ہالی وڈ کے معروف اداکار اور گلوکار”ول اسمتھ“ ، جنہوں 2022 میں بہترین اداکار کا آسکر ایوارڈ بھی حاصل کیا ہے۔ انہوں نے اس بائیوگرافی میں اپنی زندگی کے متعدد گوشوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے مختلف پہلوؤں پر بہت کھل کر بات کی ہے۔ دورِحاضر میں شوبز کی دنیا میں یہ سوانح عمری سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ہے، جس کا اردو زبان میں پہلی بار باقاعدہ اور مستند ترجمہ پیش کیا جارہا ہے۔
اس ترجمے کا اہتمام مہورت نے کیا ہے۔ اس بائیوگرافی کے اردو مترجم یوسف خان ہیں۔ قارئین مہورت کی ویب سائٹ پر اور میگزین میں اسے سلسلہ وار پڑھ سکتے ہیں اور یوٹیوب چینل پر اس کتاب کے ترجمے کے تناظر میں ویڈیوز بھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ یہ کتاب ایک عام آدمی سے خاص آدمی بننے تک کی کہانی کو نہایت دلکش انداز میں پیش کرتی ہے۔ امید ہے، آپ کو ہماری کوشش پسند آئے گی۔ (ادارہ)
(باب 2 ۔ پہلا حصہ)
فردوسِ خیال
تمہید اور پہلاباب رقم کرتے ہی میں نے بخوبی اندازہ لگالیا تھا کہ قارئین میری اس خودنوشت کے آغاز میں ہی یہ نتیجہ اخذ کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے کہ میری اس رام کہانی میں ویسٹ فلا ڈلفیا کے ایک نیگرو گھرانے میں جنم لینے والے، اس کہانی کے مرکزی کردار کے ساتھ روا رکھی جانے والی خانہ زاد بدسلوکی، مارپیٹ، گالم گلوچ اور بہیمانہ تشدد کے رونے گانے کے سوا کچھ نہ ہوگا۔

امریکی اداکار ول اسمتھ کا ایک انداز
جبکہ ان کا یہ مفروضہ بتدریج یوں غلط ثابت ہوتا چلا جائے گا، جب وہ مجھ گرفتار بلا کے اس کرب کو محسوس کرتے چلے جائیں گے، جس نے میری اِس تڑپ کو دوچند بنارکھا تھا کہ بھلا کیونکر میں وہ سب کچھ نہیں کر سکتا، جس کے کرنے کی صلاحیت میری نَس نَس میں سمائی ہوئی ہے اور بلا مبالغہ یہ کوئی عام یا پست درجے کی نہیں، بلکہ انتہائی اعلیٰ درجے کی صلاحیت ہے۔ مجھے صحیح یا غلط موقف پر دوسروں کو قائل کرنے اور اذہان میں اپنی من پسند تصویر کے نقوش ثبت کرنے کے فن میں کمال دسترس ہے۔ میں آسمان فِلم کا وہ تابناک ستارہ ہوں، جس کا اولین محرک سادہ،سپاٹ اور ناگوار سچائی کی ازسرِنو صورت گری کر کے اُسے بطریق احسن یوں پیش کرنا ہوتا ہے کہ جذبات مجروح نہ ہوں، جو نہ صرف یہ کہ میرے شایان شان ہو، بلکہ سب سے بڑھ کر آپ سب کے لیے خوش گواری اور نشاط کا باعث ہو، میرا پیشہ مسکراہٹیں بکھیرنا ہے اور میرے پیشے کے اسی تقاضے نے مجھے یہ قوت بخشی ہے کہ حقیقت کو جس رنگ میں بھی پیش کرنے کی ٹھان لوں، آپ کا ذہن اُسی رنگ میں رنگ جاتا ہے۔ بس!! میں یہی کچھ کرتا ہوں۔
داستان گوئی پر مجھے کامل قدرت حاصل ہے، اگر میں آپ کو اس دام فریب میں اُلجھانا چاہوں کہ میں ایک جاذب نظر، شکست و ریخت سے بے نیاز، بے عیب اور صاف و شفاف چمکتے، دمکتے ہیرے کی مانند ماورائی صفات کا حامل ناقابل تسخیر انسان ہوں، تو میری شعبدہ بازی کا اسیر آپ کا ذہن فی الواقع اعتراف کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔ اس کا راز یہ ہے کہ میں حقائق بر سرزمین کے مسائل سے ہمہ وقت برسر پیکار زندگی جینے کی ہُنر آزمائی میں مصرو ف ہوں۔
استقبالیہ سُرخ قالینوں پر چہل خرامی ہو، اُڑن کار کی ڈرائیونگ سیٹ ہو، داڑھی کی تراش خراش ہو، بالوں کا بنائو سنگھار ہو، باکس آفس کے کھڑکی توڑ ہفتے ہوں یا قاتل ادا نا زنینوں سے عہد وپیماں؟ نیرنگئی حیات کے ایک ایک رنگ میں”وِل اسمتھ“ کا وہی جوش، وہی امنگ، وہی ترنگ، وہی تحریک، وہی سرگرمی اور وہی ولولہ پارے کی مانند شفاف، متحرک اور اُچھلتا دکھائی دے گا۔ یقینا اب تو آپ بھی قائل ہو چکے ہوں گے کہ۔۔۔
”یہ میں ہی ہوں اور یہ کتاب مجھ ہی سے متعلق ہے“۔

اپنی سوانح عمری کی اشاعت کے بعد ، اس خوشی کو مناتے ہوئے اداکار کا ایک شوخ اور شرارت بھرا پوز، جس میں مذکورہ سوانح عمری کی متعدد کاپیاں دکھائی دے رہی ہیں
واہ رے واہ!!!”ویسٹ فلاڈلفیا!!!
تجھ میں جنم اور پروان کی بھی ہے۔۔۔
اک عجیب داستان!!!
بھول سکتا نہیں، وہ تیرے کھیل کا میدان۔۔۔
بتائے جہاں، میں نے،بیشتر ایام۔۔۔
اُس سمے بھی رہے اعصاب مرے، شیتل و شانت
جب عقوبت کے تصور سے ہوا کرتا تھا میں لرزہ بر اندام!!
٭٭٭
اِس پس منظر میں لامحالہ ایسے ہی گیت اُبھرتے ہیں۔ چلیں جی، سرتسلیم خم! مجھے یہ کہنے میں بھی کوئی عار نہیں کہ میں ایک دُبلا پتلا، مسخرہ سا ایسا بچہ تھا، جس کا پہناوا ہی اس کی انتہائی بدذوقی کی علامت تھا، مگر یہ بھی تو دیکھیے کہ یہی سیاہ بخت ڈیوڈ برینڈن کی تیار کردہ ایک شاہ کار کاروں کی جوڑی کا مالک بھی تو تھا، جن کے درمیان کھڑا دیکھ کر خود ڈیوڈ برینڈن یہ کہہ اٹھا تھا کہ میں ایک ٹرافی(فتح کا نشان) معلوم ہو رہا ہوں۔ میں تو جب کبھی یادوں کے اوراق پلٹ کر دیکھتا ہوں تو گمان ِ غالب یہی ہوتا ہے کہ میں نے تو ہمیشہ خود اپنی ذات سے بھی کھلواڑ ہی کیا ہے۔ ریاضی اور سائنس کے مضامین تو زمانہ طالب علمی سے ہی میری توجہ کا مرکز رہے ہیں، ان کا مطالعہ میرے لیے بڑی دلچسپی کا باعث ہوتا تھا، باالخصوص ریاضی میں استغراق کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ یہ ایک قطعی علم ہے اور اس میں دو اور دو ہمیشہ چار ہی ہوتے ہیں، میں اشیاء کو جمع در جمع کرتے ہوئے خوشی سے پُھولا نہ سماتا تھا۔
مجھے یہ دیکھ کر یک گو نہ سکون محسوس ہوتا تھا کہ اعدادفریب نہیں دیتے اور یہ ذاتی رُجحان، رائے یا جذبات سے منزا ہوتے ہیں۔ خیر اس موضوع پر تو میں مبالغے کی حد تک سیر حاصل گفتگو پر قادر ہوں، لیکن میری ترجیح خواب و خیال کی وہ دنیا ہے، جس کا تیز روتخیل اور آب و تاب اس حد تک وسیع اور ہمہ گیر ہے کہ میری عمر کے بہت سے بچوں کی سوچ اس کی گرد کو بھی نہیں پا سکتی۔ اس کا اندازہ آپ کو اس مثال سے بخوبی ہوجائے گا کہ پلاسٹک کے فوجی، گیندیں اور کھلونا بندوقیں، جہاں دیگر بچوں کے دل بہلاوے کا سامان تھیں، وہیں میری گہری توجہ ان کی ساخت، جزئیات اور تفصیلات کی چھان پھٹک پر مبذول رہتی اور میں خیالوں کی دنیا میں انہیں کردار سمجھ کر اچھے خاصے منظرنامے تخلیق کرنے میں مگن رہتا تھا۔
غالبا آٹھ یا نو سال کی عمر میں”مام مام“نے مجھے”پام“کی معیت میں جنوب مغربی فلاڈلفیا میں واقع”سلائرس مورس ڈے“ گھومنے کے لیے بھیج دیا۔ یہ وہاں کا ایک عام سستا بازار تھا، جہاں مختلف انواع کے فنون اور دستکاریوں کی خرید و فروخت ہوتی تھی، جبکہ بچوں کی دلچسپی کے لیے وہاں نہانے کا تالاب اور تفریح طبع کے سامان کا بھی انتظام کیا جاتا تھا۔ یہاں کے سیر سپاٹے سے فراغت پا کر، جب پہلے ہی دن میں گھر لوٹا تودوڑتا ہوا سیدھاکچن میں جاگُھسا، جہاں”مام مام“اپنی ایک ہمسائی فریڈاکے ساتھ بیٹھی گپ شپ میں محو تھیں، مجھ پر نگاہ پڑھتے ہی”مام مام“کا چہرہ خوشی سے کھل اُٹھا، پھر وہ پُرمسرت لہجے میں پوچھنے لگیں،”آہا میرا لال!! کیمپ کی سیر کیسی رہی؟“
میں تو اسی موقع کا منتظر تھا، فرفر بولتا چلاگیا،”واہ مام واہ! بہت مزہ آیا، کمال کی بات یہ کہ وہاں تو ایک مکمل آرکسٹرا موجود تھا، جس میں بگل، باجا، شہنائی، وائلن، ڈھول تاشے اور کئی ایسے گائیک شامل تھے، جن کے ہاتھوں میں کچھ اسی نوعیت کے مزید آلات موسیقی تھے۔ اس دوران میں نے باقاعدہ ترم نما باجا بجانے والے فنکار کی سی حرکات وسکنات کا مظاہرہ بھی کردکھایا، پھر”مام مام“ کی معلومات میں مزید اضافہ کرتے ہوئے یہ کہانی بھی سنا ڈالی کہ میں نے تو وہاںبڑا ہی ہنگامہ خیز اور پُرجوش رقص بھی دیکھا، جسے لگ بھگ پچاس کے قریب فنِ رقص کے مشاق اساتذہ باہم مل کر انجام دے رہے تھے۔ میرے پیش کردہ منظرنامے کو سُن کر میں فریڈاپھٹی نگاہوں سے”مام مام“کو دیکھتے ہوئے بے ساختہ بول اٹھیں،”ایک مکمل آرکسٹرا؟؟فن رقص کے پچاس اساتذہ؟؟ وہ بھی بچوں کے سمر کیمپ میں؟؟؟“

اداکار کی والدہ کیرولین برائٹ
اب بیچاری میں فریڈا کو کیا پتہ تھا کہ مجھ اور”مام مام“کے مابین یہ پرجوش اور رنگیلاکھیل تو ہمارا معمول تھا: انہوں نے تو حیران وپریشان ہونا ہی تھا، ہمارا یہ کھیل آج بھی ہمارے معمولات میں اسی جوش وجذبے کے ساتھ شامل ہے، طریقہ واردات کچھ یوں ہے کہ میں کوئی بھی وقوعہ بیان کرتے ہوئے اپنے مشاہدات، تجربات اور تاثرات کو مبالغے کی حد تک ایک دلآویز،شوخ و شنگ، غیر معمولی اور انوکھے انداز میں پیش کرتا ہوں، جبکہ”مام مام“اپنی بصیرت کے بل پر صداقت اورکھوٹ کا تناسب تلاش کر کے دِل ہی دل میں یہ طے کر لیتی ہیں کہ اس معاملے میں کس حد تک میری اصلاح کی ضرورت ہے۔
اس فسوں گری پر بھی”مام مام“نے حسب معمول چند ثانیے توقف کیا، میری ناک سے ناک جوڑی، ایک روایتی ذکی الحس ماں کی جھوٹ پکڑنے کی صفت سے کام لیا اور متجسس نگاہوں نے چہرے کے تاثرات میں غلط بیانی یا جھوٹ کی آمیزش کا رنگ پکڑنے کی کوشش شروع کر دی۔میں نے بھی پُراعتماد رہ کر چہرہ پرسکون رکھا اور خفیف سے خفیف لرزش بھی قریب تک نہ پھٹکنے دی، مگر وہ بھانپ گئی تھیں، یکدم تحکمانہ لہجے میں گویا ہوئیں،”ولرڈ!بکواس بند کرو!!!”میری ڈے کیمپ“ میں اتنے بڑے بینڈکی موجودگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، میں بھی ڈھٹائی پر اُتر آیا،”نہیں مام!میری مان لیں! وہ تو بالکل پاگل کر دینے والا منظر تھا!!!“
اس دوران ہکا بکا کھڑی مس فریڈا نے مداخلت کرتے ہوئے کہا،”سنو کرولین!یہ بیچارہ تو ٹرومیون(شہنائی)سے متعلق تو معمولی سی بھی شد بد نہیںرکھتا تو مان لو کہ اس نے واقعی وہاں یہ سب کچھ دیکھا ہوگا!!“ ماں نے بڑے وثوق سے کہا،”نہیں فریڈا،ہرگز نہیں!! تم نہیں جانتیں، یہ انٹ شنٹ افسانہ طرازی تو اس کی عادت ثانیہ ہے۔“
شامتِ اعمال دیکھیے کہ عین اُسی لمحے”پام“کچن میں آ دھمکیں، ماں نے جھٹ سوال داغ دیا،”پام کیا واقعی آج سمر کیمپ میں بڑا بینڈ موجود تھا اور وہاں رقص وسُرود کی محفل بھی سجی تھی اور شہنائیاں بھی خوب بجائی گئیں؟“

اداکار کا نوعمری اور بے فکری کے دنوں کا ایک پوز ، جس میں ان کے اندر کا کامیڈین دکھائی دے رہا ہے
پام نے یہ سب کچھ سُنا تو حیران رہ گئیں اور بے ساختہ متعجب لہجے میں ان کے منہ سے نکلا،”کیا؟“ پھر ہر بات کی نفی کرتے ہوئے بولیں،”قطعی نہیں“ وہاں تو صرف ایک ژوک بکس(Juke Box) دھرا تھا اور وِل اسمتھ تو سارا وقت اسی کے پاس کھڑا موسیقی سے لطف اندوز ہوتا رہتا تھا اور اِس نے تو نہانے کے تالاب تک جانے کی زحمت گوارا نہیں کی۔“”مام مام“نے ایک فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ فریڈا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،”میں نے تمھیں تھوڑی دیر پہلے اس خبطی کے باب میں کیا بتایا تھا!!؟؟ کچن میں بے ساختہ میرا قہقہہ گونجا،”مام مام نے تو یہ رائو نڈ جیت لیا تھا، مگر خوشی اس بات کی تھی کہ میں نے کم از کم مس فریڈا کو تو اپنی باتوں کے سحر میں جکڑ لیا تھا۔“
٭٭٭٭٭
میری یہ بیش بہا خداداد صلاحیت یعنی میری قوت متحیانہ میری پیشہ ورانہ، اخلاقیات میں گُھل مل کر ایسا ثمر آور تاثر چھوڑتی ہے کہ حسب خواہش ہن برسنے لگتا ہے۔“ جبکہ مام مام کو میری شخصیت کا یہی مجھ دائمی تخیلاتی پر توبہت بھاتا ہے، باالخصوص جب میں اس کمال کا اظہار کمال درجے تک پہنچا پاتا ہوں۔ مام کی چاہت میں ایک ایسی ندرت اور اضطراب تھا، جس کا مقصد میری زندہ دلی اور شوخی طبعی میں بانکپن، جدت طرازی اور تنوع پیدا کرنا ہے۔
”مام مام“کی فکری سطح کا یہ عالم تھا کہ وہ”تعلیمی اصلاحات“،”انتقال وراثت“ اور”صحت عامہ کے جدید گمراہ کن رہنما اصول“ایسے موضوعات کو ہی زیر بحث لاتیں اور اس ازخود پابندی پر وہ بڑی سختی سے کار بند تھیں، جبکہ سوقیانہ گفتگو ہی ان کے لیے سوہانِ روح تھی۔ اس قدر محتاط رویے کے باجود ڈیڈیو ،سے وہ ہر موضوع پر بحث و تکرار میں الجھی رہتی تھیں، ایک بار ڈیڈیو نے زور دے کر کہا،”اگر سیاہ فام نسل قوی یکجہتی میں رنگ گئی، تو ہمارے لیے یہ بڑی بدترین صورتحال ہو گی۔“ مام مام ڈیڈیو کہ اس تجزیے پر دل گرفتہ سی ہو کر بولی،”ول!یہ بات کہتے ہوئے تمھیں ایک لمحے کو بھی احساس نہیں ہوتا کہ تمھاری یہ بات مجھے کس قدر ذہنی اذیت سے دوچار کرتی ہے۔“

اداکار کے والد ولرڈ کیرول اسمتھ سینئر
ڈیڈیو نے برہم ہوکر جواب دیا،”کیئرلین!میری اس بات پر دھیان دو، سوسائٹی میں تحلیل ہونے سے قبل ہم اپنے پیروں پر کھڑے تھے، کالوں کے کاروبار پھل پُھول رہے تھے، بخیل،بخیل کی مالی معاونت پر مجبور تھا، صداکار، ریستوران، ہارڈوئیراسٹور۔ سب کے سب ایک دوسرے کی ضرورت تھے، مگر جب سے ان حبشیوں کو میکڈونلڈ میں بیٹھ کر کھانے کا اِذن ملا، ہمارا معاشی ڈھانچہ دھڑام سے زمین بوس ہوگیا۔“ مام مام کی سوچ کی اپنی نہج تھی، انہوں نے اپنا نقطۂ نظر پیش کیا،”تو گویا تمھارے خیال میں ہم آہنگی اور یک جہتی کے مقابل تمھاری ترجیح یہ ہے، کہ ہمارے بچے غلام بنے رہیں اور جم اوزورو کے قوانین کی رُو سے اچھوت بن کر زندگی گزاریں۔“
ڈیڈیو بدستور اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور دلیل دیتے ہوئے بولے کہ اگر ایک نیگرو کا ایک علیحدہ پانی کا چشمہ ہو تو دیگر نیگرو ایک متعین کردہ کرائے پر اس سے استفادہ کر پائیں گے۔ یہ بھونڈی دلیل سن کر”مام مام“نے اگرچہ ڈیڈیو کو منہ پر تو کچھ نہ کہا، مگر دل ہی دل میں یہ ضرور کہا ہوگا کہ کسی احمق سے مدلل گفتگو کار عبث ہے، کیونکہ پست ذہنی سطح کے حامل شخص کو اُس کی بات کی بے وقعتی سمجھانا امر محال ہوتا ہے۔ مام مام کا یہ خاص وطیرہ تھا کہ بحث کرتے کرتے ان کا یکدم خاموشی اختیار کر لینا۔ اس بات کا اشارہ ہوتا تھا کہ اب وہ مخاطب کی ذہنی کم مائیگی کو بھانپ چکی ہیں۔
جب کبھی میں عامیانہ سطح کا ٹھٹھا کرتا تو ان کی آنکھوں میں چمک اُبھر آتی، تاہم وہ مجھ سے معنی آفریں اور معیاری مزاح کی تمنائی رہتی تھیں،اس سے انہیںیک گو نہ طمانیت اور تحفظ کا احساس ہوتا تھا۔ ان کی فکر کی نہج یہ تھی کہ”فہیم اور ذکی ہی زندگی جیتے ہیں“، ان کی نظر میں ذہانت اور حماقت کے مابین 40/60 کی نسبت ہونی چاہیے ،وہ بیک بیں ودوگوش قسم کی سامع اور ناظر تھیں۔ اپنی اس مخفی صلاحیت سے شاید وہ خود بھی لاعلم، لاشعوری طور پر مجھے متعدد اور متحرک کیے رکھتی تھیں اور میں ہمہ وقت ان کے اشارہ ابرو کی شہ پاکر کبھی اوٹ پٹانگ، تو کبھی شوخ وشنگ مزاح کی مشقیں دوہراتا رہتا تھا۔
میں ان سے اس طرح کی تفریح میں تو بہت ہی لطف اٹھاتا تھا، جب میں سطحی اور عامیانہ رنگ میں بڑے ہی بھونڈے انداز میں طنز و مزاح شروع کرتے ہوئے ان کے تاثرات کا بھی بغور مشاہدہ کرتا جاتا اور جب دیکھتا کہ میری بے سروپاباتوں سے انہیں کوفت ہونے لگی ہے، تو غیر متوقع طور پر عام سطح سے بلندہوکر عمدہ، نفیس اور معنی خیز جگتوں پر اُتر آتا، جس سے انہیں بڑی آسودگی ملتی۔ عمومی طور پر مزاح کا یہی اسلوب مجھے بہت مرغوب ہے۔

ول اسمتھ زمانہ شباب میں ، کسی گہری سوچ میں غلطاں
ذہانت وفطانت کے گھوڑے دوڑانے کے لیے کامیڈی ایک کھلا میدان ہے۔ ذہین افراد کے لیے حقیقی مزاح کی تخلیق جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔”قہقہہ“مام مام کے لیے اکسیر کا درجہ رکھتا ہے،اس حوالے سے یوں سمجھیں کہ میں اُن کا”ڈاکٹرچھوٹو“ ہوں۔ مام مام کو قہقہہ بار رکھنے کے لیے”میںحتی الامکان عمدہ و اعلیٰ،ادنیٰ وپست اور شوخ وشنگ وپھیکے بہروپ بھرنے میں مگن رہتا ہوں۔
میں بظاہر تو تھا ایک کم عمر سا لڑکا، مگر تخیلات کی گھمن پھیریوں میں خود کو بھول جانے میں یدطُولی رکھتا تھا، جب چاہتا جاگتی آنکھوں میں خوابوں کا تانا بانا بُن لیتا، اپنے خیالوں کی جنت میں سیر سپاٹے کے سوا میرے پاس وقت گزاری کا دوسرا کوئی مشغلہ نہ تھا کہ جیسا کہ”سمر کیمپ میں کھلی آنکھوں سے میں نے ایک بڑا آرکسٹرا دیکھا، دلنشین رقوص کے نظارے ملاحظہ کیے، ترم باجا اور شہنائی کی آوازیں سماعت کیں اور کمر پر کسی ڈھیلی ڈھالی پتلونوں پر لمبے لمبے کوٹ چڑھائے(زیوٹ سوٹ) فنکاروں کو اپنے فن کا مظاہرہ کرتے پایا۔
میری تخیلاتی حس نے ذہن کے کینوس پر جو نقوش اُبھارے، انہیں ایک زندہ حقیقت بنا کر دل موہ لینے والے انداز میں بیان کر دیا۔ تصوراتی خاکوں، بو قلموں خیالات، جذبۂ جنوں کی پیہم رواں، ہر دم جواں، اُمڈتی، بل کھاتی یہی ندی میری محفوظ پناہ گاہ، میری فردوس خیال تھی اور اپنی اسی فردوسِ خیال کو حقیقی وجود بخش کر دوسروں کو کامیابی سے دکھا پانے کی قدرت ہی میرے لیے بے پناہ میرے لیے سرور و انبساط کا ذریعہ بن گئی۔ میں ایسے شخص کو دیکھ کر بہت مُسرور ہو جاتا ہوں، جو میرے تخیل کو حقیقت جان کر سرمست ہو جاتا ہے، اور بے اختیارانہ میرے جذبات میں رنگ کر اُوپر چڑھتی ہوئی تفریحی گاہی ریل کے مسافر کی طرح مست و بے خود ہو جاتا تھا۔
میری دانست میں حقیقت اور تخیل کے بیچوں بیچ ایک شفاف اور لطیف ہی لکیر کھنچی ہوتی ہے۔ میں جب چاہوں، اِس لکیر کے اِس پار یا اُس پار بلا تردد آ جا سکتا ہوں۔ پریشان کن بات یہ ہے ایک شخص کا خوش کن تصور کسی دوسرے شخص کے نزدیک قریب”کاری“ ہوتا ہے۔ پڑوسیوں میں میری وجہ شہرت”کذاب مریض“ کی تھی۔ میرے یار دوست کسی طور میرے کہے کو سچ مانتے ہی نہ تھے۔ افسانہ طرازی کا یہ نرالا الزام آج تک میرے سر منڈھا جا رہا ہے، میرے تمام شناسائوں نے اپنا یہ وطیرہ بنا لیا ہے، میرے بیانیے پر دو یا تین بار لازمی غوروخوص کرتے ہیں، اس میں مین میخ نکالتے ہیں اور کھنگال کھنگال کر سچ ڈھونڈھ نکالنے کی پیہم سعی کرتے ہیں۔ بسا اوقات تو پورا واقعہ ہمہ تن گوش سننے کے بعد ایک آدھ دوست کو جینے والی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھ بیٹھتا ہے،”یہ تو سب ٹھیک ہے، مگر یہ تو بتائو اصل میں ہوا کیا تھا؟“

امریکی اداکار ول اسمتھ کی اس یادگار سوانح عمری کا ایک ننھا مداح ، جس نے ہاتھ میں ان کی مذکورہ کتاب بھی تھام رکھی ہے
اب اتنے چھوٹے بچوں کو کون سمجھاتا کہ میں تو جو سمجھ پاتا وہ بیان کردیتا، جھوٹ تو میرا تخیل بولتا تھا، ممکن ہے کہ تخیل کی ملمع کاری نے مجھے اس قدر مبہوت کر دیا ہو کہ مجھے یہ تک یاد نہ رہتا ہو کہ حقیقت کتنی تھی اور مبالغہ آمیزی کتنی؟ بالآخر میری طبعِ خلاق نے ایک مدافعانہ راہ یہ نکال لی کہ ذہن نے اس پہلو پر سوچ بچار ہی ترک کر دیا کہ سچ کیا ہے؟ اِسی بنیاد پر میں نے یہ سوچ اپنا لی ہوگی کہ”وہ کہو جو لوگ سننا چاہتے ہیں!!!“
ان باتوں سے صرف نظر کرتے یہ بتاتا چلوں کہ مجھے ایسی ماںنصیب ہوئی تھی، جو میرے نتِ نئے خیالات پر خوشی سے پُھولے نہ سماتی اور میری تمام حرکات خواہ وہ بے وقوفی پر محمول ہوں یا میری ذہنی اختراع کی عمدہ مثال، ان کے ارتکاب کے مواقع ہمیشہ وہ خود فراہم کر دیا کرتی تھیں۔ اس کی بہترین مثال میرے بچپن کا تصوراتی دوست، جسے میں نے میجیکرکے نام سے موسوم کر رکھا تھا، یوں سمجھ لیں کہ میرا بچپن سب سے زیادہ اُسی کی سنگت میں گزرا ہے۔ یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے کیونکہ چار سے چھ سال تک کی عمر کے اکثر بچے عموماً اپنا ایک آدھ خیالی دوست ضرور بنا کر رکھتے ہیں۔
یہ خیالی دوست حقیقت میںنہ تو اپنا وجود رکھتے ہیں، نہ مشکل ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کی کوئی واضح شناخت ہوتی ہے، اس خیالی دوست کی چاہت اور نفرت دراصل بچے کی اپنی چاہت اور نفرت ہوتی ہے۔ بچہ اپنی جبلی خواہشات کا اظہار اپنے خیالی دوست کی زبان سے کرتا ہے اور اپنے جذبات و احساسات کی تصدیق اور اثبات کے لیے ایسا خیالی دوست تراشتا ہے، تاہم میرا خیالی دوست میجیکر دوسرے بچوں کے خیالی دوستوں سے ہٹ کر منفرد صفات کا حامل ایک پختہ کار اور بالغ نظر لڑکا تھا، جس سے میری گہری وابستگی کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ اس کتاب میں درج میرے پورے بچپن کی کہانی اُسی کی واضح، روشن اور بلند آہنگ یاداشت کی رہین منت ہے۔
میجکر ایک سفید فام بچہ تھا، جس کے بال سرخ تھے اور اس کی گوری چٹی چمڑی پر بھورے دھبے نمایاں تھے۔ وہ ہمیشہ چھوٹے سے پائوڈر بلو لمبے لٹیر سوٹ زیب تن کیے رکھتا، جس پرفائر انجن کے کلر کی طرح گہری لال سُرخ نک ٹائی لگی رہتی تھی۔ ٹخنوں سے اُوپر اٹھی جھولتی پتلون سفید جرابوں کی نمائش کر کے اس کی بدذوقی کی چغلی کھا رہی ہوتی۔ دوسرے بچوں کے دوست تو محض ان کے جذبات کی نمائندگی اور احساسات کے اثبات کا فریضہ انجام دے رہے ہوتے، لیکن میجیکر میری ترجیحات اور امتیازات کا تعین کر رہا ہوتا اور کچھ اس نوعیت کی تجاویز ترتیب دے رہا ہوتا کہ ہمیں کون سا کھیل کھیلنا ہے؟ جانا کہاں ہے؟ اور کرنا کیا ہے؟

ول اسمتھ اور زندگی کے گزرتے ہوئے مختلف طبعی زاویے،جن میں اداکار کا لڑکپن جھلک رہا ہے
کبھی کبھار تو وہ سراسر میری منشاکے خلاف کمر بستہ ہو جاتا، کسی وقت میرا باہر نکلنے کو قطعی جی نہ بھی چاہے، تو وہ کوشش بسیار سے مجھے باہر نکالنے میں کامیاب رہتا، مخصوص قسم کے کھاجوں کی وہ بڑی پہچان رکھتا تھا اور میرے متعلقین کے اخلاق وکردار اس کی رائے بڑی پختہ اور ٹھوس ہوتی۔ یہاں تک کہ اگر میں کہیں بیٹھا اپنے اور اس کے یارانے کی نوعیت پر سوچ بچار میں غرق ہوتا، تو وہ ملامت آمیز لہجے میں اِسے میرا واہمہ قرار دے ڈالتا۔
میجیکر کی حیثیت میرے بچپن کی ایسی معنوی حقیقت کی سی ہو چکی تھی کہ کئی بار میری ماں تک ڈنر ٹیبل پر اُس کے لیے ایک الگ پلیٹ لا رکھتی اور اگر میں رُوٹھا ہوتا اور مام مام مجھے مناتے مناتے زچ ہوجاتی، تو بلا تکلف میجیکر کو مخاطب کر کے کہتیں،”ٹھیک ہے میجیکر!!چلو سونے کے لیے چلتے ہیں“، جبکہ خوش قسمتی سے میجیکر اور مجھ میں اِسی ایک بات پر کاملِ اتفاق ہوتا کہ”ہم بستر پر جانے سے ہمیشہ گریزاں اور نالاں ہی رہتے تھے۔“
(جاری ہے)
٭٭٭