اینا بیلا ایوری تھورن، جن کی عرفیت بیلا تھورن ہے، وہ امریکا کی نئی نسل کے فنکاروں سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کی پیدائش کا سال 1997 ہے، جس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ ابھی کم عمر ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے وہ اداکارہ، ماڈل، گلوکارہ اور مصنفہ ہیں۔ اپنے فنی کیرئیر میں کئی اعزازات اپنے نام کرچکی ہیں، جن میں امیجین ایوارڈ، شارٹی ایوارڈ، ٹین چوائس ایوارڈ اور ینگ آرٹسٹ ایوارڈز شامل ہیں۔ وہ ”ڈرٹی سیکسی منی سیریز“ میں مارگاؤس ڈارلنگ کے کردارجبکہ ”مائی اون ورسٹ اینمی“ میں روتھی سپائی سے شہرت ملی۔”فیمس ان لو“ بھی ان کا ایک مشہور ڈراما ثابت ہوا۔ اسی طرح پھر ان کو ڈزنی چینل کی سیریز”شیک اٹ اپ“ سے مقبولیت حاصل ہوئی، جس میں ان کا یہ کردار سی سی جونز کاتھا۔ وہ کئی کامیاب فلموں کا حصہ بھی بنیں، جن میں بلینڈڈ، دی بے بی سٹر فلم سیریز، دی ڈف، ان فیمس، گرل اور ٹائم از اپ اور دیگر فلمیں شامل ہیں۔ انہوں نے بطور گلوکارہ 2011 میں”واچ می“ جیسے مقبول نغمے سے گلوکاری کی دنیا میں قدم رکھا اور امریکا کی جدید موسیقی کے منظر نامے پر ہلچل مچادی۔”میڈ ان جاپان“ اور”جرسی“ نامی گیتوں سے ان کی شہرت میں مزید اضافہ ہوا، پھر فلمی دنیا میں ہدایت کاری کا آغازفلم برائے بالغان بنا کر کیا، جس سے یہ خاصی حد تک متنازعہ بھی ہوگئیں، لیکن بے باک شخصیت کی مالک اداکارہ اور گلوکارہ کسی کی پرواہ نہیں کرتیں اور ہر طرح کی بغاوت کرنے پر آمادہ دکھائی دیتی ہیں۔ ان کی جعلی عریاں تصاویر اور ویڈیو ز نےایک طرف ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا، تو دوسری طرف وہ اپنی ذات میں ٹوٹ پھوٹ کررہ گئیں۔ کم عمری میں اس طرح کے جنسی استحصال اور پھر سابق عاشقوں کی طرف سے ان کی قابل اعتراض تصاویر کو پھیلائے جانے کے غم نے ان کو شدید صدمات سے دوچار کیا۔ ان احساسات کے بارے میں انہوں نے تفصیل سے اظہار کیا ہے۔ جعلی ویڈیو کی ٹیکنالوجی کے ذریعے جس طرح ان کے امیج کو نقصان پہنچایا گیا، وہ اس ٹیکنالوجی پر بھی شدید سوالات اٹھاتی ہیں کہ اس طرح کی ٹیکنالوجی پر پابندی ہونی چاہیے تاکہ کسی کا گھر اور دل خراب نہ ہواور بغیر کسی قصور اورغلطی کے، کسی کی زندگی عذاب نہ کردی جائے، وہ اس پر سراپا احتجاج نظر آتی ہیں۔ انہوں نے اپنی نظموں کی کتاب”دا لائف آف اے وانابی موگل: مینٹل ڈِس ارے“ میں اپنے جذبات کی عکاسی کی ہے۔ اس تخلیق کردہ کلام میں اپنی زندگی میں بے پناہ تنہائی، مایوسی اور جنسی استحصال کا تذکرہ کیا ہے۔ ان کے خیالات بیک وقت محبت اور شہوت کا امتزاج محسوس ہوتے ہیں۔ 2019 کے ایک سروے کے مطابق ”بیلا تھورن“ کا شمار دنیا کی 100 بااثر اورشہرت یافتہ خواتین میں کیا گیا تھا۔ ان کی شہرت کا ستارہ بہت تیزی سے گردش میں ہے اور وہ کئی صدمات اٹھانے کے باوجود، بہت ساری کامیابیوں کو بھی سمیٹ رہی ہیں۔ یہاں ان کے بہت سارے انٹرویو کا ترجمہ و تلخیص پیش کی گئی ہے، جس سے ان کی شخصیت اورخیالات کے بارے میں، قارئین بہت کچھ جان سکیں گے۔

اداکاری اور گلوکاری کے ساتھ ساتھ حُسنِ بے شمار میں بھی خود کفیل ۔ بیلا تھورن
سوال۔ آپ نے بنیادی تعلیم گھر میں ہی حاصل کی؟
جواب۔ جی ہاں، میں اس روایتی تعلیمی نظام کو بہت یاد کرتی ہوں۔ مجھے اسکول جاکر فٹ بال کھیلنے کا شوق بھی تھا اور دوسروں کے لاکرز دیکھنے کا بھی اشتیاق تھا۔ میری یہ خواہش تھی کہ میں اپنا سارا سامان اس طرح کے لاکرز میں محفوظ کرلوں۔
سوال۔ آپ نے کم عمری میں ہی بہت کچھ کیا۔ اداکاری، رقص، ماڈلنگ، گانا(جسے آٹو ٹیون پلگ ان نے بہت آسان بنا دیا ہے)۔ کیا آپ کے پاس ان شائقین کے لیے کوئی مشورہ ہے، جو انٹرٹینمنٹ کی فیلڈ میں آنا چاہتے ہیں؟
جواب۔ یہ شوق نہیں ہو سکتا۔ یہ واقعی کچھ ایسا ہونا چاہیے، جسے آپ ایمانداری کے ساتھ اپنے پورے دل سے پسند کریں کیونکہ یہ آسان نہیں ہے اور اس میں بہت زیادہ محنت درکار ہوتی ہے، جسے میرے خیال میں کچھ لوگ اس وقت نظر انداز کر دیتے ہیں، جب وہ مشہور ہونے یا اداکارہ ہونے کی بات کرتے ہیں، تو وہ اس پہلوکو نظر انداز کرتے ہیں۔

بیلا تھورن کی دلکشی کے مختلف زاویے
سوال۔ کیا آپ اپنے دوستوں کے ساتھ فرصت کا وقت گزارتی ہیں؟
جواب۔ میں اپنا وقت طے کر کے بسر کرتی ہوں۔ لڑکپن کے دنوں میں بہت سارے کھیل کھیلا کرتی تھی۔ میں اپنے بستر پر لیٹ کر نیٹ فلکس دیکھا کرتی تھی۔ میری امی نے مجھے میرے کمرے میں ٹی وی لگوا دیا تھا تاکہ میں کمرے سے باہر نہ نکل سکوں۔
سوال۔ آپ کے دو گیت”ایس ایف بی “ اور”ونلی“کافی دلچسپ نغمے ہیں، ان گانوں کے بارے میں تھوڑا بتائیں۔ ان کو تخلیق کرنے کا خیال کیسے آیا تھا؟
جواب۔ دراصل میرے البم میں بہت سے گانے ہیں، جن میں اسی قسم کا سوئچ اپ ہے، جہاں ہم ایک صنف سے براہ راست دوسری صنف میں جا رہے ہیں۔ میں واقعی میں ایک صوتی گٹار کے ساتھ شروع کرنا چاہتی تھی، پھر سوچا”’میں ایک نفرت انگیز نغمہ بھی گانا چاہتی ہوں۔“ لہٰذا ہم صرف مضحکہ خیز، بے ترتیب، خراب لائنوں کے بارے میں سوچتے رہے۔ ہم نے اصل میں اس گانے کے لیے ایک ہی دن میں سب کچھ کیا۔ یہ ایک اچھا تجربہ تھا۔
سوال۔ آپ کواپنا ایک اور مقبول گانا’’لونلی‘‘ بنانے کا خیال کیسے آیا؟
جواب۔ میں احساسات کے اعتبار سے شہوت پرست تھی، لیکن مجھے دیر ہو چکی تھی اور میں تنہا تھی۔ میرا موجودہ بوائے فرینڈ اس وقت میرا سچا دوست نہیں رہا تھا۔ بنیادی طور پر، وہ میری تحریروں کا جواب نہیں دے رہا تھا، میں ساری رات اس مختلف ٹائم زون میں اس سے کچھ سننے کی کوشش کرتی تھی۔ وہ مجھے ایس ایم ایس کا جواب نہیں دیتا تھا، تو میں نےاس کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک گیت لکھاکہ”میں صرف اس وقت اپنا فون چیک کرتی ہوں، جبکہ میں اکیلی رہ جاتی ہوں۔“ وہ میرے دماغ میں پھنس کر رہ گیا تھا۔ اگلے دن میں اسے ریکارڈ کرنے سٹوڈیو چلی گئی۔ یہ گیت اس طرح تخلیق ہوا۔
سوال۔ آپ اپنی نفسانی خواہشات کا کھل کر اظہار کرتی ہیں۔ یہ آپ کے لیے کیوں اہم ہے؟
جواب۔ برسوں سے خواتین کو بتایا جاتا رہا ہے، ہماری اندام نہانی ہمیں سب سے قیمتی چیز بناتی ہے اور یہ ہمیں لوگوں کے لیے اپنے حالات میں استعمال اور بدسلوکی کے لیے سب سے زیادہ مطلوب چیز بھی بناتی ہے۔ اس کی وجہ سے ہم خواتین کو ہراساں کرنے اور غنڈہ گردی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ عورت ہونا ایک بہت ہی دلچسپ بات ہے، خاص طور پر اپنی جنسیت کے مالک ہونے کے ساتھ، خواتین کو یہ تک بتایا گیا ہے، اس طرح محسوس کرنا غلط ہے۔ عام طور پر، ہم صرف اس قسم کی چیزوں کے ساتھ زندگی بسر نہیں کرسکتے، شاید ہماری حیثیت ایک طوائف جیسی ہے۔
سوال۔ آپ کو ذاتی طور پر متاثر کرنے والا ابتدائی موسیقار کون تھا؟
جواب۔ جان جیٹ میری پسندیدہ سنگر ہیں ۔ میری نگاہ میں وہ ایک رول ماڈل کی مانند ہیں، میں ان کواپناآئیڈیل مانتی ہوں اور ہمیشہ ان سے پیار کرتی رہوں گی۔ اسی فہرست میں گلوکارہ میڈونا بھی شامل ہیں۔ ان دونوں نے خواتین کے لیے بہت کام کیا ہے۔
سوال۔ آپ زیادہ موسیقی کس قسم کی سنتی ہیں؟
جواب۔ مجھے کڈ لاروئی بے حد پسند ہے۔ میں نے یہ گانا اس لڑکی کے ساتھ مل کر لکھا ہے، جس سے میری دوستی ہے۔ اس کا نام”پیم“ ہے، اس نے بھی خود ایک گانا گایا تھا، لیکن وہ موسیقی میں زیادہ کام نہ کرسکی۔
سوال۔ آپ نے پہلا کنسرٹ کہاں کیا تھا اور اس میں کون کون شریک تھا؟
جواب۔ میں نے اتنے زیادہ کنسرٹ پرفارم نہیں کیے، لہٰذایہ یاد رکھنا آسان نہیں ہے۔ یہ کینی ویسٹ اور جے زیڈ تھے، جو مجھے پیرس لے کر گئے تھے۔ میں اصل میں زیندیا کے ساتھ تھی۔ ہم گئے اور ہم نے وہاں کئی کنسرٹ دیکھے، وہ سب بہت اعلیٰ تھے۔ یہ بات میں کافی بار کہہ چکی ہوں، جب ہم نوجوان تھے، شیک اِٹ اپ کے پہلے سیزن میں(زیندیا) دوست نہیں تھے، جبکہ دوسرے سیزن میں ہم یک جان دو قالب بن چکے تھے۔
سوال۔ ایسا کون سا گانا ہے، جو آپ کو ناچنے پر مجبور کر دیتا ہے؟
جواب۔ ہمیشہ وائے جی کا نام ہی لوں گی، جب بھی میں اس کی سریلی آواز سنتی ہوں، تو کہتی ہوں کہ میں اس سے پیار کرتی ہوں۔
سوال۔ کیا آپ کے خوابوں کا کوئی شہزادہ ہے؟
جواب۔ ہاں جان جیٹ
سوال۔ ایسا کون سا گانا ہے، جو آپ کو جوانی میں لے جاتا ہے؟
جواب۔ معروف مغربی بینڈ”لنکن پارک“ کا کوئی بھی گانا۔
سوال۔ کون سا گانا آپ کو شہوت انگیزی کی طرف مائل کرتا ہے؟
جواب۔ ڈینی لین کا’’کروین‘‘ گانا مجھے اچھا احساس دلاتا ہے۔
سوال۔ بریک اپ کا بہترین ترانہ کون سا ہے؟
جواب۔ پوٹینشل بریک اپ۔ گلوکار ایلے اینڈ اے جے
سوال۔ آپ کے نزدیک ’’شہوت‘‘ سے بھرپور گانا کون سا ہے؟
جواب۔ میجک مائیک کے تمام گانے۔
سوال۔ کیا کسی فلم کی موسیقی بھی آپ کی پسندیدہ ہے؟
جواب۔ جی ہاں، فلم”ٹائم از اپ“کی موسیقی مجھے بے حد پسند ہے۔
سوال۔ کیا آپ دوران غسل بھی گاتی ہیں؟
جواب۔نہیں، البتہ میں عمومی طور پر اپنی تصویریں بناتی ہوں۔ (ہنستے ہوئے)
سوال۔ آپ کی زندگی پر اگر ایک ٹی وی شو بنایا جائے، تو اُس کا تھیم سانگ کیا ہوگا؟
جواب۔ میری سستی کے حوالے سے بن سکتا ہے اور میری محنت پر بھی بات ہوسکتی ہے۔ ایسا کون سا گانا بن سکتا ہے، جو اس پہلو کو اجاگر کرسکے، اگر آج میں دنیا کو فتح کرنے کا سوچ رہی ہوں، تو کل مجھ سے ریموٹ اٹھاکر دینے تک کا کام نہیں ہو پائے گا۔ یہ میرا مزاج ہے، کبھی بہت سست اور کبھی انتہائی چست ہوجاتی ہوں۔
سوال۔ آپ سوشل میڈیا کا استعمال زیادہ کرتی ہیں؟
جواب۔ میں سوشل میڈیا پر اپنے آپ کو زیادہ فعال رکھتی ہوں تاکہ لوگ یہ جان سکیں کہ بیلا تھورن آخر ہے کون؟ اور مجھے لگتا ہے، سوشل میڈیا میرے لیے سب کچھ ہے، جب میں 18سال کی ہوئی، تو میری ماں نے میرے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سنبھال لیے تھے اور اس کی بدولت میں نے کافی پیسہ بنایا۔
سوال۔ کیا آپ ٹک ٹاک کی بھی بڑی اسٹار ہیں؟
جواب۔ میں بہت سارے ٹک ٹاک دیکھتی ہوں، لیکن پھر میں نے خود کو دیکھنے سے روک دیا، لیکن میری ماں، مجھے کبھی بھولنے نہیں دیتی۔ لوگ وہاں جنگلی انداز میں چیزیں کر رہے ہوتے ہیں، میں نے دیکھا ہے، جہاں لوگ بالوں کو کھینچ رہے ہوتے ہیں یا جہاں لڑکے اپنے چہرے کو کارٹون بنالیتے ہیں۔ یہ کیا بات ہوئی، وہ اپنے ساتھ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ مجھے دیکھ کر بہت حیرت ہوتی ہے۔
سوال۔ انسٹاگرام کے استعمال کے حوالے سے بتایئے؟
جواب۔ میرے لیے انسٹاگرام سو فیصد ایک ملازمت کی طرح ہے۔ میں نے 18 برس کی عمر میں اس سے 200 ڈالرز کما لیےتھے، پھرآگے چل کر اسی طرح کی کمائی سے میں نے ایک گھر بھی خریدا۔
سوال۔ آپ کی پہلی کتاب”مینٹل ڈزرے“تھی۔ آپ کی دوسری کتاب کس موضوع پر ہے؟
جواب۔ میں نےاپنی پہلی کتاب میں شاعری کی صورت میں زندگی سے جڑی تاریک چیزوں کو اپنے الفاظ میں بیان کیا تھا۔ قارئین کتاب کو پڑھتے ہوئے اندازہ لگاسکتے ہیں کہ میں اس کو لکھتے ہوئے کس ذہنی انتشار کا شکار تھی۔ کتاب کے آخر تک، سب کچھ شفاف ہے۔ یہ صرف میرے بارے میں تھا کہ میں نے زندگی میں کتنے برے لوگوں کو اپنی زندگی میں برداشت کیا۔ آخر کار، یہ میرا پہلا موقع ہوگا، جب میں نے تھراپی کا استعمال کیا۔ اس لیے میں یہ چاہتی تھی، اب کچھ ایسا لکھوں، جس میں میرے جذبات کی عکاسی ہوسکے۔ میں خود ساختہ مظلوم نہیں بننا چاہتی، میں اپنی ذات کا بہتر ورژن بننا چاہتی ہوں اور جانتی ہوں کہ میں یہ بخوبی کرسکتی ہوں۔ مجھے اس مقام تک پہنچنے کے لیے صرف ذہنی توانائی اور مرتکز ہوکر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ میں نے شاعری کے ساتھ ساتھ ناولوں کی ایک سیریز بھی لکھی ہے، جن کی صورت میں اپنے احساسات کو الفاظ کا لبادہ پہنایا ہے۔
سوال۔ آپ اپنے والد سے بہت زیادہ پیار کرتی تھیں؟
جواب۔ مجھے لگتا ہے، بہت سے لوگ سوچتے ہیں، اگر آپ اپنے مرحوم والد کے بارے میں لکھنے جا رہے ہیں، تو آپ یہ لکھتے ہیںجیسے کہ وہ بہت عظیم انسان تھے۔ میں نے لکھا تھا، کسی کے والدین ہر طرح سے مکمل والدین نہیں ہوتے ہیں۔ ”’آپ کسی کو ہیرو اس وجہ سے نہیں بناسکتے کہ وہ انتقال فرماگیا ہے۔“ لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کہ میں ان کو بہت یاد کرتی ہوں، ان کی جدائی بھی میری زندگی کے دکھوں میں سے ایک دکھ ہے، جس کی ٹھیس میرے اندر اکثر اٹھتی ہے۔
سوال۔ کیا لوگ آپ کی قسمت پر رشک کرتے ہیں؟ یا جلتے ہیں کہ اتنی جلدی آپ کیسے مشہور ہوگئیں؟
جواب۔ میں ماڈلنگ کیا کرتی تھی۔ زیادہ پڑھتی نہیں تھی اور اسکول سے باہر رہا کرتی تھی۔ مجھے ہسپانوی زبان پر عبور نہ ہونے پر افسوس ہوتا تھا کیونکہ جب میں میکسیکو جایا کرتی، تو میری کوشش ہوتی تھی، میں اس زبان پر عبور حاصل کرلوں۔ میں صرف 7 سال کی تھی، تب میرے والد کا انتقال ہوا،ان کا تعلق کیوبا سے تھا، تو اس زبان سے میری اداس یادیں وابستہ تھیں۔ یہ زبان مجھے ورثے میں ملی تھی اور اس کو بولنے میں مجھے دقت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
سوال۔ آپ کے والد ایک کار حادثے میں ہلاک ہو ئے تھے۔ ان کے کھونے سے آپ کے بچپن پر کیا اثر پڑا؟
جواب۔ آپ کی سوچ سے بھی زیادہ منفی اثرات میری ذات پر مرتب ہوئے، کوئی دوسرا تو اس دکھ کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ سب سے منفی بات یہ ہے کہ یہ سانحہ ہمیشہ میری زندگی کو متاثر کرتا رہے گا۔ منگنی کرنا میری زندگی کا بڑا موقع تھا، جب میں نے اُن کو بے انتہا یاد کیا اور مجھے پتہ تھا،وہ اب کبھی نہیں آئیں گے۔ یہ درد ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا، چاہے میں خود بھی ماں ہی کیوں نہ بن جاؤں۔
سوال۔ آپ اب بھی انہیں بہت یاد کرتی ہیں؟
جواب۔ یہ ایسا درد ہے، جسے صرف وہی سمجھ سکتا ہے، جس نے اپنے والدین کو کھو دیا ہو۔ ایسے لمحات ہوتے ہیں، جب آپ کافی شاپ پر بیٹھے ہوتے ہیں، کوئی ایسی مضحکہ خیز بات کہتا ہے، جو آپ کو ان کی یاد دلاتا ہے، آپ بے انتہا اور بلاوجہ مسکرانے لگ جاتے ہیں اور اچانک سے جھماکا ہوتا ہے اور آپ واپس اداسی میں گھرجاتے ہیں۔ یہ احساس آپ کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔ موت آپ کے اوپر پتھروں کے اس بڑے ڈھیر کی طرح بیٹھی ہے، جس کے اوپر کرین کھڑی ہوتی ہے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، کچھ چٹانیں تھوڑی دور ہٹنے لگتی ہیں، جس سے آپ کو سانس لینے کا موقع ملتا ہے، لیکن ہمیشہ ایسا وقت آئے گا، جب پتھر موجود ہوں گے۔
یہ احساس اب بھی ہے کہ سانس لینا مشکل ہے، یہ آپ کو ہمیشہ اس بھاری چٹان سے ڈھک کے رکھتا ہے۔ آپ جانتے ہیں، یہ بھاری چٹان کسی بھی وقت آپ کے اوپر گرسکتی ہے۔ اپنے کسی قریبی رشتےکو کھونا بہت مشکل ہے۔ میں نے اپنے خاندان کے بہت سے افراد کو کھو دیا ہے، ان کو انگلیوں پر گن سکتی ہوں، جو زندہ ہیں، لیکن جب یہ آپ کے والدین یا بہن بھائیوں میں سے ایک ہو، تو یقیناً یہ درد اور اذیت کی ایک مختلف شکل ہوتی ہے۔
سوال۔ کیا آپ اپنی بہن بھائیوں سے ملتی ہیں؟
جواب۔ میرا ایک بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ ہم سب ایک دوسرے سے بے انتہا محبت کرتے ہیں۔ میری کامیابی پر انہیں کافی خوشی محسوس ہوتی ہے۔ ہمارے والدین کے پاس کچھ نہیں تھا۔ ہم ہمیشہ مالی مشکلات میں گھرے رہتے تھے، اب ہم سب آپس میں مل جل کر رہتے ہیں۔یہ بات میرے لیے خوشی کا باعث ہے۔
سوال۔ آپ کی ماں نے آپ کو سب سے بہترین مشورہ کیا دیا ؟
جواب۔ ایک چیز میری ماں نے جذباتی طور پر میرے ساتھ نتھی کی ہے، جس کے لیے میں ان کی بہت شکر گزار ہوں، وہ یہ ہے کہ ان کو ہمیشہ سے مجھ پر بھروسہ ہے۔ یہ چھوٹی سی لڑکی، جسے کسی چیز سے پیار ہے اور اسے کرنا نہیں آتا، وہ پڑھ نہیں سکتی، لکھ نہیں سکتی، لیکن اداکاری کرنا چاہتی ہے اور ان سب چیزوں کو حاصل کرنا چاہتی ہے، یہ سب میری ماں کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔ ”میں اپنی بیٹی کے لیے صحیح فیصلے کیسے کروں، کیونکہ میں اس کی کامیابی کو حاصل کرنے میں مدد کرنا چاہتی ہوں۔“ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں یہ بہت مشکل کام ہے۔ میری والدہ کی یہ ذہنیت ہے، آپ کو شروع کرنے کے لیے اسے اصل میں جاننے کی ضرورت نہیں ہے، آپ شروع کر کے اسے سیکھ سکتے ہیں، پھر آپ واقعی پڑھ سکتے ہیں اور اچھے بن سکتے ہیں، چاہے کچھ بھی ہو۔ وہ ہمیشہ مجھ پر یہ یقین رکھتی ہیں اور مجھے حوصلہ دیتی ہیں۔ مسلسل کام کرنا، تخلیق کرنا میں واقعی اس کا کریڈٹ اپنی ماں کو دے سکتی ہوں۔
سوال۔ آپ کی منگنی پر والدہ کا کیا ردعمل تھا؟
جواب۔ اوہ میرے خدا، وہ خوشی سے پھولی نہ سما رہی تھیں۔ ان کی اپنی منگنی بھی ہو چکی ہے، کیونکہ میرے والد کے انتقال کے بعد انہوں نے کسی کو ڈیٹ نہیں کیا تھا اور اب اتنے عرصے بعد ان کی منگنی ہوئی ہے۔ جیسے جیسے میں بڑی ہوتی چلی گئی، میں اپنی ماں کی طرح بہت زیادہ نظر آتی ہوں۔ میں قدرتی طور پر واقعی دبلی پتلی ہو تی تھی، مجھے جسمانی طور پر بھرنے میں اتنا وقت لگتا اور میرا چہرہ پہلے اتنا پتلا ہوا کرتا تھا۔ میں اپنے والد کی طرح بہت زیادہ لاطینی امریکی طرز کی، اونچی گال کی ہڈیوں اور بہت بڑی پیشانی کے ساتھ دکھتی تھی۔ میں نے ہمیشہ محسوس کیا، میں اپنے والد کی طرح ہی زیادہ تر نظر آتی ہوں۔ وہ سرخ بالوں والی ہیں، میری ایک بہن کی طرح، میں قدرتی طور پر سنہرے بالوں والی ہوں، اس لیے اب جب ہم اکٹھے ہوتے ہیں، تو لوگ کہتے ہیں کہ ہم جڑواں ہیں۔
سوال۔ چائلڈ ایکٹر ہونے کے ناطے آپ کو کافی دقت کا سامنا کرنا پڑا ہوگا۔ آپ اس بارے میں کیسا محسوس کرتی ہیں؟ کیا ایسی کوئی تجویز ہے، جو آپ والدین یا بچوں کو تجویز کریں؟
جواب۔ آپ کا بچہ اگر واقعی کچھ کرنا چاہتا ہے، تو آپ کا اسے روکنا درست عمل نہیں ہے، اگرچہ یہ آپ کی زندگی سے بہت کچھ لے جاتا ہے۔ اداکاری آپ سے بہت اہم لمحات چرا لیتی ہے۔ آپ ہمیشہ کام کرتے اورکوشش کرتے رہتے ہیں، آپ کبھی بھی بچپن کی زندگی نہیں گزارتے، اپنے دوستوں کے ساتھ گھومتے پھرتے، کھیلنے کی تاریخیں گزارتے، سالگرہ کی پارٹیوں میں جاتے ہیں۔ آپ اسی طرح اگر انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں ہیں، تو آپ ایساکچھ نہیں کرتے۔ آپ کے بچے جو کچھ بھی کرنا پسند کرتے ہیں، اداکاری یا کچھ بھی، جو بہت اہم ہیں، تو یہ بہتر ہے کہ وہ اس کے بارے میں واقعی پرجوش ہوں، اگر آپ ان کی لگن دیکھتے ہیں، لیکن آپ والدین کے طور پر یہ جاننے کے درمیان کیسے انتخاب کرسکتے ہیں کہ یہ وقت ان کو آگے بڑھانے کا ہے یا نہیں ہے۔ مجھے کوئی اندازہ نہیں ہے، میں اس کا جواب نہیں دے سکتی، یہ بہت مشکل مرحلہ ہوتا ہے، جب کسی کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے۔
سوال۔ آپ سب سے زیادہ کس چیز سے ڈرتی ہیں؟
جواب۔ یہ ایک بھاری بھرکم سوال ہے، میں سب سے خوفزدہ کس چیز سے ہوتی ہوں۔ میں اپنی پوری زندگی کام کرنے، جو میں پسند کرتی ہوں، ذہنی طور پر ہمیشہ ایک جیسی جگہوں پر رہنے سے ڈرتی ہوں، پھر اپنی زندگی کے اختتام پر جاننا کہ کیا میں قابل قبول ہوں؟ وہ تمام لمحات جو آپ نے یاد کیے، یہی وہ چیز ہے، جس سے میں سب سے زیادہ ڈرتی ہوں۔ اسی لیے میں سمجھتی ہوں کہ خاندان سب سے اہم چیز ہے، ایک خاندان بنانا، بچے پیدا کرنا۔ جب میں ایسا کرتی ہوں، میں صرف جذباتی اور مالی طور پر مستحکم ہونا چاہتی ہوں تاکہ میرے بچے جو کچھ بھی چاہیں، میں انہیں وہ سب کچھ دے سکتی ہوں، جو میں نے بڑے ہو کر کبھی نہیں کیا تھا۔
سوال۔ زندگی کا کوئی پچھتاوا، جو آپ کو اب تک پریشان کرتاہو؟
جواب۔ نہیں، مجھے کسی بات کا افسوس نہیں ہے۔ اپنے ماضی کو جاننا اور میں نے اپنے بچپن کے ارد گرد کتنا اور کیا کھویا، اس پر غور کرنا چھوڑ دیا ہے۔ میں اپنے بچے سے کہوں گی کہ مجھے آپ سے کچھ نہیں چاہیے، لیکن اگر آپ یہ کرنا چاہتے ہیں، تو میں آپ کی مدد کروں گی۔ ہمیں اسے کسی وقت ختم کرنے کی ضرورت ہے اور ایسا ہونا چاہیے۔ یہ نہیں کہ اس چیز کو ٹھکرا دیں، آپ زندگی کے اس شو میں مہمان اداکار نہیں ہیں، آپ اپنے دوست کی سالگرہ کی تقریب میں جا رہے ہیں کیونکہ وہ آپ کا طویل عرصے تک دوست رہنے والا ہے اور میں نہیں چاہتی کہ آپ بعد میں مجھ پر غصہ ہو جائیں۔
سوال۔کیا آپ کی منگنی ہوچکی ہے؟
جواب۔جی ہاں، اس نے میرے ساتھ فلم میں کام کیا اور وہ اُس کی پہلی فلم تھی، میں نے پہلی بار کسی ایسے شخص کے ساتھ
فلم کے سیٹ پر کام کیا، جس کے ساتھ ڈیٹ پر گئی ہوں۔ ہمارے لیے، خاص طور پر ہمارے رشتے کے لیے، یہ دیکھنا بہت بڑا اور پہلا کام ہے کہ ہم واقعی سیٹ پر، سارا دن، ایسی چیزوں کے بارے میں بات کرتے، ان مناظر سے گزرتے، مشکل مناظر سے گزرتے اور یہ سوچتے کہ کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ کام کر سکتے ہیں۔ ہم جب اسپین میں شوٹنگ کر رہے تھے، تو اس نے سیٹ پر مجھے پروپوز کیا، اس لمحہ مجھے اُس پر بے انتہا پیار آیا۔
سوال۔ آپ اپنا مکمل اسٹوڈیو کب کھولنے جارہی ہیں؟
جواب۔یہ بہت کمال بات پوچھی ہے۔ یہ سوال مجھ سے کسی نے دریافت نہیں کیا۔ میری کوشش ہے کہ کچھ عرصے میں بس اپنا اسٹوڈیو کھول لوں۔
سوال۔ کتنی بار، ہم مختلف نوجوانوں کو، کچھ عجیب و غریب باتیں کہتے ہوئے سنتے ہیں کہ”آپ کے ہونے کے لیے آپ کا شکریہ یا صرف اپنی سچائی کو جینے کا شکریہ؟ اس پر آپ کیا کہتی ہیں؟
جواب۔ متعدد بار، لیکن یہ باتیں سن کر میرا دل خوش ہوتا ہے۔ یہ عام طور پر وہ بچے ہوتے ہیں، جن کی روح وقت کے ساتھ کچل دی جاتی ہے، کہا جاتا ہے کہ وہ خود کچھ نہیں ہونہیں سکتے، وہ یہ یا وہ اور کچھ نہیں ہو سکتے۔ میری کتاب لکھنے سے اُن کے احساسات کی ترجمانی ہوسکتی ہے اور یہ بات مجھے سکون کا احساس دلاتی ہے۔ یہی وجہ مجھ سے کتاب لکھوانے کا باعث بنی۔ میرے خیال میں ایمانداری، کرنسی کی سب سے مضبوط شکل ہے، جب میں ٹوئیٹر پر آئی، تو جو اس کا تاثر تھا وہ کافی مختلف ثابت ہوا۔ پہلے وہ میرے لیے خاص تھا، پھر وہ نارمل ہوگیا اور مجھے یاد ہے کہ یہ ملازمتوں کے ساتھ مشکل تھا، یہ ملاقاتوں میں لوگوں کے ساتھ مشکل تھا اور میں ہم جنس پرست ہونے کا تصور بھی نہیں کر سکتی کیونکہ لوگ مجھے دیکھتے ہیں اور شاید ایسا سوچتے ہیں؟ کیونکہ ان کو لگتا ہے کہ میں جنس میں فرق کی قائل نہیں ہوں، جبکہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔
بہت سارے لوگ، جنہیں میں نے ان برسوں میں دیکھا اور ان کوآئیڈیلائز کیا، لیکن اس صنعت میں کامیاب ہونے کے لیے خود کوشش کرنا ہوتی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ سب نے مجھے اس وقت فون کیا تھا جب میں نے اپنی متنازعہ ٹویٹر کی تھی،تو ہر کوئی کہہ رہا تھا۔”بیلا، کیا آپ جانتی ہیں کہ آپ نے ابھی کیا کیا؟ کیا آپ جانتی ہیں کہ اس کا آپ پر کیا اثر پڑے گا؟“ اور یہ بھی کہ ”ہاں تو کیا ہوا؟“ بیوقوف نہ بنو۔
میں جھوٹی نہیں ہوں۔ آپ مجھ سے یہ توقع کرتے ہیں، پوری زندگی جھوٹ سے کام لوں یہ کیا بات ہوئی؟ کسی کو میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔’’میری برہنہ تصاویر ہیکرز کے پاس تھیں اور وہ مجھے اس بات پر بلیک میل کیا کرتے تھے اور مجھے خوف محسوس ہوتا تھا۔ ایک دن ٹویٹر پر میری یہ تصاویر اپلوڈ کردی گئیں، پھر میں نڈر اور باغی بن گئی۔‘‘ میرے بے باک ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے، کیونکہ اب میں نے ڈرنا اور پرواہ کرنا چھوڑ دی ہے۔
سوال۔ آپ بھی جنسی استحصال کا شکار رہ چکی ہیں؟ کیا وجہ ہے، خواتین اس بات کا اظہار کرنے سے گھبراتی کیوں ہیں؟
جواب۔ ہم اس معاشرے میں رہتے ہیں، جہاں معاشرہ ایسی خواتین کو’’ولن‘‘ کے لقب سے نواز دیتا ہے۔
سوال۔ آپ خود کو ماں کے طور پر کیسے دیکھتی ہیں؟
جواب۔ ہو سکتا ہے، میں پریشان والدین کی مانند ہوجاؤں۔ میں اپنے بچے کو کبھی کسی کام سے نہیں روکنا چاہتی ہوں۔ والدین جو سب سے برا کام کر سکتے ہیں، وہ یہ ہے، وہ بچوں کو اتنا بند کردیتے ہیں کہ وہ کھل کر بات نہیں کر پاتے، کیونکہ والدین کو یہ خوف محسوس ہوتا ہے، جب بھی وہ دروازہ عبور کریں گے، تو آپ کو بھول جائیں گے۔ میں نے بہت سے والدین سے سنا ہے، وہ سب کچھ دوسرے بچے کے ساتھ ہوجاتا ہے۔ مجھے نہیں معلوم مجھے واقعی ایسا سوچنے کی ضرورت ہے کہ وہ مجھے پکڑ کر کہے، سب ٹھیک ہو جائے گا۔
سوال۔ آپ کو خوابوں کا شہزادہ کہاں ملا ؟
جواب۔ مجھے کوئی اندازہ نہیں اور ہر کوئی مجھ سے پوچھ رہا ہے۔ میرا بوائے فرینڈ مجھ سے پوچھتا ہے۔”’بے بی، آپ شادی کیسی چاہتی ہیں“ وہ کہتا ہے۔”میں نہیں جانتا، آپ کیا چاہتی ہیں؟“ میں کہتی ہوں۔ ”میں بھی نہیں جانتی۔“
سوال۔ آپ اپنا میک اپ خود کرتی ہیں؟
جواب۔ میں زیادہ تر اپنی فلموں میں خود بنتی سنورتی ہوں۔ پارٹی میک اپ کرنا بھی جانتی ہوں۔ فلم’’فیمس ان لو‘‘ کا سارا مضحکہ خیز میک اپ میں نے ہی کیا تھا (سوائے بالوں کے)۔میں کچھ بھی میک اپ کرلیتی ہوں۔
سوال۔ آپ چھٹی والے روز بھی میک اپ کرتی ہیں؟
جواب۔ مجھے جب یہ محسوس ہو کہ میں بغیر میک اپ کے دن گزار سکتی ہوں، تو پھر نہیں کرتی۔ میری کوشش یہی ہوتی ہے، میں اپنے اصل حلیے میں باہر نکلا کروں۔ کافی بار آپ لوگوں کو سوشل میڈیاپر دیکھتے ہیں اور ہر کوئی اتنا پرفیکٹ لگتا ہے، جیسے”اوہ میرے خدا۔ اس لڑکی کو دیکھو۔ وہ اتنی خوبصورت کیسے ہے؟ میں اتنی خوبصورت کیوں نہیں ہوں؟“ میرے لیےیہ بات مختلف ہے، میں بالکل ایسی ہی ہوں، جو آپ سوشل میڈیاپر دیکھتے ہیں۔ میرے انسٹاگرام پیج سے میری شخصیت کے بارے میں رائے قائم نہ کریں، کیونکہ آپ مجھے نہیں جانتے۔ اس لیے میں اس طرح بننے کے لیے اپنے راستے سے ہٹ جاتی ہوں۔ میں ہر روز میک اپ کرنے سے پہلے اور اسے اتارنے کے بعد آئینے میں دیکھتی ہوں کہ میں کیسی لگتی ہوں۔
سوال۔ آپ کو جب نیند نہیں آتی، تو آپ کیا کرتی ہیں؟
جواب۔ میںجب سو نہیں پاتی، تو سگریٹس پیتی ہوں۔ بعض اوقات میں رات کو بہت زیادہ شوٹنگ میں مصروف ہوتی ہوں اور صبح سونے جا تی ہوں۔ مصروفیت مسلسل رہتی ہے، میرے شیڈول کی وجہ سے بعض اوقات دماغ کام نہیں کررہا ہوتا۔ کئی بار جب میں کام سے واپس آتی ہوں، تو روشنی ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ کبھی کبھی تو میں سو نہیں سکتی کیونکہ میرا دماغ جاگ رہا ہوتا ہے۔
سوال۔ کوئی ایسی لڑکی، جو صرف آپ کو ویسے ہی بہت حسین یا اچھی لگتی ہو؟
جواب۔ ڈیمی لوواٹو۔ میں ڈیمی سے محبت کرتی ہوں۔ ہم قریب ہیں۔ وہ حیرت انگیز ہے، اندر اور باہرسے اتنی خوبصورت شخصیت۔ کرسٹن سٹیورٹ کو بھی میں پسند کرتی ہوں، وہ بہت سیکسی ہے۔ میںاس سے بھی محبت کرتی ہوں، لیکن یہ صرف کہنے کی حد تک ہے، درحقیقت اس بات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ سپر ہاٹ اور کون ہے؟ اوہ، کیملا کابیلو۔ میں نے اسے صرف دوسری رات ایک پارٹی میں دیکھا تھا، لیکن وہ ایک لڑکے کے ساتھ تھی، اس لیے میں اس سے ٹکرانے والی نہیں تھا کیونکہ وہ ڈیٹ پر تھی۔

ماضی کی معروف امریکی اداکارہ "مارلین منرو” کی طرز پر کروایا گیا ایک فوٹو شوٹ
سوال۔ کیا کوئی خاص لمحہ، جس کی یاد آپ کے دل میں ہو؟
جواب۔ مجھے لگتا ہے، بہت سارےایسے لمحات گزر چکے ہیں۔ آپ کسی سے بہت پیار کرتے ہیں اور پھر کچھ ہوتا ہے، آپ کو اپنے رشتے میں کچھ تجربہ ہوتا ہے اور آپ کہتے ہیں۔”اوہ نہیں، آپ نہیں سمجھتے، میں آپ سے بہت زیادہ پیار کرتا ہوں۔“ یہ اصل میں پاگل پن ہے، میں اسے بیان بھی نہیں کرسکتی۔ میں کچھ طویل مدتی تعلقات میں رہی ہوں اور میں زوال کے احساس کو جانتی ہوں۔بنجمن کے ساتھ ایسا نہیں ہوا، یہ ہمیشہ زیادہ ہوتا ہے۔ ہم ایک دوسرے کے عشق میں گرفتا رہوں۔
سوال۔ آپ نے بتایا، جب آپ دونوں ملے، تورو رہے تھے ،یہ کیا معاملہ تھا؟
جواب۔کوئی بھی چیز اداسی کو جنم دے سکتی ہے۔ یہ ہر چیز کا مرکب ہو سکتا ہے۔دنیا کی حالت، مثال کے طور پر، یہاں تک کہ جب آپ اس کے بارے میں نہیں سوچ رہے ہوتے، پوسٹس اور نیوز فیڈز ہمیشہ خوفناک ہوتے ہیں۔یہ ذہنی طور پر صرف کچلنے والی حرکات ہوتی ہیں کیونکہ یہ ایک سخت جگہ پیدا کرتی ہیں، ہمارے ذہنوں میں مزید کلاسٹروفوبک، خوفناک چیزیں دماغ میں زیادہ سے زیادہ جگہ لے رہی ہیں۔ ابھی بہت زیادہ ڈپریشن ہے، جس چیز پر لوگ تبصرہ بھی نہیں کر رہے ہیں کیونکہ اور بھی بہت سی خوفناک چیزیں ہو رہی ہیں، آپ جانتے ہیں؟ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میں اندر ہی اندر مر رہا ہوں۔ یہ واقعی سب کچھ ہے، ابھی جو کچھ ہو رہا ہے وہ بہت مشکل ہے، میں اتنی ا داس کیوں ہوں؟ اب کوئی بھی وجہ ہو سکتی ہے۔
سوال۔کیا آپ کو بچپن سے لکھنے کا شوق رہا ہے؟
جواب۔میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ میں مصنفہ بنوں گی۔میں ڈسلیکسیا بیماری کے ساتھ بڑی ہوئی ہوں، لوگ مجھے کہتے تھے کہ تم کبھی ٹھیک سے پڑھ نہیں پاؤں گی اور میں کبھی اچھی لکھاری نہیں بننا چاہتی تھی۔ مجھے بچپن سے پڑھنے سے نفرت تھی۔ جیسے جیسے میں بڑی ہوئی ویسے ویسے اپنے مداحوں کو یہ باور کروانا چاہتی تھی کہ میں کچھ بھی کرسکتی ہوں اور آپ لوگ بھی سب کچھ کرسکتے ہیں۔ آپ کے اپنے دماغ سے کوئی بھی کام لیا جاسکتا ہے۔میں نے دنیا کے مختلف نامور پبلشرز سے رابطے کیے اور اپنی کتاب چھپوائی۔یہ ایک طرح کا پاگل پن ہے، آپ یہ سوچ رہے ہوں کہ آپ یہ نہیں کرسکتے اور آپ پھر کرنے کے بعد حیرانی سے دوچار ہورہے ہوں۔
سوال۔اداکاری،گلوکاری یا لکھاری؟ اگر زندگی میں کبھی ان میں سے کوئی ایک منتخب کرنا ہو، تو کون سا منتخب کریں گی؟
جواب۔ یہ منتخب کرنا بہت مشکل ہے۔میں لکھنے کی طرف جانا چاہوں گی، لیکن باقی مہارتوں کو چھوڑنا بھی میرے لیے ناقابل برداشت ہوگا۔
سوال۔ آپ اپنی فلم’’میثر آف ریونج‘ میں اپنے کردار کے بارے میں کچھ بتائیں؟
جواب۔ اس فلم میں میرا تجربہ یقینی طور پر سب سے زیادہ فائدہ مند تھا۔ کردار کو نبھانے کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ آپ کے پاس ایک آرک ہو۔ آپ کو ایسا کردار نہیں چاہیے، جو ہاتھوں کے اشارے سے بات سمجھا رہا ہو۔ خوش قسمتی سے، میلیسا اور میں، جب ہم نے اپنا پہلا سین فلمایا، تو یہ واقعی ہمارا پہلا سین تھا اور پہلی بار ایک دوسرے سے ملاقات ہوئی، اس دوران ہمارے درمیان کوئی بات چیت بھی نہیں ہوئی۔ مجھے میلیسا کے ساتھ کام کرنے میں انوکھا تجربہ ملا، وہ بہت بولڈ اور فوری طور پر بات کا جواب دے دیتی ہے۔ کبھی کبھی، آپ پہلا سین شوٹ کرنے سے پہلے فلم کا اختتام شوٹ کرتے ہیں اور یہ ہمیشہ دلچسپی کا باعث ہوتا ہے۔ میں واقعی خوش قسمت ہوں۔
سوال۔ یہ حقیقت میں بہت مضحکہ خیز ہے ،جس کا آپ نے ذکر کیا ہے کیونکہ یہ وہ سوال تھا، جو میں آپ دونوں سے پوچھنے کی خواہش تھی۔آپ لوگوں کا ابتدائی تعلق بہت کشیدہ رہا۔ یہ پہلی چیز تھی، جسے آپ نے فلمایا کیونکہ اگر آپ نے اسے آخر میں فلمایا ،تب تک آپ لوگ واقعی ایک دوسرے سے محبت کرنے لگے ہوں گے، تو ایسی جگہ پر رہنا مشکل ضرور ہوا ہوگا، جہاں آپ کو دشمنی کا اظہار کرنا پڑے؟
جواب۔ اسی کا نام اداکاری ہے۔ ہمیں یہ بہرحال کرنا تھا کیونکہ اسکرپٹ کی ڈیمانڈ تھی۔ یہ بہت اچھا تھابراہ راست، وہ منظر بہت اچھا تھا اور پھر، جب ہم اکٹھے ہوتے ہیں، یہ کیا بلاہے؟ ریستوراں بار کی چیزیں ہم غور سے دیکھتے ہیںجب ہم ایک ساتھ بیٹھے ہیں۔ یہ فلم کے لیے اور میلیسا اور اس کی تکنیک سے سیکھنے کا ایک اور حیرت انگیز منظر بھی تھا۔
سوال۔ مجھے ایسا لگتا ہے، آپ ذاتی اور پیشہ ورانہ طور پر ہر کام میں بہت بے خوف ہیں۔ آپ کی پرفارمنس اس فلم میں اسکرین پر واضح دکھائی دیتی ہے، یہ بہت ٹھوس ثبوت ہے ہے کہ آپ پروفیشنل ایکٹر ہیں۔
جواب۔ سیٹ پر بے خوف ہونا آسان نہیں ہے۔ آپ کو سکھایا جاتا ہے، خاص طور پر ایک اداکار کے طور پر، اچھا بننا، چپ رہنا اور اپنی لائنیں کہنا۔ آپ جب پھل جیسی کسی چیز کی نشاندہی کرتے ہیں، تو اس طرح کے منظر میں دیکھنے کے لیے یہ سب سے بری چیزوں میں سے ایک ہو سکتا ہے۔ کوئی اسے پھل نہیں لاکر دے سکتا کیونکہ اس کا بیٹا ابھی مر گیا ہے۔ اسے ایسا محسوس ہونا چاہیے، جیسے وہ کرتی ہے، زندگی کے نقصان پر گہری نگاہ۔ اس قسم کے لمحات بہت اہم ہیں۔ ، میلیسا کو دیکھنا، ہمیشہ اس قسم کی چیزیں کرنا اور اپنے کرداروں پر قائم رہنا، بطور اداکار بہت اہم ہے۔ یہ واقعی آپ کو آگے بڑھائے گا کیونکہ بات کرنا مشکل ہے۔بہت سے اداکاروں کو بھی بولنے کی وجہ سے نکال دیا جاتا ہے، جب آپ کسی کو اتنا نڈر دیکھتے ہیں، ”واہ، مجھے یہ کرنا چاہیے۔ میں یہ کر سکتا ہوں، یہ حیرت انگیز ہے۔
سوال۔کسی بھی فلم میں قربت بھرے منظر کوفلمانا کیسا ہوتا ہے؟
جواب۔ اسے کرنے میں دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اپنے آپ کو مارنا پڑتا ہے،خاص طورپر جب آپ کا ماضی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا ہو۔آپ کو پتہ ہے کتنا برا لگتا ہے ،جب آپ بلوغت کی طرف آرہے ہوں اور آپ کا استحصال کیا گیا ہواور دوبارہ وہیں دھکیلا جاتا ہے، جس سے آپ بھاگنا چاہ رہے ہوں اور مختلف کردار آپ کو ماضی کے جھروکوں میں لے جائیں۔یقینا یہ تکلیف دہ عمل ہوتا ہے۔
سوال۔آپ کو ”بلینڈڈ” فلم کرنے میں کتنا مزہ آیا؟
جواب۔سیٹ پر موجود کشش اور کام کرنے کی توانائی ایک مختلف سطح پر تھی۔ ان اداکاروں کے ساتھ کام کرنے کا بہت مزہ آیا۔ وہ بہت مضحکہ خیز ہیں، جب آپ کو سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہوتی تھی، ہر کوئی توجہ مرکوز اور بہت پیشہ ور تھا۔ ڈریو بیری مور حیرت انگیزانسان ہے۔ آپ اس کے ساتھ کام کر کے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔،وہ بہت خوش باش مزاج کے انسان ہیں۔
سوال۔آپ کا آڈیشن کیسا رہا؟
جواب۔میں نے آڈیشن دیا، لیکن یہ مضحکہ خیز ہے کیونکہ ایڈم نے کہا کہ جب وہ یہ کردار لکھ رہے تھے، تو وہ اس کردار کے لیے میرے جیسے ہی کسی لڑکی کے بارے میں سوچ رہے تھے ،تو میں نے ان سے کہا۔”’آپ نے پھر بھی مجھے آڈیشن کے لیے بلایا۔ یہ عجیب تھا۔“
سوال۔جنوبی افریقا میں شوٹنگ کیسی رہی؟
وہ ایک خوبصورت ملک ہے۔وہاں کی ثقافت بہت خوبصورت ہے۔ وہاں دس طرح زبانیں بولی جاتی ہیں۔ میں آپ کو الفاظ میں بیان نہیں کرسکتی ہوں۔ آپ کو وہاں ضرور جانا چاہیے۔
سوال۔سینڈلر اور بیری مور کے ساتھ آپ کی پسندیدہ پچھلی فلم کون سی ہے؟
جواب۔مجھے ”’دی ویڈنگ سنگر“ پسند ہے، کیونکہ مجھے آخر میں وہ منظر پسند ہے جب ایڈم اپنی محبوبہ کے لیے گا رہاہوتا ہے۔”میں تمہارے ساتھ بوڑھا ہونا چاہتا ہوں“ کہتا ہے۔ یہ ایک بہت ہی پیارا گانا ہے اور مجھے یہ بہت پسند ہے۔ آپ کو پتہ ہے؟ میں اسے آئی ٹیونز سے ڈاؤن لوڈ کرنے کا سوچ رہی ہوں۔
سوال۔ کیا آپ کے کسی اور اداکار کے ساتھ ایسی ہی کیمسٹری ہے،جیسی کہ ان مذکورہ اداکاروں کے ساتھ رہی؟
جواب۔ میرے شو میں زینڈیاکے ساتھ اتنے سالوں تک کام کرنے سے ہمیں واقعی ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملا۔ ہم قدرتی طور پر ایک دوسرے کی حرکتوں کو سمجھ جایا کرتے تھے۔ ایسی کیمسٹری آپ کی ہر ایرے غیرے کے ساتھ قائم نہیں ہوتی۔
سوال۔آپ کے خیال میں فلم’’بلینڈد‘‘ایک ناشائستہ کامیڈی کی عکاسی کرتی ہے؟
جواب۔ ایڈم مداحوں کے لیے بہت سی فلمیں بناتا ہے۔ میرے خیال میں ،جو لوگ اس کے پروجیکٹس کو”اسٹوپڈ موویز“کے طور پر بیان کرتے ہیں، وہ واقعی اس بات کو نظر انداز کرتے ہیں کہ وہ ہر قسم کے لوگوں کے لیے ہر طرح کا مزاح کر سکتا ہے۔
سوال۔ آپ کے خیال میں یہ فلم آپ کے کیریئر میں کیا مقام حاصل کرے گی؟
جواب۔ لوگ مجھے پیاری، گھٹیا، مضحکہ خیز لڑکی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ مجھے یہ پسند ہے کیونکہ میں اسکول میں خوبصورت لڑکی کا کردار ادا نہیں کرنا چاہتی تھی، لیکن مجھے امید ہے، جب لوگ اسے دیکھتے ہیں، تو انہیں احساس ہوتا ہے کہ میں بہت سے مختلف قسم کے کرداروں کو نبھا سکتی ہوں۔
سوال۔ اپنے پروجیکٹ’’اِن فیمس‘‘ کے بارے میں بتائیے ۔کس چیز نے آپ کو خاص طور پر یہ کردار ادا کرنے کے لیے آمادہ کیا؟
جواب۔ مجھے یہ پسند آیاتھا ،جب مجھے پتہ چلا کہ ڈائریکٹر بھی مصنف ہیں۔ میں صرف ایک ہدایت کار کے ساتھ کام کرنا چاہتی ہوں، اگر وہ مصنف ہیںیا اگر انہوں نے اسکرپٹ کو دوبارہ لکھنا ہے،تو مجھے ایک بہتر موقع ملتا ہے، جب ڈائریکٹر بھی لکھتے ہیں کیونکہ ان کے پاس اس دنیا کا مکمل وژن ہوتاہے،پھر میں چاہتی ہوں کہ نقطہ نظر جامع اور حتمی ہو۔ مجھے ڈگمگانا، یا درمیان میں رہنا پسند نہیں ہے۔مجھے یہ پسند تھا کہ جوشوا کی تحریر میں، اس نے کبھی بھی سوشل میڈیا کو ایسا محسوس نہیں کیا ،جیسے باقی لوگ کرتے ہیں۔میں نے بہت سارے اسکرپٹ پڑھے ہیں، ہر کوئی چاہتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح سوشل میڈیا کو کہانی میں شامل کیا جائے۔
یہ ایک نیا پہلو ہے،جس پر سب کام کرنا چاہتے ہیں۔جب میں نے جوشواسے بات کی، تو میں نے اس سے پوچھا، اگر میں ایسا کرتی ہوں، تو کیا میں مکمل طور پر پاگل ہوسکتی ہوں ؟یہ کردار میں نے اس طرح سے محسوس کیا، وہ اسکرین پر دیکھنے کے لیے ایک تفریحی کردار ہے، آپ اس سے ایک لمحے میں سیکنڈ میں محبت کر رہے ہیں اور اگلے لمحے اس سے نفرت کر رہے ہیں۔ میں واقعی میں اس پہلو کو لانا چاہتی تھی، اگر وہ بھیڑ میں چل رہی ہے، تو آپ اسے دیکھ رہے ہیں، اس کے پاس وہ چیز ہے۔
سوال۔ آپ اپنی فلم ”ایلگزینڈر اینڈ دی ٹربل“ کے بارے میں بتائیے؟ اس میں آپ کا کردار سلیلیا کا تھا؟
جواب۔ آپ سیلیا کو معمولی کردار کے طور پر سوچ نہیں سکتے کیونکہ وہ کوئی نارمل لڑکی ہرگز نہیں ہے۔ وہ پرفیکٹ بننا چاہتی ہے اور اس کے لیے وہ کچھ بھی کرسکتی ہے، اگر کوئی اس کو تنگ کرے، تو وہ غصہ کرتی ہے۔
سوال۔ فلم کی شوٹنگ میں دقت کا سامنا کرنا پڑا؟
جواب۔ اس فلم کی سب سے مشکل کام یہی تھا ہمیں 15سے 16 گھنٹے لگ جایا کرتے تھے۔ میرے مختصر سین میں اتنا ٹائم لگ جاتا تھا، یہ پاگل پن لگتا تھا۔
سوال۔ اس فلم کے ذریعے نوجوان لڑکیوں کو کیا پیغام ملا؟
جواب۔ میں انہیں ایک مشورہ دینے والی ہوں، جو مجھے دیا گیا تھا اور کاش میں اسے اپنا لیتی۔ میں نے ہمیشہ ہر ایک کے لیے بہترین بننے کی کوشش کی، میں چاہتی تھا کہ ہر کوئی مجھے پسند کرے۔ کسی وجہ سے، مجھے واقعی اس بات کی پرواہ تھی کہ دوسرے لوگ کیا سوچتے ہیں اور میں کسی کی منظوری حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی کروں گی، اس لیے اب جو میں ہوں، مجھے واقعی اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ میری خواہش ہے، میں اتنی پرواہ نہ کرتی، مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ ہائی اسکول میں ہیں۔ یہ ناممکن ہے کہ لوگ آپ کو پسند نہ کریں۔ میرے پاس اب دوستوں کا ایک بڑا گروپ ہے اور ہمیں ایک دوسرے کو متاثر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں جب ان کے ساتھ ہوتی ہوں، تو میں میک اپ نہیں کرتی۔ اور ہمیں ایک دوسرے کو کچھ ثابت کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔
سوال۔ یہ مذکورہ فلم سیڈکٹیوسے ٹاکسک کی طرف چلی جاتی ہے۔ آپ کے خیال میں سوشل میڈیا کے نقصانات کیسے جنم لیتے ہیں؟
جواب۔ یہی وہ پیغام تھا جو اس فلم کا نچوڑ تھا۔ ہم پردے کے پیچھے بیٹھ کر کہتے ہیں کہ ہم نے کوئی بڑا کارنامہ سرانجام نہیں دیا۔ اس فلم کا مقصد فلمی ناقدین کو نیا پیغام دینا تھا، جو بہت ضروری تھا۔سوشل میڈیا کا استعمال کس طرح شروع ہوتا ہے اور کہاں لے جاتا ہے۔
سوال۔ اسے انتہائی حقیقی رکھنا، ان چیزوں میں سے ایک ہے، جو عوام آپ کے بارے میں پسند کرتے ہیں، لیکن یہ کبھی کبھی شہرت کے ساتھ ٹکرائو بھی پیدا کر سکتا ہے۔ آپ کے پاس بہت سارے لوگ ہیں، جو چاہتے ہیں کہ آپ ان کے ساتھ کسی خاص طریقے سے برتاؤ کریں، چاہے وہ مداح ہی کیوں نہ ہوں؟
جواب۔بیلا تھورن کے ساتھ سائن ان کرتے وقت آپ جانتے ہیں کہ آپ اس شخص کو شامل کررہے ہیں جو آپ کی توجہ کا مطالبہ کر رہی ہے، جو کہتی ہے،’میری بات سنو، مجھے کچھ کہنا ہے ۔ جس طرح سے میں یہ کہتی ہوں۔ اس پر مجھے بہت زیادہ تنقید اور ناتوانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسے منشیات کا عادی کہوں۔ میں اس بات کا انتخاب کرنے جا رہی ہوں، وہ کیسے پڑھنا نہیں جانتی تھی، وہ کیسی ہے، میں یہ کہوں گی کہ وہ بیوقوف ہے، لیکن یہ مجھے دوسرے لوگوں کو متاثر کرنے یا لوگوں کو یہ بتانے سے کبھی نہیں روکتا ہے کہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے، آپ کہاں سے آئے ہیں یا زندگی میں آپ کو کن حالات کا سامنا ہے، اگر آپ کا دماغ صاف نہیں تو کچھ بھی ممکن ہے۔
سوال۔کیا آپ فیملی کے ساتھ رہ رہی ہیں؟
جواب۔ ہاں، میں اپنی بہن اور اماں کے ساتھ رہتی ہوں۔ ہمارے گھر میں ایک اسٹوڈیو ہے۔ ہم ایک چھوٹا ساکمرہ لکھنے پڑھنے کا بھی بنا رہے ہیں کیونکہ میں بہت زیادہ لکھ رہی ہوں ۔ مجھے فاکس ڈویلپمنٹ ڈیل مل گئی ہے، دوسرے پروجیکٹس تیار کرنا، پڑھنا، کیا فٹ بیٹھتا ہے، خود ہدایت کرنا اور خود لکھنا۔ یہ بہت کچھ ہے۔ یہ بہت زیادہ دوبارہ ترتیب دینے والاکام ہے۔ ایک فلم ہے ،جس پر میں کام کر رہی ہوں، جسے مجھے آفیشل ری ڈرافٹ کرنا ہے۔ یہ میرا پہلا موقع ہے کہ میں کسی کے حتمی مسودے پر دوبارہ لکھ رہی ہوں۔ میں ایک مصنف کے کمرے میں رہنا بہت اعزاز اور خوش قسمت سمجھتی ہوں۔ مجھے لکھنے اور ہدایت کاری کا شوق ہے، لیکن میں پرجوش ہوں۔
سوال۔آپ شوبز انڈسٹری کی خبروں میں زیادہ نظر آتی ہیں؟اس کی کیا وجہ ہے؟آپ کی شخصیت کی گونج کوبرداشت نہیں کیا جاتا؟
جواب۔ اوہ، سب کچھ۔ یہ ناانصافی خود میرے لیے پریشانی کا باعث ہے۔ میںکبھی کبھار بھنگ بھی پی لیتی ہوں اور میں اس کی برانڈ امبیساڈر بھی ہوں، ایسے کئی کیسز ہیں ،جن کی زندگی اس وجہ سے سے چھین لی گئی ہے اور وہ جیل سے بھی باہر نہیں نکل سکتے، حالانکہ یہ کافی ممالک میں قانونی جائز ہے ۔ انہیں زندگی کے اس طرح کے بدترین حالات میں ڈال رہے ہیں، انہیں مجرم بنا رہے ہیں،پھر جب وہ باہر نکلتے ہیں، تو آپ انہیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے لیے کیا دے رہے ہیں؟ کچھ نہیں؟ ہمارا نظام لوگوں کو بہتر بنانے یا لوگوں کی بحالی کے لیے نہیں بنایا گیا ہے ۔ یہ صرف ہماری کمیونٹیز کو خراب کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
سوال۔لوگ ہمیشہ کہتے ہیں آپ”’متنازع“ ہیں اور یہ مجھے بہت احمقانہ لگتا ہے، کیوں کہ آپ کبھی گرفتار نہیں ہوئیں۔ یہ عجیب بات ہے، آپ کو اس طرح سے پیش کیا گیا ہے اور آپ ایک طرح کی شہوت پرست شخصیت لگنے لگتی ہیں۔
جواب۔یہ بہت مضحکہ خیز ہے، لوگ کہتے ہیں کہ میں”’متنازع“ ہوں۔ آپ نے بالکل بجا فرمایا، مجھے گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ میں برا کام نہیں کر تی ہوں۔ یقینی طورپر میں ایک عورت ہوں اور اس میں میرا ایک کردار بھی ہے، اگر میں بکنی میں پوسٹ کرتی ہوں، تو لوگ ویشیا کہتے ہیں، لیکن اگر کوئی آدمی ساحل سمندر پر بغیر شرٹ کے پوسٹ کرتا ہے، تو وہ پوز دے رہا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی مرد ہر دوسرے دن کسی دوسری لڑکی کے ساتھ پوسٹ کرتا ہے، تو وہ ٹھیک ہوتا ہے، لیکن اگر میں تین سال سے رشتے میں ہوں ،تو لوگ اس بات پر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ اس لڑکی کے چال چلن تو دیکھو۔
سوال۔ ٹھیک ہے، ایسا لگتا ہے کہ آپ بالغ فلم ”ہِم اینڈ ہر“ کی ہدایت کاری میں جنسی طور پر مثبت رویہ رکھتی ہیں۔ تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ ہالی وڈ کے بہت سارے ستارے بالغ صنعت میں لوگوں کے ساتھ کام نہیں کرتے ہیں، مجھے کبھی سمجھ نہیں آئی کہ بالغ صنعت کے لوگ اپنی مقبولیت کے پیش نظر ہالی وڈ میں کیوں نہیں جاسکتے؟اس کی کیا وجہ ہے؟
جواب۔ توجہ دلانے کے لیے آپ کا بہت شکریہ۔ میں واقعی کوشش کرتی ہوں اور میں اس بات سے اتفاق کرتی ہوں کہ بدنما داغ درست نہیں ہے اور مجھے اس کے ارد گرد کے بدنما داغ سے نفرت ہے۔ سیکس ورک انڈسٹری میں میرے بہت سے دوست ہیں اور جب میں انہیں تکلیف سے گزرتے دیکھتی ہوں ،تو دل دہل جاتا ہے۔ یہ سب میرے دوست ہیں، لہٰذامیں ان کی آواز بننے کی کوشش کرتی ہوں اور یہ انڈسٹری مجھے پسند کرتی ہے، اب یہ تمام مشہور شخصیات سیکس پازیٹیوٹی ٹرین میں گھوم رہی ہیں- وائبریٹر بنا رہی ہیں اور سیکس ٹوائے برانڈز کی مالک ہیں۔
اب لوگ آخر کار اس کے بارے میں بات کر رہے ہیں، لیکن جب میں یہ کرتی ہوں ،تو یہ ہے”بیلا تھورن ایسا کیوں کر رہی ہے؟“چیزیں اب بدل رہی ہیں، اور میں اس سے خوش ہوں۔ یہاں تک کہ عام طور پر سیکس کا خیال بھی بہت اہم ہے اور اس پر ہمیشہ ہی تضحیک کی جاتی ہے۔ جنسی تعلقات کی بات کرتے وقت خواتین پر لگائے جانے والے بدنما داغ کی وجہ سے اتنی بے چینی ہوتی ہے کہ ہم اپنے جسم کو ہاتھ نہیں لگانا چاہتے ۔یہ چیزیں درست نہیں ہیں، اور میں انہیں تبدیل ہوتے دیکھ کر بہت خوش ہوں۔
سوال۔ آپ کے پاس سوشل میڈیا کی اتنی بڑی رسائی ہے۔ انسٹاگرام پر 25 ملین سے زیادہ فالورز ہیں،آپ کے خیال میں اس سے آپ کی زندگی کیسے متاثر ہوئی ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ بہتر ہے یا بدتر؟ اس موضوع پر موجود دستاویزی فلمیں ہیں ،جیسے دی سوشل ڈلیما اور یہ تمام مطالعات اس بارے میں کہ کس طرح انسٹاگرام نے لوگوں کو منفی طور پر متاثر کیا ہے۔ آپ کیا کہتی ہیں؟
جواب۔ یہ ایک مشکل سوال ہے۔ اچھا بھی ہے اور برا بھی ہے۔ میں نے ابھی اپنے انسٹاگرام پر”دی ویلڈن پروجیکٹ“ کے بارے میں کچھ پوسٹ کیا تھا، واقعی میں لوگوں کو ویلڈن پروجیکٹ کو سمجھنےکے لیے، ان کہانیوں کو پڑھنے کی ترغیب دیتی ہوں۔ یہ انسٹا کا ایک بہت اچھا حصہ ہے ،اگر میں ایک کشتی پر بیئر پی رہی ہوں۔”اوہ، بیلا تھورن، آپ دنیا بھر کے نوجوانوں کو یہ کیا پیغام دے رہی ہیں کہ انہیں پینا چاہیے اور آپ شراب نوشی کو فروغ دے رہی ہیں! اس میں بری کیا بات ہے؟ یا یہ وہ چیزیں ہیں، جن کا میں نے پہلے ہی ذکر کیا ہے، جیسے بکنی میں تصویر پوسٹ کرنا، پھر لوگ سوچتے ہیں”’اوہ، یہ تو بہت اچھا ہے۔“ اچھے اور برے دونوں ہیں، لیکن اگر آپ صرف برائی پر توجہ مرکوز کرنے میں اپنا وقت صرف کرتے ہیں، توآپ واقعی ایک ناخوش انسان بننے جا رہے ہیں۔ مجھے وہاں پہنچنے میں تھوڑا وقت لگا۔ میں ایک طویل عرصے سے میڈیا میں رہی ہوں۔
میں 8 سال کی عمر سے اداکاری کر رہی ہوں ۔ میں نے جو کچھ کیا ہے، وہ ایک طرح سے کیمرے کے سامنے کیا ہے۔ یہ سمجھنے کے لیے کہ میں اب 24 سال کی عمر میں کہاں ہوں، میں ان چیزوں کو مزید نہیں پڑھنا چاہتی۔ میں یہ نہیں سوچنا چاہتی،’اوہ، اگر میں یہ پوسٹ کرتی ہوں، تو کوئی میرے مہاسوں کے نشانات کا فیصلہ کرے گا یا کہے گا کہ میری بھنویں کیٹرپلرز کی طرح لگ رہی ہیں کیونکہ میں اپنی ذہنی صحت کو بہتر بنانا چاہتی ہوں اور یہ سوچتی ہوں کہ میں خوبصورت ہوں۔
اب، جب میں آئینے میں دیکھتی ہوں، تو میں ہمیشہ منفی پر جانے کی بجائے اپنے بارے میں ان تمام مثبت چیزوں کی نشاندہی کرتی ہوں، جو مجھے پسند ہیں۔ اور میں نے سوشل میڈیا اور اپنی بقیہ زندگی کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا ہے، ورنہ میں ڈپریشن میں بٹ جاؤں گی، جس سے میں پہلے ہی جدوجہد کر رہی ہوں۔ مجھے اس کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے۔
:حوالہ جات
انٹرویو بائے ارنسٹو میکیاس، انٹرویو ویب سائٹ، دسمبر 2020
انٹرویو بائے ماریا ہاس، اپریل 2018
ڈیلی ٹائمز نیوزپیپر، لائف اسٹائل، فروری 2021
انٹرویو بائے مارک مالکن، اپریل 2021
ہولا میگزین بتاریخ اپریل 2021
انٹرویو بائے سیم کوہن، مارچ 2022
انٹرویو بائے چارلس بریمسکو، جون 2020
انٹرویو بائے مارلو اسٹرن، مارچ 2022
انٹرویو بائے لیسا لاگرو، فروری 2014