کرسٹو فرنولان نے”انسومنیا“ فلم سے فلم سازی کی دنیا میں قدم رکھا ”دی ڈارک نائٹ ٹرائیلوجی“ کے سنگ”دی پریسٹیج“ اور”انسیپشن“ سے مزید کامیابی حاصل کی ”انٹر اسٹیلر“(2014)”ڈنکرک“(2017) اور”ٹینیٹ“(2020) جیسی فلمیں بناکر منفرد فلم ساز بن گئے وہ اتنے شاندار اسکرین پلے رائٹر اور شاندار ڈائریکٹر ہونے کے باجود ابھی تک آسکر ایوارڈ سے محروم ہیں ”انٹر اسٹیلر“ نومبر 2014 میں ریلیز ہوئی، جس نے دنیا بھر میں 700 ملین ڈالر سے زیادہ کی بزنس کیا کرسٹوفرنولان کو الفریڈ ہچکاک کے بعد برطانوی جزائر کے باہر سے آنے والا سب سے کامیاب فلم ساز سمجھا گیا

برطانوی نژاد امریکی فلم ساز ۔ کرسٹوفرنولان
کرسٹوفر نولان ویسٹ منسٹر 30 جولائی 1970 کو لندن میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد برینڈن جیمز نولان ایک برطانوی ایڈورٹائزر ایگزیکٹو تھے، جنہوں نے ایک تخلیقی ہدایت کار کے طور پر بھی کچھ کام کیا۔ ان کی والدہ، کرسٹینا(نی جینسن) ایک امریکی فلائٹ اٹینڈنٹ تھیں، جو بعد میں انگلش ٹیچر کے طور پر کام کرتی رہیں۔ ان کا بچپن لندن اور ایونسٹن، الینوائے کے درمیان بسر ہوا، یہی وجہ ہے، ان کے پاس برطانوی اور امریکی دونوں ممالک کی شہریت ہے، مگر بنیادی طور پر ان کا شمار برطانوی فلم سازوں میں کیا جاتا ہے۔
وہ برطانوی و امریکی فلم ڈائریکٹر، پروڈیوسر اور اسکرین رائٹر مانے جاتے ہیں۔ ان کی فلموں نے دنیا بھر میں 5 بلین ڈالرسے زیادہ کی کمائی کی ہے اور 36 مرتبہ نامزد ہو کر 11 اکیڈمی ایوارڈز حاصل کیے ہیں۔ یہ کہنا بجا ہوگا، وہ اس وقت عالمی سینما میں سب سے زیادہ پیسہ کمانے والے 5 نامور ڈائریکٹرز میں سے ایک ہیں اور دنیا بھر میں جدت پسندفلم سازکی حیثیت سے پہنچانے جاتے ہیں۔ ان کا یہ ماننا بھی ہے کہ”برٹش فلم انڈسٹری نے کبھی ان کے کام کو سپورٹ نہیں کیا اور نہ کسی مالی معاونت کے لیے حامی بھری۔“
انہوں نے فلم سازی میں اپنے کیریئر کا آغاز مختصر فلموں کی سیریز سے کیا، جس کے لیے وہ خود اپنی فلم سوسائٹی کی طرف سے فراہم کردہ سامان سے فنڈز فراہم کرتے تھے۔”لارسینی“(1995) کی محدود کاسٹ اور عملہ، مختصر سامان پر مشتمل تھا اور اسے ایک ہفتے کے آخر میں شوٹ کیا گیا تھا، جبکہ اسے 1996 میں کیمبرج فلم فیسٹیول میں دکھایا گیا تھا۔ اسے یو سی ایل کے تیار کردہ بہترین شارٹس میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے”ڈوڈل بگ“’ لکھی، ہدایات دیں، شریک پروڈیوس بھی رہے، تدوین کار ہونے کےساتھ ساتھ، تصویر کشی کے فرائض بھی انجام دیے۔ یہ مذکورہ فلم 1997 میں ریلیز ہوئی، یہ ایک آدمی کی کیڑے کو جوتے سے مارنے کی کوشش کے بارے میں مختصر فلم ہے۔
لندن میں پیدا ئش اور پرورش پانے والےکرسٹوفر نولان نے کم عمر سے ہی فلم سازی میں دلچسپی لی۔ یونیورسٹی کالج لندن میں انگریزی ادب کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد، انہوں نے”فالونگ“(1998) فلم سے اپنے چھپے ہوئے ٹیلنٹ کو دنیا کے سامنے پیش کیا اور سائنس فکشن کی دنیا میں بھونچال پیدا کر دیا۔ وہ بچپن سے اپنے خوابوں پر کوئی فلم بنانا چاہتے تھے۔ انہوں نے 7 سال کی عمر سے فلم”اسٹار وارز“ سے متاثر ہو کر، پہلی مرتبہ اپنے والد کے ساتھ ایک مختصر فلم شوٹ کی، جو اس وقت کے سپر 8 کیمرے سےبنائی گئی تھی۔ اسی کم عمری میں ان کے والد، ان کو 2001 میں”اے اسپیس اوڈیسی“ دکھانے کے لیے لیسٹر اسکوائر لے گئے، جس سے انہیں فلم سازی کی دُنیا میں آنے کی باقاعدہ ترغیب ملی۔ شکاگو میں اکیڈمی ایوارڈ کے نامزد دستاویزی ہدایت کار روکو بیلک سے ملاقات کے بعد، نولان نے ایک 9 ملی میٹر کی مختصر فلم”ٹارنٹیلا“(1989) میں کام شروع کیا، جسے ایک آزاد فلم اور ویڈیو شوکیس میں دکھایا گیا تھا۔انہوں نے اس شوق کو جاری رکھتے ہوئے 11 برس میں یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ ایک پروفیشنل فلم میکر بنیں گے۔

ایک فلم کے منظر کو عکس بند کرتے ہوئے
انہوں نے یونیورسٹی کالج لندن(یو سی ایل) میں انگریزی ادب پڑھنے سے پہلے ہرٹ فورڈ شائر کے برطانوی آزاد اسکول ہیلی بیری اور امپیریل سروس کالج میں تعلیم حاصل کی، جو بعد میں ان کے بہت سے فلمی مناظر میں شامل ہونے کے لیے ایک لازمی جز بن گیا۔ کرسٹوفر نولان نے فلم سازی کی قابل ذکر سہولیات کی وجہ سے یو سی ایل کا انتخاب کیا، کیونکہ اس نے طلبا کو کام کرنے کے لیے 16 ملی میٹر کیمرے فراہم کیے تھے اور اس کا اپنا اسٹین بیک ایڈیٹنگ سوٹ تھا۔ انہوں نے محسوس کیا، ادب پڑھنے کی عادت نے، ان کو فلم سازی کے لیے مصنف کی بیانیہ آزادی کو بھی استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔
کرسٹوفر نولان نے اپنی دوسری فلم”میمنٹو“(2000) سے بین الاقوامی سطح پر پہچان حاصل کی، جس کے لیے انہیں بہترین اوریجنل اسکرین پلے کے اکیڈمی ایوارڈ کے لیے نامزدبھی کیا گیا۔ انہوں نے”انسومنیا“ فلم سے اسٹوڈیو فلم سازی میں قدم رکھا اور”دی ڈارک نائٹ ٹرائیلوجی“،”دی پریسٹیج“ اور”انسیپشن“ کے ساتھ مزید شاندار کامیابی حاصل کی، جس میں آسکر کے آٹھ بہترین پکچر اور اوریجنل اسکرین پلے کی نامزدگیاں بھی شامل ہیں۔ یہ فلم”انسیپشن“ خوابوں کے گرد گھومتی ہوئی کہانی ہے اور اس فلم میں ایک خاص بات یہ ہے، جو فلم کے کرداروں کے قلمی نام ہیں، ان سب کو ملا کر اگر پڑھا جائے، تو وہ”ڈریمز“ بنتے ہیں۔ اس فلم کو لکھتے ہوئے ان کو تقریباً دس سال کا طویل عرصہ لگا، جو کافی حیران کن بات ہے۔ اس کے بعد”انٹر اسٹیلر“(2014)”ڈنکرک“(2017) اور”ٹینیٹ“(2020) کا نمبر آیا۔ انہوں نے ڈنکرک پر اپنے کام کے لیے بہترین فلم اور بہترین ہدایت کار کے لیے اکیڈمی ایوارڈز کی نامزدگیاں بھی حاصل کیں۔ کرسٹوفر نولان کے ساتھ ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ وہ اتنے شاندار اسکرین پلے رائٹر اور ماہرفلم ڈائریکٹر ہونے کے باجود ابھی تک آسکر ایوارڈ سے محروم ہیں۔
انہوں نے اگلی سائنس فکشن فلم”انٹر اسٹیلر“ کی ہدایت کاری کرنے کے علاوہ اسے تحریر اور پروڈیوس بھی کیا۔ اس فلم کےاسکرپٹ کا پہلا ڈرافٹ جوناتھن نولان نے لکھا تھا، وہ ان کے بھائی بھی ہیں۔ نظریاتی طبیعیات دان کیپ تھورن کے سائنسی نظریات پر مبنی، یہ فلم خلابازوں کے ایک گروپ کی عکاسی کرتی ہے، جو ایک کیڑے کی تلاش میں سفر کرتے ہیں۔”انٹر اسٹیلر“ نومبر 2014 میں ریلیز ہوئی، جس نے دنیا بھر میں 700 ملین ڈالرز سے زیادہ کا بزنس کیا۔ ان کی شادی 2011 میں”ایما تھامس“ سے ہوئی، جن سے ان کی ملاقات یونیورسٹی کالج لندن میں ہوئی، جب وہ صرف19 سال کی تھیں۔ انہوں نے اپنی تمام فلموں میں بطور پروڈیوسر کام کیا ہے، جبکہ ان دونوں نے مل کرایک پروڈکشن کمپنی”سنکاپی“ کی بنیاد بھی رکھی۔

فلم ساز اپنی شریک حیات ۔ ایما تھامس
اس بڑی کمپنی کو صرف 4 افراد مل کر چلا رہے ہیں، جن میں سے دو وہ خود ہیں۔ ان کے چار بچے ہیں اور وہ لاس اینجلس، کیلیفورنیا میں رہتے ہیں۔ اپنی ذاتی زندگی کو مقدم جانتے ہوئے، وہ شاذ و نادر ہی انٹرویوز میں اپنی ذاتی زندگی پر بات کرتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے مستقبل کے لیے اپنے کچھ سماجی اور سیاسی خدشات کو عوامی طور پر شیئر کیا، جیسے جوہری ہتھیاروں کے موجودہ حالات اور ماحولیاتی مسائل، جن پر ان کے بقول توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کرسٹوفر نولان نے 2012 میں براک اوباما کی صدارتی مہم کے لیے عطیہ بھی دیا تھا۔ وہ موشن پکچر اینڈ ٹیلی ویژن فنڈ بورڈ آف گورنرز میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ موجودہ سوشل میڈیا جیسے جدید دور میں ان کا موبائل فون یا ای میل ایڈریس سے کوئی واسطہ نہیں ہے، وہ ان سہولتوں سے بہت کم کم مستفید ہوتے ہیں۔ان کے پاس کوئی اسمارٹ فون نہیں ہے، البتہ ان کے پاس ایک چھوٹا سافلپ فون ہے، جسے وہ وقتاً فوقتاً اپنے ساتھ لے کر جاتے ہیں۔
کرسٹوفر نولان ایک فطرت آشنا شخصیت ہیں، جو ایک فطری اور بدیہی ذہن کے مالک ہیں۔ وہ مزاح کے ساتھ ساتھ آزاد اظہار رائے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ وہ دھرتی سے جڑے رہنے کے اُصول پر بھی قائم ہیں، جو انہیں انسانی ہمدردی کے کاموں کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے۔ دوسری طرف، لوگ ان کو ایک مطالعاتی اور سنجیدہ انسان بھی بتاتے ہیں، شاید اس کی وجہ ان کی خود مختار شخصیت اور خود مختار فطرت ہے۔ وہ زیادہ تر اپنی دنیا سے باہر کی ذہانت اور ذہین روح کے لیے جانے جاتے ہیں۔ پوری دنیا میں وہ اس موضوع پر ،نہ صرف پسندیدہ ہیں، بلکہ اس موضوع پر بات چیت کی مہارت کے لیے قابل احترام سمجھے جاتے ہیں۔ ان کو تفریح کرنا اتنا ہی پسند ہے جتنا کہ وہ سماجی زندگی کو پسند کرتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر، وہ وفادار، معاون اور قابل اعتماد دوستوں سے سچی محبت کرتے ہیں۔
اپنے وقت کی سب سے زیادہ بااثر اور مقبول فلمیں بنانے کے بعد، اس فلم ساز کو عام فلمی شائقین کی طرح ناقدین اور فلمی ماہرین نے بھی قبول کیا،ان فلموں پرتجزیے ہوئے اور ان پربحث کی گئی۔ ان کی کئی فلموں کو ناقدین نے اپنی اپنی دہائیوں کی بہترین فلموں میں شمار کیا، وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، ان کی باکس آفس کی کامیابی کو فنکارانہ عزائم کے ساتھ جوڑنے کی صلاحیت نے، انہیں انڈسٹری میں غیرمعمولی طور پر اپنا مقام بخشا ہے۔ ان کی فلمیں اکثر وجودی اور علمی موضوعات پر مبنی ہوتی ہیں، جن میں وقت، یادداشت اور شناخت کے تصورات کی کھوج ہوتی ہے۔
ان کی بنائی ہوئی فلموں کی خصوصیت یہ ہے کہ مذکورہ فلمیں، ریاضی سے متاثر، خیالات اور امیجز، غیر روایتی داستانی ڈھانچے، مادیت پسندانہ تناظر اور موسیقی اور آواز کے اشتعال انگیز استعمال سے متعلق ہوتی ہیں۔ گوئلرمو ڈیل ٹورو نے کرسٹوفرنولان کو”جذباتی ریاضی دان“ کہا۔ بی بی سی کے آرٹس ایڈیٹر ول گومپرٹز نے ہدایت کار کو ایک آرٹ ہاؤس آٹور کے طور پر بیان کیا، جو فکری طور پر پرجوش بلاک بسٹر فلمیں بناتا ہے، جو آپ کی نبض کو دوڑاسکتی اور آپ کے سر کوچکرا سکتی ہیں۔
فلم ساز تھیورسٹ ڈیوڈ بورڈویل نے رائے دی کہ نولان مرکزی دھارے کی تفریح کے تقاضوں کے ساتھ اپنی”تجرباتی تحریکوں“ کو ملانے میں کامیاب رہے ہیں، اس بارے میں مزید وضاحت کرتے ہوئے کہ انہوں نےموضوعاتی نقطۂ نظر اور کراس کٹنگ کی تکنیکوں کے ذریعے تجربات کا اپنی فلموں میں عملی استعمال کیا ہے۔ اکیسویں صدی کے ابتدائی سنیما میں ان کے کیمرہ اثرات، چھوٹی تصویروں اور ماڈلز کے ساتھ ساتھ سیلولائڈ فلم کی شوٹنگ بہت زیادہ متاثر کن رہی ہے۔
ٹام شون نے کرسٹوفرنولان کو الفریڈ ہچکاک کے بعد برطانوی جزائر سے باہر آنے والا سب سے کامیاب فلم ساز سمجھا۔ 2016 میں”میمنٹو“جیسی فلم بنائی اور پھر اس سے بھی بہترین فلم ”دی ڈارک نائٹ“، اور”انسیپشن“ بنائیں ، ان تینوں کو بی بی سی کی 21 ویں صدی کی 100 عظیم ترین فلموں کی فہرست میں شامل ہونے کیاگیا۔ اگلے سال، ان کی پانچ (اس وقت کی نو) فلمیں ایمپائر میگزین کے”100 عظیم ترین فلموں“ کے سروے میں شامل ہوئیں۔ نولان کو امریکی سنیما کا سب سے تجرباتی بلاک بسٹر مصنف’اور خود اپنی منفرد شناخت کا شناور کہا جاتا ہے، یہی ان کی شخصیت کابھی خاصا ہے اور ان کے کام کابھی، جس پر ان کو مکمل گرفت ہے۔
ان کی فلموں کوجو چیز ممتاز کرتی ہے، وہ واقعات کو جزوی طور پر الٹ کرانولوجیکل ترتیب میں اور پھر زمانی ترتیب میں پیش کرنے کی ان کی تکنیک ہے۔ اس تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے، کرسٹوفرنولان ناظرین کو ذہنی طور پر کمزور مرکزی کردار کی پوزیشن پررکھنے پر مجبور کرتے ہیں، جس سے بگڑے واقعات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے فلم”فالونگ“ میں یہ جدید تکنیک تیار کی تھی، تاہم آخر میں وہ ایک ڈھانچہ پیش کرتا ہے، جبکہ”میمنٹو“ دو لکیری ٹائم لائنز پیش کرتی ہے، جو ایک ساتھ کاٹی جاتی ہیں اور پھر وہ آخر میں ساتھ ملتی ہیں۔ یہ کراسنگ اوور بلیک اینڈ وائٹ فلم اسٹاک سے رنگ میں تبدیلی سے ظاہر ہوتا ہے، کیونکہ ٹائم لائن آگے سے پیچھے کی طرف منتقل ہوتی ہے۔
کرسٹو فرنولان کی اگلی ہدایت کاری کی کوشش سائنس فکشن فلم”ٹینیٹ“(2020) تھی، اُنہوں نے ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک اس کے مرکزی خیالات کے بارے میں غور و خوض کرنے کے بعد پانچ سال سے زائد عرصے تک اسکرین پلے پر کام کیا۔ کورونا وائرس کی وجہ سے تین بار تاخیر کی شکار”ٹینیٹ“ اگست 2020 میں ریلیز ہوئی ، یہ ہالی وڈ کا پہلا ٹینیٹ پول تھا۔
اس فلم سے سینما گھروں میں جان پڑگئی۔ اس کے مرکزی کرداروں میں جان ڈیوڈ واشنگٹن، رابرٹ پیٹنسن، الزبتھ ڈیبیکی، ڈمپل کپاڈیہ، مائیکل کین اور کینتھ برانا شامل تھے۔ اس فلم نے 200 ملین ڈالرز کے پروڈکشن بجٹ کے ساتھ دنیا بھر میں 363 ملین ڈالرز کمائے۔ واضح رہے،اس وقت کرسٹوفر نولان ایک نئے پروجیکٹ کی تخلیق میں مصروف ہیں، جس کا نام”اوپن ہائیمر“ ہے، یہ فلم 2023میں ریلیز کی جائے گی۔