل“(2013)،”نواح“(2014) اور”تھور:لواینڈ تھنڈر“(2022) رہی ہیں۔ اس درمیان رسل کرو گلوکاری بھی کرتے رہے ہیں اور ان کو کچھ ٹی وی شوز کا پروڈیوسر اور ڈائریکٹر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
اینا پیکوئین
صرف گیارہ سال کی عمر میں آسکر جیتنے والی اداکارہ اینا پیکوئین نے یہ کارنامہ اس وقت انجام دیا، جب 1993 کی فلم”دی پیانو“ کے لیے انہیں بہترین سپورٹنگ اداکارہ قرار دیا گیا۔ اینا کی والدہ کا تعلق نیوزی لینڈ سے تھا اور 24 جولائی(1982) کو اینا کی پیدائش کے وقت وہ کینیڈا میں بطور ٹیچر ملازمت کر رہی تھیں، تاہم اینا جب چار سال کی تھیں تب ہی ان کی فیملی نیوزی لینڈ شفٹ ہوگئی۔
”دی پیانو“ کی شوٹنگ چونکہ نیوزی لینڈ میں ہی ہورہی تھی، اس لیے ڈائریکٹر جین کیمپیئن نے بچی کے کردار کے لیے مقامی لڑکیو ں کے ہی آڈیشن لیے اور اینا کا انتخاب کیا، جو تاریخ ساز ثابت ہوا۔ اس کے بعد چائلڈ اسٹار کے رول میں اینا کو”فلائی اوے ہوم“(1996)،”دی ممبر آف دی ویڈنگ“(1997) اور”اے واک آن دی مون“(1999) میں بھی سراہا گیا۔ بڑے ہونے کے بعد اینا نے”ایکس مین فرنچائز“ میں سپر ہیروئن روگ کاکردار ادا کیا، جو دیگر فلموں کے علاوہ مقبول ہے۔