یہ صرف اداکاری ہی نہیں کرتے بلکہ اس دنیا کی ماحولیاتی آلودگی ختم کرنے کے بھی بھرپور طور سے سرگرم ہیں ہالی وڈ سے لے کر آسڑیلیا کے سینما تک، ہرجگہ خود کو بہترین اداکار ثابت کیا حال ہی میں ریلیز ہونے والی ان کی فلم ”تھور“ کے بارے میں تفصیلی اظہار خیال اور دیگر فلموں پر بھی تفصیلی بات چیت یہ گفتگو اداکار کی فلموں کو سمجھنے اور بہتر تفہیم کے لیے معاون ثابت ہوسکتی ہے
آسڑیلیا سے تعلق رکھنے والے اس اداکار کی شہرت پوری دنیا میں پہنچ چکی ہے۔ وہ چوڑے کندھے، پر اعتماد نیلی آنکھیں اور چہرے پر مسکان سجائے، ایسے اداکار ہیں، جن کوآپ کئی سپرہٹ فلموں میں دیکھ چکے ہیں، ان میں خاص طور پر ”سپر ہیروز“ تھیم کی فلمیں شامل ہیں، جن سے ان کو جداگانہ شناخت ملی ہے۔ ان کی چند ایک فلموں کا نام لیا جائے، تو ایسی فلموں میں، دی ایونجرز، مین ان بلیک، رش اور نیٹ فلکس کی فلم ہائی آکٹین ایکشن تھرلر ”ایکسٹریکشن“ جیسی بلاک بسٹر فلمیں شامل ہیں۔
اس عمدہ اداکار کی جانی پہچانی آواز، گہری اور سنسنی خیز ،جو فوری طور پر آپ کو متاثر کرتی ہے۔ یہ بلاشبہ ہماری عہد کے ایک نمایاں، کرشماتی اور باصلاحیت اداکاروں میں سے ایک ہیں۔ یہ صرف اداکار ہی نہیں بلکہ ایک شوہر، تین بچوں کے باپ، فٹنس اورہیلتھ کے وکیل بھی ہیں۔ ان کی شخصیت مردانہ وجاہت کا بھرپور اظہار ہے، اس پربالائے ستم، ان کی گفتگو اور لہجہ ،خوشبو جیسا ہے۔ اس وقت دنیا کے معدودے چند مقبول اداکاروں میں سے یہ ایک ہیں۔ انہوں نے اپنی فلموں، ان کے کرداروں اور اپنی شخصیت کے حوالے سے بہت دلچسپ گفتگو کی ہے، یہ مکالمہ پیش خدمت ہے۔
انٹرویو
سوال۔ موسمیاتی تبدیلی اور جنگلی حیات کا تحفظ، یہ دونوں موضوعات آپ کے دل کے قریب ہیں۔ یہ آپ کے لیے اتنے اہم کیوں ہیں؟
جواب۔ بس یہی پیغام ہے، جو ہرگزرتے دن کے ساتھ واضح اور واضح ہو تاجاتا ہے کہ ہمیں حقیقت میں ابھی کچھ کرنے کی ضرورت ہے ورنہ یہ سیارہ، جس کو زمین کہا جاتا ہے، میرے بچوں اور آنے والی نسلوں کے لیے موجود نہیں رہے گا۔ وہ اس جگہ میں رہنے اور اس سیارے سے لطف اندوز ہونے کے قابل نہیں ہوں گے۔ میں نے یہ بھی دیکھا ہے، میرے بچے مجھ سے یہ سوالات پوچھتے ہیں، جو کہ بہت حوصلہ افزا رویہ ہے، لیکن خوفناک بھی ہے، کیونکہ آپ اس حقیقت کو جانتے ہیں کہ وہ بھی ماحول کی خاطرکتنے فکرمند ہیں۔
انہیں اسکول میں بھی سکھایا جا رہا ہے، موسمیاتی تبدیلی حقیقی ہے اور ہمیں ماحول کی حفاظت کرنے کی ضرورت ہے، لیکن یہ بات اور بھی خوفناک ہے، انہیں پھر بھی اس معاملے پر ہم یعنی والدین سے رجوع کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے ہم سے کہا۔”ارے، آپ نے زمین کے ساتھ کیا کیا ہے اور ہم اس کی حفاظت کے لیے کیا کر رہے ہیں“ یہ ایک حقیقی ویک اپ کال تھی، ہمیں اس کے بعد ہمیں ذہنی طور پر بیدار ہوجانا چاہیے۔
سوال۔ زمین کی ماحولیاتی حفاظت اور فطری ماحول کو محفوظ بنانے کے لیے، آپ کس طرح کی کوششیں کر رہے ہیں؟
جواب۔ میں مختلف تنظیموں کے ساتھ کام کرتا ہوں اور آسٹریلیا میں وائلڈ آرک نامی ایک گروپ ہے، جو تحفظ کے لحاظ سے بہت بڑا ہے، وہ اس تناظر میں متعدد مختلف پروجیکٹس پر کام کرتے ہیں۔ ایک معروف دستاویزی فلم میکر”ڈیوڈ ایتھنبرگ“ ماحولیات کے بارے میں بہت ساری باتیں کرتے ہیں۔ ان کی دستاویزی فلمیں زمین کے لیے محبت میں ڈوب کر لکھے ہوئے کسی خط کی طرح ہیں۔ میرے بچے ان کی فلمیں دیکھ کر لطف اندوز ہوتے ہیں۔ میرا خیال ہے، اگر ہم فطرت اور ماحول میں زندہ رہنے کا تجربہ کر رہے ہیں اور اس سے پیار کرتے ہیں، تو ہمیں اس کی حفاظت بھی کرنا ہوگی۔
سوال۔ کورونا کے بعد، آپ موسمیاتی تبدیلی اور جنگلی حیات کے تحفظ میں اپنی کوششوں سے کیا حاصل کرنے کی امید کرتے ہیں؟
جواب۔ میں نے حال ہی میں موسمیاتی تبدیلی پر ایک ٹیڈ ٹاک کی ہے، وہاں بہت سارے سائنس دان اور کارکن موجود تھے، جنہوں نے ٹیکنالوجی کے لحاظ سے موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں باتیں کیں، ان میں میرے لیے بہت ساری اہم معلومات تھی۔ میں کھلے دل سے تسلیم کرتا ہوں، مجھے ابھی بھی بہت کچھ سیکھنا ہے۔ میں ہر وقت غلطیاں کرتا ہوں اور ان غلطیوں کو درست کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
مجھے احساس ہوتا ہے، کچھ کام کرنے سے ماحول پر کچھ خاص اثرات مرتب ہوتے ہیں، لیکن ہم کوشش کرتے رہیں، تو یہ بھی ٹھیک ہے۔ دنیا میں اتنا کام کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم آدھے وقت میں کچھ بھی کرنے سے ڈرتے ہیں۔ ہم سب دریافت کے سفر پر ہیں، اسی طرح اگلے سال اور اس کے ایک سال بعد بھی، میں کوشش کروں گا کہ زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کروں، اسے جذب کروں، امید ہے، موسمیاتی تبدیلی کو روکنے کی کوشش کروں گا، جیسا کہ بہت سے لوگ کر رہے ہیں، لیکن ابھی ہمیں بہت کچھ کرنا ہے۔

ماحولیات کے تحفظ اور جنگلی جانوروں کی بقا کے لیے ایک مہم کے موقع پر
سوال۔ آپ کی مقبول ترین فلم’’ایونجرز‘‘ کی شوٹنگ کتنے عرصے میں مکمل ہوئی؟ یہ تجربہ کیسا رہا؟
جواب۔ بہت بہترین تجربہ رہا۔ کچھ مہینے اسی سوچ و بچار میں گزر گئے ، شوٹنگ کا آغاز کہاں سے کیا جائے۔ یہ میری فلم”تھور“ کی شوٹنگ سے کافی ہٹ کر فلمی پروجیکٹ تھا۔ اس فلم میں، روزانہ میں وقت پر پہنچ جاتا اور شوٹنگ شروع ہوجاتی کیونکہ وہ محض تھور کی حد تک محدود تھی۔ اس فلم میں کرداروں کی بھرمار تھی اور سارے مایا ناز ایکٹرز کی شوٹنگ تھی۔ یہ منفرد طرح کی شوٹنگ تھی، جسے میں آج بھی یاد کرکے لطف محسوس کرتا ہوں۔
سوال۔ ”جوزف ویڈن“ ایک ڈائریکٹر کے طور پر کیسے ہیں؟ جس کا تجربہ آپ نے تھور، پر کینتھ اور برانگ کے ساتھ نہیں کیا؟
جواب۔ ان کا بہت مختلف اندازہے۔ کچھ سال پہلے میں نے ان کے ساتھ”کیبن ان دی ووڈز“ میں کام کیا تھا۔ ایک مصنف کا بطور ہدایت کار ہونا بہت اچھا ہے کیونکہ وہ کہانی کے رخ کو سمجھ جاتے ہیں۔ یہ کہناہرگز نہیں ہے کہ باقی نہیں جانتے، لیکن اس مثال میں، میرا کہناہے، ان کےدماغ میں اپنی کہانی کاتفصیلی ورژن تھا کہ کہانی میں کہاں کیا ہو رہا ہے ،وہ بطور فلم ساز اس کو کس طرح آگے بڑھانا چاہتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ وہ ذہین اور زیرک فلم ساز ہیں اور ان کے پاس مزاح کی زبردست حس ہے۔
سوال۔ اسی طرح فلم ساز”لوکی“ کے ساتھ، کیا ایسا ہی برادرانہ رشتہ قائم تھا، جوفلم”تھور“ میں رہا تھا؟
جواب۔ یہ یقینی طور پر برادرانہ میل جول ہی تھا، جس کے ساتھ مجھے کام کرنا اچھا لگا۔ ان کے پاس تصور کا ایک الگ زاویہ ہے”’چلو وہاں جا کر اسے مار ڈالیں“ جبکہ ”تھور“ کا مزاج قدرے مختلف ہے۔”’ایک سیکنڈ انتظار کرو، میں یہ کرکے دکھائوں گا۔“ یہ اس طرح کے ملے جلے جذبات تھے۔ انہی معنوں میں جو یہاں تک لے جاتا ہے۔ اس کو بہت سارے سوالوں کے جوابات نہیں ملتے۔ اس ہدایت کار کے ساتھ کام کرکے اس لیے مجھے بہت لطف آیا۔

فلم ”تھور“کے ایک منظر میں معروف اداکارہ ”نتالی پورٹمین“ کے ہمراہ
سوال۔ کیا آپ ایسا سمجھتے ہیں کہ آپ ایک بڑی فلم بنا رہے تھے؟
جواب۔ ہاں، ایسا ہوتا ہے۔ میرا مطلب ہے، یہ ابھی بھی بہت بڑا سیٹ ہے جیسا”تھور“ کا تھا، لیکن مجھے لگتا ہے کہ بہت زیادہ بکھرے ہوئے شیڈول ہونے سے آپ آگے بڑھتے ہیں، ظاہر ہے کہ میں ان سب کا خیال نہیں کر رہا ہوں اور بھی بہت سے عناصر ہیں۔
سوال۔ کامکس پر مبنی فلمیں ناقابل یقین ہو سکتی ہیں، جیسے ٹِم برٹن کی بیٹ مین (1989) یا وہ واقعی ڈیئر ڈیول یا کیٹ وومین کی طرح فلاپ ہوجاتی ہیں؟
جواب۔ آپ کے پاس یہ رنگین اور روشن دنیاہوتی ہے اور وہ یا تو حیرت انگیز طور پر تفریحی ہوسکتی ہیں یا پھر کیمپ میں آسکتی ہیں۔ ہر سپر ہیرو فلم میں یہ چیلنج ہوتا ہے۔ کینتھ براناگ جیسے ہدایت کار کی فلمیں زبردست ہوتی ہیں۔ وہ واقعی ایک عمدہ اداکار و ہدایت کارہیں اور شیکسپیئر کے پس منظر سے آتے ہیں۔
سوال۔ ان کی فلم’’ہیملٹ‘‘ واقعی شاہکار تھی؟
جواب۔ جی ہاں۔ ہم نے اتنی ہی توجہ اور تن دہی سے گفت و شنید کی، جیسے آپ شیکسپیئر کی پروڈکشن میں کرسکتے ہیں۔ یہ فلم صرف خصوصی اثرات تک محدود نہیں تھی۔ یہ عظیم کردار کے اوپر تھی، جس کی بہترین نشونما کی گئی۔
سوال۔آپ کی فلم’’تھور“ کے ساتھ آپ کا اپناکیسا تعلق رہا؟ کیا آپ کامکس پڑھتے ہوئے بڑے ہوئے؟
جواب۔ بالکل نہیں۔ میں کردار کے بارے میں جانتا تھا، لیکن میں نے بچپن میں کبھی کامیکس نہیں پڑھے۔ فلم میں شامل ہونا اس سے میرا پہلا باقاعدہ تعارف تھا، پھر میں تھور کامکس کی بہت سی کتابوں میں غرق ہوگیا۔ مارول ٹیم نے مجھے ایک اسٹیک دیا۔ میں نے ان کے افسانوں پر بھی بہت سی کتابیں پڑھیں۔ اس طرح یہ دنیا مجھ پر آشکا رہوئی۔
سوال۔ آپ کی اس فلم’’تھور“ کے بارے میں وہی چیز پریشان کن ہے، جو”سپرمین “کے متعلق بھی ہے کہ وہ بہت زیادہ سپر ہے۔ کم از کم اس کے پاس کرپٹو نائٹ والے سپرمین کی طرح صرف ایک کمزوری نہیں ہے۔ کیا نیا تھور زیادہ طاقت ور ہے یا زیادہ پیچیدہ ؟
جواب۔ اس کا سب سے بڑا چیلنج اس کے اپنے ذاتی شیطان اور شخصیت کی خصوصیات ہیں۔ وہ تباہی کی صورت میں مسائل کے بارے میں سوچنے یا سوچنے سے پہلے عمل کرنے کا رجحان رکھتا ہے۔ اس کا سفر اس جذبے کو صحیح جگہ پر پہنچانے اور توقعات پر پورا اترنے کی ذمہ داری کے ساتھ پورا ہو رہا ہے اور اس بات پر منحصر ہے کہ وہ کس دنیا میں ہے، کس سے لڑ رہا ہے، اس کے پاس یقینی طور پر ایسے لوگ ہیں، جو اسی سطح پر ہیں، جو اسے چیلنج کرتے ہیں۔
سوال۔اس فلم”تھور“ میں آپ کا ہتھوڑا کیسا تھا؟
جواب۔ یہ ہتھوڑا ایک بہترین شاہکار ہے۔ یہ کافی بھاری تھا، اس لیے اس کو اٹھانے میں اسٹنٹس سے کام لینا پڑا، اگر یہ بہت ہلکا ہوتا، تو آپ اسے ٹوتھ پک کی طرح گھماتے اور یہ متاثر کن نظر نہیں لگتا، جب اس میں کچھ وزن ہوتا ہے اور آپ کو جسمانی طور پر اپنے کندھے اور کمر کو استعمال کرنا پڑتا ہے، تو یہ آپ کو طاقت کا احساس دلاتا ہے۔ مجھے اسے پکڑنے میں بہت سکون ملا۔ جب میں نے اس کے بغیرشوٹنگ کی، تو مجھے اپنا جسم نامکمل سا لگا۔
سوال۔ آپ 80 کی دہائی کی سرد جنگ کے تناظر میں بنی ہوئی فلم’’ریڈ ڈان‘‘ کے نئے ریمیک میں بھی شامل تھے۔ کیا اس فلم میں ولن روس سے شمالی کوریا میں تبدیل کیے گئے تھے؟
جواب۔ یہ ایک مرکب ہے! روسی اب بھی وہاں ہیں۔ یہ چند مختلف ممالک کا تعاون ہے۔ ہمارے لیے کہانی بنیادی طور پر اس نامعلوم دشمن کی ہے، جس سے ہم جنگل میں رہ کر لڑ رہے ہیں اور اس کا پس منظر ظالم فوج کا ہے۔
سوال۔ ایک اوراہم سوال، آپ نے اپنے کچھ کرداروں میں حقیقی زندگی کے لوگوں کی داستان بیان کی ہے، چاہے وہ رش ہو یا 12 اسٹرانگ۔ اصل تاریخی شخصیات کے کردار کی تیاری میں کیا کیا چیلنجز ہوتے ہیں؟
جواب۔ ظاہر ہے، آپ دیکھ رہے ہیں، یہ بنیادی طور پر کتاب تھی، میں اس کردار کو تھوڑا سا زیادہ افسانوی شکل دینے کے قابل تھا اور میرے خیال میں اس قسم کی رہنمائی درکار تھی۔”جیمز ہنٹ“ یقیناً ایک عہد کا نام ہے، وہ ایک معروف شخصیت تھے اور میں ان لوگوں سے بات کر سکتا تھا، جو اسے جانتے تھے۔ سب جانتے ہیں ،یہ فلم ریسنگ کار فارمولا ون کے تناظر میں بنائی گئی تھی اور”جیمز ہنٹ“ کی زندگی کے بارے میں تھی۔
سوال۔ اس فلم میں آپ مکمل طور پر بھائی چارے کے احساس کو دیکھ سکتے ہیں، جو آپ اور آپ کی ساتھی کاسٹ میں تھا۔ کیا یہ مختلف ہے، جب آپ اسے جنگ کے نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں؟
جواب۔ نہیں، میرا مطلب ہے، آپ واضح طور پر کسی بھی قسم کے تعلقات کے ساتھ اس کیمسٹری کو تلاش کرنا چاہتے ہیں۔ میرے خیال میں ہمارے پاس یہ تین ہفتوں کا تربیتی دورانیہ تھا، جو نہ صرف تکنیکی سطح سے ضروری تھا، بلکہ ہمارے لیے اس قسم کی کیمسٹری بنانے کے لیے بھی ضروری تھا۔ اس نمائش کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے کے لیے مربوط ٹشوز تلاش کرنا میرے لیے ابتدائی طور پر بہت اہمیت کا حامل تھا کیونکہ اس میں بہت ساری تفصیل اور فوجی باتیں موجود تھیں، جو آپ جانتے ہیں۔ میرا خوف یہ تھا کہ آپ خواب میں نہیں ہیں، لہٰذا میں لڑکوں کو اپنی آواز شامل کرنے کی ترغیب دیتا رہا کیونکہ ان میں سے کچھ کے پاس زیادہ لائنیں نہیں تھیں اور میں اس طرح کہتا رہا، جس طرح ہم بات کر رہے ہیں اور ہنس رہے ہیں۔
سوال۔ ناظرین نے فلم’’تھور“ میں جو آپ کا کام دیکھا، اس میں وہ بھول گئے کہ آپ”کرس ہیمس ورتھ“ ہیں، یہ بالکل ایسا ہی تھا”یہ کیپٹن ہے، میں کسی بھی جنگ میں اس آدمی کی پیروی کروںگا“ وہ تیاری، جو آپ نے اس فلم کے کردار کے لیے کی، وہ کیا تھی؟
جواب۔ یہ تیاری بہت اہم اور سخت تھی۔ ہمارے پاس فوجی مشیروں کی تعداد سیٹ پر تھی۔ ہم نے اپنی تربیت مکمل کی۔ یہ ایک طرح کا خود کار ردعمل ہے کہ آپ کس طرح حرکت کرتے ہیں اورکسی لڑکے کو کس طرح پکڑتے ہیں کیونکہ آپ کے پاس یہ سب کہانی کی علامتیں ہیں، جہاں فوجی لوگ صرف آنکھیں گھما کر جا رہے ہیں۔ ‘میرے خیال میں ہمارے پاس موجود بہترین اثاثوں میں سے ایک بہت بڑا اثاثہ”کینی شیرڈ“ تھے، جو بحریہ کے سابق اہلکار تھے۔وہ کئی ٹور ز میں شامل رہے ہیں اور اب وہ ایک اداکار بھی ہیں۔
وہ اکثر پس منظر میں موجود ہوتے، جو سب کو دیکھ رہے ہوتے تھے، اشارے اور تکنیک دیتے۔ یہ سیدھا اور ایماندارانہ طریقہ ہے،اس طرح اسے پیش کیا گیا۔ یہ ایک بھائی چارہ اور ایک تعلق کے ساتھ جڑا ہوا ایک کام ہے۔ اس میں ایک غیر معمولی بات ہے، ساتھ ہی اس طرح کے اختیار کی پیروی کرنا، جب آپ وہاں ہوتے ہیں اور آپ اس کے درمیان ہوتے ہیں ،تو یہ دوبارہ بدل جاتا ہے۔ اس طرح، ان کا وہاں ہونا بہت اچھا اور ناگزیر تھا۔اس کے مثبت اثرات فلم کی تخلیق پر مرتب ہوئے۔

اپنی فلم ”رش“ کے ایک منظر میں ساتھی فنکارہ کے ہمراہ

اپنی فلم ”رش“ کے ایک اور منظر میں
سوال۔ا ب کیا مشکل ہے؟ گھوڑے پر سوار ہونا یا سبز پردے پر پرفارم کرنا؟
جواب۔ گھوڑا، شکر ہے کہ میرے پاس ایک ہلکا گھوڑا تھا اور میں تھوڑا سا پہلے بھی اس پر سوار ہو چکا تھا، لیکن بہت سے لوگ، آپ کو معلوم ہے، کچھ لوگ گھوڑوں کو کنٹرول نہیں کرپاتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں؟ کیونکہ اچانک یہ خاموش ہو جاتے ہیں اور اچانک وہ چل پڑتے ہیں، کیونکہ وہ سٹنٹس کے گھوڑے ہیں، لہٰذا وہ اس سے واقف ہیں اور ان میں سے کچھ کو وہ کام پسند نہیں ہے ۔ یہ کافی مشکل مرحلہ ہوتا ہے، لیکن جو بات اصل لوکیشن پر سین شوٹ کروانے میں ہے، وہ سبز پردے پر پرفارم کرنے میں نہیں ہے۔

اپنی فلم ”تھور“ کی شوٹنگ کے دوران ، گرین اسکرین کے سامنے کھڑے ایک منظر کو عکس بند کروانے کی مشق میں مصروف ہیں
سوال۔آپ کی فلم’’تھور“ اور دیگر فلموں کے ساتھ، آپ بہت زیادہ گرین اسکرین کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ فلم مکمل طور پر لوکیشن پر شوٹ کی گئی ہے۔ وہاں سب سے بڑا فرق کیا ہے؟ اور ظاہر ہے کہ جن حالات میں آپ حقیقی جگہ پر شوٹنگ کر رہے ہیں، وہ اس کا اپنا مزہ ہوتا ہے؟
جواب۔ ہاں۔ سبز اسکرین کی شوٹنگ صرف ایک قسم کے بوریت ہے، جو دماغ کو بے حس اور تھکا دینے والی ہو سکتی ہے۔ میں محرک ہونے کو ترجیح دیتا ہوں،اس طرح آپ کو خوفزدہ یا ایڈرینالین سے بھرا ہوا کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ آپ کے آس پاس کے ماحول کی وجہ سے کوئی چیز آپ پر دباؤ ڈال رہی ہے، آپ کو اس طرح متاثر کر رہی ہے، تو یہی سب سے بہتر ہے۔ یقینی طور یہ میرا انتخاب ہوگا، اگر میں اسے ہمیشہ اس طرح کرسکتا ہوں۔
سوال۔ آپ کے پورے کیرئیر میں اب تک کا سب سے یادگار اور مشکل کردار کون سا رہا ہے؟
جواب۔ میں یہ کہوں گا، جب میرے اندر خود اعتمادی کی کمی تھی جبکہ میں آسٹریلیا میں ٹی وی شو بھی کر رہا تھا۔ میں نے واقعی جدوجہد کی ہے۔ میں نے صرف اپنے آپ پر اتنا دباؤ ڈالا اور میں مستقبل کے بارے میں بہت دور تک سوچ رہا تھا۔یہ کہنا مشکل نہیں ہے”تھور“ فلم کرنا اور مارول کائنات کا حصہ بننا فائدہ مند تھا کیونکہ اس نے میرے پورے کیریئر اور میری زندگی کو اس طرح کے مثبت انداز میں تشکیل دیا ہے۔ خاص طور پر وہ آخری فلم بہت خاص تھی کیونکہ یہ ایک طرح سے ہائی اسکول کی تکمیل کی طرح تھی، بہت ہی قریبی دوستوں کے ساتھ، جن کو میں ممکنہ طور پر الوداع کہہ رہا تھا۔
سوال۔ آپ ایک اداکار، والد، شوہر، ماحولیاتی کارکن اور فٹنس ایڈووکیٹ کے طور پر بہت کچھ ہیں، کیا آپ کوایسے لمحات میسر آتے ہیں، جب آپ تھکن سے چورہوجاہوتے ہیں اور جب ایسا ہوتا ہے ،تو آپ آرام کرنے کے لیے کیا کرتے ہیں؟
جواب۔ ہاں میں کبھی کبھی بہت زیادہ تھکاوٹ محسوس کرتا ہوں۔یہ اہم بات ہے کہ ہم کام کرتے کرتے تھک بھی جاتے ہیں۔ میں اس طرح کے احساس سےیوں تو پیچھے ہٹنے کی کوشش کرتا ہوں، اس احساس سے لڑنا نہیں چاہتا۔ ہمارے اندر پھر بھی کچھ جذبات ہوتے ہیں، جو اضطراب اور مایوسی کی طرح ڈھل جاتے ہیں۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ ہم جتنا زیادہ ان چیزوں سے لڑیں گے، اتنا ہی ہم انہیں بڑھائیں گے۔ میں ایک لمحے کے لیے ان کے سامنے ہتھیار ڈالنا چاہتا ہوں اور سوچتا ہوں ، کیا یہ واقعی اتنا بڑا مسئلہ ہے ،جتنا میں سمجھتا ہوں۔ یہ اگر میرے اختیار میں ہے، تو میں یہ جان لوں گا کہ میں اسے ٹھیک کرنے یا تبدیل کرنے کے لیے کیا کر سکتا ہوں۔ میں اس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتا، تو مجھے توجہ بھٹکانے کے لیے کچھ اور مل جائے گا۔ مجھے سرفنگ بھی اسی لیے پسند ہے، یہ واقعی مجھے زیادہ تر اس احساس سے باہر نکالنے میں مدد کرتا ہے۔ عام طور پر ورزش بہت اچھی ہے، مجھے جم جانا اور اپنے دماغ سے باہر نکلنا اور اپنے جسم میں جانا پسند ہے۔ یہ عام طور پر خود کودوبارہ ترتیب دینے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔

کرس ہیمس ورتھ اپنی فلم ”سنووائٹ اینڈ دی ہنٹس مین“ کی شوٹنگ کے موقع پر ساتھی اداکارہ ”کرسٹن اسٹیورٹ“ اورفلم ٹیم کے ساتھ عکس بند کیے گئے مناظر کو دیکھ رہے ہیں
سوال۔ آپ اور ”کرسٹن اسٹیورٹ“ کے درمیان فلم میں ایک کیمسٹری ہے، لیکن کیا یہ سوچنا بھی ٹھیک ہے کہ اس نے آپ کے چہرے پر مکے مارے؟
جواب۔ ہاں، اس نے ایسا کیا۔ یہ قیاس ہے کہ ایک حادثہ تھا۔ میں سو فیصد اس بات پر قائل تھا کیونکہ وہ مضبوط اور طاقت ور تھی، لیکن ہم نے بہت مزہ بھی کیا۔ ہم اسی طرح کی دنیا سے آئے ہیں، وہ ٹویلتھ فرنچائز سے آئیں جبکہ میں مارول کی دنیا سے آیا تھا۔ وہ دونوں جن کے ساتھ آپ کوشش کر رہے ہیں اور ثابت کرنے کے لیے لڑ رہے ہیں۔ ارے، دیکھو، میں بھی کام کر سکتا ہوں، میں صرف اس دنیا کا حصہ نہیں ہوں، جس کا حصہ بننے کے لیے میں شکر گزار ہوں، لیکن آپ کسے دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہ بات سچ ہے کہ ان کا اخلاق کافی اچھا ہے، وہ کہانی اور کرداروں کے بارے میں واقعی پرجوش خیالات رکھتی ہیں۔
سوال۔ یہ روپرٹ کے لیے اپنی پہلی فلم میں ایک ناقابل یقین کامیابی ہے۔ کیا آپ کو کوئی کردار ادا کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس ہوئی کیونکہ وہ بطور فلم سازپہلی بار فلم بنا رہے تھے؟
جواب۔ یقینی طور پر، میرا ابتدائی ردعمل وہی تھا باقی سب کا تھا کیونکہ کاغذ پر آپ سوچتے ہیں۔”’اوہ، اس نے پہلے کبھی کوئی فلم نہیں کی، پھر آپ ذرا گہرائی میں دیکھیں، تو آپ کو احساس ہوتا ہے، حقیقت میں اس نے سینکڑوں اشتہارات کیے ہیں اور آپ ان کو دیکھتے ہیں۔“ اشتہارات، جو پانچ منٹ کی فلموں کی طرح ہیں، جہاں تک میں نے بہت ساری فلمیں دیکھی ہیں اور کچھ بہترین فلموں میں کہانی سنانے کے طور پر، بصری طور پر شاندار اور آن دی مارک ہیں۔ انہوں نے مجھے کرس نولان کی یاد دلائی، وہ تاریک قسم کا کنارہ اور وہ اگلی سطح کی فلم سازی، جو کرس ہمیں دیتے ہیں، پھر انہیں دیکھنے کے بعد اور ان کے ساتھ بات کرنے اور ساتھ بیٹھنے کے بعد، میں نے محسوس کیا، وہ ایک فلمساز ہیں، ایک کہانی سنانے والے، وہ بصری ہونے کی خاطر صرف ایک بصری آدمی نہیں ہیں، وہ اسے سمجھتے بھی ہیں اور اس کے بعد کوئی شک نہیں رہتا کہ وہ ایک عمدہ فلم ساز ہیں۔
سوال۔ کیا آپ بھی کسی فلمی پروجیکٹ کی ہدایت کاری دے رہے ہیں؟
جواب۔ میں کس وقت ہدایت کاری کرنا پسند کروں گا، آپ کو سمجھنا پڑے گا، آپ واقعی اس کہانی کو کنٹرول کر رہے ہیں، کیونکہ آپ بطور اداکار اپنا کام کرتے ہیں اور آپ اسے دوسرے ذرائع اور لوگوں کے حوالے کر دیتے ہیں تاکہ وہ اس کے ساتھ جو چاہیں کریں، لیکن میں چیلنج کو پسند کروں گا اور یہ وہی ہے، جو میرے لئے ہے۔ وہ ایڈرینالائن ،جو خوف کے ساتھ آتی ہے، مجھے لگتا ہے، یہ دلچسپ ہوگا، لیکن میں جو کچھ کر رہا ہوں، اس کے بارے میں میرے پاس ہر ہفتے مختلف خیالات ہوتے ہیں، یعنی میرے خیالات تبدیل ہوتے رہتے ہیں، اس لیے ابھی کچھ کہنا قبل ازوقت ہے۔
سوال۔ کیا آپ نے”سنینا“ کو دیکھا ہے؟
جواب۔ ہاں، مجھے اس کے بارے میں جو چیز پسند تھی، وہ یہ تھی کہ وہ لوگ صرف گلیڈی ایٹرز ہیں، خاص طور پر 70 کی دہائی میں اور اس کے آس پاس، جب اس مقابلے میں ایک سال میں چار میں سے تین لوگ مر رہے تھے اور ایسا ہی ہے، آپ خود کو اس میں کیوں ڈالیں گے؟ لیکن ان سب نے اس کے بارے میں بات کی ، جس طرح اس نے انہیں لایا، جب اس طرح موت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہے تھے، وہ دیکھنے لائق ہے۔

اپنی بلاک باسٹر فلم”ایکسٹریکشن“ کے ایک منظر میں ، انڈین اداکار ”رندیپ ہودا“ کے ساتھ ایکشن میں مصروف ہیں۔ اس فلم کی عکس بندی انڈیا اوربنگلہ دیش میں ہوئی ۔ یہ نیٹ فلیکس کی فلم تھی، جس کو بے حد مقبولیت ملی۔
سوال۔ آپ نے ایک بلاک باسٹر فلم”ایکسٹریکشن“ میں بھی کام کیا ہے، اس میں کام کرنے کا تجربہ کیسا رہا؟
جواب۔ اس فلم کا اسکرپٹ’’رسو برادرز‘‘ نے بھجوایا تھا، جو ایونجرز اینفینیٹی وار اور اینڈ گیم کے اسٹنٹ مین اور ڈائریکٹر بھی رہ چکے ہیں۔ ان کے دماغ میں یہ خیال گردش کر رہا تھا کہ کوئی ایکشن فلم بنائی جائے۔ انہوں نے ناول کی روایت سے ہٹ کر ایکشن فلم بنانے کا سوچا۔ ان کی یہ سوچ تھی کہ گرین لائٹ سے نکل کر اصل جگہوں پر شوٹنگ کی جائے۔ میرے لیے یہ اعزاز کی بات تھی کہ اس فلم میں کام کرنے کا موقع ملا۔ یہ کہانی انڈیا اورربنگلہ دیش میں فلمائی گئی۔مجھے وہاں کے مقامی اداکاروں کے ساتھ کام کرنے کاموقع ملا۔میں نے شوٹنگ کے دوران وہاں بہت اچھا وقت گزارا۔
سوال۔کیا آپ نے ایکشن فلموں کی تحریک کو دوبارہ حیات بخشی؟ آرنلڈ کی فلمیں صرف ایکشن تک محدود ہوتی ہیں۔ آپ کی فلموں میں ایکشن کے ساتھ کہانی بھی ہوتی ہے۔ یہ ایک وراسٹائل ایکٹر کی پہچان ہوتی ہے۔
جواب۔ میں ایکشن فلمیں کافی کرچکا ہوں۔ میں نے سوچا، اب جذبات کے تناظر میں بھی فلم کرلینی چاہیے، جس سے لوگ جڑسکیں اور اُن کے دلوں کی دھڑکن تھم جائے۔
سوال۔ اپنی بلاک باسٹر فلم”ایکسٹریکشن“ میں اپنے کردار”ٹائلر“ کےبارے میں کچھ بتائیے؟
جواب۔ آپ کے ڈائیلاگ اس میں آپ کی مدد کرتے ہیں۔ ٹائلر کا کردار ذرا ہٹ کر تھا، جو اپنا بیٹا کھوچکا تھا۔(ماضی میں) یہ تین ماہ کی شوٹنگ تھی، جس میں ہم ہیلی کاپٹر میں سفر کیا کرتے تھے۔
سوال۔ آپ کی فلم’’رش‘‘ میں آپ کا کردار کیسا تھا؟
جواب۔ یہ کھیل، جس کو کار ریسنگ کہتے ہیں، یقینی طور پر دلچسپ شخصیات کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، خاص طور پر اس دور میں جب موت کا امکان بہت زیادہ ہو۔ یہ کافی منفرد ہے۔ یہ آپ کوغور وفکر کرنے، توجہ دینے اور سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ آپ بالکل حال میں ہیں یا آپ مر چکے ہیں۔ لڑکے، جو اس طرح کی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں یا، جو پہاڑوں پر چڑھتے ہیں، ان میں کتنی زیادہ ہمت ہوتی ہے۔ مجھے خوشی ہے ،میں نے اس کھیل سے جڑے ایک کھلاڑی کی زندگی پر لکھے ہوئے کردار کو نبھایا۔
سوال۔ آپ کواپنی اس فلم’’رش “میں گاڑی چلانے کا کتنا فائدہ ہوا؟
جواب۔ ہم شوٹنگ شروع کرنے سے پہلے تین یا چار ہفتوں کے لئے بوٹ کیمپ گئے، ہم نے اپنی توقع سے کہیں زیادہ (ڈرائیونگ) کی۔ یہ شوٹ کی نوعیت کی وجہ سے تھا۔ بہت سے مواقع ایسے تھے، جب شوٹنگ کے شیڈول میں وقفہ ہوتا تھا اور ہم تیزی سے گاڑی میں گھس جاتے تھے، وہ اس پر کیمرے لگا دیتے تھے اور ہم ٹریک کو مار دیتے تھے۔ اس سے کہیں زیادہ چیلنجنگ، عین مطابق اور خطرناک مناظر دوسری ڈرائیونگ ٹیم نے کیے تھے۔
سوال۔کیا آپ ہمیں’’رش“ کے لیے اپنے آڈیشن کے بارے میں مزید بتا سکتے ہیں؟
جواب۔ جب میں دی ایوینجر کی شوٹنگ کر رہا تھا، اس موقع پر اس کا اسکرپٹ پڑھنے کوملا۔ عمومی طور پر جب اسکرپٹ میرے پاس آتے ہیں، میں ان کو پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں یا اگر میں ایل اے میں ہوں، تو میں ایک کردار کے لیے میٹنگ کر سکتا ہوں، لیکن میں کافی عرصے سے فلم سازوں کوآڈیشن ٹیپ نہیں بھیج رہا تھا۔ میںسوچتا ہوں کہ میں اب سیدھا آگے بڑھوں گا اور ڈائریکٹر سے ملاقات کروں گا، لیکن میں پہلے ہی رون (ہاورڈ) سے مل چکا تھا۔ یہ ایک زبردست میٹنگ تھی، لیکن جب تک میں اس کے بارے میں کچھ نہ کروں، مزید کچھ حاصل کرنے والا نہیں تھا۔ اس لیے میں شوٹنگ پر تھا، تو میں نے سوچا، مجھے اس فلم کا حصہ بننا چاہیے، تو میں نے اپنا آڈیشن ریکارڈ کیا اور اسے بھیج دیا۔ اس طرح میں بھی فلم کا حصہ بن گیا۔

اپنی ایک فلم ”بلیک ہیٹ“ کے منظر میں ساتھی اداکارہ کے ساتھ

فراغت کے وقت میں ، اپنی شریک حیات ”ایلسا پاٹاکے“ کے سنگ ، کسی گہری سوچ میں محو ہیں
سوال۔ آپ کے لیے اس سے زیادہ مشکل کام کیا تھا۔ دنیا بھر کے ایک بہت بڑے فین بیس کے ساتھ مزاحیہ کتاب کے سپر ہیرو کا مقابلہ کرنا یا ایک حقیقی زندگی کے شخص سے، جو ایک اسپورٹس لیجنڈ رہا؟
جواب۔ وہ دونوں ڈرانے والے تھے، لیکن یہ خاص طور پر اعصاب شکن تھا کیونکہ وہ ایک مشہور شخص تھا اور وہ بھی اب زندہ نہیں ہے، جس سے دباؤ بڑھتا ہے کیونکہ مجھے اس کی یادداشت کے مطابق رہنا تھا۔ ایک ہی وقت میں، یہ چیلنج اسے ایک طرح سے سنسنی خیز بنا دیتا ہے۔ لوگوں سے بات کرنے کے لیے میرے پاس رون ہاورڈ سے بہتر کوئی اور نہیں ہو سکتا تھا، جو جہاز کو چلا رہا ہو۔ اس نے سیٹ پر سب سے زیادہ آرام دہ ماحول بنایا، اس دنیا کے بارے میں اپنے لامتناہی وسائل اور معلومات ذریعے مجھے کافی مفید معلومات بھی مہیاکیں۔
سوال۔ آپ نے اس فلم کے لیے کس قسم کی تحقیق کی؟
جواب۔ میں نے ان لوگوں سے بات کی، جو جیمز(ہنٹ) کو جانتے تھے۔ چند مکینکس، ڈرائیور ز کے بارے میں کئی سوانح عمری پڑھی، لیکن بنیادی طور پر، سب سے زیادہ کارآمد مواد انٹرنیٹ پر موجود انٹرویوز تھے۔ بی بی سی کے پاس ایک پورا ”بی رول“ تھا، جو انٹرویوز کے آؤٹ ٹیکز پر مشتمل تھا،لیکن استعمال نہیں کیا جا سکتا تھا کیونکہ وہ گالی دے رہا تھا یا اس کے ارد گرد گھوم رہا تھا یا ایسے لطیفے بنا رہا تھا، جو نشریات کے لیے نامناسب تھے۔ یہ انتہائی بصیرت انگیز تھا ، ان کو اس طرح کام کرتے ہوئے دیکھنا،بہرحال یہ ایک عمدہ تجربہ تھا۔
سوال۔ کیا آپ نے نکی لاؤڈا سے جیمز ہنٹ کے ساتھ اس کے تعلقات کے بارے میں بات کی؟
جواب۔ میری شوٹنگ کے دوران اس سے بالکل بات نہیں ہوئی۔ میں ان سے پہلی بار پریمیئر میں ملا تھا۔ وہ لاجواب ہے۔ وہ حقیقی زندگی میں اتنے ہی سیدھے اور غیر سفارتی ہیں، جتنا انہیں فلم میں دکھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، انہیں فلم بہت پسند ہے اور کہا کہ ان کی خواہش ہے، جیمز بھی اسے دیکھنے کے لیے وہاں موجود ہوتے۔ وہ ہمیشہ ایک دوسرے کا بہت احترام کرتے تھے۔ میرے خیال میں نکی نے جیمز کی آزادی کی تعریف کی اور جیمز نے نکی کے نظم و ضبط کی تعریف کی۔

اپنے بیوی بچوں کے ساتھ

اپنی دو ساتھی اداکاراؤں ”تیسا تھامسن“ اور”نتالی پورٹمین” کے ہمراہ اظہار خیال کرتے ہوئے
سوال۔ کیا آپ کو جسمانی کردار بہت پسند ہیں؟ رش میں بھی آپ کا حصہ کچھ جسمانی تھا؟
جواب۔ ٹھیک ہے، تھور، دی ایونجرز اور اسنو وائٹ (اور ہنٹس مین) میں زیادہ تر مسکلر کردار تھے۔ مجھے وہ فلمیں کرنا پسند تھا۔ میں واقعی کچھ مختلف کرنا چاہتا تھا، اگرچہ رش ایک حد تک پرجوش، جسمانی اور سنسنی خیز پس منظر کا حامل ہے، یہ ان دو دلچسپ لوگوں کا کردار مطالعہ بھی ہے۔
سوال۔ آپ اپنے گھر والوں کے لیے ٹائم کیسے نکالتے ہیں؟
جواب۔ میرے لیے ایک مثالی دن اسی وقت ہوتا ہے، جب میں اپنی بیوی اور بچوں کا چہرہ دیکھتا ہوں۔ میرا شیڈول عمومی طور پر مصروفیات میں گھرا ہوتا ہے۔
سوال۔ آپ نے کہا کہ آپ پہلے فارمولہ 1 کے بڑے پرستار نہیں تھے۔ کیا یہ فلم کرنے کے بعد اب آپ کی دلچسپی زیادہ بڑھ گئی تھی؟
جواب۔ ہاں، ایسا ہی ہے۔ مجھے موقع ملنے پر ریس دیکھنے کی خواہش رہتی ہے۔

اپنی بلاک باسٹر فلم”ایکسٹریکشن“ کے موقع پر ، جس کی شوٹنگ انڈیا اور بنگلہ دیش میں ہوئی تھی ، مقامی فنکاروں سے ملاقاتوں کے دوران ، معروف ہندوستانی اداکارہ ”سوناکشی سنہا“ کے ساتھ موجود ہیں۔
سوال۔ کیا فلم کی 70 کی دہائی اس کردار کے بارے میں آپ کے لیے ایک کشش تھی؟
جواب۔ یقیناً، مجھے اداکاری کے بارے میں یہی پسند ہے۔ مختلف انواع اور وقت کے وقفوں میں چھلانگ لگانے کے قابل ہونا۔ 70 کی دہائی میں غوطہ لگانا ایک بہت ہی مزے کی چیز تھی کیونکہ میں اس وقت موجود نہیں تھا۔
سوال۔ آپ حقیقی زندگی میں کس قسم کے ڈرائیور ہیں؟ کیا فلم نے حقیقی زندگی میں ایک حقیقی فارمولا 1 کار چلانے کی خواہش کو بیدار کیا ؟
جواب۔ ضرور آسٹریلیا میں ہمارے پاس ایک گو کارٹ ٹریک تھا، جس گھر میں میں پلا بڑھا ہوں۔ وہاں میں اور میرے بھائی مقابلہ کرتے تھے۔ ہمارے پاس موٹر سائیکل بھی تھی۔ میں ایک ماہر قدامت پسند ڈرائیور ہوں۔
حوالہ جات
انٹرویو بائے اسٹیو وائنٹراب، اپریل 2012
انٹرویو بائے ولیم وان میٹر، اپریل 2011
انٹرویو بذریعہ جو ڈیکلمیر، جنوری 2018
پریذینٹد بائے باس پرفیوم، انٹرویو شاٹر یشیا نائر، نومبر 2020
انٹرویو بائے اسٹیفن پیپ، مئی 2012
انٹرویو بائے وان، اکتوبر 2013