افغانستان کے معروف فلم ساز، اداکار،کہانی نویس اور سابق جونیئر وزیر صدیق برمک کو افغانستان کے سینما کا عالمی چہرہ کہا جائے، تو غلط نہ ہوگا، کیوں کہ ماضی میں وہ واحد اداکار تھے، جن سے مغربی دنیا سمیت کئی ممالک واقف تھے۔ صدیق برمک اس وقت عالمی سطح پر افغانستان کی پہچان بنے، جب ان کی ہدایت کردہ فلم اسامہ پر 2003 میں، انہیں بہترین غیر ملکی زبان کی فلم کا گولڈن گلوب ایوارڈ ملا۔

عالمی شہرت یافتہ افغانی فلم ساز صدیق برمک
صدیق برمک ستمبر 1962 میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اس وقت کے سوویت یونین اور حالیہ روس کی ماسکو یونیورسٹی سےوظیفہ حاصل کرنے کے بعد فلم کی تعلیم حاصل کی، پھر اداکاری کا پیشہ ورانہ طورپر آغاز کیا۔انہوں نے جب اداکاری شروع کی، تو اس وقت افغانستان میں سیکولر حکومت تھی اور ان کا ملک سوویت یونین سے جنگ لڑ رہا تھا۔ سوویت یونین کی شکست کے بعد جب افغانستان میں پہلی بار طالبان کی حکومت آئی، تو وہاں فلموں پر پابندی لگائی گئی اور اس زد میں صدیق برمک بھی آگئے۔ انہوں نے فلم سازی اور اداکاری کا آغاز 1980 میں زمانہ طالب علمی کے دوران ہی کر دیا تھا، کیونکہ انہیں بچپن سے سینما بینی کا شوق تھا۔
انہوں نے 1980 میں پہلی مختصر فلم بلیرڈ بنائی اور 1983 میں وال بنائی۔ 1984 میں سرکل اور 1986 میں الائن نامی مختصر فلم بنائی۔ صدیق برمک نے 1988 سے 1992 تک دستاویزی فلموں پر بھی کام کیا ، پھر افغانستان میں شوبز پر پابندی لگائی گئی، جس وجہ سے وہ گوشہ نشینی ہو گئے، لیکن اس وقت صدیق برمک افغانستان کا جانا پہچانا چہرہ بن چکے تھے اور انہوں نے منفرد موضوعات پر فلمیں بناکر نہ صرف اپنے ملک بلکہ دیگر ممالک میں بھی نام بنالیا تھا۔
صدیق برمک ایک طرف افغانستان میں روسی جارحیت سے نالاں رہے تو دوسری جانب طالبان کی بھی بھرپور مخالفت کی اور فلموں کے ذریعے افغان معاشرے کی حقیقی عکاسی کرتے ہوئے خوب شہرت پائی۔
انہوں نے دری زبان میں عروج نامی فیچر فلم بھی بنائی، جس میں انہوں نے افغانستان میں سوویت یونین کی 1979 سے 1989 کی مداخلت اور حملوں کو موضوع بنایا، اس میں انہوں نے سوویت یونین کی جارحیت کی بہترین عکاسی کی اور ان کی فلم کو کافی سراہا گیا۔ اس کے باوجود صدیق برمک 1987 میں سوویت یونین کے ماسکو فلم انسٹی ٹیوٹ سے ہدایت کاری میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کرنے چلے گئے، وہاں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد ان کی تخلیقی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ۔ اس کے بعد مختلف اوقات میں اچھوتے موضوعات پر دستاویزی اور فیچر فلمیں بنائیں۔

صدیق برمک کی مقبول ترین فلم اسامہ کا پوسٹر اور ان کی تصویر کا فنی انداز
صدیق برمک نے جہاں منفرد موضوعات پر فلمیں بنا کر اپنا اور ملک کا نام عالمی سطح پر روشن کیا، وہیں بچوں کی تعلیم و تربیت اور خصوصی طور پر ان کی فنون لطیفہ میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے تنظیمی سطح پر بھی کردار ادا کیا، افغان چلڈرین ایجوکیشن موومنٹ نامی ادارہ بناکر اس کے پلیٹ فارم سے بچوں کی فنی تعلیم و تربیت کاانتظام کیا۔ فلم سازی کے شعبے میں نوجوان فلم سازوں کی تربیت کے لیے بھی کوششیں کیں، جس میں کابل یونیورسٹی میں سینما کی تعلیم سرفہرست ہے۔ افغانستان کے اولین فلمی رسالے کی اشاعت بھی ممکن بنائی۔ بین الاقوامی فلمی میلوں میں ججز کے فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ افغان سینماٹوگرافرز یونین کی تنظیم کی تشکیل کی۔
سوویت یونین بکھرنے کے بعد افغانستان میں جب پہلی بار طالبان کی حکومت آئی، تو انہوں نے فنون لطیفہ کی سرگرمیوں پر پابندی سمیت لڑکیوں کی تعلیم، خواتین کے گھروں سے باہر نکلنے اور عورتوں کے غیر محرم مرد کے ساتھ کام کرنے جیسے معاملات سمیت کئی طرح کے کاموں پر پابندی عائد کردی، اس دوران افغان ڈراما اور فلم انڈسٹری بھی ماضی کا قصہ بن گئی، تاہم نائن الیون حملوں کے بعد امریکا کی جانب سے افغانستان پر حملہ کرنے کے بعد جب طالبان کی حکومت کا خاتمہ ہوا، تو مغربی ممالک نے وہاں فلموں، ڈراموں اور فنون لطیفہ کو انتہائی فروغ دیا۔

صدیق برمک کی مقبول فلم اسامہ کا ایک پوسٹر
یہ ایک ایسے فلم ساز ہیں، جن کو صرف طالبان کے زمانے میں ہی پریشان نہیں کیا گیا، بلکہ وہ سوویت یونین کے زمانے میں روسیوں سے بھی نالاں تھے، کیونکہ وہ ان کو آفیشل طور پر پپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان کا رکن بناناچاہتے تھے، جو یہ نہیں بنے، پھر انہوں نے جو تخلیقات کیں، خاص طور پر ریڈیو ڈرامے لکھے اور شائع کیے، تو اسٹیٹ سیکورٹی سروس نے ان کو گرفتار کرنے کی کوشش کی، یہ خود توبچ گئے، مگر ان کے کزن گرفتارہوئے اورتین سال تک قید کاٹی۔ یہ خود بھی روسیوں کے زیر اعتاب آنے سے بال بال بچے، کیونکہ ان کے مختلف نظریات ہونے کی بنیاد پر ان کو یونیورسٹی سے نکال دیا جاتا، لیکن پھر کسی طرح بچ گئے۔ افغانستان پر سوویت یونین کے قبضے کی کہانی کو استعارے کے طور میں اپنی فلم وال میں بھرپور طور سے استعمال کیا، یہ منفرد اور نظریاتی کام تھا۔
ان کی بنائی ہوئی ایک اور فلم بلیرڈ ایسے بچوں کے بارے میں تھی، جن کی زندگی کو جوئے کی لت کھا گئی۔ ان کی فلم سرکل، رستم و سہراب کی کہانی کے تناظر میں تخلیق کی گئی کہانی پر بنی فلم ہے، جبکہ ایرانی ادیب ہوشنگ مرادی کرمانی کی ایک کہانی صنوبر پر فلم بنائی، جس میں گائوں اور شہر کی زندگی، عدم مساوات اور غلط فہمی کے احساسات کی عکاسی کی گئی ہے۔ افیون وار بلیک کامیڈی کے انداز میں افغان سماج کے دکھ کا ایک نوحہ ہے، انہوں نے جس کو بیان کیا۔ صدیق برمک کی فلموں کو جن ممالک میں اعزازات سے نوازا گیا، ان میں شمالی کوریا، ازبکستان، کینیڈا، امریکا اور مختلف یورپی ممالک شامل ہیں۔
ان کی شہرہ آفاق فلم اسامہ ایک ایسی کم عمر بچی تھی، جو طالبان کے دور حکومت میں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے لڑکے کاروپ دھار لیتی ہے۔ اس فلم کو دنیا بھر میں بے حد شہرت حاصل ہوئی۔

صدیق برمک کی مشہورِ زمانہ فلم اسامہ کا ایک منظر
افغانستان میں طالبان کی پہلی حکومت کے بعد صدیق برمک طالبان کی کارروائیوں سے بچنے کے لیے پاکستان منتقل ہوگئے تھے، جہاں وہ 2001 تک مقیم رہے، لیکن جیسے ہی ان کے ملک سے طالبان کی حکومت کا خاتمہ ہوا، وہ اپنے ملک واپس چلے گئے، پھر سے انہوں نے شوبز کی کئی سرگرمیاں شروع کر دیں، افغانستان پر امریکی حملے اور طالبان حکومت کے خاتمے کے محض 2 سال بعد صدیق برمک نے 2003 میں ایرانی فلم ساز کی تکنیکی معاونت سے اسامہ: دی رینبو نامی فلم بنائی تھی، جس نے عالمی سطح پر شہرت حاصل کی، متعدد ایوارڈز بھی اپنے نام کیے۔ افغانستان میں امریکی حملے اور مغربی ممالک کے فنڈنگ سے بننے والی حکومتوں میں صدیق برمک کچھ وقت کے لیے حکومت کا حصہ بھی رہے، انہوں نے ثقافت اور کلچر کی وزارت میں خدمات بھی سر انجام دیں۔

افغانستان کی مقٓبول ترین فلم اسامہ کے مختلف مناظر
صدیق برمک کی ایوارڈ یافتہ فلم اسامہ کی کہانی خاص طور پر بہت دلچسپ ہے کہ کس طرح ایک افغان لڑکی، جو ملک میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد لڑکا بن کر تعلیم حاصل کرتی ہے، انہوں نے اس کردار کے لیے مہاجر لڑکی مرینا گل بہاری کو اداکاری کے لیے تیار کیا، جس وجہ سے فلم نے نہ صرف افغانستان کے لوگوں بلکہ غیر ملکی افراد کو بھی خاصامتاثر کیا۔ وہ فلموں کے موضوعات کے حوالے سے بہت پرجوش رہتے ہیں، ان کو پاکستان کے قومی شاعر علامہ اقبال کے کلام سے بھی خاصی دلچسپی ہے، وہ کہتے ہیں ، اگر موقع ملا، تو میں اس عظیم شاعر کے کلام پر بھی فلم بنانا چاہوں گا۔
ایک درجن تک فیچر اور دستاویزی فلمیں بنانے والے صدیق برمک کو جدید افغان سینما کی خالق شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔ نئی نسل کے اداکار انہیں اپنا استاد مانتے ہیں۔ عہدِحاضر کے افغان سینما میں صدیق برمک کی شخصیت نئی نسل کے لیے ایک رول ماڈل کی ہے، جس کے وہ حق دار بھی ہیں۔