نولی وڈ نائیجیرین فلم انڈسٹری کی عرفیت ہے، جو کچھ برسوں میں ریلیز شدہ فلموں کی تعداد کے اعتبار سے ہالی وڈ اور بالی وڈ کے بعد تیسری بڑی انڈسٹری ہے۔ نولی وڈ نام بھارت کے بولی وڈ اور امریکا کے ہالی وڈ سے متاثر ہوکے رکھا گیا ہے۔ نولی وڈ ان نائیجیرین فلموں کا احاطہ کرتا ہے، جو بر اعظم افریقا اور تارکین افریقا کی جانب سے قائم ذیلی انڈسٹریز بناتی ہیں۔ چھوٹے سیکٹرز یوروبا اور ہاؤسا زبان کی فلموں پر فوکس کرتے ہیں۔ مغربی افریقاکے پڑوسی ملک گھانا سمیت دیگر ممالک میں بننے والی انگریزی نائیجیرین فلمیں بھی نولی وڈ کے بینر تلے ہی شمار ہوتی ہیں۔
ہاف آف اے ییلو سن
یہ فلم 2013 میں ریلیز کی گئی تھی، جو اینگلو نائیجرین ڈرامائی فلم ہے، جس کی ہدایت کاری”بی بینڈلے“ نے کی ہے اور یہ”چیما مانڈا نگوزی اڈیچی“ کے تحریر کردہ نام پر بنی فلم ایسے خاندان کی کہانی بیان کرتی ہے، جو نائیجیریا میں ہونے والی خانہ جنگی کے دوران مختلف خاندان کو پیش آتے ہیں۔ یہ فلم ایک نئی ریاست کے قیام کی امید اور توقعات کو اپنی گرفت میں لیتی ہے، جبکہ جنگ کی تباہی پر بھی زور دیتی ہے۔ فلم چونکا دینے والے سنیماٹوگرافک تضادات پر مشتمل ہے۔ لاگوس میں یوم آزادی کی شاندار پارٹیاں اور نسوکا میں پرچم لہرانے کی تقریبات کے بعد لڑائی اور زبردستی ہجرت کے دلخراش مناظر فلم میں شامل کیے گئے ہیں۔ یہ فلم دو ایسی بہنوں کی کہانی ہے، جو اپنے ملک میں برپا ہونے والی اس خانہ جنگی میں پھنس جاتی ہیں۔ اس فلم کی ٹیگ لائن ہے کہ کسی کوبھی جنگ تقسیم اورمحبت مجتمع کرتی ہے۔
اس فلم کے ہدایت کار”بیی بندیلی“ ہیں، جو افریقی نژاد برطانوی شہری بھی ہیں۔ وہ فلم ساز ہونے کے ساتھ ساتھ بہت عمدہ ناول نگار، صحافی، براڈ کاسٹر اور ڈراما نگار ہیں۔ انہوں نے اس فلم کا اسکرین پلے بھی خود ہی لکھا ہے۔اس کا مرکزی خیال ایک ناول سے لیا گیا ہے، جس کے نام اور کہانی پر فلم بنائی گئی ہے۔ اس فلم کے سینماٹوگرافر انسیسی نژاد برطانوی ہنرمند”جون ڈی بورمن“ ہیں۔
اس فلم کے مرکزی اداکاروں میں چیولایجی فور، تاندی وےی نیوٹن اور دیگر بڑے افریقی اداکار شامل ہیں۔ اس کی عکس بندی بھی نائیجیریا ہی میں کی گئی اور اس دوران وہاں کئی اداکاروں کو مچھروں کی بہتات ہونے سے ملیریا کی بیماری میں بھی مبتلا ہونا پڑا۔ فلم کا میوزک بھی متاثر کن تھا،
جو بین اونو اور پائو ل تھامسن نے دیا۔ اس فلم کومعروف نائجیرین ناول نگار”اڈییجی “کے ناول کی کہانی پر فلمایا گیا اور وہ اس سے بہت خوش بھی تھیں کہ ان کے ناول کے ساتھ فلم ساز نے انصاف کیا ہے۔ یہ فلم نائیجیریا کے سینما کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دی گھوسٹ اینڈ دی ٹاؤٹ
ایک فن کے طور پر فلم سازی بصری شکلوں کے ذریعے کہانی سنانے کا ایک طریقہ ہے اور نالی وڈ بہت آہستہ آہستہ ایک قابل ستائش مرحلے پر پہنچ رہا ہے۔ ایسی فلمیں ہیں جن کو ان کے فن اور تخلیقی صلاحیتوں کی وجہ سے سراہا جاتا ہے اور کچھ ایسی بھی ہیں، جن کو جوابی ردعمل یا نامنظوری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہی فلموں میں ایک نام’’دی گھوسٹ اینڈ دی ٹائوٹ‘‘ ہے۔ یہ 2018 کی نائیجیرین بھوت فلم ہے، جسے”چارلس یواگبائی“ نے لکھا اور ہدایت کاری بھی کی۔ اس فلم میں سامباسا نزیریبی، ٹوئن ابراہم، راچیل اوکونکو اور اوموومی دادا نے مرکزی کردار ادا کیے ہیں۔ ٹوین ابراہم نے پہلے حصے میں اپنی بہتر کارکردگی سے فلم کو سنبھالنے کی کوشش ضرور کی تھی، لیکن یہ ان کے کیرئیر کی ایک ناکام فلم تصور کی جاتی ہے۔ یہ فلم سینما تھیٹر میں 2018 کو نائیجیریا میں ریلیز ہوئی تھی۔ ناظرین کی طرف سے مثبت ردعمل ملا۔ کمزور اور بے تکی کہانی ہونے کے باجود یہ فلم ایک ہفتے کے اندر تیس ملین کما کر باکس آفس پر بہت بڑی کامیابی بن گئی اور اپنی نمائش کے سال میں پانچویں سب سے زیادہ کمائی کرنے والی نائجیرین فلم مانی جاتی ہے۔ یہ اب بھی نائیجیریا میں سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں کی مجموعی فہرست میں 25 ویں نمبر پر ہے۔ اس کو نیٹ فلکس پر دیکھا جاسکتا ہے۔
اس فلم کا ایک سیکوئل بھی بنا، جو زیادہ تر نالی وڈ کے عام سیکوئلز کی طرح ہے، جو عام طور پر غیر ضروری ہوتے ہیں، جبکہ مذکورہ فلم کوئی اتنی خاص فلم نہیں تھی۔ ایک اہم عنصر جو اچھی فلم کو بری فلم سے الگ کرتا ہے، وہ ہوتا ہے فلم کا اسکرپٹ، ہدایت کاری، اداکاری، ایڈیٹنگ وغیرہ اور
سینماٹو گرافی میں تخلیقی صلاحیتوں کی کو صحیح طریقے سے بروئے کار لانا بھی ایک فن ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ سیکوئل اصل سے کافی حد تک اپ گریڈ ہے،دونوں ایک جیسی خامیوں اور خرابیوں کا شکار ہیں۔ فلم میں شامل مزاحیہ مزاح ناظرین کو ضرور ہنسا سکتا ہے، لیکن یہ احساس صرف اتنا ہی ہے کہ وہ ناظرین کو یہ یاد دلانے کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں کہ’’یہ صرف ایک کامیڈی ہے‘‘ باقی فلم کو ہٹ یا ناکام بنانا باکس آفس طے کرتا ہے، جیسے اس فلم نے کسی نہ کسی طرح بزنس کرہی لیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلیک نومبر
یہ فلم 2012 میں ریلیز ہوئی۔ اس کے ہدایت کار”جیتا اماتا“ ہیں، جبکہ انہوں نے ہی فلم کو لکھابھی ہے۔ ایسوسی ایٹ پروڈیوسر” لورینزو اوموالیگبے“ کو فلم کے حوالے سے وائٹ ہاؤس میں مدعو کیا گیا تھا۔ کانگریس مین بوبی رش اور ان کے ریپبلکن ساتھی جیف فورٹین بیری اس فلم سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے ایک مشترکہ قرارداد کو اسپانسر کیا، جس کا مقصد نائیجیریا کی حکومت اور مغربی تیل کمپنیوں پر نائیجر ڈیلٹا میں پھیلنے والے پانی کو صاف کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا تھا۔ بلیک نومبر میں موسیقی جوئل گوفن نے ترتیب دی اورمیوزیکل اسکور کیا ہے فلم میں اکون، ڈیڈے مابیا کو اور ماواڈو کے آزادانہ طور پر تیار کیے گئے گانے بھی شامل ہیں ، جن کو کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔
اسی فلم کے تناظر میں 2011 کو ریلیز ہونے والی فلم’’بلیک گولڈ‘‘ نامی فلم کایہ ترمیم شدہ ورژ ہے، جس میں 60 فیصد نئی فوٹیج ہے اور کچھ اداکار نئے لیے گئے، جن میں بلیک گولڈ میں مائیکل میڈسن، ایرک ، رابرٹس، ٹام سائزمور، اور بلی زین و دیگرتھے۔
گزشتہ فلم”بلیک نومبر“ مبونگ اماتا، حکیم کاظم، انینیانویگاوا، اینی ہچ میکی بروک، کم بسنجر، سارہ کیلس ویویکااے فوکس و دیگر شامل تھے۔ اس فلم کے اداکاروں میں”ایم بونگ اماتا“ کی اداکاری جاندار تھی، جس کی طاقت اور ہمت اپنے آس پاس کے لوگوں کو متاثر کرتی دکھائی دیتی ہے، لیکن وہ اکیلی فلم کو سنبھال نہیں سکتی تھی۔
یہ کہانی بتاتی ہے، نائیجیریا کے لوگوں کی شرافت، بدعنوانی اور لالچ کے سامنے کھڑے ہونے سے انکار کرتے ہیں۔ فلم کے خصوصی اثرات، خاص طور پر اس کے کارٹونش دھماکے، شارکناڈو کے سیکوئل کے لیے ایک ایسی فلم کے مقابلے میں زیادہ موزوں ہیں، جو سیاسی وکالت اور فن دونوں کے طور پر سنجیدگی سے پیش کرتی ہے۔ اس فلم نے نہ صرف نائیجیریا بلکہ امریکا سمیت کئی بڑے ممالک پر اپنے گہرے اثرات مرتب کیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہائر اے وومن
یہ فلم2019میں نائیجیریا میں ریلیز ہوئی۔ اس کی ہدایات”افئینیے اکپوئینی“ نے دی تھیں۔ اس کہانی میں ایک سخت مزاج آدمی اپنی سابقہ گرل فرینڈ کو غیرت دلانے کے لیے ساتھی کارکن کے ساتھ مل کر اس کو،اس کام کے کرنے کا آمادہ کرتا ہے، جو اپنے دوست کی سابقہ گرل فرینڈ کا دل چراناچاہتا ہے۔ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوتا ہے، اگر بات کی جائے فلم میں کرداروں کے ملبوسات کی، تو وہ جاذب نظر ہیں۔ اس فلم کی پروڈکشن میں خوبصورت ملبوسات نے فنکاروں کی خوبصورتی میں بھی چار چاند لگادیے۔
فلم میں میک اپ بھی مناسب تھا۔ نوجوان طالب علموں کا وہ حصہ جو یونیورسٹی کے بعد اپنے الگ راستے پر چلے گئے اور زندگی، کام اور محبت کو نیویگیٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ بھی دلچسپ رہا۔ کاسٹنگ ڈائریکٹر نے اگرچہ ایسے اداکاروں کو چنا، جو ایسے کرداروں میں اچھے نظر آئیں، البتہ کچھ اداکاروں نے ناقص اداکاری کی۔ جین نے فلم میں اپنی منگیتر(مائیک گوڈسن) کے ساتھ اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو زیادہ بہتر طریقے سے پیش نہیں کیا۔ ان کا کردار اتنا جامع نہیں تھا۔
اگر بات کی جائے کرداروں کے انتخاب کی، تو اس فلم میں کرداروں کے لیے اس سے بہتر انتخاب نہیں ہو سکتا تھا۔ فلم کے اداکاروں میں ایلیکس ایکیوبو، اوزور ایوریکیو، نینسی اسائم، آئی ایف یو اینادا اور دیگر کردار بھی شامل ہیں۔ فلم میں ادا کیے جانے والے کرداروں کے لیے مختص عمر کی حد نظر آتی ہے۔ بیس کی دہائی میں ایک چالیس سالہ آدمی کا کردار ادا کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔ پروڈکشن کا معیار اتنا عمدہ معلوم نہیں ہوا۔
اس فلم میں سب سے بڑا دھچکا یہ تھاکہ اس فلم میں ماسٹر شاٹس نہیں تھے، جس کی وجہ سے فلم کے مجموعی تاثر کو نقصان پہنچا اور ساکھ متاثر ہوئی۔ مناظر میں صرف قریبی شاٹس تھے اور فلم کا پیغام پوری طرح سے ناظرین کو سمجھ نہیں آیا۔ کیمرہ شاٹس میں کچھ مناظر قدرے متزلزل تھے اور کچھ میں بے ترتیبی جابجا دکھائی دیتی تھی، اگر اس فلم کو مزاحیہ انداز میں دیکھا جائے، تو ناظرین اس سے کافی لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔