سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی ’’دینا الشہابی‘‘ جن کی شہرت کم عمری میں ہی گلوبل شوبز کے منظرنامے پر پھیل چکی ہے۔ وہ ’’ایمازون‘‘ اور’’ہولو‘‘ جیسے اوٹی ٹی اسٹریمنگ پورٹلز پر اپنے ٹی وی ڈراموں اور فلموں کی ریلیز کے بعد سے مشہور اداکارہ بن چکی ہیں۔ ہالی ووڈ میں ان کی شاندار کامیابی عرب فنکاروں کے لیے ایک روشن مثال ہے۔
وہ شوبز کی دنیا میں ابتدائی طورپر ایک رقاصہ کی حیثیت سے داخل ہونا چاہتی تھیں، مگر قسمت نے ان کے لیے اداکاری کا میدان منتخب کر رکھا تھا، اس لیے جیسے ہی وہ اداکارہ بنیں، شہرت کی دیوی ان پر مہربان ہوگئی۔ وہ امریکا سمیت پوری دنیا میں اپنے کرداروں کی وجہ سے پہچانی جاتی ہیں۔وہ ایک حساس دل کی مالک ہیں، کئی کردار اداکرنے کے بعد وہ دیر تک روتی رہتی تھیں۔
وہ معروف فلموں ،جن میں عامرہ اورسیم، سگریٹ سوپ،ڈیوڈ ،چیری پوپ و دیگرمیں اپنے فن کا جوہر دکھاچکی ہیں، جبکہ ان کے مشہور ترین ڈراموں میں ،جیک ریان،آرکائیو اِیٹی وَن،ڈیرڈیول،بی کے پی آئی،میڈم سیکرٹری اور دیگر شامل ہیں۔ دینا الشہابی نے اپنے مختصر کیرئیر میں کئی بار انٹرویوز دیے، وہ کس طرح کے خیالات کی مالک ہیں، اس کا اندازہ مندرجہ ذیل گفتگو سے کیا جاسکتا ہے، جس میں انہوں نے اپنی ذاتی زندگی کے ساتھ ساتھ، اپنے کیرئیر کی ابتدائی لیکن مقبول امریکی ٹی وی سیریز’’جیک ریان۔سیزن ون‘‘ کے حوالے سے بھی اپنے فنی تجربات بیان کیے ہیں۔

ہالی ووڈ میں شہرت سمیٹنے والی عرب اداکارہ ، دینا الشہابی
انٹرویو۔ مکالمہ۔ گفتگو
سوال۔ اپنے بچپن کی یادوں کے بارے میں بتائیں۔
جواب۔ میں سعودی عرب کے شہر ریاض میں پیدا ہوئی۔7 سال کی عمر تک وہیں پلی بڑھی۔ میرے پاس اس گزرے ہوئے وقت کی بہت دلکش یادیں ہیں۔ وہاں برادری اور خاندان کا احساس،اتنا خالص تھا کہ میں اب بھی اپنے بچپن کی کئی سہیلیوں کے ساتھ رابطے میں ہوں۔ ان میں سے ایک’’ لارا‘‘ ہے، اب جو دبئی میں شیف ہے، اُس نے میری امریکی ٹی وی سیریز’’جیک ریان‘‘ دیکھنے کے بعد مجھے فون کیا اور کافی دیر تک اس کی یاد میں ہم دونوں روتی رہیں۔میں اگراپنے بچپن کی پسندیدہ چیزیں بتائوں، جنہیں میں شوق سے دیکھتی تھی، تو مجھے کیپٹن ماجد اور فل ہاؤس ٹی وی سیریز دیکھنا یاد ہے۔ ان کے علاوہ ہماری کھڑکی کے باہر طوفانی بگولے دیکھنا، جمعہ کے دن اپنی نانی اماں کے گھر جانا، فسولیہ اور ملیکھیا کھانا،وغیرہ یہ سب اچھی طرح یاد ہے۔
میں 7برس کی عمر میں دبئی چلی گئی، یہاں آکر ایک بالکل مختلف دنیا دیکھنے کو ملی۔ مجھے یہ بھی یاد ہے، میں کافی شرمیلے مزاج کی ہوا کرتی تھی، مجھے فٹبال، ساکر اور ٹینس جیسے کھیلوں سے لگائو تھا۔ مجھے رقص سے بھی دلچسپی تھی، اس لیے میں بیلے ڈانس کی تربیت بھی لیا کرتی تھی۔ میں اکثر سوچا کرتی، یہ اکتادینے والاشوق ہے، اس لیے جب میں 9 سال کی تھی، تو اس شوق سے دل اُچاٹ ہوگیا، پھر بڑے بھائی کی طرح میں نے اسکیٹ بورڈنگ اور ڈریسنگ کرنا شروع کر دی۔ مجھے میوزیکل اسکول میں ،اپناداخل ہونا بھی یاد ہے۔ دو سال گزرنے کے بعد بھی میں وہاں اسکول کے ڈراموں میں حصہ لے رہی تھی، اس میں مجھے تفریح بھی مل رہی تھی، اسی دوران میں پھر اپنی پہلی اسٹریٹ جاز ڈانس کلاس میں چلی گئی، یوں سب کچھ بدلا اور اس شوق کے لیے میری نفرت، محبت میں تبدیل ہوگئی۔

معروف امریکی ٹی وی سیریز کا پوسٹر ، جس میں دینا الشہابی دکھائی دے رہی ہیں
سوال۔ آپ نے ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟
جواب۔ میں نے (پہلے گریڈ سے بارہویں تک) کئی عربی و امریکی اسکولوں سے تعلیم حاصل کی۔
سوال۔ آپ کس طبیعت کی مالک تھیں؟
جواب۔ جیسا کہ میں نے پہلے ہی بتایا، شرمیلے مزاج کی مالک تھی۔ لوگوں سے ملنے کے ڈر سے باتھ روم میں چھپ جایا کرتی تھی۔ میری امی اکثر کہا کرتیں، تم کھڑکی سے باہر کیوں جھانکتی رہتی ہو۔ آہستہ آہستہ لوگوں سے ملنا جلنا شروع ہوئی، پھر خوداعتمادی میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
سوال۔ پیشہ ورانہ کام اور ذاتی زندگی کے مابین، کس طرح توازن کو برقرار رکھ پاتی ہیں؟
جواب۔ مجھے مراقبہ کرنا بے حد پسند ہے۔ پچھلے کئی برس سے مراقبہ کر رہی ہوں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ مجھے کس وقت شوٹنگ پر جانا ہے، میں صبح اٹھ کر 20 منٹس مراقبہ کرتی ہوں،جودوپہر کے کھانے کے وقفے کے دوران، جو کہ عام طور پر آدھا گھنٹہ ہوتا ہے۔اسی طرح ہمیشہ پہلے دوپہر کا کھانا کھاتی ہوں، پھر دماغ کو سکون دینے کے لیے مراقبے کا سہارا لیتی ہوں۔ میں اس سے بہت مانوس ہوں اور اسے نیند پر ترجیح دیتی ہوں، کیونکہ اس سے بہت فرق پڑتا ہے۔
سوال۔ آپ نوعمری میں نیویارک آئیں۔ آپ کے لیے پہلی باراس بالکل نئی دنیا میں آنا کیسا تھا؟
جواب۔مجھے نیویارک سے اُس وقت بھی محبت تھی اور اب بھی کرتی ہوں۔ میں پہلی بار یہاں منتقل ہوئی، تو مجھے اس کا جنون تھا، گویا مجھے محسوس ہوا ،یہاں میں نے وہ مسکن ڈھونڈ لیا ہے، جس کی مجھے تلاش تھی۔ یہاں مجھے ہر طرح کی آزادی میسر آگئی تھی، مجھے ایسا محسوس ہوتا، میں اپنے فیشن سینس کے ساتھ بے حد آزاد ہو سکتی ہوں۔ مجھے نائٹ گاؤن ، بلیزر اور 80 کی دہائی کے جوتے پہننایاد ہے ۔ میں نے نیویارک میں اپنے آپ کو کسی بھی طرح سے اظہار خیال کرنے کے لئے آزاد محسوس کیا، جواس شہر کی انفرادیت ہے۔ نیویارک میں، آپ جو بھی بننا چاہتے ہیں، وہ بن سکتے ہیں۔
سوال۔ سعودی عرب کے پس منظر کی جڑیں آپ کو معروف اداکارہ بنانے میں کس حد تک کام آئیں؟
جواب۔ مجھے مقبول امریکی ڈراما سیریز’’جیک ریان‘‘ میں’’ حنین علی‘‘ جیسا شاندار عرب خاتون کاکردار ادا کرنے کو ملا۔ میں عرب فلم سازوں اور فنکاروں سے جڑی ہوئی ہوں، جن کی ایسی عظیم کہانیاں ہیں، جنہیں سنانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں سب کے ساتھ مل کر ایک ایسی آواز کے اشتراک کا حصہ بننا چاہیے، جسے واقعی سننے کا موقع نہیں ملا۔ میں اس کردارکے لیے بہت پرجوش تھی۔ مجھے عرب ہونے پر بہت فخرہے۔ ہمارے خون میں ایک جذبہ ہے، جس کو میں اپنی ذات کی اتھاہ گہرائی میں محسوس کرتی ہوں، وہی مجھے متحرک کرنے کی کلیدی توانائی کا کام کرتا ہے۔
سوال۔ ایک عرب یا سعودی لڑکی کے طور پر ہالی ووڈ نے آپ کا استقبال کیسے کیا؟ کیا یہ مشکل مرحلہ تھا؟
جواب۔ میرے خیال میں سب کچھ اسی طرح ہوا، جس طرح ہونا چاہیے تھا۔ میں خود کو بہت خوش قسمت جانتی ہوں کہ مجھے’’ حنین علی‘‘ کا کردار نبھانے کاموقع ملا، اگر میں عرب نہ ہوتی، تو اس کردارکو کبھی ادا نہ کر پاتی۔ یہ بات درست ہے، ہم عربی لوگوں کے لیے یہاں مواقع محدود ہیں، لیکن میرا تعلق جہاں سے ہے، وہاں سے ہونے کا تحفہ یہ تھا،مجھے ایک خوبصورت، پیچیدہ اور طاقتور کردار ملا۔ مجھے ایسی کہانیاں سامنے لانے کا موقع ملا، جو ابھی تک شوبزمیں سنائی نہیں گئیں۔

دینا الشہابی ایک اور معروف امریکی سیریز "آرکائیو ایٹی ون” میں اداکاری کے جوہر دکھاتے ہوئے

مقبول ترین ٹی وی سیریز ” ڈیرڈیول” میں اداکارہ دینا الشہابی کا ایک سین
سوال۔ کیا آپ ہمیشہ یہ چاہتی تھیں کہ اداکاری کی طرف آئیں یا آپ کی توجہ صرف رقص پر تھی ؟
جواب۔ مجھے فلم اور ٹی وی دیکھنے کا جنون تھا۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا، میں اچھی اداکاری کرسکتی ہوں اور رقص ایسا فن تھا، میں جس کو بہت تیزی سے حاصل کر پائی، کیونکہ اس کی بنیادی وجہ میرے اساتذہ تھے۔ اداکاری جب خود کو ایک آپشن کے طور پر پیش کرنا شروع کرتی ہے، تو یہ واقعی ایک قدرتی چیز کی طرح محسوس ہوتی ہے۔ میں نے کبھی ایسا محسوس نہیں کیا کہ مجھے ایک چیز کو دوسری چیز کے لیے ترک کرنا پڑے گا۔
مجھے خبر ہی نہ ہوئی، میری چاہت، کب رقص سے اداکاری میں بدل گئی۔ یہ دونوں فنون ایک جیسے لگتے ہیں لیکن درحقیقت بہت مختلف ہیں،لیکن میری نظر میں ان دونوں کی اپنی ایک جداگانہ اہمیت ہے۔
سوال۔ آپ کے والدین نے رقاصہ یا اداکارہ بننے کی خواہش پر کیا ردعمل ظاہر کیا تھا، بالخصوص ابتدائی منصوبہ ملنے پر ان کے خیالات کیا تھے؟
جواب۔ وہ بہت معاون تھے۔ میری ماں خاص طور پر ہمیشہ جانتی تھی کہ یہی وہ ضروری چیز ہے، جو میں کرنا چاہتی تھی۔ والد کو میرا یہ فیصلہ ماننے میں میں زیادہ وقت لگا، لیکن انہوں نے جب اس بات کو قبول کرلیا، تو بہت مددگار بن گئے۔ میرے اس کام میں، میرے والدین حیرت انگیز اور بہت حوصلہ افزا رہے ہیں۔ میں واقعی اپنے آپ کو خوش قسمت محسوس کرتی ہوں۔ وہ میرے لیے بہت خوش تھے۔ا یک اچھا احساس تھا، جب انہیں یہ خوشخبری دی کہ میں نے امریکی ڈراماسیریز ’’جیک ریان‘‘ کا اہم ترین پروجیکٹ حاصل کرلیا ہے۔

دینا الشہابی اپنی معروف امریکی ٹی وی سیریز "جیک ریان” کے ساتھی فنکاروں کے ہمراہ
سوال۔ کیا آپ عرب لڑکیوں کی ہالی ووڈ میں کسی خاص طریقے سے نمائندگی کرنے کے لیے بہت بڑا دباؤیاذمے داری محسوس کرتی ہیں؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ اُن کے لیے رول ماڈل ثابت ہوئی ہیں؟
جواب۔ کبھی کبھی میں جس چیز سے واقعی دباؤ محسوس کرتی ہوں، وہ میری اپنی ذات کے لیے ہے۔ میں کوشش کرتی ہوں، بہترین اداکار بننے پر توجہ مرکوز کروں، کہانی کا رخ سب سے زیادہ مستند اور سچائی کے ساتھ پیش کرسکوں۔’’ حنین علی‘‘ جیسے شاندار کردارکے ساتھ، میں نے ایک بہت بڑی ذمہ داری محسوس کی کہ میں اسے انسان بنانے اور اس کے شوہر اور اس کے خاندان کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے کے لیے جو کچھ بھی کر سکتی ہوں، وہ کروں۔ میں جانتی تھی، اگر ایمانداری کے ساتھ اس عورت کو ایک ماں اور بیوی کے طور پر پیش کر سکتی ہوں، جو اپنے خاندان سے پیار کرتی ہے، تو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کہیں سے بھی ہوں۔ میں اس کردار کو نبھانے کے بعد، اپنے لیے یہ اعزاز محسوس کرتی ہوں کہ لوگ میری طرف دیکھتے ہیں۔ ہمارے خطے میں بہت زیادہ ٹیلنٹ موجود ہے اور مجھے امید ہے، ہر کوئی اسے اس طریقے سے کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کرے گا، جو بھی ان کے لیے سب سے زیادہ حقیقی اور پرجوش ہے۔

دینا الشہابی کی شخصیت کے مختلف انداز
سوال۔ آپ کے اس کردار’’حنین علی‘‘ کو کئی ایوارڈز کے لیے بھی نامزد کیا گیا؟
جواب۔ اس کردار نے مجھے نئی زندگی بخشی۔ ایک دہشت گرد کی بیوی حنین علی کے طور پر اپنی اداکاری کے لیے، مجھے ڈرامے میں بطور معاون اداکارہ، ناقدین کے چوائس ایوارڈ کی نامزدگی ملی ۔’’جیک ریان‘‘ سے پہلے، مجھے جو کردار ملے ، وہ صرف عربی کردار تھے کیونکہ میں عربی زبان بولتی ہوں، لوگ بھی مجھے اسی زبان کے پس منظر کے حوالے سے جانتے تھے۔ سید جراح کے علاوہ جیسا کہ نوین اینڈریوز نے ”لوسٹ” میں ادا کیا تھا (جس پر کیوز اور رولینڈ نے پہلی بار تعاون کیا تھا) میں ہالی ووڈ میں عربوں کے کرداروں کی عکاسی کرتی رہی ہوں، کیونکہ ہمیشہ کچھ ایسا احساس ہوتا ہے، جب آپ خود کو اسکرین پر ظاہر نہیں کرتے، آپ واقعی نہیں جانتے،آپ وہاں سے تعلق رکھتے ہیں یا نہیں، دنیا بھر میں گھومتے پھرتے اور اداکار بنتے ہوئے، آپ کو یہ فکر لاحق ہوتی ہے کہ آپ کو نہیں معلوم، آپ کون ہیں، اس کے لیے آپ کو قبول کیا جا سکتا ہے، جس سے آپ خود کو ایک اداکار کے طور پر ثابت کرتے ہیں، اس کا اثر لوگوں پر پڑتا ہے، وہ دوسرے کرداروں میں بھی آپ پر اعتماد کرتے ہیں۔ کیا آپ واقعی اس شخص کو زندہ کر سکتے ہیں؟ اور اگر آپ واقعی کسی بھی کردار کے ساتھ اس کا احترام کرتے ہیں، تو اس کا اثر بہت زیادہ ہوتا ہے۔
سوال۔ اس معروف امریکی ڈراما سیریز’’جیک ریان‘‘ میں، اس کے مرکزی کردار نبھانے والے امریکی اداکار’’جان کراسنسکی‘‘ اور دیگر اداکاروں کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ کیسا رہا؟
جواب۔ مجھے یاد ہے، میں نے’’جان کراسنسکی‘‘ کوپہلی دفعہ جب دیکھا، تو کافی نروس تھی اور شوٹنگ کے دوران ایک کونے میں بیٹھی ہوئی تھی، اُنہوں نے مجھے دیکھا، تو بے اختیار ہو کر آواز دی اور مجھ سے اس ڈرامے کے سیٹ پر بے تکلف ہوگئے۔ وہ بہت مہربان، فیاض، معاون اور حوصلہ بڑھانے والے انسان ہیں۔ ڈرامے کے ایک سین میں ان کے ساتھ کام کرنا بہترین تجربہ رہا کیونکہ وہ بہت مہربان اور ملنسار ہیں۔ بحیثیت انسان وہ سب سے پیار کرنے والے ہیں۔ میرے دل میں بھی ان کے لیے انتہائی محبت اور احترام ہے۔ مجھے اُن کا ٹی وی سیریز’’دی آفس‘‘ بہت پسند ہے، جبکہ’’اے کوئیٹ پلیس‘‘ کی شاندار کامیابی کے بعدمجھے ان پر فخر محسوس ہوتا ہے۔وہ واقعی اس کامیابی کے مستحق ہیں کیونکہ میں نے ان کے ساتھ کام کرکے یہ محسوس کیا، وہ بہت محنتی انسان ہیں۔ میری کوشش ہے، مستقبل میں دوبارہ ان کے ساتھ کام کرسکوں۔
میری پہلی انسپیریشن میری ڈانس ٹیچر تھیں اور ان سے پہلے میں جن سے لاشعوری طور پر متاثر تھی ، وہ میری والدہ تھیں۔ وہ بولڈ اور بے باک تھیں، سعودی عرب کی یہ فنکارہ، جو آج ہر چیز کے بارے میں آپ سے کھل کر بات کر رہی ہے، یہ انہی کی مرہون منت ہے، انہوں نے میری ذات کو اعتماد بخشا۔

دنیا الشہابی کی مشہور فلم "عامرہ اینڈ سیم” کا ایک منظر
سوال۔ آپ نے اپنی زندگی میں اب تک جو کچھ بھی کیا ہے، اس کی وجہ سے سعودی عرب کی خواتین کو آپ پر فخر ہے؟
جواب۔ اوہ میرے خدا، آپ نے میرے چہرے پر ایسی مسکراہٹ جگا دی ہے! آپ کی اس بات سے میرا خون بڑھ گیا ہے۔ میری پہلی انسپیریشن میری ڈانس ٹیچر تھیں، جو مشرق وسطیٰ میں رہتی تھیں۔ اس سے پہلے میری ماں تھی۔ میں 11 سال کی تھی،جب مجھے دبئی میں ایک ڈانس کلاس میں داخلہ کروایا گیا۔ مجھے ایک ہندوستانی ڈانس ٹیچر کے ساتھ اس ڈانس کلاس میں لے جایا گیا تھا، جو بہت پراعتماد اور ناقابل یقین حد تک باصلاحیت تھی۔ انہوں نے میری زندگی بدل دی۔ انہوں نے مجھے اپنی شاگردی میں لے لیا اور ان کی ڈانس کلاس میں آنے کے ایک سال کے عرصے میں، ان کے ساتھ میں پیشہ ورانہ طور پرباقاعدہ رقص کرنے لگی تھی۔ میں اب بھی ان کی شکر گزار ہوں، انہوں نے بہت سے لوگوں کی زندگی بدل دی۔ ایک ایسی ثقافت جس میں اظہار اور تخلیقی صلاحیتوں کوکھلے دل سے قبول نہیں کیا جاتا، اس ماحول میں انہوں نے اپنے اس بے حد آزاد اور شدیدجذبے کے ساتھ میری مکمل حوصلہ افزائی کی۔
مجھے یاد ہے، وہ بی ایم ڈبلیوچلاتی تھی، ان کا اپنا گھر تھا اور میرا یہ سوچنا بھی مجھے یاد ہے۔’’وہ ایک عورت ہیں، ان کا اپنا گھر ہے، وہ اپنے لیے خودکماتی ہیں اور وہ محض ڈانسر ہیں؟‘‘ میرا اندازہ یہ تھا کہ ان چیزوں کو حاصل کرنے کے لیے مجھے بھی ڈانسر بننا پڑے گا اور اسی سے میرا سفر شروع ہوا۔ وہ مکمل طور پر میرے یہاں آنے کی وجہ ہیں اوراسی لیے مجھے محبوب بھی ہیں۔
سوال۔ آپ کے ڈانسنگ کیرئیر پر گھر والوں کا کیا ردعمل تھا؟
جواب۔ یہاں میں اپنے بھائی کا ذکر کرتی چلوں، اُنہوں نے میرا ڈانس کبھی دیکھا نہیں تھا، شاید وہ معاشرتی دبائوکے زیر اثر تھے۔ ایک بڑے بھائی ہونے کے ناطے میں ان کا ردعمل محسوس ضرور کرسکتی ہوں۔ بڑے بھائی کا کام اپنی چھوٹی بہن کو سمجھانا ہوتا ہے اور اس پر نظر رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے ۔ مجھے اندازہ ہے،وہ میری وجہ سے، لڑکوں سے لڑتے ہوں گے کیونکہ میرے ڈانس کی وجہ سے کئی لوگ غلط فقرے کسا کرتے تھے۔ دوسری طرف میرے والد کو اُن کے دوست کہا کرتے تھے۔’’تم نے اپنی بیٹی کو کس کام میں لگا دیا۔‘‘ معزز گھرانوں میں ایسا کب ہوتا ہے؟ لوگوں کا کام یہی ہوتا ہے کہ وہ ہر چیز کا رخ بدلتے ہیں، تو یہ میں کہہ سکتی ہوں، ابتدا میں مشکل ضرور ہوئی تھی، لیکن جب مجھے بہترین اداکاری پر ایوارڈ دیا گیا، تو اس وقت میرا بھائی وہاں موجود تھا، جو میرے لیے ناقابل فراموش لمحہ تھا۔
سوال۔ آپ کو لکھنے سے بھی رغبت ہے؟
جواب۔ یہ مضحکہ خیز بات ہے، ہم اپنے آپ کو محدود کرلیتے ہیں۔ میرے رائٹنگ ایجنٹ اکثر کہتے ہیں’’آپ اپنے آپ کو لکھاری بھی کہا کریں۔‘‘ میں کہتی ہوں کہ میں لکھ نہیں سکتی البتہ میں اداکارہ ضرور ہوں اور لکھنے کا تجربہ جاری ہے۔ میں نے اس بارے میں کافی سوچا اور خوداعتمادی کا دامن پکڑتے ہوئے عہد کیا کہ میں لکھ سکتی ہوں۔ میں ڈائریکٹر بھی بن سکتی ہوں، تو کیوں میں ان مراحل سے نہ گزروں اور کوشش کرکے دیکھوں، زیادہ سے زیادہ ناکامی ہی ہوگی، تو کیا ہوا؟ ابتدا میں مشکل ضرور ہوتی ہے، لیکن انسان سب کچھ کرسکتا ہے۔
سوال۔ آپ سب سے پہلے اس امریکی ڈراما سیریز ’’جیک ریان‘‘ میں کیسے شامل ہوئیں، کس چیز نے آپ کو اس کردار کی طرف راغب کیا؟
جواب۔ مجھے یاد ہے، میں نیویارک جا رہی تھی کیونکہ مجھے وہاں ایک ڈرامے کا آڈیشن دینے جانا تھا۔ میری کوشش تھی، میں اس ڈرامے کا حصہ بن جائوں، اسی لیے میں لاس اینجلس روانہ ہوئی۔ وہاں میں اپنی دوست کے ساتھ رہ رہی تھی، جس کے ساتھ میں رقص کرتے کرتے بڑی ہوئی، وہ بچپن سے میری بہترین دوست ہے، تو میں جلدی جلدی اس کے گھر پہنچی اوراس سے کہا۔ ’’مجھے یہ آڈیشن مل گیا ہے، مجھے کل صبح تک اس کی ضرورت ہے، تم کیا مجھے ریکارڈ کر سکتی ہو؟‘‘ وہ راضی ہوگئی، یوں ہم نے اسے آدھی رات کو دو ٹیک میں اس کو ریکارڈ کرلیا۔ یہ بہت تیز تھا اور پہلے ہی دیر ہو چکی تھی۔ یہ مضحکہ خیز ہے کیونکہ اس وقت وہ میری طرف متوجہ ہوئی اور مجھ سے کہا۔’’دینا، مجھے لگتا ہے کہ تم یہ کردار حاصل کرلو گی!‘‘ لیکن پھر مجھے اس ڈرامے کے لیے ایک کال بھی نہیں آئی، جس کے آڈیشن کے لیے میں نیویارک گئی تھی۔
دو ماہ بعد پھرمجھے اپنے ایجنٹ کا فون آیا’’وہ اس ڈرامے کے لیے آپ کو ٹیسٹ کرنا چاہتے ہیں‘‘ اور میں اس کے بارے میں کچھ نہیں بھولی تھی، میں اس مقام پر پہنچ گئی، جب حیرت انگیز طور پر میرے والد، جو مجھ سے میرے آڈیشن کے بارے میں کبھی نہیں پوچھتے، دریافت کیا’’جیک ریان کا کیا بنا؟‘‘ وہ واقعی اس سے محبت کرتے تھے! پھر مجھے بعد میں ’’جان کراسنسکی‘‘ کے ذریعے پتہ چلا، انہوں نے جب مجھ سے ملاقات کی، تو پہلی بات جو انہوں نے کہی وہ یہ تھی ’’ہمیں معلوم تھا کہ تم وہ لڑکی ہو جب ہم نے تمہارا ٹیپ دیکھا‘‘۔ آپ جب اداکار ہوتے ہیں، تو آپ کبھی نہیں جانتے ، پردے کے پیچھے کیا ہو رہا ہے، لیکن میں اس پروجیکٹ کے لیے اتنی تیزی سے کیوں متوجہ ہوئی، میں اسے جانے کیوں نہیں دے سکتی تھی کیونکہ میں ہر وقت عرب کرداروں کے لیے آڈیشن دیتی تھی اور اکثر اوقات وہ مشرق وسطیٰ کا کوئی تنازعہ ہوتا، جو عام امریکی ورژن کی شکل میں اسکرین پر پیش کیاجاتا۔ یہ سب بار بار بتایا جاتا تھا، وہ لوگ کون ہیں، یہاں تک کہ خبروں میں کس طرح خواتین کو پیش کیا جاتا ہے، انہیں کس طرح دکھایا جاتا ہے۔
مشرقی وسطی میں خواتین سے زیادہ امیدیں وابستہ ہیں
اور ضرورت سے زیادہ اُن کو معزز بنایا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ
اُن کی دیکھ بھال کی جائے اور ان کے پیچھے ڈھال بن کر کھڑا ہوا جائے
(دینا شہابی)
آپ مردوں کو وحشی اور خواتین کو شکار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن ہم پردے کے پیچھے دیکھ سکتے اور غور کرسکتے ہیں کہ واقعی کون کیا ہے۔ آپ نے میرے کردار میں جھانکا، تو معلوم ہوا کہ دو میاں بیوی ہیں، وہ ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں، ان کا ایک خاندان ہے اور ان کی زندگیاں برباد ہو چکی ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ ایک خاندان زندگی میں کیا کیا مشکلات جھیلتا ہے، پھر یہ بھی کہ میرے شوہرکا کردار، جو علی سلیمان نے ادا کیا ہے۔ یہ واقعی ان لوگوں کو انسان بناتا ہے، علی اور میرے درمیان محبت کا اظہار کرنا بہت ضروری تھا۔ اس شو میں مجھے اپنے خاندان کو توڑنا تھا اور تیسری قسط میں، مجھے اپنے بیٹے کو چھوڑنا تھا اور یہ بہت پریشان کن تھا۔ ہم نے جب اس سین کی شوٹنگ مکمل کی، تو میں گھنٹوں روتی رہی۔ اس کردار سے باہر آنا مشکل امر تھا۔
سوال۔ سلیمان اور حنین کے رشتے کے بارے میں آپ اور علی سلیمان کے درمیان کیسی گفتگو ہوئی؟
جواب۔ علی اور میں گھنٹوں بات کرتے تھے کہ دو لوگوں کو دکھانا کتنا ضروری تھا، جو ایک دوسرے سے پیار کرتے تھے۔ ہم چاہتے تھے کہ ان کے ساتھ گہرا، مکمل تعلق ہو۔ آپ نے دیکھا کہ یہ ایک ایسا جوڑا ہے، جو ایک دوسرے سے پیار کرتا تھا اور پھر وہ ایسا شخص بن گیا، جس کی اسے کبھی توقع نہیں تھی کہ وہ ایسا ہوگا۔ یہ ایک قسم کا تلخ تجربہ تھا۔ آپ اپنے ساتھ بیٹھے شخص کو دیکھتے ہیں اور آپ اس طرح ثابت ہوتے ہیں’’مجھے نہیں معلوم کہ یہ شخص کون ہے۔‘‘ وہ اپنی زندگی کی محبت اور اس شادی کو قربان کر رہی ہے، جس نے اس کی حفاظت کی ہے۔ اس کے خوبصورت بچے ہیں، یہ خوبصورت گھر، جو انہوں نے بنایا ہے۔ وہاں بہت کچھ ہے، جو اتنی محبت سے بھرا ہوا ہے کہ اسے چھوڑنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ بچے باپ کو دہشت گرد نہیں سمجھتے۔ یہ وہ چیز ہے، جس سے حنین علی کو نمٹنا تھا۔ یہ واقعی علی اور میرے لیے بہت اہم تھا۔
سوال۔ آپ کی اس امریکی ٹی وی سیریز’’جیک ریان‘‘ میں ایک قربت بھرا منظر بھی تھا، تو آپ اس بارے میں کیا کہیں گی کیونکہ آپ کا جس کلچر سے تعلق ہے وہاں ایسے موضوعات شجرِ ممنوعہ ہیں؟
جواب۔ میں اُس کردار میں اتنا رچ بس گئی تھی۔ وہ سین ٹی وی سیریز میں شامل اسی لیے کیا گیا تھا کیونکہ اگلے کچھ لمحات میں وہ اپنے شوہر کو چھوڑ رہی تھی۔میرے پاس وہ موقع تھا، جو میں نے مناسب طور سے پیش کیا۔
سوال۔ اس فلم میں دہشت گرد کو پیار کرنے والا خاندان دکھایا گیا ہے، یہ غیر معمولی بات ہے۔
جواب۔ آپ نے اس میں دیکھا ،جو لوگ ان مردوں سے متاثر ہوتے ہیں، وہ عورتیں اور بچے ہیں۔ آپ ان دہشت گردوں کے بارے میں کبھی نہیں سوچتے ،جو عمارتوں کو اڑا رہے ہیں، آپ کبھی نہیں سوچتے کہ ان کے بچے کیسے ہیں، ان کی زندگی کیسی ہے یا ان کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ اس نقطہ نظر کو دکھانے کے لیے،میرادل مجھے خوشی کے آنسو بہانے پرآمادہ کرتاہے کیونکہ آخر کار یہی وجہ تھی کہ میں ایک اداکار بننا چاہتی ہوں، ایک ایسی دنیا اور لوگوں پر سے پردہ اٹھانے کے قابل ہوں، جو آپ کو ہر روز دیکھنے کو نہیں ملتے۔آپ دیکھتے ہیں کہ مختلف لوگ صدمے سے کیسے نمٹتے ہیں، کچھ دہشت گرد بن جاتے ہیں اور کچھ ماں بن جاتے ہیں ،جو اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے کچھ بھی کرتی ہے۔
سوال۔ سعودی اور عرب نوجوانوں کے لیے آپ کا کیا پیغام ہے، جو اس سانچے کو توڑنے کی خواہش رکھتے ہیں تاکہ وہ ہمت پکڑیں اور ایسے کیریئر میں داخل ہوں، جنہیں خطے میں ”آؤٹ آف دی باکس” کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے؟
جواب۔ امریکی ٹی وی شوز میں اکثر عرب کردار ایک جہتی اور پیچیدہ نہیں بلکہ دقیانوسی دکھائے جاتے ہیں۔ خوش قسمتی سے’’ جیک ریان‘‘جیسے ڈرامے کی عرب کہانی کا پلاٹ انتہائی پیچیدہ اور مختلف پہلوئوں پر مبنی ہے ، دیکھنے والے ناظرین کے طور پر مجھے لگتا ہے، آپ کو واقعی ان سے ہمدردی ہوگی اور ان کی داستان سمجھنے کا موقع ملے گا۔ ہمیں یہ بھی سمجھ میں آئے گا کہ ہماری کہانیوں سے آگے کیا مثبت تبدیلیاں رونما ہوسکتی ہیں، پھر ضرورت اس امر کی بھی ہے، عرب مصنفین، پروڈیوسروں، ہدایت کاروں، اداکاروں کو اپنی کہانیاں ایمازون، نیٹ فلیکس اور ایچ بی او جیسے اوٹی ٹی پلیٹ فارمز پر لانے کے لیے مزید مواقع چاہیں۔
اس لیے میرا پیغام ہے کہ وہ اپنی کہانیاں ضرورشیئر کریں۔ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر مختصر فلمیں بنائیں اور انہیں فیسٹیولز میں جمع کروائیں۔ آپ کی بہت ضرورت ہے۔ اپنے آپ کو پیچھے نہ رکھیں۔ وہ ، عجیب،منفرد، تکلیف دہ، امید بھری جادوئی کہانی بتائیں، جو آپ کے ساتھ بیتی ہیں یا جن کے بارے میں آپ خواب دیکھتے ہیں۔ ہمیں دنیا کو دکھانے کی ضرورت ہے کہ ہم اس سے زیادہ ہیں، جو وہ سمجھتے ہیں ۔ ہم اس لائق ہیں کہ ہماری کہانیاں پیش کی جائیں اور ہماری اندرونی زندگی کو دیکھا جائے۔ جرات مند اور بہادر بنو، اگر کوئی چیز آپ کو ڈرا رہی ہے، تو آپ صحیح راستے پر ہیں۔
: حوالہ جات
انٹرویو : بائے لینہ حسب اﷲ، العریبیہ انگریزی 2018
انٹرویو: ریلی چائو، یوٹیوب چینل: گولڈ ڈربی، اسٹریم 2019
انٹرویو تحریر: لیوراہیلبرون، ویب سائٹ بنام بریف ٹیک 2018
آرٹیکل بائے لینزی مونٹیگ، نیوز ویب سائٹ 2022
پوڈ کاسٹ ال ایمپائر سیزن ون 2019